اعداد و شمار کا پاکستان، سوالوں میں گھرا مستقبل
ہاؤس ہولڈ اکنامک سروے کے تازہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں، بلکہ وہ آئینہ ہیں جس میں آج کا پاکستان صاف نظر آتا ہے۔ اوسط ماہانہ آمدن اور اخراجات کے درمیان معمولی فرق اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ ملک کا بڑا طبقہ صرف گزارہ کر رہا ہے۔ بچت، بہتری اور ترقی اب خواب بنتی جا رہی ہے۔ آمدن کاغذ پر بہتر دکھائی دیتی ہے، مگر مہنگائی اور بنیادی ضروریات کے اخراجات اس بہتری کو بے اثر بنا دیتے ہیں۔
رہائش کے شعبے میں ذاتی گھروں کی شرح میں کمی ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چند برس پہلے تک اکثریت اپنے گھر کی مالک تھی، مگر بڑھتی آبادی، مہنگی زمین اور کمزور آمدن نے اس خواب کو دھندلا دیا ہے۔ کرائے کے گھروں میں اضافے کا رجحان اس عدم تحفظ کو جنم دے رہا ہے جو متوسط اور نچلے طبقے کی زندگی کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔
تعلیم کے میدان میں صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ پانچ برس میں شرح خواندگی میں صرف تین فیصد اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے تعلیم کو قومی ترجیح بنانے کے دعوے تو کیے، مگر عملی سطح پر رفتار برقرار نہ رکھ سکے۔ پنجاب اور بلوچستان کے درمیان خواندگی کا فرق اس ریاستی عدم توازن کو بے نقاب کرتا ہے جو برسوں سے موجود ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے آج بھی سکول سے باہر ہیں، جو آنے والے وقت میں ایک بڑے سماجی بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا میں پاکستان کی موجودگی بظاہر حوصلہ افزا ہے۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ تک وسیع رسائی ایک بڑی کامیابی سمجھی جا سکتی ہے، مگر اصل سوال اس سہولت کے استعمال کا ہے۔ ٹیکنالوجی علم، تحقیق اور ہنر کے فروغ کے بجائے زیادہ تر تفریح اور سطحی سرگرمیوں تک محدود ہے۔ کاپی پیسٹ کلچر اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل سہولت کے باوجود فکری اور تخلیقی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری نہیں ہو سکی۔
ٹک ٹاک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ذریعہ آمدن بن جانا ہمارے معاشرتی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ فوری شہرت اور آسان کمائی کا تصور محنت، مہارت اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر غالب آ چکا ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو ڈیجیٹل معیشت مضبوط بنیادوں کے بجائے کمزور ستونوں پر کھڑی رہے گی۔
صحت کے شعبے میں نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی اموات میں کمی ایک روشن پہلو ضرور ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ درست سمت میں قدم اٹھائے جائیں تو نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کلین فیول کے استعمال میں اضافہ ماحولیاتی شعور کی علامت ہے، مگر رفتار اب بھی ضرورت سے کم ہے۔
خوراک، صاف پانی اور بنیادی سہولتوں کے اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ترقی کا فائدہ ہر شہری تک نہیں پہنچ سکا۔ لاکھوں لوگ آج بھی بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم ہیں، جو کسی بھی ترقی پذیر ریاست کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
ڈیجیٹل مردم شماری اور ہاؤس ہولڈ اکنامک سروے نے ریاست کو قیمتی معلومات فراہم کر دی ہیں۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ ان اعداد و شمار کو فائلوں میں بند رکھا جاتا ہے یا انہیں پالیسی، اصلاحات اور عملی اقدامات میں ڈھالا جاتا ہے۔ اگر تعلیم، مہارت اور انسانی سرمائے کو واقعی بنیاد بنا لیا گیا تو معرکہ ترقی ممکن ہے، ورنہ یہ اعداد و شمار بھی ماضی کی طرح صرف رپورٹوں تک محدود رہ جائیں گے۔
c
