بزرگوں کے سرہانے بیٹھ جائیں
تو مستقبل کے شانے بیٹھ جائیں
نظر میں تھوڑی گنجائش بھی رکھنا
جو قد اپنا بڑھانے بیٹھ جائیں
حسد سے تلملا اٹّھے گی دنیا
اگر ہم مسکرانے بیٹھ جائیں
بہار آجائے گی سوکھے شجر پر
پرند آکر پرانے بیٹھ جائیں
اگر کم ظرف ہو جائے خموشی
کئی اونچے گھرانے بیٹھ جائیں
یہی دستار بن جاتی ہے لعنت
اگر بولی لگانے بیٹھ جائیں
چلاہوں آج میں خود کو منانے
دعا کرنا نشانے بیٹھ جائیں
نظر میں فاصلے چبھنے لگے ہیں
لکیروں کو مٹانے بیٹھ جائیں
نہ پھر انجام ہے اس کا نہ حاصل
کہانی گر بڑھانے بیٹھ جائیں
شرافت کے معانی خود نہ سمجھیں
زمانے کو پڑھانے بیٹھ جائیں
تمہیں کیا علم کیا شے ہے محبت
سنو تھک کر زمانے بیٹھ جائیں
( چلو تبدیل کر لیں قافیے اب )
نہ کم صحرا کو جانیں بیٹھ جائیں
ہماری بات مانیں بیٹھ جائیں
درختوں کی ہو تب تک آبیاری
کہ شاخوں پر اذانیں بیٹھ جائیں
کھلی ہے اور نہ کھل پائے گی دنیا
چلوبس خاک چھانیں بیٹھ جائیں
بڑھیں آگے وہی جو سر بکف ہیں
ابھی ٹوٹی کمانیں بیٹھ جائیں
اگر بازار میں آجائیں ہم لوگ
چراغوں کی دوکانیں بیٹھ جائیں
قدم رکتے نہیں ہیں آسماں پر
پروں میں جب اڑانیں بیٹھ جائیں
سنائیں حالِ دل طارق کسے ہم
ہے شور اتنا زبانیں بیٹھ جائیں
