پاکستان اور خلیج: تنی رسی پر چلنے کی اسٹریٹجی
پاکستان کے لاکھوں شہری متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں محنت کر رہے ہیں۔ یو اے ای میں تقریباً 21 لاکھ پاکستانی ورکرز موجود ہیں جبکہ سعودی عرب میں یہ تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ہماری معیشت اور ملکی استحکام کی بنیاد ہیں۔ بیرون ملک ہماری محنت کرنے والی یہ قوت نہ صرف پاکستانی معیشت کو سہارا دیتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں کا انحصار بھی انہی پر ہے۔ اس لیے ان کی حفاظت اور مالی روانی قومی مفاد کی فرنٹ لائن سمجھی جاتی ہے۔
تاہم، خطے کی موجودہ صورتحال انتہائی پیچیدہ اور نازک ہے۔ سیاسی اور عسکری کشیدگی میں کسی بھی لمحے اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر پاکستانی شہریوں، معیشت اور خطے میں ہماری اسٹریٹجک پوزیشن پر پڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے تنی رسی پر چلنے کے مترادف اسٹریٹجک توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے۔ ہر فیصلہ دانشمندی، احتیاط اور طویل مدتی فوائد کے حساب سے کیا جانا چاہیے۔
خطے میں نئے ابھرتے ہوئے کھلاڑی بھی سامنے آ رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور قطر بظاہر ایسے کردار ہیں جو سعودی عرب کی طویل المدتی ہیجمنی کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اس منظرنامے میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی اور تعلقات میں نہایت محتاط اور متوازن موقف اختیار کرے۔ کسی بھی غیر محتاط ردعمل یا جلد بازی میں کیے گئے فیصلے سے ہمارے شہریوں اور معیشت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر اقدام میں قومی مفاد اور خطے میں اپنا اسٹریٹجک اثر برقرار رکھنے کو مقدم رکھنا ہوگا۔
پاکستان کی عسکری اور ایٹمی حیثیت بھی اس خطے میں ہماری اہمیت کو مستحکم کرتی ہے۔ ہماری دفاعی صلاحیت نہ صرف دشمنوں کے لیے خبردار ہے بلکہ ہمیں اپنے شہریوں اور معیشت کے تحفظ کے لیے ایک فیصلہ کن طاقت بھی فراہم کرتی ہے۔ اس طاقت کو صرف دفاعی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ اسٹریٹجک اور سیاسی مفاد کے مطابق بروئے کار لانا پاکستان کی اسٹریٹجک حکمت عملی کا لازمی جزو ہے۔
کارڈز کھیلنے کی حکمت عملی بھی واضح ہونی چاہیے۔ ہر اقدام میں قومی مفاد، شہریوں کی حفاظت، اور اقتصادی رقوم کا تسلسل اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ تعلقات میں توازن قائم رکھنا، خطے کے نئے کھلاڑیوں کے ساتھ محتاط مذاکرات کرنا، اور عسکری و اقتصادی شعبوں میں مستحکم پوزیشن برقرار رکھنا لازمی ہے۔ فوری ردعمل کی بجائے طویل مدتی اسٹریٹجک فائدہ حاصل کرنا پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے بنیادی شرط ہے۔
پاکستان کے لیے مقصد واضح ہونا چاہیے ۔اپنے شہریوں کی حفاظت، اقتصادی رقوم کی روانی، اور خطے میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھنا۔ اسی توازن، حکمت عملی اور بصیرت کے ذریعے پاکستان نہ صرف خطے میں اپنی اہمیت قائم رکھ سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، قابل اعتماد اور اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر بھی سامنے آ سکتا ہے۔
یوسف صدیقی
