خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباروشنی کی سفارت ”آبجوئے نور”
آپکا اردو بابااردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامین

روشنی کی سفارت ”آبجوئے نور”

از سائیٹ ایڈمن مارچ 23, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 23, 2025 0 تبصرے 38 مناظر
39

خوش نصیب ہیں وہ قلوب جو سر کارِ دو عالمۖ کی نسبت کے نور سے جگمگاتے ہیں۔ مبارک باد کا استحقاق رکھتے ہیں وہ قلم و قرطاس جن سے عشق رسولۖ کی خوشبو پھوٹتی ہے اور نعت مبارک کی صورت قرب و جوار کو معطر کر دیتی ہے اور معتبر ہے وہ دہَن جو سرکار کی سیرت مطہرہ اور رحمت ورافت پر لفظوں کے خزانے نثار کرتا چلا جاتا ہے اور حدیقہ قرطاسِ عالم پر حمد و نعت کے مہکتے گلابوں کی تصویر چلی جاتی ہے۔
جو بھی رستے پہ اُن کے چل نکلیں
روشنی کے سفیر ہوتے ہیں
تصور کو پاکیزگی نصیب ہو تو ازل سے رواں ایک ایسے عظیم کارواں کا تصور کریں جس میں ہر ہر عہد کے نعت گو شعراء اور نعت خوان خواتین و حضرات محوِ سفر ہیں۔ یہ نعت کا عظیم کارواں ہے جس کی رہنمائی حضرت ابو طالب کے ذمہ ہے۔ اِس کارواں کے پہلے مسافر سرکارِ دو عالمۖ کو ”محمدۖ” جیسا نام دینے والے آپۖ کے دادا حضرت عبدالمطلب ہیں اور پھر یہ کارواں حضرت حسان بن ثابت، حضرت کعب بن ذہیر جیسے جیّد صحابہ کرام کی رہنمائیMasjid e nabvi SAWW میں محوِ سفر ہوتا ہے۔ بوصیری، جامی، سعدی، رومی، اقبال، احمد رضا خان اور محسن کاکوروی بھی اسی قافلے کے مسافر رہے ۔ یہ قافلہ ہے جس میں سفر کی سعادت نسبتِ رسول اور اِذنِ سرکار کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ہر عہد میں سرکار کے دیوانے اس قافلے میں شامل ہوتے رہے ہیں۔ ”آبجوئے نور” کی شاعرہ شمسہ نورین بھی ان خوش نصیب غلامانِ رسولۖ کی فہرست میں شامل ہو چکی ہے جن کو نسبتِ رسولۖ کی دولت سرکارِ دو عالمۖ کے در سے عطا ہوئی اور یہی نسبت، نعت رسولۖ کی صورت میں جہانِ جذبہ و عقیدت کو روشن کر رہی ہے۔
شمسہ اس کاروان کی مسافر ہوئی ہیں جس میں گرد ِراہ ہو جانا ہی منزل پالینا ہوتا ہے۔
اُس نام کی برکت سے لگے پار یہ کشتی
ہاتھوں میں رہے اپنے یہ پتوار ہمیشہ
حُسنِ حقیقی کے ادراک کے لیے انسانی فکر میں بصیرت و بصارت کا ایک مخصوص نظام کام کرتا ہے۔ حمد و نعت سے منسلک ہر شاعر کے ہاں یہ نظام حِسی سطح پر بھی کام کرتا ہے اور ماورائے حسیات بھی۔ گویا نعت گو شاعر حسیات سے ورا ایک اور جہان میں بھی متحرک ہوتا ہے۔ تمام نعت گو شعراء کی طرح شمسہ نورین کی فکر بھی شعور اور لا شعور کے درمیان متحرک رہتی ہے۔ یوں وہ حسیات سے ماورائے حسیات فن کی آبیاری کرتی ہیں۔ اُن کی شعری کائنات ورافتگی ٔ شوق اور فکری گہرائی و گیرائی، ہر دو موجود ہیں اور اُن کی نعتیہ شاعری میں جذبہ کے ساتھ فکر کے موتی بھی جا بجا اپنی چمک دکھاتے نظر آتے ہیں۔
سید صبیح رحمانی لکھتے ہیں:
”فن اور تخلیقی سطح پر شاعر کا شعور اپنی اعلیٰ ترین حالت اور کیفیت کا اظہا رکرتا اور اس لمحے میں اُس کے یہاں کسی اشتباہ کا گزر تک نہیں ہوتا اس لیے صرف سخن میں بندگی کا قرینہ پورے شعور اور اہتمام سے سامنے آتا ہے”۔
(اردو کا حمدیہ ادب (اجمالی مطالعہ)
شمسہ نورین کا تخلیقی جوہر بھی اُں کی اپنی شخصیت سے نکلتا ہے۔ یوں اُن کی نعت کا تخلیقی اسلوب اجتماعی اسلوب کا حصہ ہونے کے باوجود اپنا الگ نظریاتی اسلوب بھی بناتا ہے جو انہیں تقدیسی شاعری میں منفرد کرتا ہے۔ کسی شاعر یا شاعرہ کے لیے یہ بات اہم ہوتی ہے کہ آغاز میں اُس کے اندازِ تحریر میں ایک انفرادیت پیدا ہو جائے۔
خرامِ خامہ سے آئے، صدائے صلِّ علیٰ
یوں سہل مجھ پہ، ثنائے رسولۖ ہو جائے
صدیوں سے جو پُھونکا تھا فسوں تِیرہ شبوں نے
ٹُوٹا ہے یقینا تِری گفتار کی لَو سے
ڈھل گئے روشنی کے سبھی سلسلے
کب سراجِ مُبیں کی ڈھلی روشنی
نبی کی شان ہے ختمِ نبوت
مرا ایمان ہے ختمِ نبوت
وہ زمانہ بھی کیا، زمانہ تھا
آپۖ کا جب جہاں میں، آنا تھا
شمسہ نورین کی نعتیہ شاعری عجز و عقیدت’ عشق اور صداقتِ لفظ و معانی پر اپنی بنیادیں استوار کرتی ہیں۔ اُن کی شاعری ان اوصاف کی بناء رواں اور عام فہم ہونے کے ساتھ دل سے دل تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وہ روایتی نعتیہ موضوعات میں بھی ندرت فکر اور فنی اختصاص پیدا کرتی ہیں یوں اُں کا قاری جذبہ و عقیدت کی یہ خوشبو اپنے چاروں طرف محسوس کرتا ہے اور اُن کے شعری تجربے کا شریک بن جاتا ہے۔
اے ہوا دیکھ یہ ہے درِ مصطفی
پائوں آہستہ دھر، سر جھکا کے گزر
جس نے ابھی تھامی نہیں ہاتھوں میں وہ جالی
اُس نے ابھی بخشش کے وسیلے نہیں دیکھے
روزِ محشر مجھے مل جائے شفاعت تیری
میری مشکل بھی ہو آسان، مدینے والے
کرے جو رہنما سیرت، بشر گرداب سے نکلے
دکھائی دے کوئی منزل، سفر گرداب سے نکلے
شمسہ نورین کی مدحیہ تخلیقات عمومی سطح پر سادہ، پر اثر اور مصنوعی ابہام سے پاک اپنے قارئین سے رابطہ استوار کرتی ہیں تا ہم اُن کے ہاں گاہے بگاہے استعاراتی و تلمیحاتی آہنگ نادر کیفیات کو جنم دیتا ہے۔ اُن کی شعری صلاحیتیں تقدیسی شاعری کے دائرے میں نکھر کر سامنے آئی ہیں۔ اشعار میں تلمیحاتی آہنگ بتاتا ہے کہ انہوں نے قرآن پاک اور سیرتِ رسولۖ کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اُن کا مطالعہ مختلف تلمیحات کی صورت میں جابہ جا اشعار میں جگمگاتا نظر آتا ہے۔
خدا نے اُنۖ کی ذات میں سبھی کمال رکھ دیئے
رؤف ہیں، رحیم ہیں وہ صاحبِ جمال ہیں
مجھے یقیں ہے وہ محشر میں لاج رکھیں گے
انہی کی رہ پہ رہیں اور قدم بڑھاتے چلیں
آپ کے در کے ذرّے وہ خورشید ہیں
ضو طلب جن سے شمس و قمر یا نبیۖ
کاسۂ دید کو ہے جلوۂ رحمت کی طلب
اور کچھ بھی نہیں ہم اس کے سوا مانگتے ہیں
اے شافعِ محشر، نورِ حرم
ہم تیرہ شبوں کا، رکھنا بھرم
شمسہ نورین کی تقدیسی شاعری کا ایک اختصاص اُن کے ہاں شعر میں روانی اور مصرعوں میں سلاست ہے۔ وہ سہل ممتنع میں نعتیہ اشعار کی تشکیل کچھ اس طرح کرتی ہیں کہ پڑھنے والا سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اتنی آسانی سے بھی نعت کے اشعار کہے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے رواں اور آسان بحور کا انتخاب کیا۔ مشکل اور پیچیدہ قوافی کے بجائے رواں اور آسان قوافی سے کام لیا البتہ کچھ نئی ردیفوں کے ذریعے کلام میں ندرت پیدا کرنے کی سعی کی ہے۔
بے گھر کے لیے جیسے کسی گھر کا تصوّر
ایسے ہے مرے واسطے اُس در کا تصوّر
ہم آپۖ سے رحمت کے طلبگار ہمیشہ
ہو چشمِ کرم آپۖ کی سر کار ہمیشہ
نعت کی ذیل میں جو لفظ آئیں
سمجھو خیرِ کثیر ہوتے ہیں
اُس ماہِ رسالت کا، ہر شخص ہے شیدائی
ہر قلب ہے سودائی، ہر آنکھ تمنائی
شمسہ نورین نے نعت میں پیچیدہ خیالی کے بجائے سادہ اور آسان زبان میں سرکار دو عالمۖ کے حضور حالِ دل کہا ہے۔ انہوں نے کہیں بھی کسی بڑے فکری یا فنی عجوبے کی سعی نہیں کی یوں اُن کا کلام قارئین کے لیے یقینا جذب و کیف کا سامان پیدا کرے گا اور یقینا ادبی و تقدیسی حلقوں میں بھی اسے پذیرائی نصیب ہو گی۔ میں محترمہ شمسہ نورین کو پہلے نعتیہ مجموعہ ٔکلام ”آبجوئے نور” کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اُن کے خوشگوار شعری مستقبل کے لیے دعا گو ہوں۔

ڈاکٹر کاشف عرفان
اسلام آباد
٢٣ جنوری ٢٠٢٥

بشکریہ ویکلی پنڈی پوسٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کیلیں
  • سکوتِ بادبان
  • شیطان سے فرضی یا خیالی ملاقات!
  • فیاض جنگل۔ نہر کنارے کے راج ہنس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دل میں کتنے شور لے کر
پچھلی پوسٹ
آسمان، چاند، ستارے اور انسان کی تلاش

متعلقہ پوسٹس

ٹماٹر اور ڈاکٹر ۔ مماثلت و مخاصمت

مارچ 6, 2022

بے باکیوں پہ شیخ ہماری نہ جائیو

جون 3, 2020

ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالم

اکتوبر 29, 2020

اے وطن تو ہمیشہ سلامت رہے

اگست 15, 2020

نظم کیا ہے؟

مئی 21, 2024

اس نے دریا کو بلایا جو اشارا کر کے

نومبر 16, 2021

امریکی ثقافت اور روڈیو

دسمبر 6, 2024

دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا

ستمبر 7, 2025

کعبۂ دل میں محبت

فروری 25, 2025

رستے میں ہاتھ چھوڑ کے دنیا سے ڈر گیا

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مل رہے ہو صف – دشمن...

فروری 14, 2021

” قلم کتاب “ دنیا کی...

جولائی 23, 2022

شعور و فہم کا عالم

اکتوبر 18, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں