111
بات کرتے ہو کیا دسمبر کی
ہے الگ ہی ادا دسمبر کی
تھا سہانا بڑا نومبر بھی
بات ہی ہے جدا دسمبر کی
کون سی رات اچھی لگتی ہے
چاند کہنے لگا دسمبر کی
اب تو یوں ہے کہ جیسے جذبوں کو
لگ گئی ہے ہوا دسمبر کی
برف لا کر ہتھیلیوں پر رکھ
مجھ کو مہندی لگا دسمبر کی
جون کی تلخیاں بھلا کے آج
بات کرتے ہیں آ دسمبر کی
ایک دو شعر کچھ نہیں جاناں
آج غزلیں سنا دسمبر کی
گرم بانہوں کی شال ہی دے دو
چل رہی ہے ہوا دسمبر کی
میرے بستر میں آ کے دیکھے تو
ٹوٹ جائے انا دسمبر کی
شاہ دلؔ آ گیا وہ پہلو میں
ہے یہ ساری عطا دسمبر کی
شاہ دل شمس
