392
اتنے چاہت بھرے غصے سے لڑا کرتا تھا
لڑتے لڑتے مجھے بانہوں میں بھرا کرتا تھا
اس نے پوچھا نہ کبھی کون ہے دروازے پر
میری دستک سے مجھے جان لیا کرتا تھا
ایسا لگتا کہ مرے ساتھ زمانہ ہے تمام
میرے شانے پہ وہ جب ہاتھ رکھا کرتا تھا
پھر اُسے علم ہوا پیڑ ہوا دیتے ہیں
وہ مری سانس سے ہر سانس لیا کرتا تھا
اک وہی ہاتھ ہی پہنچا ہے گریبان تلک
مری انگلی کے سہارے جو چلا کرتا تھا
آشنا آج میں اُس شخص کے زندان میں ہوں
جو مرے نام پہ چڑیوں کو رِہا کرتا تھا
احمد آشنا
