488
پہلا عشرہ
تمہاری بندوق میری اجرت سے چل رہی ہے
تمہارے بوٹوں کا چمڑا میرے مویشیوں کو غذا نہ ملنے سے بن رہا ہے
تمہاری جیپوں، کروزروں اور اڑن کھٹولوں کا سارا خرچہ میں اپنی غربت سے کاتتا ہوں
یقیں نہیں ہے تو خود کو دیکھو ،مجھے بھی دیکھو
تمہاری وردی پہ کوئی سلوٹ نہیں ہے لیکن یہ میرا ماتھا ۔۔۔
مگر یہ چھوڑو مرے محافظ ! یہ کرب عادت سی بن چکا ہے
مجھے تو بس اتنا پوچھنا ہے
تمہارے ہوتے ہوئے کوئی صاب میرا بچہ کچل گیا ہے
وہ کون تھا ؟اور کہاں گیا ہے ؟
جواب دو گے ؟کہ مار دو گے ؟
