120
لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو
ممکن ہے خوبیوں پہ تمہیں کچھ سزا ہی ہو
دونوں امور ہم نے سپردِ خدا کیے
اب ہو وفا کسی کی تو چاہے جفا ہی ہو
چوکھٹ کبھی نہ چھوڑیں گے پروردگار کی
دل مبتلائے درد ہو چاہے شفا ہی ہو
دونوں ہی صورتوں میں وہ دل کو عزیز ہے
راضی رہے وہ مجھ سے تو چاہے خفا ہی ہو
مجھ کو تلاش کرنے دو ان نفرتوں کے بیچ
شاید محبتوں کا کوئی گل کھلا ہی ہو
دستک ہوئی ہے دل پہ جو خالدؔ تو کھول در
ممکن ہے تیرے درد کی اب کے دوا ہی ہو
اویس خالدؔ
