خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامغلام سے امامِ امت تک
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

غلام سے امامِ امت تک

از سائیٹ ایڈمن جنوری 10, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 10, 2026 0 تبصرے 38 مناظر
39

حضرت سالمؓ مولیٰ ابو حذیفہ کی ایمان افروز داستان

مدینہ کا بازار تھا۔ سورج پوری آب و تاب سے آگ برسا رہا تھا۔ گرمی کی شدت ایسی کہ لوگ سایہ ڈھونڈتے پھرتے تھے، بدن پسینے سے شرابور تھے اور سانس لینا دشوار معلوم ہوتا تھا۔ اسی بازار کے ایک گوشے میں ایک تاجر کھڑا تھا، چہرے پر پریشانی اور آنکھوں میں اضطراب نمایاں تھا۔ اس کے ساتھ ایک کم سن غلام بھی کھڑا تھا—نحیف سا بدن، دھوپ میں جلا ہوا چہرہ، پیشانی سے پسینہ بہتا ہوا، مگر آنکھوں میں معصوم خاموشی۔
تاجر کا سارا مال اچھے داموں فروخت ہوچکا تھا، مگر یہ غلام اب تک باقی تھا۔ خریدار آتے، غلام کو دیکھتے اور بغیر دلچسپی کے آگے بڑھ جاتے۔ کوئی اس غلام کو خریدنے پر آمادہ نہ تھا۔ تاجر کے دل میں حسرت پیدا ہونے لگی۔ وہ سوچنے لگا: کیا یہ سودا گھاٹے کا تھا؟ میں نے تو اسے نفع کی نیت سے خریدا تھا، مگر اب تو اصل قیمت کا ملنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔
بالآخر اس نے دل میں طے کرلیا کہ اب اگر کوئی اس غلام کو پوری قیمت پر بھی خرید لے تو میں فوراً بیچ دوں گا، بس اس جھنجھٹ سے نجات مل جائے۔
اسی اثنا میں مدینہ کی ایک نیک سیرت لڑکی کا گزر اس طرف ہوا۔ اس کی نظر اس کم سن غلام پر پڑی۔ پسینے میں شرابور، خاموشی سے کھڑا یہ بچہ اس کے دل کو چھو گیا۔ اس نے تاجر سے پوچھا: یہ غلام کتنے کا دو گے؟
تاجر نے صاف گوئی سے جواب دیا: جتنے میں خریدا ہے، اتنے ہی میں دے دوں گا۔
لڑکی کے دل میں رحم کی لہر اٹھی۔ اس نے بغیر کسی تردد کے غلام کو خرید لیا۔ تاجر نے سکھ کا سانس لیا، دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا اور مطمئن ہوکر اپنے گھر کی راہ لی۔
کچھ ہی عرصے بعد مکہ سے ابو حذیفہ مدینہ آئے۔ انہیں اس لڑکی کے رحم و شفقت بھرے اس عمل کا علم ہوا۔ اس کی انسان دوستی اور اخلاق سے متاثر ہوکر انہوں نے اس کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا، جو خوش دلی سے قبول کرلیا گیا۔ یوں واپسی پر وہ لڑکی—جس کا نام ثبیتہ بنت یعار تھا—ابو حذیفہ کی زوجہ بن کر ان کے ساتھ مکہ روانہ ہوئی، اور وہ غلام بھی اپنی مالکن کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔
مکہ پہنچ کر ابو حذیفہ اپنے پرانے دوست حضرت عثمان بن عفانؓ سے ملے۔ مگر اس ملاقات میں انہوں نے حضرت عثمانؓ کو بدلا ہوا پایا۔ رویّے میں ایک سنجیدگی اور فاصلے کی جھلک تھی۔ ابو حذیفہ نے تعجب سے پوچھا: عثمان! یہ سرد مہری کیوں؟
حضرت عثمانؓ نے نہایت وقار سے جواب دیا:‌ میں اسلام قبول کرچکا ہوں، اور تم ابھی تک اس نعمت سے محروم ہو۔ اب ہماری دوستی کا رشتہ پہلے جیسا کیسے رہ سکتا ہے؟
یہ بات ابو حذیفہ کے دل میں اتر گئی۔ فوراً بولے: تو پھر مجھے بھی محمد ﷺ کے پاس لے چلو، اور مجھے بھی اس دین میں داخل کرادو جسے تم نے قبول کیا ہے۔
چنانچہ حضرت عثمانؓ انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ ابو حذیفہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔ گھر واپس آکر انہوں نے اپنی اہلیہ اور غلام کو اپنے ایمان کی خبر دی۔ دونوں کے دل پہلے ہی حق کی طرف مائل تھے؛ انہوں نے بھی فوراً کلمہ پڑھ لیا۔
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت ابو حذیفہؓ نے اس غلام سے فرمایا: اب تم مسلمان ہوچکے ہو، اور اسلام میں غلامی کی زنجیر میں تمہیں باندھے رکھنا میرے لیے جائز نہیں۔ آج سے تم اللہ کے لیے آزاد ہو۔
غلام کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے لرزتی آواز میں کہا: آقا! اس دنیا میں آپ اور آپ کی اہلیہ کے سوا میرا کوئی نہیں۔ اگر آپ مجھے آزاد کرکے چھوڑ دیں گے تو میں کہاں جاؤں گا؟
یہ سن کر حضرت ابو حذیفہؓ کا دل بھر آیا۔ انہوں نے اس غلام کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا اور اپنے پاس ہی رکھا۔
غلام نے قرآنِ کریم سیکھنا شروع کیا۔ اللہ نے اس کے دل میں نور بھر دیا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں اس نے بہت سا قرآن حفظ کرلیا۔ اس کی تلاوت میں ایسی مٹھاس، ایسی حلاوت تھی کہ سننے والا ٹھہر جاتا، دل جھوم اٹھتا۔
جب ہجرت کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ سے پہلے جن صحابہؓ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، ان میں حضرت عمرؓ کے ساتھ حضرت ابو حذیفہؓ اور ان کا یہی لے پالک بیٹا بھی شامل تھا۔
مدینہ پہنچ کر جب نماز کے لیے امام مقرر کرنے کا مرحلہ آیا تو دیکھا گیا کہ اس نوجوان غلام—اب آزاد، باعزت مسلمان—کو قرآن سب سے زیادہ یاد ہے اور اس کی تلاوت سب سے خوبصورت ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر اسے امام مقرر کردیا گیا۔
حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی اس کی امامت میں نماز ادا کرتے تھے۔
مدینہ کے یہودی یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ کہنے لگے:
یہ وہی غلام ہے جسے کل کوئی خریدنے کو تیار نہ تھا، اور آج دیکھو—مسلمانوں کا امام بنا کھڑا ہے!
رسولِ رحمت ﷺ کی تحسین
اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی خوش گلوئی عطا کی تھی کہ جب وہ قرآن کی تلاوت کرتا تو سننے والوں پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی۔ راہ گیر ٹھٹک جاتے، دل کھنچ کر اس کی آواز کی طرف مائل ہوجاتے۔
ایک مرتبہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوگئی۔ آپ ﷺ نے سبب پوچھا تو عرض کیا: ایک قاری قرآن کی تلاوت کررہا تھا، اس کی خوش الحانی نے روک لیا۔
آپ ﷺ نے اس قدر تعریف سنی تو خود چادر سنبھالے باہر تشریف لائے۔ دیکھا تو وہی نوجوان بیٹھا قرآن پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ خوش ہوکر فرمایا: الحمد للہ الذی جعل فیکم مثل هذا
اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں تم جیسے لوگ پیدا کیے۔
تعارفِ خوش نصیب صحابی
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم المرتبت خوش نصیب صحابی کون تھے؟
یہ تھے حضرت سالمؓ مولیٰ ابو حذیفہ—وہی غلام جسے کبھی کوئی خریدنے کو تیار نہ تھا، اور جسے اسلام نے عزت، علم اور امامت کا تاج پہنایا۔
حضرت سالمؓ نے آخرکار راہِ خدا میں جنگِ موتہ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
اللہ تعالیٰ ان پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے،
اور ہمیں یہ سبق عطا فرمائے کہ اسلام انسان کو اس کے ماضی سے نہیں، اس کے ایمان اور عمل سے پہچان دیتا ہے۔

السیرۃ النبویۃ (ابن ہشام)، الطبقات الکبریٰ (ابن سعد)

ابو خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بیٹی، تعلیم اور بدلتا ہوا دیہی معاشرہ
  • عید اور رسم مصافحہ
  • انٹرنیٹ کے دور میں کالم نگاری کی جہتیں
  • پاکستان میں خودکش دھماکے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خاموش موت کے پیامبر
پچھلی پوسٹ
بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی

متعلقہ پوسٹس

بھٹو کا جیالا اور آصف زرداری

نومبر 16, 2019

موذیل

جنوری 16, 2020

پرگتی

جنوری 24, 2020

شال

فروری 3, 2020

میں پڑا ہوں میکدے میں بوتلوں کے درمیاں

مارچ 18, 2026

حصار ذات

اکتوبر 14, 2025

تہذیبِ تنہائی

جنوری 8, 2025

حفاظِ قرآن کے لیے مفید معلومات

دسمبر 6, 2025

کی محمد ﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے...

ستمبر 29, 2025

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

اگست 15, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سید علی عباس جلالپوری:شخصیت و فن

دسمبر 6, 2025

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

جب شیطان ناکام ہوتا ہے

نومبر 20, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں