خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 36 مناظر
37

پاکستان میں صحت کا شعبہ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بظاہر تو اسپتال، کلینک اور فارمیسیز مریضوں کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی دیواروں کے پیچھے کچھ ایسی سازشیں پل رہی ہیں جن کا انجام صرف ایک عام مریض کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کبھی کسی سرکاری یا نجی اسپتال کے باہر کی فارمیسی سے دوا خریدنے گئے ہوں تو ایک عام سا نسخہ بھی ہزاروں روپے کا پڑ جاتا ہے۔ مریض اور اس کے گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں کہ دوا آخر اتنی مہنگی کیوں ہے؟ بدقسمتی سے یہ سوال نہ کوئی ڈاکٹر دیتا ہے، نہ کمپنی، نہ ریاست۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان میں بیشتر ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کے ساتھ خفیہ مفادات کا رشتہ رکھتی ہیں۔ اب یہ تعلقات رشوت، لفافہ یا نقد رقم کی صورت میں نہیں بلکہ زیادہ ”مہذب“ انداز میں موجود ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر ڈاکٹروں کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی موبائل فونز، بیرونِ ملک سیاحت کے دورے، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام، فیملیز کے ساتھ شاپنگ اسپری اور دیگر پرتعیش سہولیات دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس ایک شرط پر دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کمپنی کی دوا تجویز کرے گا، خواہ مریض کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، چاہے وہ دوا مہنگی ہو، اس کا متبادل موجود ہو، یا پھر اس کے ضمنی اثرات زیادہ ہوں۔

آج کل یہ معمول بن چکا ہے کہ ڈاکٹر کو سنگاپور میں کسی میڈیکل کانفرنس کا دعوت نامہ ملتا ہے۔ کمپنی کے خرچے پر ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، فیملی سمیت تفریحی ٹور، سب کچھ ہوتا ہے۔ کانفرنس محض ایک بہانہ ہوتا ہے، اصل مقصد کمپنی کی نئی دوا کی پروموشن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر واپس آ کر وہ دوا اپنے ہر دوسرے مریض کو لکھنا شروع کر دیتا ہے، اور ہر مریض اس تعلق کی قیمت چکاتا ہے۔ یہ قیمت صرف مالی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات صحت، وقت اور اعتماد کی صورت میں بھی ادا کی جاتی ہے۔

یہ رشوت کا وہ نیا روپ ہے جس میں دینے والا بھی باعزت اور لینے والا بھی معتبر نظر آتا ہے۔ کوئی کیمرہ اسے پکڑ نہیں سکتا، کوئی قانون اسے جرم نہیں سمجھتا، اور کوئی مریض اتنا با اختیار نہیں کہ سوال کرے کہ ”ڈاکٹر صاحب! کیا یہ دوا واقعی میرے لیے ضروری ہے یا کسی فارما کمپنی کی مجبوری؟“

ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو ماہانہ ”ٹارگٹ“ دیتی ہیں۔ اگر ڈاکٹر فلاں دوا کے 500 یونٹ تجویز کرے تو اسے موبائل فون دیا جائے گا۔ ہزار یونٹ پر لیپ ٹاپ، پانچ ہزار یونٹ پر عمرہ، اور دس ہزار یونٹ پر دبئی یا ترکی کا فیملی ٹور۔ کچھ ڈاکٹروں کے کلینک کمپنی کے اخراجات پر چلتے ہیں۔ ان کے نرسنگ اسٹاف کی تنخواہیں، فرنیچر، اے سی، جنریٹر، سب کچھ کمپنی مہیا کرتی ہے، اور بدلے میں دوا کا حکم صرف کمپنی کی ہوگی۔
اگر کوئی دوا سستی بھی ہو، لیکن کمپنی کے ساتھ ڈاکٹر کا معاہدہ نہ ہو، تو وہ دوا مریض کو تجویز ہی نہیں کی جاتی۔ بعض اوقات جنیرک دوا جس کی قیمت سو روپے ہے، اس کا ”برانڈیڈ“ ورژن جو سات سو روپے میں ملتا ہے، صرف اس لیے لکھا جاتا ہے کہ وہ کمپنی ڈاکٹر کو ”دیکھتی“ ہے۔ مریض کو دوا کے فرق کا اندازہ تک نہیں ہوتا، اور وہ اپنی جمع پونجی دوا پر لگا دیتا ہے، کبھی کبھی بچوں کی فیس، بجلی کا بل یا راشن قربان کر کے۔

یہ صورت حال صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ اب تو چھوٹے شہروں، یہاں تک کہ دیہات میں بھی یہ نظام سرایت کر چکا ہے۔ فارما ریپریزنٹیٹیو ہر ہفتے ڈاکٹر سے ملتا ہے، نئی دوا دیتا ہے، نمونہ پیش کرتا ہے، فائلوں میں اس کے نسخے کی کاپیاں اکٹھی کرتا ہے اور اہداف کا جائزہ لیتا ہے۔ گویا مریض ایک تجربہ گاہ کا حصہ بن گیا ہے جہاں اصل علاج نہیں، اصل ہدف کمپنی کی فروخت ہے۔

اگر کوئی ادارہ واقعی سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرے کہ ڈاکٹرز اور فارما کمپنیوں کے یہ تعلقات ختم کیے جائیں، تو پاکستان میں ادویات کی قیمتیں کم از کم تیس سے پچاس فیصد تک کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمیں صرف کمپنیوں کو نہیں، ڈاکٹروں کو بھی کٹہرے میں لانا ہو گا۔ کیا ایک ایسے ڈاکٹر کو ”شفیق مسیحا“ کہا جا سکتا ہے جو مریض کی بیماری کو اپنی کمائی کا ذریعہ سمجھتا ہو؟ کیا وہ کمپنی ”خدمتِ خلق“ کا دعویٰ کر سکتی ہے جو مریض کی جیب خالی کر کے ڈاکٹر کو سیر کراتی ہے؟

بدقسمتی سے ریاستی ادارے جیسے ڈریپ، پی ایم ڈی سی (اب پی ایم سی) ، وزارتِ صحت اور دیگر متعلقہ محکمے یا تو بے بس ہیں یا اس کھیل کا حصہ۔ نہ کوئی شفاف آڈٹ ہوتا ہے، نہ دوا کی قیمت میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ اس میں اشتہارات، تحائف اور دوروں کا خرچ شامل ہے یا نہیں۔ کوئی مریض سوال کرے بھی تو کہا جاتا ہے : ”یہ کمپنی کی پالیسی ہے۔“
اس صورتحال میں سب سے اہم کردار عوام کا ہو سکتا ہے۔ اگر مریض، اُن کے لواحقین، اور میڈیا مسلسل یہ سوال اٹھائیں، ڈاکٹروں سے وضاحت طلب کریں، متبادل دوا کے بارے میں پوچھیں، کمپنی کے نمائندوں سے سوال کریں، تو شاید ایک شعور بیدار ہو۔ اس شعور کے بغیر دوا ایک زہر بنتی جائے گی، اور ڈاکٹر ایک دکاندار۔

یہ وہ وقت ہے جب ہمیں صحت کے شعبے کو کاروبار سے نکال کر خدمت کی طرف واپس لانا ہو گا۔ ورنہ مریض صرف دوا کے نام پر زندگی بھر اپنا سب کچھ لٹاتا رہے گا، اور یہ ”سہولت کاری“ کا شیطانی نظام اس کی لاش پر اپنی کامیابی کا جشن مناتا رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وفاؤں کے پیچھےجفاؤں کے پیچھے
  • ستائیسویں آئینی ترمیم
  • پھر ترا کوزہ گر بھرم رکھا
  • اک ترے آنے کے بعد
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان خالی ہو رہا ہے
پچھلی پوسٹ
کرنل حبیب ظاہر کا غیاب

متعلقہ پوسٹس

اٹھتی ہے مرے قلب سے اک آہ شرر بار

اکتوبر 25, 2025

عوام کی آواز ( ہیلمٹ )

دسمبر 9, 2025

قومی بچت کے بابوں کی تعظیم کیجیے

اکتوبر 20, 2019

خشک اشجار پرندوں سے محبت کیا ہے

مارچ 16, 2020

شروعات

جنوری 24, 2020

خلوص و پیار کے سانچے میں

نومبر 14, 2025

پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار

فروری 7, 2026

چٹان کی دہلیز

دسمبر 22, 2024

جہاں کارواں ٹھہرا تھا

مارچ 3, 2013

وہ جو قرض اک تھا زبان پر

فروری 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آگہی آگ ہے

جنوری 10, 2021

بددعائوں سے ڈرتا ہوں

مئی 2, 2024

داستانِ عشق میری کچھ نہیں ہے...

اپریل 30, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں