خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 69 مناظر
70

پاکستان میں صحت کا شعبہ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بظاہر تو اسپتال، کلینک اور فارمیسیز مریضوں کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی دیواروں کے پیچھے کچھ ایسی سازشیں پل رہی ہیں جن کا انجام صرف ایک عام مریض کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کبھی کسی سرکاری یا نجی اسپتال کے باہر کی فارمیسی سے دوا خریدنے گئے ہوں تو ایک عام سا نسخہ بھی ہزاروں روپے کا پڑ جاتا ہے۔ مریض اور اس کے گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں کہ دوا آخر اتنی مہنگی کیوں ہے؟ بدقسمتی سے یہ سوال نہ کوئی ڈاکٹر دیتا ہے، نہ کمپنی، نہ ریاست۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان میں بیشتر ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کے ساتھ خفیہ مفادات کا رشتہ رکھتی ہیں۔ اب یہ تعلقات رشوت، لفافہ یا نقد رقم کی صورت میں نہیں بلکہ زیادہ ”مہذب“ انداز میں موجود ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر ڈاکٹروں کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی موبائل فونز، بیرونِ ملک سیاحت کے دورے، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام، فیملیز کے ساتھ شاپنگ اسپری اور دیگر پرتعیش سہولیات دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس ایک شرط پر دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کمپنی کی دوا تجویز کرے گا، خواہ مریض کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، چاہے وہ دوا مہنگی ہو، اس کا متبادل موجود ہو، یا پھر اس کے ضمنی اثرات زیادہ ہوں۔

آج کل یہ معمول بن چکا ہے کہ ڈاکٹر کو سنگاپور میں کسی میڈیکل کانفرنس کا دعوت نامہ ملتا ہے۔ کمپنی کے خرچے پر ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، فیملی سمیت تفریحی ٹور، سب کچھ ہوتا ہے۔ کانفرنس محض ایک بہانہ ہوتا ہے، اصل مقصد کمپنی کی نئی دوا کی پروموشن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر واپس آ کر وہ دوا اپنے ہر دوسرے مریض کو لکھنا شروع کر دیتا ہے، اور ہر مریض اس تعلق کی قیمت چکاتا ہے۔ یہ قیمت صرف مالی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات صحت، وقت اور اعتماد کی صورت میں بھی ادا کی جاتی ہے۔

یہ رشوت کا وہ نیا روپ ہے جس میں دینے والا بھی باعزت اور لینے والا بھی معتبر نظر آتا ہے۔ کوئی کیمرہ اسے پکڑ نہیں سکتا، کوئی قانون اسے جرم نہیں سمجھتا، اور کوئی مریض اتنا با اختیار نہیں کہ سوال کرے کہ ”ڈاکٹر صاحب! کیا یہ دوا واقعی میرے لیے ضروری ہے یا کسی فارما کمپنی کی مجبوری؟“

ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو ماہانہ ”ٹارگٹ“ دیتی ہیں۔ اگر ڈاکٹر فلاں دوا کے 500 یونٹ تجویز کرے تو اسے موبائل فون دیا جائے گا۔ ہزار یونٹ پر لیپ ٹاپ، پانچ ہزار یونٹ پر عمرہ، اور دس ہزار یونٹ پر دبئی یا ترکی کا فیملی ٹور۔ کچھ ڈاکٹروں کے کلینک کمپنی کے اخراجات پر چلتے ہیں۔ ان کے نرسنگ اسٹاف کی تنخواہیں، فرنیچر، اے سی، جنریٹر، سب کچھ کمپنی مہیا کرتی ہے، اور بدلے میں دوا کا حکم صرف کمپنی کی ہوگی۔
اگر کوئی دوا سستی بھی ہو، لیکن کمپنی کے ساتھ ڈاکٹر کا معاہدہ نہ ہو، تو وہ دوا مریض کو تجویز ہی نہیں کی جاتی۔ بعض اوقات جنیرک دوا جس کی قیمت سو روپے ہے، اس کا ”برانڈیڈ“ ورژن جو سات سو روپے میں ملتا ہے، صرف اس لیے لکھا جاتا ہے کہ وہ کمپنی ڈاکٹر کو ”دیکھتی“ ہے۔ مریض کو دوا کے فرق کا اندازہ تک نہیں ہوتا، اور وہ اپنی جمع پونجی دوا پر لگا دیتا ہے، کبھی کبھی بچوں کی فیس، بجلی کا بل یا راشن قربان کر کے۔

یہ صورت حال صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ اب تو چھوٹے شہروں، یہاں تک کہ دیہات میں بھی یہ نظام سرایت کر چکا ہے۔ فارما ریپریزنٹیٹیو ہر ہفتے ڈاکٹر سے ملتا ہے، نئی دوا دیتا ہے، نمونہ پیش کرتا ہے، فائلوں میں اس کے نسخے کی کاپیاں اکٹھی کرتا ہے اور اہداف کا جائزہ لیتا ہے۔ گویا مریض ایک تجربہ گاہ کا حصہ بن گیا ہے جہاں اصل علاج نہیں، اصل ہدف کمپنی کی فروخت ہے۔

اگر کوئی ادارہ واقعی سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرے کہ ڈاکٹرز اور فارما کمپنیوں کے یہ تعلقات ختم کیے جائیں، تو پاکستان میں ادویات کی قیمتیں کم از کم تیس سے پچاس فیصد تک کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمیں صرف کمپنیوں کو نہیں، ڈاکٹروں کو بھی کٹہرے میں لانا ہو گا۔ کیا ایک ایسے ڈاکٹر کو ”شفیق مسیحا“ کہا جا سکتا ہے جو مریض کی بیماری کو اپنی کمائی کا ذریعہ سمجھتا ہو؟ کیا وہ کمپنی ”خدمتِ خلق“ کا دعویٰ کر سکتی ہے جو مریض کی جیب خالی کر کے ڈاکٹر کو سیر کراتی ہے؟

بدقسمتی سے ریاستی ادارے جیسے ڈریپ، پی ایم ڈی سی (اب پی ایم سی) ، وزارتِ صحت اور دیگر متعلقہ محکمے یا تو بے بس ہیں یا اس کھیل کا حصہ۔ نہ کوئی شفاف آڈٹ ہوتا ہے، نہ دوا کی قیمت میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ اس میں اشتہارات، تحائف اور دوروں کا خرچ شامل ہے یا نہیں۔ کوئی مریض سوال کرے بھی تو کہا جاتا ہے : ”یہ کمپنی کی پالیسی ہے۔“
اس صورتحال میں سب سے اہم کردار عوام کا ہو سکتا ہے۔ اگر مریض، اُن کے لواحقین، اور میڈیا مسلسل یہ سوال اٹھائیں، ڈاکٹروں سے وضاحت طلب کریں، متبادل دوا کے بارے میں پوچھیں، کمپنی کے نمائندوں سے سوال کریں، تو شاید ایک شعور بیدار ہو۔ اس شعور کے بغیر دوا ایک زہر بنتی جائے گی، اور ڈاکٹر ایک دکاندار۔

یہ وہ وقت ہے جب ہمیں صحت کے شعبے کو کاروبار سے نکال کر خدمت کی طرف واپس لانا ہو گا۔ ورنہ مریض صرف دوا کے نام پر زندگی بھر اپنا سب کچھ لٹاتا رہے گا، اور یہ ”سہولت کاری“ کا شیطانی نظام اس کی لاش پر اپنی کامیابی کا جشن مناتا رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہیری پوٹر ان ٹربل
  • پیرن
  • محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”
  • فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان خالی ہو رہا ہے
پچھلی پوسٹ
کرنل حبیب ظاہر کا غیاب

متعلقہ پوسٹس

باعث آزار ہو جاتے ہیں لوگ

جولائی 3, 2025

اس سے پہلے ترے کوچے میں تماشا ہوتا

مئی 8, 2020

ذکر میرا تو خیالات سے پہلے بھی تھا

جولائی 28, 2020

جلاوطن

جون 3, 2023

مسلمانوں کالباس (پہلاحصہ)

مئی 12, 2024

گردش کے انتخاب کی حالت میں مرگیا

دسمبر 15, 2019

کمہارن

دسمبر 31, 2021

دورِ حاضر اور ایمانِ مسلم

جولائی 4, 2020

پہلے آواز لگائی ہم نے

جون 21, 2020

سسکتے روتے ہزاروں کو پیچھے چھوڑ گئی

مارچ 11, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

اسلامی گوشہ

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

اردو شاعری

انسانیت

جولائی 31, 2026

تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو...

جولائی 31, 2026

مری زندگی تو فراق ہے

جولائی 30, 2026

اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

جولائی 26, 2026

آئینے کی کرچیاں

جولائی 24, 2026

اردو افسانے

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

اردو کالمز

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

سرقے کو جہاں رتبۂ الہام دیا جائے!

جولائی 25, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسانیت

    جولائی 31, 2026
  • تھا میں کیا، اور کیا سے کیا ہو گیا

    جولائی 31, 2026
  • مری زندگی تو فراق ہے

    جولائی 30, 2026
  • مخلوق خدا سے محبت

    جولائی 29, 2026
  • متن کے تعاقب میں

    جولائی 28, 2026
  • اسی دھوکے میں رہتا آدمی ہے

    جولائی 26, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دل و نگاہ میں اس کو...

مئی 28, 2024

ہے سارا بدن مشکِ خُتن

مئی 29, 2024

ملحد، سیکولر اور قادیانی اتحاد

اکتوبر 18, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں