خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 100 مناظر
101

پاکستان میں صحت کا شعبہ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بظاہر تو اسپتال، کلینک اور فارمیسیز مریضوں کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں، لیکن ان کی دیواروں کے پیچھے کچھ ایسی سازشیں پل رہی ہیں جن کا انجام صرف ایک عام مریض کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کبھی کسی سرکاری یا نجی اسپتال کے باہر کی فارمیسی سے دوا خریدنے گئے ہوں تو ایک عام سا نسخہ بھی ہزاروں روپے کا پڑ جاتا ہے۔ مریض اور اس کے گھر والے پریشان ہو جاتے ہیں کہ دوا آخر اتنی مہنگی کیوں ہے؟ بدقسمتی سے یہ سوال نہ کوئی ڈاکٹر دیتا ہے، نہ کمپنی، نہ ریاست۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ پاکستان میں بیشتر ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کے ساتھ خفیہ مفادات کا رشتہ رکھتی ہیں۔ اب یہ تعلقات رشوت، لفافہ یا نقد رقم کی صورت میں نہیں بلکہ زیادہ ”مہذب“ انداز میں موجود ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر ڈاکٹروں کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی موبائل فونز، بیرونِ ملک سیاحت کے دورے، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام، فیملیز کے ساتھ شاپنگ اسپری اور دیگر پرتعیش سہولیات دی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ اس ایک شرط پر دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر کمپنی کی دوا تجویز کرے گا، خواہ مریض کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، چاہے وہ دوا مہنگی ہو، اس کا متبادل موجود ہو، یا پھر اس کے ضمنی اثرات زیادہ ہوں۔

آج کل یہ معمول بن چکا ہے کہ ڈاکٹر کو سنگاپور میں کسی میڈیکل کانفرنس کا دعوت نامہ ملتا ہے۔ کمپنی کے خرچے پر ویزا، ٹکٹ، ہوٹل، فیملی سمیت تفریحی ٹور، سب کچھ ہوتا ہے۔ کانفرنس محض ایک بہانہ ہوتا ہے، اصل مقصد کمپنی کی نئی دوا کی پروموشن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر واپس آ کر وہ دوا اپنے ہر دوسرے مریض کو لکھنا شروع کر دیتا ہے، اور ہر مریض اس تعلق کی قیمت چکاتا ہے۔ یہ قیمت صرف مالی نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات صحت، وقت اور اعتماد کی صورت میں بھی ادا کی جاتی ہے۔

یہ رشوت کا وہ نیا روپ ہے جس میں دینے والا بھی باعزت اور لینے والا بھی معتبر نظر آتا ہے۔ کوئی کیمرہ اسے پکڑ نہیں سکتا، کوئی قانون اسے جرم نہیں سمجھتا، اور کوئی مریض اتنا با اختیار نہیں کہ سوال کرے کہ ”ڈاکٹر صاحب! کیا یہ دوا واقعی میرے لیے ضروری ہے یا کسی فارما کمپنی کی مجبوری؟“

ادویات ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو ماہانہ ”ٹارگٹ“ دیتی ہیں۔ اگر ڈاکٹر فلاں دوا کے 500 یونٹ تجویز کرے تو اسے موبائل فون دیا جائے گا۔ ہزار یونٹ پر لیپ ٹاپ، پانچ ہزار یونٹ پر عمرہ، اور دس ہزار یونٹ پر دبئی یا ترکی کا فیملی ٹور۔ کچھ ڈاکٹروں کے کلینک کمپنی کے اخراجات پر چلتے ہیں۔ ان کے نرسنگ اسٹاف کی تنخواہیں، فرنیچر، اے سی، جنریٹر، سب کچھ کمپنی مہیا کرتی ہے، اور بدلے میں دوا کا حکم صرف کمپنی کی ہوگی۔
اگر کوئی دوا سستی بھی ہو، لیکن کمپنی کے ساتھ ڈاکٹر کا معاہدہ نہ ہو، تو وہ دوا مریض کو تجویز ہی نہیں کی جاتی۔ بعض اوقات جنیرک دوا جس کی قیمت سو روپے ہے، اس کا ”برانڈیڈ“ ورژن جو سات سو روپے میں ملتا ہے، صرف اس لیے لکھا جاتا ہے کہ وہ کمپنی ڈاکٹر کو ”دیکھتی“ ہے۔ مریض کو دوا کے فرق کا اندازہ تک نہیں ہوتا، اور وہ اپنی جمع پونجی دوا پر لگا دیتا ہے، کبھی کبھی بچوں کی فیس، بجلی کا بل یا راشن قربان کر کے۔

یہ صورت حال صرف چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہی۔ اب تو چھوٹے شہروں، یہاں تک کہ دیہات میں بھی یہ نظام سرایت کر چکا ہے۔ فارما ریپریزنٹیٹیو ہر ہفتے ڈاکٹر سے ملتا ہے، نئی دوا دیتا ہے، نمونہ پیش کرتا ہے، فائلوں میں اس کے نسخے کی کاپیاں اکٹھی کرتا ہے اور اہداف کا جائزہ لیتا ہے۔ گویا مریض ایک تجربہ گاہ کا حصہ بن گیا ہے جہاں اصل علاج نہیں، اصل ہدف کمپنی کی فروخت ہے۔

اگر کوئی ادارہ واقعی سنجیدگی سے یہ فیصلہ کرے کہ ڈاکٹرز اور فارما کمپنیوں کے یہ تعلقات ختم کیے جائیں، تو پاکستان میں ادویات کی قیمتیں کم از کم تیس سے پچاس فیصد تک کم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے ہمیں صرف کمپنیوں کو نہیں، ڈاکٹروں کو بھی کٹہرے میں لانا ہو گا۔ کیا ایک ایسے ڈاکٹر کو ”شفیق مسیحا“ کہا جا سکتا ہے جو مریض کی بیماری کو اپنی کمائی کا ذریعہ سمجھتا ہو؟ کیا وہ کمپنی ”خدمتِ خلق“ کا دعویٰ کر سکتی ہے جو مریض کی جیب خالی کر کے ڈاکٹر کو سیر کراتی ہے؟

بدقسمتی سے ریاستی ادارے جیسے ڈریپ، پی ایم ڈی سی (اب پی ایم سی) ، وزارتِ صحت اور دیگر متعلقہ محکمے یا تو بے بس ہیں یا اس کھیل کا حصہ۔ نہ کوئی شفاف آڈٹ ہوتا ہے، نہ دوا کی قیمت میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ اس میں اشتہارات، تحائف اور دوروں کا خرچ شامل ہے یا نہیں۔ کوئی مریض سوال کرے بھی تو کہا جاتا ہے : ”یہ کمپنی کی پالیسی ہے۔“
اس صورتحال میں سب سے اہم کردار عوام کا ہو سکتا ہے۔ اگر مریض، اُن کے لواحقین، اور میڈیا مسلسل یہ سوال اٹھائیں، ڈاکٹروں سے وضاحت طلب کریں، متبادل دوا کے بارے میں پوچھیں، کمپنی کے نمائندوں سے سوال کریں، تو شاید ایک شعور بیدار ہو۔ اس شعور کے بغیر دوا ایک زہر بنتی جائے گی، اور ڈاکٹر ایک دکاندار۔

یہ وہ وقت ہے جب ہمیں صحت کے شعبے کو کاروبار سے نکال کر خدمت کی طرف واپس لانا ہو گا۔ ورنہ مریض صرف دوا کے نام پر زندگی بھر اپنا سب کچھ لٹاتا رہے گا، اور یہ ”سہولت کاری“ کا شیطانی نظام اس کی لاش پر اپنی کامیابی کا جشن مناتا رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • احساس کی خوشبو یہ لگن تیرے لیے ہے
  • تو کرے جو محبت وہ محبت دغا کرے
  • دھول آمادۂ سفر ہی نہ تھی
  • تمہارا ٹوٹا ہوا حوصلہ بڑھائیں گے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان خالی ہو رہا ہے
پچھلی پوسٹ
کرنل حبیب ظاہر کا غیاب

متعلقہ پوسٹس

یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیں

جنوری 9, 2022

ایسا لگتا تھا کچھ خفا سا تھا

جنوری 15, 2020

فقط

اکتوبر 12, 2025

غلط فہمی کا نتیجہ

اپریل 1, 2023

تحفظ ناموس رسالتؐ اور رعب مسلم

نومبر 13, 2020

شاعری تیرا مسئلہ نہیں ہے

مئی 14, 2020

دلاسے بیچنے آتی ہے

دسمبر 26, 2024

ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں

اپریل 4, 2020

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا حادثہ

دسمبر 14, 2019

جب شیطان ناکام ہوتا ہے

نومبر 20, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رات، ملنے لگی گلے مجھ سے

جون 12, 2020

ملتان سر جڑی دلیرانہ محبت

فروری 14, 2020

ناکامی کے اسباب اور کامیابی کے...

اکتوبر 31, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں