خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان خالی ہو رہا ہے
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستان خالی ہو رہا ہے

از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 15, 2025 0 تبصرے 83 مناظر
84

پاکستان خالی ہو رہا ہے۔ یہ جملہ سننے میں شاید ادبی یا جذباتی لگے، مگر حقیقت میں یہ ہمارے حالیہ قومی المیے کا سب سے تلخ اور سیدھا بیان ہے۔ صرف چھ ماہ کے عرصے میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اور یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ایک پوری قوم کے ذہن، ہنر، خواب اور امیدیں ہیں جو سرحد پار جا رہی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے برسوں اس امید پر محنت کی کہ اس ملک میں ایک دن انہیں وہ عزت، روزگار، اور سہولیات ملیں گی جن کے وہ مستحق ہیں۔ مگر بدلے میں انہیں ملا ہے بے رحم مہنگائی، بدحال معیشت، اور نا امید مستقبل۔ آج کا پاکستانی نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے فیس بک پر بیرونِ ملک ویزوں کے اشتہارات دیکھ رہا ہے، کیونکہ یہاں اسے اپنی تعلیم، مہارت یا خواب کی کوئی قیمت دکھائی نہیں دیتی۔
پاکستان میں اب ایسا نظام جنم لے چکا ہے جس نے جینا ایک جنگ بنا دیا ہے۔ مہنگائی نے ایک عام گھر کے چولہے کو ٹھنڈا کر دیا ہے۔ وہ مزدور جو دن بھر محنت کر کے کبھی اپنے بچوں کو کم از کم ایک وقت کا گوشت کھلایا کرتا تھا، اب آلو پیاز کے دام دیکھ کر آہیں بھرتا ہے۔ وہ سفید پوش طبقہ جو کبھی بجلی کا بل وقت پر دیتا تھا، اب قسطوں کی درخواستیں لے کر قطار میں کھڑا ہے۔ متوسط طبقے کی خودداری کا جنازہ نکل چکا ہے، اور اشرافیہ اسے دیکھ کر اپنی کامیابی پر نازاں ہے۔ ملک میں بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک پوری نسل جو کبھی پاکستان کا اثاثہ سمجھی جاتی تھی، اب حکومت اور نظام پر بوجھ بن چکی ہے۔ کیونکہ ہم نے نہ صنعتیں لگائیں، نہ روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ ہم نے صرف بیانات دیے، وعدے کیے، اور پھر نئی حکومت آنے پر پچھلے وعدوں کو جھوٹا قرار دے کر نئی تقریریں کیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ وسائل محدود ہیں اور منہ زیادہ۔ نہ تعلیمی ادارے کافی ہیں، نہ اسپتال، نہ روزگار، نہ انصاف۔ ہر چیز کا بوجھ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، اور ریاست جیسے ایک کمزور پل کی طرح لرز رہی ہے۔

جب ایک ملک میں نا انصافی عام ہو جائے، روزگار نایاب ہو جائے، بنیادی ضروریات مہنگائی کی چھری تلے آ جائیں، اور عوام کا نظام پر اعتماد ختم ہو جائے، تو اس کا ایک فطری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جرائم بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کے گلی محلوں میں آج صرف اندھیری راتیں نہیں، اندیشے بھی گھوم رہے ہیں۔ ڈکیتی، اغوا، قتل، چوری۔ اب صرف اخبارات کی سرخیاں نہیں، عام لوگوں کی روزمرہ کی کہانیاں بن چکی ہیں۔

یہ سب کسی فطری آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسانوں کی پیدا کردہ وہ تباہی ہے جو بددیانتی، نا اہلی، اور خودغرضی سے جنم لیتی ہے۔ برسوں سے ہم ایک ایسے سیاسی کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس میں صرف کھلاڑی بدلتے ہیں، کھیل وہی رہتا ہے۔ سیاستدان اقتدار کی کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں، عوام آٹے کی بوری کے لیے۔ وہ قوم جو ایٹمی طاقت ہونے پر فخر کرتی تھی، آج چینی لینے کے لیے لائن میں کھڑی ہے۔ وہ ملک جس نے دنیا بھر کو مہمان نوازی، غیرت اور خودداری کا درس دیا، آج اپنے ہی بچوں کو غیرملکی سفارتخانوں کے باہر قطار میں کھڑا دیکھ رہا ہے۔ مگر کیا سارا الزام صرف سیاستدانوں پر ہے؟ کیا عوام خود قصوروار نہیں؟ ہم نے ووٹ کو ایک کاروباری سودا بنا دیا، میرٹ کے بجائے برادری، سفارش، اور تعصب کو ترجیح دی۔ ہم نے اپنے حقوق کا سودا وقتی مفادات کے بدلے کر لیا۔ ہم نے صرف دوسروں کو کوسا، خود کبھی آئینہ نہ دیکھا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی خالی ہو رہا ہے؟ ہاں، یہ خالی ہو رہا ہے۔ ذہنوں سے، خوابوں سے، امیدوں سے، اور اب جسمانی طور پر بھی۔ مگر اس خلا کو پُر کرنے کے لیے محض تقریریں کافی نہیں، عمل درکار ہے۔ اور وہ عمل صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں، ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اجتماعی سطح پر شعور کی نئی لہر پیدا کرنا ہوگی۔ تعلیمی نظام کو نظریاتی اور عملی بنیادوں پر ازسرِ نو استوار کرنا ہو گا۔ سیاست کو خدمت سے جوڑنا ہو گا، نہ کہ کاروبار سے۔ عوام کو یہ سمجھانا ہو گا کہ تبدیلی نعروں سے نہیں، فیصلوں سے آتی ہے۔ حکمرانوں کو یہ باور کرانا ہو گا کہ عوام کوئی رعایا نہیں، بلکہ اصل طاقت ہیں۔

یہ سچ ہے کہ پاکستان خالی ہو رہا ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ابھی وقت ہے۔ اگر ہم نے آج بھی ہوش نہ کیا، تو شاید آنے والی نسلیں صرف تصویروں میں پاکستان دیکھیں، اور سوال کریں کہ جب سب کچھ ہاتھ میں تھا، تو تم نے سنبھالا کیوں نہیں؟

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی
  • اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے
  • تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل
  • شب کی دیوار گرا دی ہے شفق زادی نے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حضرت محمد ﷺ کی محبت
پچھلی پوسٹ
ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

متعلقہ پوسٹس

آٹھویں دروازے پر دستک

جنوری 3, 2022

محمودہ

جنوری 17, 2020

جو بھی ایثار کر نہیں سکتا

نومبر 26, 2025

اردو غزل کا سورج – سورج نرائن

اپریل 24, 2011

دل کے چرخے پہ سُوت سانسوں کا

نومبر 18, 2020

بساط پہ اک نظر

اگست 22, 2022

میں تیرے ہجر میں یوں بھی دہائی دیتا نہیں

دسمبر 2, 2019

کب سوچتا ہوں پاؤں بھنور کرنے سے پہلے

فروری 5, 2020

اللّٰہ کبھی کسی کو بھوکا نہیں سلاتا

جنوری 24, 2026

یوں بھی کچھ وقت گزارا

جون 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی

جنوری 13, 2020

غل خان

مئی 10, 2020

عیادت کرنامنع ہے

دسمبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں