خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامتعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2026 0 تبصرے 58 مناظر
59

موجودہ تعلیمی سال ملک کے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ یہ محض ایک سال کی بات نہیں بلکہ ایک ایسے رجحان کی عکاسی ہے جو مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم کو ہر بحران میں سب سے پہلے قربان کر دیا جاتا ہے اور اس کے اثرات برسوں بعد سامنے آتے ہیں۔ آج کے طالب علم کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور پالیسی ساز ہوں گے، مگر جب ان کی تعلیمی بنیاد ہی کمزور ہو تو معاشرے کی سمت درست کیسے رہ سکتی ہے۔

موجودہ تعلیمی سال میں تعلیمی نظام شدید دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال کے بیشتر دن تعطیلات کی نذر ہو چکے ہیں، جس کے باعث طلبہ کا تعلیمیtaleemi saal مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ تعلیمی سال میں اب تک 298 دن گزر چکے ہیں، تاہم ان میں سے صرف 116 دن ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔ ہفتہ اور اتوار، شدید گرمی اور سردی کی تعطیلات، گزیٹڈ چھٹیاں، سیلاب، سکیورٹی خدشات اور غیر اعلانیہ تعطیلات کے باعث مجموعی طور پر 182 دن ضائع ہو چکے ہیں۔

یہ صورتحال صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں بلکہ نجی تعلیمی ادارے بھی اسی دائرے میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ نجی ادارے کسی حد تک اضافی کلاسز یا آن لائن نظام کے ذریعے کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ سرکاری نظام مکمل طور پر تعطیلات کے رحم و کرم پر نظر آتا ہے۔ نتیجتاً تعلیمی تفاوت بڑھتا جا رہا ہے اور طبقاتی خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوری اور فروری کے مہینوں میں مزید صرف 30 تعلیمی دن دستیاب ہوں گے، جس کے بعد مارچ میں سالانہ امتحانات کا آغاز ہو جائے گا اور تدریسی عمل عملاً ختم ہو جائے گا۔ اس طرح رواں تعلیمی سال میں مجموعی طور پر صرف 146 دن ہی کلاسز ممکن ہو سکیں گی۔ تعلیمی ماہرین کی تحقیق کے مطابق مکمل نصاب پڑھانے کے لیے کم از کم 180 تدریسی دن ناگزیر ہوتے ہیں، جبکہ اگر امتحانات کو بھی شامل کر لیا جائے تو نصابی سرگرمیوں کے لیے 210 دن درکار ہوتے ہیں۔

اس واضح فرق کے باوجود ہر سال یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نصاب مکمل کرا لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دن ہی پورے نہ ہوں تو معیار کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اساتذہ کو مجبوراً تیز رفتاری سے اسباق نمٹانے پڑتے ہیں، ہوم ورک اور خود مطالعہ کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور کلاس روم میں سوال و جواب کی روایت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو تعلیم کو زندہ رکھتے ہیں، مگر وقت کی کمی سب کچھ نگل لیتی ہے۔

طلبہ پر اس دباؤ کے نفسیاتی اثرات بھی کم نہیں۔ محدود وقت میں زیادہ نصاب، مسلسل امتحانی خوف اور غیر یقینی تعلیمی شیڈول ذہنی تناؤ کو جنم دیتا ہے۔ چھوٹے بچے جو سیکھنے کے عمل میں تسلسل کے محتاج ہوتے ہیں، بار بار تعلیمی وقفوں کے باعث توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے۔ اساتذہ بھی اسی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، کیونکہ نتائج کی ذمہ داری آخرکار انہی کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے۔

دوسری جانب، غیر معمولی حالات جیسے سیلاب یا سکیورٹی خدشات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کے متبادل انتظامات کبھی سنجیدگی سے سوچے گئے۔ دنیا کے کئی ممالک نے مشکل حالات میں بھی متبادل تدریسی نظام اپنائے، آن لائن تعلیم کو مضبوط کیا اور تعلیمی دنوں کے ضیاع کو کم سے کم رکھا۔ ہمارے ہاں مگر ہر بحران کے بعد خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے اور نقصان کا ازالہ اگلے سال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

والدین کی پریشانی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف وہ بچوں کی تعلیم کے لیے فیسیں ادا کرتے ہیں اور دوسری طرف انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے بچے مطلوبہ تعلیمی وقت سے محروم رہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو تعلیمی نظام کی ناکامی کا خاموش اعتراف بھی ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی میں تعلیم کو ترجیح ہی حاصل نہیں۔ تعلیمی کیلنڈر بار بار بدلتا ہے، تعطیلات کا اعلان آخری لمحے پر ہوتا ہے اور کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اس کا اثر نصاب اور سیکھنے کے معیار پر کیا پڑے گا۔ اگر اسی روش کو جاری رکھا گیا تو تعلیمی سال محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز حقیقت پسندانہ فیصلے کریں۔ تعطیلات کے نظام کو متوازن بنایا جائے، غیر ضروری چھٹیوں میں کمی کی جائے اور ہنگامی حالات کے لیے پہلے سے متبادل تدریسی منصوبہ تیار ہو۔ تعلیمی دنوں کی کمی کو اضافی کلاسز یا توسیع شدہ تعلیمی سال کے ذریعے پورا کیا جائے، تاکہ طلبہ کو ان کا حق مل سکے۔

تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو ترقی کے خواب بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو وقتی سہولت نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہو گا۔ بصورت دیگر ہر سال یہی سوال اٹھتا رہے گا اور ہر سال تعلیمی سال اسی طرح تعطیلات کی نذر ہوتا رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • علامہ اقبالؒ
  • خواتین کی محفل
  • اصطلاح اور اصطلاحاتِ صوفیا کا تلمیحی جائزہ
  • دو مناظر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن
پچھلی پوسٹ
انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا

متعلقہ پوسٹس

اچھی کتاب

دسمبر 4, 2019

کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار

جنوری 18, 2026

” قلم کتاب “ دنیا کی ایک تاریخ ساز کتاب

جولائی 23, 2022

لائیسنس

جنوری 12, 2020

سجدے کی حالت میں

دسمبر 6, 2025

صدام حسین

مارچ 8, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

لڑکی کا جادو

اگست 7, 2022

زندگی رکتی تو نہیں

فروری 2, 2020

بزمِ نشاطِ خاص میں ان کا وقار، زین

اپریل 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یودھا

مئی 23, 2023

فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان

ستمبر 17, 2020

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

جولائی 19, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں