خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامتعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2026 0 تبصرے 98 مناظر
99

موجودہ تعلیمی سال ملک کے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بن چکا ہے۔ یہ محض ایک سال کی بات نہیں بلکہ ایک ایسے رجحان کی عکاسی ہے جو مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ تعلیم کو ہر بحران میں سب سے پہلے قربان کر دیا جاتا ہے اور اس کے اثرات برسوں بعد سامنے آتے ہیں۔ آج کے طالب علم کل کا ڈاکٹر، انجینئر، استاد اور پالیسی ساز ہوں گے، مگر جب ان کی تعلیمی بنیاد ہی کمزور ہو تو معاشرے کی سمت درست کیسے رہ سکتی ہے۔

موجودہ تعلیمی سال میں تعلیمی نظام شدید دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال کے بیشتر دن تعطیلات کی نذر ہو چکے ہیں، جس کے باعث طلبہ کا تعلیمیtaleemi saal مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ تعلیمی سال میں اب تک 298 دن گزر چکے ہیں، تاہم ان میں سے صرف 116 دن ہی تعلیمی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔ ہفتہ اور اتوار، شدید گرمی اور سردی کی تعطیلات، گزیٹڈ چھٹیاں، سیلاب، سکیورٹی خدشات اور غیر اعلانیہ تعطیلات کے باعث مجموعی طور پر 182 دن ضائع ہو چکے ہیں۔

یہ صورتحال صرف سرکاری اسکولوں تک محدود نہیں بلکہ نجی تعلیمی ادارے بھی اسی دائرے میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ نجی ادارے کسی حد تک اضافی کلاسز یا آن لائن نظام کے ذریعے کمی پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ سرکاری نظام مکمل طور پر تعطیلات کے رحم و کرم پر نظر آتا ہے۔ نتیجتاً تعلیمی تفاوت بڑھتا جا رہا ہے اور طبقاتی خلیج مزید گہری ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنوری اور فروری کے مہینوں میں مزید صرف 30 تعلیمی دن دستیاب ہوں گے، جس کے بعد مارچ میں سالانہ امتحانات کا آغاز ہو جائے گا اور تدریسی عمل عملاً ختم ہو جائے گا۔ اس طرح رواں تعلیمی سال میں مجموعی طور پر صرف 146 دن ہی کلاسز ممکن ہو سکیں گی۔ تعلیمی ماہرین کی تحقیق کے مطابق مکمل نصاب پڑھانے کے لیے کم از کم 180 تدریسی دن ناگزیر ہوتے ہیں، جبکہ اگر امتحانات کو بھی شامل کر لیا جائے تو نصابی سرگرمیوں کے لیے 210 دن درکار ہوتے ہیں۔

اس واضح فرق کے باوجود ہر سال یہی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نصاب مکمل کرا لیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب دن ہی پورے نہ ہوں تو معیار کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اساتذہ کو مجبوراً تیز رفتاری سے اسباق نمٹانے پڑتے ہیں، ہوم ورک اور خود مطالعہ کا بوجھ بڑھ جاتا ہے اور کلاس روم میں سوال و جواب کی روایت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جو تعلیم کو زندہ رکھتے ہیں، مگر وقت کی کمی سب کچھ نگل لیتی ہے۔

طلبہ پر اس دباؤ کے نفسیاتی اثرات بھی کم نہیں۔ محدود وقت میں زیادہ نصاب، مسلسل امتحانی خوف اور غیر یقینی تعلیمی شیڈول ذہنی تناؤ کو جنم دیتا ہے۔ چھوٹے بچے جو سیکھنے کے عمل میں تسلسل کے محتاج ہوتے ہیں، بار بار تعلیمی وقفوں کے باعث توجہ برقرار نہیں رکھ پاتے۔ اساتذہ بھی اسی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، کیونکہ نتائج کی ذمہ داری آخرکار انہی کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہے۔

دوسری جانب، غیر معمولی حالات جیسے سیلاب یا سکیورٹی خدشات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کے متبادل انتظامات کبھی سنجیدگی سے سوچے گئے۔ دنیا کے کئی ممالک نے مشکل حالات میں بھی متبادل تدریسی نظام اپنائے، آن لائن تعلیم کو مضبوط کیا اور تعلیمی دنوں کے ضیاع کو کم سے کم رکھا۔ ہمارے ہاں مگر ہر بحران کے بعد خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے اور نقصان کا ازالہ اگلے سال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

والدین کی پریشانی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایک طرف وہ بچوں کی تعلیم کے لیے فیسیں ادا کرتے ہیں اور دوسری طرف انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے بچے مطلوبہ تعلیمی وقت سے محروم رہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیوشن سینٹرز اور اکیڈمیز کا رجحان بڑھ رہا ہے، جو تعلیمی نظام کی ناکامی کا خاموش اعتراف بھی ہے۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ تعلیمی منصوبہ بندی میں تعلیم کو ترجیح ہی حاصل نہیں۔ تعلیمی کیلنڈر بار بار بدلتا ہے، تعطیلات کا اعلان آخری لمحے پر ہوتا ہے اور کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اس کا اثر نصاب اور سیکھنے کے معیار پر کیا پڑے گا۔ اگر اسی روش کو جاری رکھا گیا تو تعلیمی سال محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز حقیقت پسندانہ فیصلے کریں۔ تعطیلات کے نظام کو متوازن بنایا جائے، غیر ضروری چھٹیوں میں کمی کی جائے اور ہنگامی حالات کے لیے پہلے سے متبادل تدریسی منصوبہ تیار ہو۔ تعلیمی دنوں کی کمی کو اضافی کلاسز یا توسیع شدہ تعلیمی سال کے ذریعے پورا کیا جائے، تاکہ طلبہ کو ان کا حق مل سکے۔

تعلیم کسی بھی قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب یہی بنیاد کمزور ہو جائے تو ترقی کے خواب بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو وقتی سہولت نہیں بلکہ قومی ترجیح بنانا ہو گا۔ بصورت دیگر ہر سال یہی سوال اٹھتا رہے گا اور ہر سال تعلیمی سال اسی طرح تعطیلات کی نذر ہوتا رہے گا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اوور کوٹ
  • حیرت کا ایک جھٹکا
  • میں کئی برسوں سے تیری
  • آصف نے کہا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تیراہ،عارضی قربانی اور مستقل امن
پچھلی پوسٹ
انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا

متعلقہ پوسٹس

مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں

مئی 5, 2021

نیشنل کونسل فار طب کا اقدام

ستمبر 8, 2025

ہماری اصل اوقات

فروری 17, 2026

کیا اسیری کیا رہائی

اکتوبر 14, 2025

ریت پر خون

جنوری 24, 2020

انوکھی محبت

دسمبر 29, 2021

مرد : درد کا سفیر

مارچ 24, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

عورت کے حقوق

اپریل 1, 2023

ایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں ہوتے ہیں ؟

مارچ 30, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

جولائی 19, 2020

کرکٹ کا تاریخی سفر

فروری 8, 2025

گنبد تیز گرد نیلی فام

جنوری 2, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں