خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباشعوری جنسیت
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

شعوری جنسیت

از سائیٹ ایڈمن جولائی 8, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 8, 2020 0 تبصرے 85 مناظر
86

Transsexuality (شعوری جنسیت)

ناچ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ پوہ کی بھیگی رات دم آخریں پر پہنچ چکی تھی۔ ستاروں کے قافلے چلتے چلتے تھک گئے تھے اور ڈوبنے سے پہلے ہی بادلوں میں چھپ کر مدھم ہو رہے تھے۔ جوانی کا الاؤ بھڑک رہا تھا۔ دونوں کنچنیاں پسینے سی بھیگی ہوئی تھیں۔ چہرے لال سرخ اورجسم تپایا ہوا کندن بن چکے تھے۔ جوں جوں شعلے ٹوٹ رہے تھے، روپ سوا ہوا جا رہا تھا۔ یوں لگتا کہ گھٹائیں امڈ آئیں، بجلیاں کوند پڑی ہیں اور کبھی یوں کہ امنگیں گھل کر تہی آغوش پناہ گزین ہونے کو تڑپ رہی ہیں۔

وہ قریب آتیں تو تن وجان سے فدا دکھائی دیتیں، دور ہوتیں تو پیغام دعوت سے لبریز چشم ہائے ناز اسی پر ٹکی رہتیں۔ یہ دلکشی اور دلبری کی چوگان بازی پچھلے دو گھنٹے سے جاری تھی۔ ان کے متناسب گندھے ہوئے تھرکتے ہوئے کولھوں نے زماں خان کے تن بدن میں آگ بھڑکا دی تھی۔ وہ ناچتی جا رہی تھیں۔ ناچ کیا! حسن کے نظارے تھے، صرف اعضا کی نمائش تھی۔ بیوپار تھا، لین دین تھا، مرد کی جیب اور عورت کے جسم کا۔ جس کے ساتھ ضرب تقسیم اور جمع تفریق کا کوئی حساب کتاب نہ تھا۔ ان کی شوخیاں اور چتونیں لوٹ مار کر رہی تھیں۔ دولت پاؤں میں ڈھیر ہو رہی تھی۔

زماں خان ایک ضدی شوخ آور لڑکا تھا۔ ماں باپ کی اکلوتی اولاد، مزاج محرور، غصہ ور اور سرکش۔

رات کے گھنے پن میں سب تھک کر چور ہوچکے اوردامن بھی سمیٹ چکے تھے۔ جیبیں خالی اور آنکھیں نیند سے بھر چکی تھیں۔ لیکن وقت سحر آگیں اس کی مستیاں زور پر تھی۔ وہ دولت بھی لٹاتا جا رہا تھا۔ بالآخر دوستوں نے محفل کو سمیٹنے کا اشارہ دے دیا۔ وہ وہاں سے اٹھا اور ایک لڑکی کو پہلو میں سمیٹ کر چل پڑا۔ ڈوم ڈھاریوں، سماجیوں اور مراثیوں نے ایک جگہ پر جمگھٹا بنا لیا اور سر جوڑ کر دولت کی تقسیم میں الجھ گئے۔

یار دوست اسے سمجھاتے تھے کہ ان رنڈیوں نے نواب، جاگیر دار فقیر بنا دیے تم ان کے پیٹ نہیں بھر سکتے۔ تمہارے باپ کی جائیداد تو اڑتے نظر ہی نہیں آئے گی۔ زماں خان کہتا ”میں کون سا کوٹھوں پر جاتا ہوں۔ یہ شادی بیاہ، مہندی کی محفلوں میں کبھی کبھار ان سے سامنا ہو جاتا ہے تو ان کے فن سے لطف اندوز ہو جاتا ہوں۔“ لیکن سب کو پتا تھا کہ اس کے کنچنوں اور لولی بچوں سے رابطے ہیں۔ جہاں کہیں بھی جلسہ ہوتا ہے اسے پیغام مل جاتا ہے۔

جب سے شاہی محلہ اجڑا ہے شہر شہر گلی گلی میں ان کا کام عام ہو گیا ہے۔ پہلے دور میں شادیوں میں ناچ گانے کا کام ہیجڑوں کا ہوتا تھا اور ان کے علاقے تقسیم تھے۔ ہر مخنث کا ایک حلقہ مخصوص اور مقرر تھا۔ وہ خود اس سے باہر کام کے لئے جا تا اورنہ کوئی دوسرا اس کی حدود میں مداخلت کر سکتا تھا۔ وہ اس سماج کا ایک حصہ تھا۔ عورتیں مرد سب اسے جانتے تھے اور وہ بھی تمام گھروں کا ایک فرد سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح خوشی کے مواقع پرمردوں کے ساتھ عورتوں اور بچوں کو بھی تفریح اور دل لگی کا سامان میسر آ جاتا۔ گانا اور ڈانس دیکھ بھی لیا جاتا اور یہ رنڈیاں و کنجر شرفاکے محلوں سے دور، مخصوص علاقوں تک محدود رہتے۔

اسے سب سمجھاتے کہ تمہارا خون تازہ ہے اسے ضائع مت کرو۔ بتوں کی صحبت میں ایمان اور صحت کو دیمک چاٹ جاتی ہے۔ وہ کہتا میں ڈانس کے فن پر فریفتہ ہوں مجھے ان کے جسم سے کوئی رغبت نہیں۔ لیکن اس کی خرمستیاں نفسانیت اور ہوس پرستی پر مبنی تھیں۔ ایک دوست کہنے لگا ”اگر تم واقعی ہی نرت بھاؤ کے شیدائی ہو تو آؤ، آج میں تمہیں ہیجڑوں کی ایک سالگرہ کی تقریب میں لے چلتا ہوں۔ نرت کاری ان پر ختم ہے۔“

ایک شادی ہال میں تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ایک طرف صوفے لگے ہوئے تھے۔ ان پررؤسا و امرا بیٹھے تھے۔ دوسری طرف کرسیاں موجود تھیں۔ درمیان میں وہ ہیجڑا جس کی سالگرہ تھی، ایک بڑے سے تخت پرزینت افروز تھا۔ ایک کونے میں مقامی گرو حاشیہ لگانے میں مشغول تھا۔ بہت سے ہیجڑے جن کے چہرے نوخیز طوائفوں کو شرماتے تھے دوسرے رخ پر بیٹھے تھے۔ ان کا زرق برق لباس ایک دوسرے پر بازی لے گیا تھا۔ ڈانس شروع ہوا۔ میزبان ایک ایک کر کے دور دراز سے آئے مہمانوں کو موقع دے رہی تھی۔ ”تشریف لا رہی ہیں، دلوں کو موہ لینے والی، جس کی ایک ایک ادا پر کئی جوان قربان ہو چکے ہیں لیکن وہ دوشیزہ ابھی بھی باکرہ ہے۔ مس فیروزہ جان۔“

ایک سے بڑھ کر ایک فن کی شہزادی جلوہ افروز تھی۔ پھر باری آئی ایک نو خیزامرد نما حسینہ کی۔ نام تھا، سندری۔ حنائی ہاتھ گجروں سے لدے ہوئے۔ لم چھڑی کجراری آنکھوں میں دیپک جل رہے تھے۔ دہن گلدستہ تھا۔ پیکر بدن ایسا جیسے شام بہاراں مجسم ہو گئی ہے۔ اس نے زماں خان کے سینے کی طرف حنائی انگلی کا نشانہ باندھا۔ نیناں دی دو دھاری تلوار کے پہلے وار میں ہی کام پار ہو گیا۔ زردی مائل سرخ ہتھیلیوں کے گدے رگڑ کرتالیاں اڑائیں۔ پاؤں حرکت میں آئے تو بوٹی بوٹی تھرکنے لگی۔

اس کی ہر ادا پر محفل کی محفل نثار ہو رہی تھی۔ پورا ہال بھی تھرک رہا تھا، سارا چمنستان جھوم رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ کون سا نرت کس عضو نے نبھانا ہے۔ ہر انگ جاگ اٹھا تھا۔ انگڑائی لے کر تیر بن جاتی اور جھک کر کمان۔ نوٹوں کی ایسی برسات ہو رہی تھی کہ فرش چھپ گیا۔ اب دولت کے قالین پرہر گام قیامت برپا ہو رہی تھی۔ رقص ختم ہوا تو پھر زماں خان کو ہوش آئی۔ وارے گئے نوٹ سندری کے حوالے کیے گئے تو اس نے وہ سب میزبان کے آگے ڈھیر کر دیے اور پاؤں چھو کر مجمعے سے دور جا بیٹھی۔ ایسے قاتل سے اس کا یہ پہلے پہل کا سابقہ تھا۔ ایسا فنکار اور ایسا ڈانس اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ اٹھا اور اس کے پاس جا بیٹھا۔

اس کے بعد جہاں کہیں بھی اسے پتا چلتا کہ سندری کا پروگرام ہے، وہیں پہنچ جاتا۔ وہ دل جاں سے اس پر فدا تھا۔ اس کی کالی زلفوں اور گلگوں رخساروں کا شیدائی، ہمہ وقت اس کی تعریفوں میں رطب اللساں رہتا۔ اب دن ا ور رات اسی کے پاس جانے کی تگ و دو میں مصروف ملتا۔ ایک رات اس کے حسن اور سیمین بدن کی نزاکتوں سے متاثر ہو رہا تھا۔ بڑی آہستگی سے اس کے قریب کھسک آیا اس کے منہ کو اپنی ہتھیلیوں میں سجا کر بولا ”مجھے تم سے بہت محبت ہے۔ جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو میں نے کسی اور کی طرف دیکھا بھی نہیں۔“

”تم جا نتے ہو، میں کون ہوں؟“

”ہاں مجھے پتا ہے، تم مخنث ہو۔ پھر کیا ہے؟ قدرت نے اگر تمہیں نامکمل بنا یا ہے تو مجھے ایسے ہی قبول ہو۔“

”میں نامکمل نہیں لیکن رہتل اور سماج نے جو شناخت دی ہے وہ مجھے پسند نہیں۔ میں منفرد ہوں۔ میری اپنی شناخت ہے۔ اپنی پہچان کے لئے میں کسی مرئی یا غیر مرئی طاقت کی لگائی گئی ریکھاؤں کی پا بند نہیں۔ میری جنسیت میرے شعور کی تابع ہے۔“

”مجھے صرف تمہاری ضرورت ہے۔ مجھے اس کی کوئی فکر نہیں کہ تم کیا ہو۔“ زماں خان نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں گرا لیا۔

سندری نے غصے سے اسے دھکا دیا اور بولی ”میں انسان ہوں طوائفوں کی طرح جنسی مشین نہیں جس سے جو چاہے متمتع ہو سکتا ہے۔ میں من موجی ہوں، شوقیہ ناچتی ہوں اورمیرا یہ روپ میری ذاتی پسند ہے۔ میں جو کرتی ہوں اپنے لئے کرتی ہوں۔ میں جسم فروش نہیں۔“

وہ اس کے ساتھ چمٹ گیاکہنے لگا ”اپنے عاشق کو ایسے نہ دھتکا رو۔ میرے پاس جو کچھ ہے تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا۔“

”جنسیت کے رسیا، میاں! عاشق بننا منہ کو نوالہ نہیں۔ جاؤ! اپنے گھر کی راہ لو، طوائفوں پر اپنی دولت نچھاور کرو۔ تم کچھ بھی نہیں ہو۔ بڑے بڑے امرا و رؤسا کو ہم اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔

ہم تو وہ جنہوں نے قدرت کی ودیعت کی ہوئی اس دھن دولت کو، جس پر تم نازاں ہو، ٹھکرا دیا ہے۔ ہم ماورا ہیں عورت اور مرد کی قید سے۔ ہم ہیں، فقیر کے قول کی مجسم تفسیر۔ ”

وارث شاہ میاں لے کے چھری کائی، وڈھ دور کرو ایس بوٹڑی نوں۔

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فلسفہ استقبالِ ربیع الاول
  • پانی کا درخت
  • رشید حسرتؔ
  • کرنسی نوٹوں کی تبدیلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کورونا کے بعد مزیدعالمی وباؤں کا خطرہ!
پچھلی پوسٹ
جب ہونٹوں پر تالوں نے دل چیر دیا

متعلقہ پوسٹس

مولانا دستار نیازی

مئی 10, 2020

جنتری نئے سال کی

دسمبر 14, 2019

تکلّم صد ملامت خیز سے

اکتوبر 26, 2025

سمجھ کے اپنے بڑوں کی نِشانی سٌنتے تھے

مئی 4, 2020

سن رائیگاں

فروری 2, 2022

دل جس طرف بھی شوق سے

جنوری 28, 2020

نیام زد بھی ہوا ہوں

مارچ 4, 2025

پناہ چاہتے ہیں سیلاب سے

ستمبر 17, 2022

تجھ فتنہ گر سے عرض

جون 26, 2025

ہجر کی رت میں گام گام گرے

نومبر 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اب اور تب

جنوری 25, 2020

تم سراپا بہار ہو جاناں

مئی 19, 2020

اندھیر

نومبر 10, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں