خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامتاریخ کشی
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

تاریخ کشی

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 1, 2026
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 1, 2026 0 تبصرے 29 مناظر
30

علامہ اقبال، فتنہ قادیانیت اور ڈیجیٹل دور کی تاریخ کشی

ایک دور تھا جب برصغیر پاک و ہند پر قابض برطانوی استعمار نے اپنے وفاداروں، پالیسی سازوں کی جی حضوری کرنے والوں اور آلہ کاروں کو نوازنے کے لیے مراعات، عہدوں اور جاگیروں کا وہ سستا بازار گرم کیا تھا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ جن جن خاندانوں کے آبا و اجداد نے امت کے اجتماعی مفادات کے سودے کیے اور انگریز کا تھوڑا سا بھی سنہرا تھپکنا پایا، انہیں بدلے میں گاؤں کی نمبرداریاں، پٹواری پن، سرپنچی، خان بہادر کے خطابات اور ساہوکاروں کی وسیع و عریض جاگیریں عطا کر کے خطے کے سادہ لوح لوگوں پر مسلط کر دیا گیا۔ اس تمام تر ظاہری چمک دمک کے پیچھے ایک گہری اور سیاہ سازش یہ کارفرما تھی کہ اصل مجاہدانِ آزادی، سچے فکری رہنماؤں اور تاریخ ساز علمی کرداروں کے روشن شجرے، نظریاتی کارنامے اور لازوال خدمات سوچی سمجھی سکیم کے تحت پسِ پشت ڈال دیے جائیں تاکہ قوم اپنے حقیقی محسنوں کو بھول کر غلط تاریخ کو سچ تسلیم کر لے۔

افسوسناک اور لمحہ فکریہ امر یہ ہے کہ آج اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ اور نام نہاد ڈیجیٹل دور میں وہی انگریزی ذہنیت ایک نئے، جدید اور انتہائی مکارانہ روپ میں دوبارہ بیدار ہو چکی ہے۔ آج کے چند نااہل یوٹیوبرز، وائرل مواد اور ویوز کے بھوکے ویلاگرز اور کچھ سنسنی خیز فیس بک پیجز بالکل اسی استعماری عمل اور تاریخ مسخ کرنے کی ڈگر پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ محض چند ڈالرز، چند کلکس اور ارزاں ترین سستی شہرت کی خاطر روزانہ کی بنیاد پر تاریخ کا حشر بنانا ان لوگوں کا معمول بن چکا ہے۔ یہ عناصر تاریخی واقعات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر، سچائیوں کو مسخ کر کے اور فرضی افواہوں کو حقیقت کا رنگ دے کر یوں پیش کرتے ہیں کہ عام قاری اور بینندہ دنگ رہ جائے۔

آج کل انہی سستے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک نہایت گستاخانہ، لغو اور سراسر جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ اور ان کی نسلوں کے بارے میں دانستہ طور پر پھیلایا جا رہا ہے۔ بے بنیاد دعویٰ یہ تراشا جا رہا ہے کہ علامہ اقبال کا ایک بیٹا اور ان کا پورا خاندان نعوذ باللہ قادیانیت کی دلدل میں جا گرا تھا۔ یہ دعویٰ نہ صرف تاریخ کے ساتھ ایک بدترین بدنیتی پر مبنی کھلواڑ ہے بلکہ ایک نظریاتی اور سچے عاشقِ رسول مفکر کی شخصیت پر کیچڑ اچھالنے کی انتہائی بھونڈی کوشش ہے۔

اگر تعصب اور سنسنی خیزی کی عینک اتار کر تاریخ کے مستند صفحات کی گرد جھاڑی جائے تو حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ علامہ اقبال کا نہ تو کوئی بیٹا کبھی قادیانی ہوا اور نہ ہی ان کا پورا خاندان کبھی اس سنگین گمراہ کن فتنے کا شکار ہوا۔ اصل معروضی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ علامہ اقبال کے بڑے بھائی شیخ عطا اور ان کے بیٹے شیخ اعجاز احمد یعنی علامہ کے بھتیجے ابتداء میں قادیانی تحریک کے باطل فریب سے متاثر ہوئے تھے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انیس سو کے اوائل میں جب مرزا قادیانی نے ابھی علی الاعلان نبوت کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ خود کو محض ایک مناظرِ اسلام کے طور پر پیش کیا تھا، تو اس زمانے کے بہت سے سادھو طبع لوگ دھوکا کھا گئے تھے۔ لیکن جیسے ہی اس نے اپنے باطل عقائد اور خود ساختہ نبوت کا ڈنڈورا پیٹا، حق پرستوں نے اس سے یکسر برات کا اعلان کر دیا۔

اس کے برعکس، علامہ کے بھتیجے کے ایک ذاتی فیصلے کو بنیاد بنا کر آج کا گمراہ کن میڈیا پورے اقبال خاندان، اور بالخصوص ان کی صلب سے پیدا ہونے والے فرزندوں پر تہمتیں تراش رہا ہے۔ تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ علامہ اقبال کے فرزندِ گرامی ڈاکٹر جاوید اقبال رحمہ اللہ نے نہ صرف اس باطل فتنے کو مکمل طور پر رد کیا بلکہ اپنے والدِ گرامی کے حقیقی اسلام دوست اور ختمِ نبوت کے فکر و فلسفے کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی شہرہ آفاق اور تاریخی سوانح زندہ رود تحریر کر کے قادیانیت کا مکمل فکری ابطال کیا اور اس کتاب کے ذریعے علامہ اقبال کے عقائد، افکار اور اس فتنے کے خلاف ان کے تاریخی کردار کو ہمیشہ کے لیے روشن کر دیا۔ انہوں نے اس کتاب میں خاندانی پس منظر کی تمام سچائیاں طشت از بام کر کے دجالی اور گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کی فکر و دانش کا پورا سرچشمہ قرآنی تعلیمات اور سچی حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم تھا۔ وہ خوب جانتے تھے کہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے دراصل امتِ مسلمہ کے شیرازے کو بکھیرنے اور برطانوی سامراج کا تسلط قائم رکھنے کے لیے ایک گہری سیاسی و مذہبی سازش کا حصہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انیس سو پینتیس میں جب قادیانیت کی زہرافتشانی بڑھ گئی تو علامہ اقبال نے اپنا تاریخی اور معرکہ الآراء مضمون اسلام اور احمدیت تحریر فرمایا۔ اس تحریر میں علامہ اقبال نے نہ صرف قادیانیت کے تمام فکری و روایتی مغالطوں کا دھجیا اڑایا بلکہ انگریز سرکار سے ڈنکے کی چوٹ پر مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو قانوناً ملتِ اسلامیہ سے خارج کر کے ایک الگ اور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ علامہ کا یہ جرات مندانہ اور واضح موقف اس بات کا بین ثبوت تھا کہ عقیدہ ختمِ نبوت پر کوئی بھی سمجھوتہ کرنا ان کے نزدیک ایمان کے خلاف تھا۔

علامہ اقبال کی لازوال شاعری، ان کے فلسفے اور فکر کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام صرف اور صرف سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکت سے کامل وفاداری ہے۔ انہوں نے اپنے افکار سے امت کو سکھایا کہ جب تک یہ قوم دامنِ مصطفیٰ کو مضبوطی سے تھامے رکھے گی، دنیا کا کوئی بھی فتنہ اسے شکست نہیں دے سکتا۔ اپنے اسی ایقان اور ایمان کا اظہار انہوں نے اپنی لازوال نظم جوابِ شکوہ کے اس شہرہ آفاق شعر میں فرمایا:

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اس آفاقی اور حکمت سے بھرپور شعر میں علامہ اقبال نے باری تعالی کے ارشاد کا مفہوم یوں بیان فرمایا ہے کہ اے مسلمان! اگر تو اپنے قول، فعل، عقیدے اور طرزِ زندگی سے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی، کامل اور بے غرض وفاداری نبھائے گا، ان کی سنت کی پاسداری کرے گا اور ان کی ختمِ نبوت کا چوکیدار بنے گا، تو کائنات کا خالق و مالک تیرے ساتھ ہوگا۔ پھر یہ ظاہری دنیا، اس کی عارضی چمک دمک، ناپائیدار حکومتیں اور دولت تو بہت معمولی اور حقیر چیزیں ہیں، کائنات کی تقدیر لکھنے والی لوح و قلم بھی تیرے اشاروں کی منتظر ہوگی اور تجھے دنیا و آخرت کی حقیقی امامت عطا کی جائے گی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ڈیجیٹل دور کے نام نہاد پروپیگنڈا ساز، ویوز کے پجاری اور سستی شہرت کے طالب چاہے جتنا بھی جھوٹ گھڑ لیں، تاریخ کے روشن اور مستند صفحات کو کبھی دھندلا نہیں سکتے۔ علامہ اقبال رحمہ اللہ اور ان کی سچی نسلیں بالخصوص ڈاکٹر جاوید اقبال عقیدہ ختمِ نبوت کی پاسبان تھیں، ہیں اور رہیں گی۔ انہوں نے اپنے علمی و فکری جہاد اور سوانح زندہ رود جیسے شاہکار سے باطل فتنوں کی جڑیں کاٹیں۔ آج اگر ہماری قوم اور نوجوان نسل کو فکری انتشار اور ڈیجیٹل گمراہی سے بچنا ہے تو ہمیں غیر مصدقہ ویڈیوز پر کان دھرنے کے بجائے تاریخ کا خود مطالعہ کرنا ہوگا اور علامہ اقبال کے پیغام کی روشنی میں دامنِ مصطفیٰ کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اول پوزیشن
  • لاہور کا بدلتا منظر
  • بہار میں نقاب ہٹانے کا واقعہ اور عالمی ردعمل
  • خواجہ غلام فرید
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا
پچھلی پوسٹ
کہانی کچھ عجیب ہے

متعلقہ پوسٹس

جسم اور رُوح

جنوری 31, 2020

لاڈلی کا کارنامہ

اگست 7, 2022

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

مارچ 1, 2026

یادیں

مئی 9, 2020

جدید غزل کا درخشندہ ستارہ شہزاد نیّرؔ

اپریل 26, 2025

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

آدم بو

نومبر 26, 2020

ہمارے آس پاس دیکھ

دسمبر 8, 2025

اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں

جون 3, 2020

چور

جنوری 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جنگ کا خوف اور پاکستان کا...

مارچ 15, 2026

وقت کو پر لگے ہوئے ہیں...

مئی 30, 2020

باباجی!

اکتوبر 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں