خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاموہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرمحسن خالد محسن

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

از سائیٹ ایڈمن اگست 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 3, 2026 0 تبصرے 55 مناظر
56

شہر کی ایک خاموش گلی میں ایک وسیع گھر تھا۔ اس گھر کی کھڑکیاں بڑی تھیں مگر دل کی ایک کھڑکی ہمیشہ بند رہتی تھی۔ اس گھر کا مالک حارث تھا۔ لوگ اسے دولت مند کہتے تھے مگر گلی کے بچے اسے "بابا درخت” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی جیب میں ہمیشہ ٹافیاں ہوتیں۔ ہاتھ میں کبھی کتاب ہوتی اور کبھی رنگ برنگی پتنگ۔ وہ بچوں کو دیکھتا تو اس کا چہرہ ایسے کِھل اُٹھتا جیسے صبح کی پہلی کِرن شبنم سے لِپٹے پھول کو جگا دے۔
لیکن اس کے دل میں ایک خاموش خلا تھا۔
وہ بےاولاد تھا۔
ہر رات یہ خلا اس کے سینے میں کنویں کی طرح گہرا ہوتا جاتا۔ ایک دن اس نے خود سے کہا۔
"میں دوسروں کے بچوں پر اپنا دل کیوں لٹاؤں۔ اگر اللہ نے مجھے اولاد عطا کی تو میری محبت صرف اسی کی امانت ہوگی۔”
یہ خیال پہلے ایک بیج تھا۔ پھر جھاڑی بنا۔ پھر ایک ایسا درخت جس کی کانٹوں بھری شاخوں نے اس کے دل کو ہی لپیٹ لیا۔
اگلے دن سے اس نے دروازہ بند کر دیا۔
گلی کے بچے آئے۔
کسی نے آواز دی۔
کسی نے دستک دی۔
کسی نے دیوار کے اس پار سے کہا۔
"بابا درخت۔ آج باہر نہیں آئیں گے؟”
مگر اندر خاموشی نے لب سی لیے تھے۔
رفتہ رفتہ بچوں کے قدم دوسری گلیوں کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔
جہاں کبھی قہقہوں کی ندیاں بہتی تھیں وہاں اب سناٹے نے خیمہ گاڑ دیا۔
حارث کے پاس سب کچھ تھا۔
سونے کے سکے۔
قیمتی قالین۔
بڑے بڑے کمرے۔
مگر خوشی کا پرندہ پنجرہ توڑ کر اُڑ چکا تھا۔
وقت کسی کے لیے نہیں رُکتا۔
ایک دن بیماری آندھی کی طرح اس پر ٹوٹ پڑی۔
اس کا جسم خزاں رسیدہ درخت بن گیا۔
گھر کی دیواروں پر اداسی کائی کی طرح جم گئی۔
بیماری بڑھتی گئی۔
بدن سے ایسی ناگوار بو آنے لگی کہ اپنے بھی بیگانے ہو گئے۔
اس کی بیوی بھی بےبس ہو کر رخصت ہوگئی۔
اب اس کے پاس دولت کے ڈھیر تھے مگر پانی پلانے والا کوئی نہ تھا۔
سونے کے سکے اس کی پیشانی کا پسینہ نہ پونچھ سکے۔
قیمتی فرنیچر اس کی آہیں نہ سُن سکا۔
اس رات بارش ہو رہی تھی۔
کھڑکی سے چند بوندیں اندر آئیں اور اس کے ہاتھ پر گِریں۔
اس نے آنکھیں بند کیں۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے آسمان اس سے بات کر رہا ہو۔
اس کے دل میں ایک روشنی جاگی۔
وہ ہچکیوں کے درمیان بولا۔
"اے میرے رب۔
میں نے تیری حِکمت کو اپنی خواہش کے ترازو میں تولنا چاہا۔
میں ایک چراغ کا منتظر رہا جبکہ تو نے میرے لیے پورا آسمان ستاروں سے بھر رکھا تھا۔
یہ بچے میرے نہیں تھے مگر ان کی مسکراہٹیں میری روزی تھیں۔
میں نے اپنے ہاتھ بند کیے تو میری قسمت بھی بند ہوگئی۔”
وہ دیر تک سجدے میں روتا رہا۔
اس کے آنسو پتھر دل زمین پر پڑنے والی پہلی بارش تھے۔
اگلی صبح ایک ننھا بچہ دروازے پر آیا۔
اس کے ہاتھ میں چند جنگلی پھول تھے۔
وہ بولا:
"بابا درخت۔ آپ بیمار ہیں نا۔ یہ پھول آپ کے لیے ہیں۔”
پھر ایک بچی آئی۔
اس نے پانی کا گلاس رکھا۔
پھر ایک اور بچہ آیا۔
اس نے قرآن کی چند آیات پڑھیں۔
دیکھتے ہی دیکھتے پورا صحن بچوں سے بھر گیا۔
کوئی دُعا لایا۔
کوئی سوپ لایا۔
کوئی صرف اپنی مُسکراہٹ لے آیا۔
یوں لگتا تھا جیسے بہار نے خزاں کے سینے میں دوبارہ سانس بھر دی ہو۔
چند ہی ہفتوں میں بیماری کا اندھیرا چھٹنے لگا۔
حارث سمجھ گیا کہ محبت وہ دوا ہے جس کا نسخہ کسی حکیم کے پاس نہیں۔
اس دن کے بعد اس نے اپنی دولت کو تالوں میں بند نہیں رکھا۔
وہ یتیم بچوں کی فیس دیتا۔
مسکینوں کے لیے کھانا پکواتا۔
لاوارث بچوں کے لیے کپڑے خریدتا۔
اس کے گھر کے دروازے پھر کبھی بند نہ ہوئے۔
جب اس کی زندگی کا سورج غروب ہونے لگا تو اس نے وصیت لکھی۔
"میری تمام دولت ان بچوں کی امانت ہے جنہوں نے مجھے بتایا کہ رشتے خون سے نہیں بلکہ محبت سے جنم لیتے ہیں۔”
اس کے انتقال کے بعد اہلِ محلہ نے ایک کمیٹی قائم کی۔
انہوں نے اس کی جائیداد سے ایک شیلٹر ہوم تعمیر کیا۔
دروازے پر سنگِ مرمر کی ایک تختی نصب کی گئی۔
"بابا درخت شیلٹر ہوم”
آج بھی وہاں یتیم بچوں کی ہنسی گونجتی ہے۔
کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا ہے۔
کوئی خواب بُن رہا ہوتا ہے۔
کوئی زندگی سے دوبارہ ہاتھ ملا رہا ہوتا ہے۔
لوگ جب اس عمارت کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ہوا میں جھومتے درختوں کو دیکھ کر کہتے ہیں۔
"جو درخت اپنا سایہ بانٹ دیتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔”
اور شاید یہی محبت کی سب سے بڑی میراث ہے۔

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آخری مورچہ، اولین عزم
  • ہر دن ماں کا دن
  • امین جالندھری کا ” شہر نامہ دوم”
  • دیدۂ یعقوب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
محفلِ مسالمہ ٹیکسلا
پچھلی پوسٹ
دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

متعلقہ پوسٹس

پشتو ڈیجیٹل شعر و ادب اور شیرانداز خان کا شعری...

جولائی 5, 2026

لال کی تلاش

اپریل 1, 2023

فطرت کی گود میں

دسمبر 1, 2024

خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کا طرز خلافت

جولائی 20, 2023

بسم اللہ

جنوری 12, 2020

ہالی ووڈ کا فریب – پہلی قسط

جنوری 18, 2025

25 دسمبر

دسمبر 25, 2025

امت کی تقسیم اور دارفور کا خون

اکتوبر 30, 2025

چھوٹے گھر بڑے لوگ

جون 13, 2020

ذمہ دار کون؟

مئی 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک نوحہ بر وزنِ حکایت

جون 3, 2025

لاہور کا بدلتا منظر

اکتوبر 22, 2025

جنون و عشق کے رستے بحال...

مارچ 18, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں