خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباجنگ کے جنون سے بیزار ہیں ہم
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسیمیں کرن

جنگ کے جنون سے بیزار ہیں ہم

از سائیٹ ایڈمن فروری 22, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 22, 2020 0 تبصرے 105 مناظر
106

سوشل میڈیا دیکھ لیجیے یا پھر ٹی وی کا بٹن ان کرلیجیے۔ اس وقت جو سودا سب سے مہنگا بک رہا ہے وہ جنگی جنون کا ہے۔ کیا اس جنگی جنون میں دو ایٹمی طاقتوں کے عوام کو جان بوجھ کر مبتلا کیا جارہا ہے؟ یہ سوال غور طلب ضرور ہے۔ دونوں طرف کے عوام جو ایک طویل سرحد کے ساتھ جڑے ہیں۔ یہ طویل سرحد صرف جغرافیے کی نہیں ثقافت کلچر، نفسیات، رسومات، زبان و چٹخارے کے ذائقے کے اشتراک سے لے کر کون کون سی سانجھ ہے جس میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ مشترک نہیں۔ رنگ ایک ہم بہت سوں کے، اب و جد ایک، سرحد پار علاقوں میں اکثر آدھا خاندان ادھر آدھا ادھر، خونی رشتے ہیں جو تقسیم ہوے پڑے ہیں، کیا ان تمام اشتراکات کے بعد یہ جنگی جنون ہمارے ذی ہوش ہونے پہ بہت بڑا سوال کھڑا نہیں کرتا؟

کیا یہ جنگی جنون ثابت نہیں کرتا کہ گر اس بدنصیب خطے کو ارباب و اختیار نادان ملے ہیں تو عوام نے بھی کسی دانشمندی اور عقل و فہم کا ثبو ت نہیں دیا۔ کون نہیں جانتا یہ بات کہ آج کے دور میں جنگ سب سے منافع بخش سودا ہے یہ حکومتوں کا مکروہ کاروبار ہے جس کا ایندھن ہم عوام ہیں اور ہمارے معصوم بچے ہیں۔

اس جنگی جنون کا فائدہ مگر کس کو ہے؟ کیا پاکستان اور پاکستانیوں کو جنگ فائدہ دے گی؟ کیا ہندوستان جیسا بڑا ملک جو بہت سے انتہا پسند رویوں کو جھیل رہا ہے کیا وہاں کے عوام کے لیے جنگ مزید تباہی بربادی اور غربت نہیں لاے گی؟ کیا سرحد پار کے عوام کے سب مسائل حل ہوگیے ہیں جو ہم دونوں پڑوسی جنگ جنگ کھیلنے کا خواب دیکھنے لگے ہیں؟ کیا جنگ واقعی کھیل ہے؟ کیا ہم پاکستانی اور ہندوستانی عوام واقعی یہ نہیں جانتے کہ جنگ وہ عذاب ہے جس میں صرف ہماری کوکھ، ہمارا مال، ہماری دولت، ہماری زندگیاں اجڑتی ہیں؟

ہم دونوں ممالک اب تک کئی بار جنگ کا میدان سجا چکے وہ پینسٹھ کی جنگ ہو یا اکہتر کی یا پھر کارگل کی ہربار نقصان ہم عوام کا ہوا ہم دنیا سے پچاس سال پیچھے چلے گئے۔ مغرب نے اپنے کارخانوں کی استعمال شدہ مشینیں ہمیں مہنگے داموں بیچیں اور ان سے منافع بخش اسلحے کے کارخانے لگائے گئے۔ اب ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کے لیے میدان درکار تھے، دوسرے معنی میں کہہ لیجیے قربانی کے بکرے یا پھر تجربہ گاہ کے چوہے درکار تھے۔

یہ چوہے کبھی ایران عراق کی صورت مل جاتے ہیں۔ کبھی کویت اور عراق کی صورت۔ کبھی شام کی گلیاں لہو میں نہانے لگتی ہیں۔ کبھی سعودی عرب اور یمن کی سرحدیں نظریات کی بوسیدہ آڑ لے کر ایک دوسرے پہ گولہ باری کرنے لگتی ہیں۔ کبھی ہم کبھی پڑوسی ملک قربانی کے بکرے بن جاتے ہیں۔ کیا ہم جنوبی ایشیا و وسط ایشیا کے باشندے ہمیشہ قربانی کے بکرے اور تجربہ گاہ کے چوہے ہی بنے رہیں گے؟

سادہ لوح عوام آپ کے ہوں یا ہمارے وہ جو احمقانہ جنگجوئی کے جنون میں مبتلا ہیں وہ نہیں جانتے کہ وہ استعمال کیے جارہے ہیں۔ یہ جنگی جنون ہمیں اور آپ کو نگل جائے گا۔ سمجھانے پہ جو احمق یہ جواب دیتے ہیں کہ ”جنگ کھیڈنہیں ہوندی زنانیاں دی“ تو ان احمقوں کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ آپ مردوں کی کیا یہ اوقات نہیں یا توفیق ہی نہیں کہ امن کی بات کرسکیں۔

آپ نے ہم عورتوں کو جنگ کی خون ریزی کے علاوہ اور کیا دیا ہے؟ ہم نے آپ کو صحت مند بچے دیے اور آپ نے انہیں جنگ میں جھونک دیا۔ جو پلوامہ میں مرے وہ بھی ماؤں کے بیٹے تھے۔ اور وہ جو اس خون اگلتی وادی میں روز بے قصور ستر برسوں سے مررہے ہیں وہ بھی ہمارے بچے ہیں۔ ہٹلر نے کہا تھا اچھا سیاست دان وہ ہوتا ہے جو اپنی سیاسی ساکھ کی قیمت پر بڑے فیصلے کر دے ان فیصلوں کا انہیں اگرچہ نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

یہ زنانی بڑے فخر سے یہ بات کہہ سکتی ہے کہ مجھے جنگ درکار نہیں ہے اس لیے نہیں کہ ہم کمزورہیں یا ہمارا دفاع کمزور ہے۔ اس لئے کے جاننے والے جانتے ہیں کہ ہمارا دفاع کن ہاتھوں میں ہے۔ مجھے امن آپ کے اور اپنے بچوں کے لئے چاہیے تاکہ انہیں تعلیم مل سکے، انہیں جنگوں کے دھوئیں سے آلودہ دریا نہیں چاہیں، انہیں پینے کو زندگی برتنے کو صاف پانی ملے، کھانے کو روٹی اور بیماری میں دوا ملے، کھانے کمانے اور زندگی کرنے کے لئے ایک پرسکون ماحول ملے۔

مجھے ان دنوں نوعمری میں پڑھی ایک کہانی شدت سے یاد آتی ہے جس میں ایک دور پار کے علاقے میں دو پڑوسی آباد تھے جو ریٹائرڈ فوجی تھے ایک امریکی تھا ایک روسی، ان دونوں کے بیچ ایک مسٹر راجر آکر آباد ہوگئے جو کہ جنگ سے بیزار ہوکر فوج چھوڑ آئے تھے یہ دونوں حضرات انہیں تمسخر سے بھگوڑا بلاتے چند دنوں میں مسٹر راجر پہ ہولناک انکشاف ہوا کہ ان کے دونوں پڑوسی جنگ کو گھر میں سمیٹ لائے ہیں اور اسلحہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔

ایک صاحب گھرمیں بم رکھ رہے ہیں اور دوسرے ڈاینامائیٹ۔ جب دوسرے کو خبر ہوتی ہے تو وہ ایک توپ لے آتے ہیں غرض یہ سلسلہ شدت و عروج پہ ہے اور مسٹر راجر سے ان کی وفاداریوں کے بارے شدت پسند انہ استفسار اختیار کیا جارہا ہے اور یہ علاقہ روز بروز مسڑ راجر اور ان کے خاندان کے لیے غیر محفوظ بنتا جارہا ہے اور جنگی جنون میں مبتلا پڑوسی ان پہ بھگوڑے کے آوازے کستے ہیں۔ ایک رات وہ اپنے خاندان کے ساتھ خاموشی سے اس علاقے سے نکل جا تے ہیں۔

یہ تو کہانی تھی استعماری قوتوں کے استعاروں پہ منہ زور طمانچہ تھا۔ مگر آج کی یہ قوتیں بہت سمجھدار ہوگئی ہیں وہ جنگ، جنگی جنون اور ہتھیار اپنے گھروں میں نہیں ہمارے دروازوں پہ لے آئیں ہیں اور ہم پہ تمسخرانہ ہنس رہے ہیں کہ یہ لو اور کھیلواور ہم، ہم جو تجربہ گاہ کے چوہے ہیں، قربانی کے بکرے ہیں، پوری قوت سے گلا پھاڑ پھاڑ کر ایک دوسرے کو بھگوڑا کہہ رہے ہیں، ہر حکمت، ہر دانش وفہم کو بالائے طاق رکھ کر جنگ اور بربادی کو آواز دے رہے ہیں۔ اس معاملے میں کیا سوشل میڈیا، کیا برقی میڈیا، ادیب برادری سب نے دانش و دور اندیشی کو تیل لینے بھیج دیا ہے۔

ہمیں ڈر ہے کہیں کوئی ہمیں بزدل نہ کہہ دے
کہیں کوئی ہمیں بھگوڑا نہ کہہ دے
ہم سب سے زیادہ خون خوار ہیں

مجھے آج عوام تو عوام ادیبوں جیسے خواص کے قبیلے کے غیر ذمہ دارانہ بیانات، پوسٹس، ٹویٹس پڑھتے ہوے آیام جاہلیت کے شعرا و قصیدہ خواں یاد آتے ہیں ان میں نامور و بہادر وہی ہوتا تھا جو جتنی زیادہ آگ سلگا سکتا تھا۔ تاسف، افسوس، حیرت سب یکجا ہوجاتے ہیں جب اس جنگی جنون میں مبتلا ہر خاص و عام، مرد وزن کو دیکھتی ہوں۔ میری اپنے ملکی ادیب برادری سے ہی نہیں بلکہ سرحد پار کے ہر ادیب سے پر زور اپیل ہے کہ جنگی جنون کے آگے بند باندھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

ہمارا نعرہ جنگ سے پاک خطہ ہونا چاہیے
ہمارا نعرہ جنگ سے بیزاری ہونا چاہیے
آئیے صدا ملائیے ہم جنگ سے بیزار ہیں

آج کے اس دور میں جب دنیا ایک گلوبل ولیج بنتی جاتی ہے دو پڑوسی ملک جن کے ادب فن اور کھیل کے میدان میں ہیروز مشترک ہیں، محبت کے امکانات وسیع ہیں وہاں جنگ کیوں؟
ہر تباہی بربادی کے بعد بھی مسئلہ حل مذاکرات کی میز پہ ہونا ہے تو پہلے کیوں نہیں۔

ظلم تو ظلم ہے پلوامہ میں ہو یا پوری وادی خون و جبر کے رنگ میں ڈوبی ہو، آواز ہر دو صورت اٹھنی چاہیے اور یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ یہ وادی فوجی محاصرے و حالت جنگ میں ہے، ایسی صورت میں ایسے سانحات جنم لیتے رہیں گے۔

اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہوگا دونوں ملکوں کو
ایسے سانحات پہ دکانداری آخر کب تلک
اس دکانداری کے گاہک ہم عوام آخر کب تلک
گر ایسا ہی ہے تو اس جنگی جنون سے بیزار ہیں ہم

اور خداناخواستہ اگر بات جنگ تک پہنچ جاتی ہے تو جنگ کی صورت میں نا صرف ہزاروں عورتیں بیوہ ہو جائیں گی، بچے یتیم ہو جائیں گے بلکہ قریہ قریہ خاک اڑے گی لوگ بھوک سے مریں گے کہ ہمارے پاس جنگ کی اتنی ہی سکت ہے وہ بھی اگر یہ روایتی جنگ ہوئی تو اور اگر جنگ ایٹم بم چلانے پر چلی جائے تو پھر اس خطے کے دو ارب لوگوں کی جان داؤ پر لگ جائیں گی۔ جب ایٹمی دھماکے کیے جا رہے تھے تو تب کہا جا رہا تھا کہ اب روایتی جنگ نہیں ہو گی ہم نے دونوں خطوں میں ایٹم بم کی صورت جنگ کے خلاف ایک ڈیٹرینٹ قائم کر دیا ہے اس کے باوجود اگر جنگ کے الاؤ کو بھڑکایا جا رہا ہے تو کیوں؟

انڈیا سے راحت اندوری کے الفاظ میں
سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا
کچھ پتا تو کرو چناؤ ہے کیا
خوف بکھرا ہے دونوں سمتوں میں
(دہلی اور اسلام آباد)
تیسری سمت کا دباؤ ہے کیا

سیمیں کرن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نیام زد بھی ہوا ہوں
  • ہم بے وفا ہیں اتنی وفاوں کے باوجود
  • خط اور اُس کا جواب
  • نازیہ کی کہانی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان کے ستر برس سوال کرتے ہیں
پچھلی پوسٹ
وہ بوڑھا اک خواب ہے اور اک خواب میں آتا رہتا ہے

متعلقہ پوسٹس

کافر کوٹ کے کھنڈر

اکتوبر 9, 2022

پوئنا

دسمبر 10, 2024

کیا یہ ہی وہ پاکستان ہے

جون 1, 2024

سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی

مئی 14, 2020

چلو مان لیا

اکتوبر 15, 2025

دل میں ہر آس کی تصویر

مئی 29, 2024

لبیک کہہ زبان سے حجت تمام کر

جولائی 31, 2022

قیامت کی نشانیاں

اپریل 1, 2023

خدانے اپنے شواہد پہ سوچنے دیا تو

جون 8, 2020

خواجہ غلام فرید

نومبر 25, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

والد صاحب

فروری 15, 2020

جنوں بغیر گزارا نظر نہیں آتا

جون 12, 2020

ایران میں احتجاجی طوفان

جنوری 12, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں