خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامماں کی خاموش دُعا
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرمحسن خالد محسن

ماں کی خاموش دُعا

از سائیٹ ایڈمن جولائی 24, 2026
از سائیٹ ایڈمن جولائی 24, 2026 0 تبصرے 98 مناظر
99

شام ڈھل رہی تھی۔ سورج یوں لگ رہا تھا جیسے آگ کا سُرخ چراغ آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے اُتر رہا ہو۔ ایک بیوہ عورت جس کا نام زینب تھا لکڑیاں چُن کر اپنے گاؤں واپس جا رہی تھی۔ اس کی زندگی ایک سوکھے درخت کی مانند تھی۔ شوہر برسوں پہلے دُنیا سے جا چکا تھا۔ نہ کوئی اولاد تھی نہ کوئی سہارا،مگر اس کے دل میں محبت کا ایک ایسا چشمہ بہتا تھا جو کبھی خشک نہ ہوتا تھا۔
جنگلی راستے کے کنارے جھاڑیوں میں سے اچانک کسی ننھے بچے کے رونے کی آواز آئی۔ زینب چونک اٹھی۔ وہ آواز کی طرف بڑھی۔ جھاڑیوں میں ایک نومولود بچہ کپڑے میں لِپٹا پڑا تھا۔ اس کے ننھے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے جیسے وہ دنیا سے زندگی کی بھیک مانگ رہا ہو۔
زینب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
"بیٹا۔ اب تو اکیلا نہیں رہے گا۔”
اس نے بچے کو سینے سے لگا لیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے اس کا خالی آنگن بہار سے بھر گیا ہو۔
گاؤں پہنچی تو لوگوں کی نظریں اس پر جم گئیں۔
"یہ بچہ کہاں سے آیا؟”
کسی نے طنزیہ کہا۔
"کہیں اپنا گناہ تو نہیں چھپا رہی؟”
دوسرا بولا:
ایک بدزبان عورت نے زور سے کہا:
"یہ تو حرام زادہ ہے۔”
یہ لفظ زینب کے دل پر ایسے لگا جیسے کسی نے تازہ زخم پر نمک چھڑک دیا ہو۔ مگر اس نے جواب نہ دیا۔ وہ جانتی تھی کہ خالی برتن زیادہ بجتے ہیں۔
اس نے بچے کا نام احسان رکھا۔
دن گزرتے گئے۔
زینب دن بھر محنت کرتی۔ کبھی لوگوں کے کپڑے سیتی۔ کبھی کھیتوں میں کام کرتی۔ کبھی لکڑیاں بیچتی۔ رات کو جب تھک کر لوٹتی تو احسان کو گود میں لے کر لوری سناتی۔
وہ کہتی:
"بیٹا۔ انسان کا اصل نسب اس کے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔”
احسان مسکرا دیتا۔
گاؤں والے پھر بھی نہ بدلے۔
کوئی کہتا:
"یہ بچہ معلوم نہیں کس کا ہے۔”
کوئی کہتا:
"ایسے بچوں سے دور رہو۔”
زینب ہر طعنہ خاموشی سے سہہ لیتی۔ صبر کا گھونٹ پینا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کا دل سمندر جیسا وسیع تھا۔ پتھر پڑتے رہے مگر اس کی گہرائی کم نہ ہوئی۔
احسان بڑا ہونے لگا۔
وہ ذہین تھا۔ پڑھائی میں اچھا تھا۔ زینب نے اپنی ایک ایک جمع پونجی اس کی تعلیم پر لگا دی۔ کئی راتیں وہ خود بھوکی سو جاتی مگر بیٹے کو دودھ اور کتاب ضرور خرید کر دیتی۔
جب احسان کالج جانے لگا تو اس کی دوستی کچھ ایسے لڑکوں سے ہوگئی جن کے دل حسد سے بھرے ہوئے تھے۔
ایک دن ایک لڑکے نے کہا:
"تمہیں معلوم بھی ہے تم کون ہو؟”
احسان چونکا۔
"کیا مطلب؟”
وہ ہنس کر بولا:
"پورا گاؤں جانتا ہے تمہاری ماں نے تمہیں کہاں سے اٹھایا تھا۔ اصل بات تو کوئی اور ہی ہے۔”
دوسرے نے آگ میں گھی ڈالا۔
"لوگ کہتے ہیں وہ خود بدکار تھی۔ تم اسی کی نشانی ہو۔”
یہ الفاظ زہر کی طرح احسان کے دل میں اتر گئے۔
وہ کئی دن خاموش رہا۔ آخر ایک شام اس نے زینب سے پوچھا۔
"میرا باپ کون تھا؟”
زینب کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
اس نے نرمی سے کہا:
"بیٹا۔ وقت آئے گا تو سب بتاؤں گی۔”
احسان غصے میں آگیا۔
"سچ یہ ہے کہ تم بدکار تھیں۔ تم نے مجھے لوگوں سے چھپایا۔”
یہ سُن کر زینب کے قدم ڈگمگا گئے۔
اس نے روتے ہوئے کہا:
"خدا کے لیے ایسی بات نہ کہو۔”
مگر احسان کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی۔
اس نے کہا:
"آج کے بعد میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔”
یہ کہہ کر وہ گھر چھوڑ گیا۔
زینب دیر تک دروازے پر کھڑی رہی۔ اس کی آنکھیں راستے کو تکتی رہیں۔ اس کا دل ٹوٹے ہوئے آئینے کی طرح بکھر چکا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔
زینب بڑھاپے کا شکار ہوگئی۔ اب نہ اس میں پہلے جیسی طاقت تھی نہ کمانے کی ہمت۔
وہ کبھی کسی کے دروازے پر روٹی مانگتی۔ کبھی مسجد کے صحن میں بیٹھ جاتی۔ لوگ اسے دھتکار دیتے۔
"ہٹو یہاں سے۔”
"کام کیوں نہیں کرتی؟”
وہ خاموش رہتی۔
ایک سرد رات بارش برس رہی تھی۔ زینب ایک ویران سڑک کے کنارے بیٹھی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
"اے میرے رب۔ میرے بیٹے کو خوش رکھنا۔ اگر اس نے مجھے ٹھکرایا بھی ہے تو اسے معاف کر دینا۔”
یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔
صبح لوگوں نے دیکھا کہ زینب دنیا سے جا چکی تھی۔
اسے خاموشی سے دفنا دیا گیا۔
اِدھر کئی برس بعد احسان ایک سرکاری دفتر میں ملازم بن گیا۔
ایک دن وہ کسی کام سے پرانے گاؤں آیا۔
وہاں ایک بوڑھا چرواہا ملا۔
اس نے پوچھا:
"بیٹا۔ کیا تم زینب کے بیٹے ہو؟”
احسان نے سرد لہجے میں کہا:
"ہاں۔”
بوڑھے کی آنکھیں بھر آئیں۔
"تم نے اپنی ماں پر بہت بڑا ظلم کیا۔”
احسان حیران رہ گیا:
بوڑھے نے پوری کہانی سنائی۔
"ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ تم جھاڑیوں میں پڑے تھے۔ تمہاری ماں نے تمہیں خدا کی امانت سمجھ کر اٹھایا تھا۔ اس نے کبھی شادی نہیں کی۔ ساری زندگی تمہارے لیے گزار دی۔ لوگوں کے طعنے سہے۔ بھوک برداشت کی۔ سردی برداشت کی۔ مگر تمہیں کبھی احساس نہ ہونے دیا کہ تم اس کے سگے بیٹے نہیں تھے۔”
احسان کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اسے یوں لگا جیسے آسمان اس کے سر پر آ گرا ہو۔
وہ دوڑتا ہوا قبرستان پہنچا۔
ماں کی قبر پر گر پڑا۔
"اماں۔ مجھے معاف کر دو۔”
اس کے آنسو مٹی میں جذب ہوتے رہے۔
وہ دیر تک روتا رہا۔
اس دن کے بعد احسان کی زندگی بدل گئی۔
اس نے فیصلہ کیا کہ اپنی ماں کے گناہ نہیں بلکہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرے گا۔
ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے وہ سڑکوں پر نکل جاتا۔ شہر کے گلی کوچوں میں پھرتا۔ ریلوے اسٹیشن جاتا۔ بس اڈوں پر جاتا۔ اسپتالوں کے باہر جاتا۔
وہ ہر اس جگہ دیکھتا جہاں کوئی لاوارث بچہ مل سکتا تھا۔
وہ سوچتا:
"اگر ایک بھی بچہ مل گیا تو میں اسے اپنی ماں کی طرح پالوں گا۔”
مگر اسے کبھی کوئی بچہ نہ ملا۔
مہینے سالوں میں بدل گئے۔
پھر بھی وہ تلاش کرتا رہا۔
لوگ حیران ہوتے۔
"تم روز کیا ڈھونڈتے ہو؟”
وہ مسکرا کر کہتا۔
"اپنی ماں کی دعا۔”
ایک دن ایک بوڑھے فقیر نے اس سے کہا:
"بیٹا۔ لاوارث بچے صرف سڑکوں پر نہیں ہوتے۔ بہت سے بچے زندہ والدین کے ہوتے ہوئے بھی محبت سے محروم ہوتے ہیں۔”
یہ بات احسان کے دل میں اُتر گئی۔
اس نے ایک یتیم خانے کا رُخ کیا۔
وہاں درجنوں بچے تھے۔ کوئی ماں کو یاد کر کے رو رہا تھا۔ کوئی باپ کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھا تھا۔
احسان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
اس نے یتیم خانے کی خدمت شروع کر دی۔ بچوں کے لیے کتابیں لاتا۔ کپڑے خریدتا۔ ان کے ساتھ کھیلتا۔ انہیں پڑھاتا۔ ہر بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے اپنی ماں یاد آتی۔
یتیم خانے کے دروازے پر اس نے ایک تختی لگوائی۔
"ماں کا دل آسمان سے بھی بڑا ہوتا ہے۔ اس پر شک نہ کرنا۔”
گاؤں والے جب یہ تختی پڑھتے تو خاموش ہو جاتے۔
احسان جان گیا تھا کہ زبان کا ایک زخم تلوار کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی سمجھ چکا تھا کہ سچ سورج کی طرح ہے۔ بادل اسے کچھ دیر چھپا سکتے ہیں مگر ہمیشہ نہیں۔
اس نے زندگی بھر کسی لاوارث بچے کو تلاش کرنا نہ چھوڑا کیونکہ اسے یقین تھا کہ شاید کسی دن وہ کسی ایسے بچے کو سینے سے لگا سکے جس طرح اس کی ماں نے کبھی اسے لگایا تھا۔
اور جب بھی وہ کسی بچے کو محبت سے ہنستے ہوئے دیکھتا تو آہستہ سے کہتا۔
"اماں۔ آج بھی میں آپ سے معافی مانگ رہا ہوں۔ شاید میری باقی زندگی بھی اس ایک غلطی کا کفارہ ادا نہ کر سکے۔”

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اکبر الہ آبادی، نوآبادیاتی نظام اور عہد حاضر
  • سلطان مظفر کا واقعہ نویس
  • ماں
  • موتیے دے پھلاں جیہا کھڑیا اے روپ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
انیسویں صدی کا کوچہُ یار
پچھلی پوسٹ
آئینے کی کرچیاں

متعلقہ پوسٹس

بدگمانی سے بنایا گیا

جنوری 22, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

آئینۂ جمال

دسمبر 31, 2024

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

ترکی بدل گیا ہے

اگست 28, 2022

موٹی چھوڑ کے لاڈو

مئی 21, 2020

 بھائی​

نومبر 12, 2019

شہزاد نیّر سے ایک مختصر مصاحبہ

اپریل 24, 2025

تائی ایسری

مارچ 22, 2020

ہاتھ میں جام ہے دل کو آرام ہے

مارچ 18, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تم کو دیکھا تو کچھ نہ...

جون 29, 2026

غالب افسانہ

جون 4, 2026

ایمنسٹی کی رپورٹ: مبالغہ یا حقیقت؟

ستمبر 10, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں