خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممرد کے حصے کا ہجر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمیر حسن

مرد کے حصے کا ہجر

از میر حسن اکتوبر 11, 2026
از میر حسن اکتوبر 11, 2026 0 تبصرے 10 مناظر
11

چھٹی ختم ہونے والی ہے۔ ایک باپ اپنا سامان باندھ رہا ہے۔ گھر میں سب جانتے ہیں کہ اسے واپس جانا ہے، مگر کوئی چاہتا نہیں کہ وہ جائے۔
بیٹی پوچھتی ہے، ”ابو، اب کب آئیں گے؟”
وہ کہتا ہے، ”جلد آؤں گا، میری جان۔”
حالانکہ اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اگلی چھٹی کب ملے گی۔ کب اتنے پیسے جمع ہوں گے کہ دوبارہ گھر آنے کا سفر کر سکے گا۔
سامان باندھتے ہوئے شاید اس کا دل بھی چاہتا ہوگا کہ اس بار نہ جائے۔ کچھ دن اور اپنے بچوں کے ساتھ گزار لے، والدین کے پاس بیٹھے، گھر کی زندگی میں شریک رہے۔ مگر اگلے مہینے کے اخراجات بھی اسی کے انتظار میں ہیں۔
اس لیے وہ اپنا بیگ اٹھاتا ہے اور ایک بار پھر گھر سے نکل جاتا ہے۔

میں جب ایسے مردوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک سوال آتا ہے۔
آخر مرد کے لیے گھر کا مطلب کیا ہے؟
گھر کس کا؟
انسان پیدا ہوتا ہے تو گھر ہی اس کی پہلی دنیا ہوتی ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی، بچپن کی شرارتیں، سکول کے دن اور پھر جوانی۔ زندگی کے کتنے ہی سال اسی چھت کے نیچے گزر جاتے ہیں۔
اس وقت کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ ایک دن اسی گھر میں رہنے کے لیے بھی وقت نکالنا مشکل ہو جائے گا۔
ہمارے معاشرے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ عورت کا اپنا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ پہلے باپ کا گھر، پھر شادی کے بعد شوہر کا گھر۔
میں اس بات کو کبھی کبھی ایک دوسرے زاویے سے دیکھتا ہوں۔ عورت کی زندگی میں کم از کم دو گھروں سے تعلق تو ہوتا ہے، ایک میکہ اور دوسرا سسرال۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر عورت کو دونوں جگہ وہ عزت، محبت اور اپنا پن نہیں ملتا جس کی وہ حقدار ہے۔
مگر مرد کی زندگی بھی کچھ کم عجیب نہیں۔
اس کے پاس گھر ہوتا ہے، گھر والے ہوتے ہیں، اپنا کمرہ اور اپنی چیزیں بھی ہوتی ہیں، لیکن جوانی کے بعد اسی گھر میں گزارنے کے لیے وقت کم پڑنے لگتا ہے۔
پہلے والدین کی ذمہ داریاں، پھر شادی، بیوی اور بچوں کی ضروریات۔ رفتہ رفتہ وہ گھر جس میں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا، اس کی محنت کا مقصد بن جاتا ہے۔
وہ اسی گھر کے لیے کماتا ہے، مگر اکثر اسی سے دور رہتا ہے۔
روزگار کی قیمت
اگر کسی مرد کو اپنے شہر میں کام مل جائے تو یہ بھی ایک سہولت ہے۔ صبح نکلتا ہے، دن بھر محنت کرتا ہے اور شام کو گھر واپس آ جاتا ہے۔ تھکن اپنی جگہ، مگر کم از کم اپنے گھر والوں کی صورت تو دیکھ لیتا ہے۔
بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گےاک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھابشیر بدر
لیکن ہر کسی کو یہ سہولت کہاں نصیب ہوتی ہے؟
روزگار کی تلاش کسی کو دوسرے شہر لے جاتی ہے اور کسی کو دوسرے ملک۔ وہاں ایک کرائے کا کمرہ ہوتا ہے، چند ضروری چیزیں اور دن بھر کی مزدوری۔
کام سے واپس آ کر بھی اس کے کام ختم نہیں ہوتے۔ کھانا بنانا ہے، کپڑے دھونے ہیں، کمرہ سنبھالنا ہے اور اگلی صبح پھر کام پر جانا ہے۔
بعض اوقات صبح ناشتہ کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ کبھی پیسے بچانے کی فکر ہوتی ہے۔ وہ خالی پیٹ کام پر چلا جاتا ہے اور دن بھر محنت کرتا رہتا ہے۔
شام کو واپس آتا ہے تو بھوک لگی ہوتی ہے، مگر تھکن اتنی ہوتی ہے کہ کھانا بنانے کی ہمت نہیں رہتی۔ کبھی چائے پی کر سو جاتا ہے اور کبھی کچھ کھائے بغیر ہی نیند آ جاتی ہے۔
یہ ہر مرد کی زندگی نہیں، لیکن بہت سے محنت کش مرد ایسے دن ضرور گزارتے ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں بھی اتنی مشکل اٹھا رہا ہے، پھر بھی ہر مہینے گھر پیسے بھیجنے کی فکر اسے اپنی فکر سے زیادہ ہوتی ہے۔
اسے معلوم ہے کہ والدین کی دوائیں لینی ہیں، بچوں کی فیس دینی ہے، گھر کا راشن آنا ہے اور کئی ایسے اخراجات ہیں جو اس کے بغیر پورے نہیں ہوں گے۔
ہر باپ کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی اولاد کو مہنگے سکولوں میں پڑھا سکے یا اس کی ہر خواہش پوری کر سکے۔
لیکن وہ اپنی استطاعت کے مطابق کوشش ضرور کرتا ہے۔
ممکن ہے اس کے اپنے جوتے پرانے ہوں، مگر بچوں کے جوتے اچھے دیکھنا چاہتا ہے۔ خود کئی مہینوں سے نئے کپڑے نہ خریدے ہوں، مگر عید پر بچوں کے کپڑوں کی فکر اسے پہلے ہوتی ہے۔
کبھی اپنی کوئی چیز خریدنے کا سوچتا بھی ہوگا، مگر پھر گھر کی کوئی ضرورت یاد آ جاتی ہے۔
وہ اپنی خواہش اگلے مہینے پر چھوڑ دیتا ہے۔
اور بعض خواہشوں کے لیے وہ اگلا مہینہ کبھی نہیں آتا۔
مجھے لگتا ہے ایک باپ کی محبت کا بڑا حصہ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی قربانیوں میں چھپا ہوتا ہے جن کا وہ کسی سے ذکر بھی نہیں کرتا۔
اپنی اپنی ذمہ داریاں
یہاں عورت کی محنت اور ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
عورت اللہ رب العزت کی عظیم تخلیق ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہے، انہیں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، اچھے برے کی پہچان دیتی ہے۔ اس کی تربیت کا اثر صرف بچوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتا ہے۔
گھر کے معاملات سنبھالنا، بچوں کی بیماری، تعلیم اور روزمرہ کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی آسان نہیں۔ بہت سی عورتیں ان ذمہ داریوں کے ساتھ ملازمت بھی کرتی ہیں اور خاندان کی کفالت میں حصہ ڈالتی ہیں۔
اس لیے میں اسے مرد اور عورت کی قربانیوں کا مقابلہ نہیں سمجھتا۔
دونوں کی اپنی مشکلات ہیں۔ دونوں اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
میں صرف مرد کی زندگی کے ایک ایسے دکھ کی بات کرنا چاہتا ہوں جو اکثر اس کی کمائی اور ذمہ داریوں کے ذکر میں کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
اپنوں سے دور رہنے کا دکھ۔
کمانے والے مرد کو عموماً اس کی تنخواہ یا مزدوری کے حساب سے دیکھا جاتا ہے۔ اس نے کتنے پیسے کمائے، گھر کتنے بھیجے، بچوں کے لیے کیا خریدا۔
مگر ان پیسوں کے پیچھے اس کی زندگی کا کتنا وقت گزرا، یہ حساب کم ہی لگایا جاتا ہے۔
وہ وقت جو اپنے والدین کے ساتھ گزار سکتا تھا۔ وہ شامیں جن میں بچوں کے ساتھ کھیل سکتا تھا۔ گھر کی وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جن میں اس کی موجودگی بھی ہونی چاہیے تھی۔
فاصلے کی زندگی
پردیس میں رہنے والے ایک باپ کے لیے گھر کی بہت سی باتیں فون تک محدود ہو جاتی ہیں۔
بچے نے سکول جانا شروع کیا تو تصویر آ گئی۔ کوئی انعام ملا تو ویڈیو آ گئی۔ گھر میں کسی کی طبیعت خراب ہوئی تو فون پر خبر مل گئی۔
وہ خوش بھی ہوتا ہے، پریشان بھی، مگر ہر موقع پر گھر پہنچنا اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
کبھی عید آ جاتی ہے، کبھی بچے کی سالگرہ، کبھی گھر میں کوئی تقریب۔ وہ سب کے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا ہے، مگر خود موجود نہیں ہو پاتا۔
ماں باپ کی عمر بھی بڑھ رہی ہوتی ہے۔
جنہوں نے اسے بچپن میں چلنا سکھایا تھا، اب ان کے قدم آہستہ ہونے لگتے ہیں۔ وہ ان کے پاس بیٹھنا چاہتا ہے، ان کی باتیں سننا چاہتا ہے، مگر اکثر یہ سب بھی فون پر ہی ہو پاتا ہے۔
مجھے اس زندگی کی سب سے مشکل بات یہی لگتی ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جن سے وہ محبت کرتا ہے، دوسری طرف وہ ذمہ داریاں ہیں جنہیں چھوڑ نہیں سکتا۔
گھر میں رہنا چاہتا ہے تو روزگار کی فکر سامنے آ جاتی ہے۔ روزگار کے لیے نکلتا ہے تو گھر کی یاد ساتھ چل پڑتی ہے۔
یوں سال گزرتے رہتے ہیں۔
بچے بڑے ہونے لگتے ہیں۔ والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ گھر کی بہت سی باتیں بدل جاتی ہیں۔
اور وہ شخص اب بھی اسی کوشش میں مصروف ہوتا ہے کہ اس کے گھر والوں کو کسی چیز کی کمی نہ ہو۔
کبھی چند دن کی چھٹی لے کر گھر آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بچے پہلے سے بڑے ہو گئے ہیں۔ ان کی عادتیں بدل گئی ہیں، باتیں بدل گئی ہیں۔ گھر میں بھی کچھ نیا ہو چکا ہوتا ہے۔
وہ سب کے درمیان بیٹھا ہوتا ہے، مگر شاید دل ہی دل میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے کتنے دن اس کے بغیر گزر گئے۔
پھر چھٹی ختم ہو جاتی ہے۔
ایک بار پھر سامان باندھنا پڑتا ہے۔
بچوں کو پیار کرکے، والدین سے مل کر اور گھر والوں کو تسلی دے کر وہ واپس روانہ ہو جاتا ہے۔
اسے معلوم ہے کہ یہ سفر کیوں ضروری ہے، مگر اس سے جدائی آسان تو نہیں ہو جاتی۔
جو وقت لوٹتا نہیں
مجھے نہیں لگتا کہ ہر مرد کی خواہش بہت زیادہ دولت، بڑے گھر یا مہنگی گاڑی کی ہوتی ہے۔
بہت سے مرد تو شاید ایک معمول کی زندگی چاہتے ہیں۔
صبح اپنے گھر میں آنکھ کھلے۔ ماں باپ کی خیریت پوچھیں، بچوں کے ساتھ ناشتہ کریں، دن بھر کام کریں اور شام کو واپس انہی لوگوں کے پاس آ جائیں جن کے لیے سارا دن محنت کی ہے۔
سننے میں یہ بہت معمولی سی خواہش لگتی ہے۔
مگر ہر کسی کے لیے اسے پورا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
کسی کو اپنا شہر چھوڑنا پڑتا ہے، کسی کو اپنا ملک۔ کوئی چند مہینوں کے لیے جاتا ہے اور پھر برسوں وہیں رہ جاتا ہے۔
”زیادہ تر لوگ شوق سے نہیں بلکہ روزگار اور مجبوریوں کی وجہ سے اپنا گھر چھوڑتے ہیں۔ برسوں گھر سے دور رہنے کے بعد جب میں اپنے ان دوستوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہ سب جیت گئے۔”ذاکر خان
اور ایک دن اس کی زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے جب ذمہ داریاں کچھ کم ہونے لگتی ہیں۔
بچے پڑھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قرض اتر جاتے ہیں۔ گھر کے حالات پہلے سے بہتر ہو جاتے ہیں۔
اب وہ سوچتا ہے کہ بہت کام کر لیا، کچھ وقت گھر والوں کے ساتھ بھی گزارنا چاہیے۔
مگر تب تک زندگی کا بڑا حصہ گزر چکا ہوتا ہے۔
بچے بڑے ہو چکے ہوتے ہیں۔ جن ماں باپ کے ساتھ بیٹھنے کی خواہش تھی، ان کی عمریں ڈھل چکی ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تو وہ اس دنیا میں بھی نہیں رہتے۔
گھر وہی ہوتا ہے، مگر اس میں زندگی پہلے جیسی نہیں رہتی۔
یہ خیال مجھے بہت اداس کرتا ہے۔
ایک شخص جس نے اپنے بچوں کی تعلیم، ان کے کپڑوں، گھر کے راشن اور والدین کی ضروریات کے لیے اپنی زندگی کے بہترین سال محنت میں گزار دیے، جب اسے کچھ فرصت ملتی ہے تو وہی سال واپس نہیں ملتے۔
اس نے جو کمایا، وہ گھر والوں کے کام آیا۔ اس کی محنت سے ان کی زندگی بہتر ہوئی۔ شاید بچے وہاں تک پہنچ گئے جہاں تک وہ خود نہیں پہنچ سکا تھا۔
مگر وہ ان کے بچپن میں واپس نہیں جا سکتا۔
نہ ان شاموں میں جب بچے اس کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے، نہ ان صبحوں میں جب ماں باپ اس کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینا چاہتے تھے۔
اور اس سب میں ضروری نہیں کہ گھر والے اس کی قربانیوں سے بے خبر ہوں۔ وہ بھی اس کی کمی محسوس کرتے ہوں گے، اس کے آنے کے دن گنتے ہوں گے۔
مگر دوری اپنی جگہ رہتی ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ مرد کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔
اس کا گھر ہوتا ہے۔ اسی گھر میں اس کی محبتیں ہوتی ہیں، اس کے اپنے لوگ ہوتے ہیں، اس کی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ ہوتا ہے۔
بس حالات بعض اوقات اسے اسی گھر سے دور رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اور جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے مرد کی غربت صرف پیسوں کی کمی نہیں لگتی۔
کبھی کبھی ایک آدمی کے پاس اپنے گھر والوں کے لیے سب کچھ ہوتا ہے، سوائے ان کے ساتھ گزارنے کے وقت کے۔
وہ ساری عمر گھر پیسے بھیجتا رہتا ہے۔ کبھی اپنی کمائی کا بڑا حصہ، کبھی اپنی ضرورتیں کم کرکے۔
کاش وہ ان پیسوں کے ساتھ اپنے بچوں کے لیے چند شامیں، والدین کے لیے چند صبحیں اور گھر والوں کے لیے اپنی زندگی کے کچھ گزرے ہوئے دن بھی بھیج سکتا۔
مگر وقت کہاں بھیجا جا سکتا ہے؟
اور پھر جب کبھی برسوں بعد وہ اپنے گھر میں مستقل رہنے کے لیے لوٹتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ جس زندگی کو بہتر بنانے کے لیے وہ گھر سے دور رہا، اس کا کتنا حصہ اس کی غیر موجودگی میں گزر گیا۔
شاید مرد کے حصے کا سب سے بڑا ہجر یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کا مستقبل سنوارنے میں اپنا وہ وقت گزار دیتا ہے جو ان کے ساتھ اس کا اپنا بھی تھا۔

میر حسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سرخ لباس کی سرخوشی
  • مشکل تھا تیرے بعد سنبھلنا مرا مگر
  • رمضان اور متزلزل ایمان
  • حُسن اور بغاوت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
میر حسن

اگلی پوسٹ
تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں
پچھلی پوسٹ
ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

متعلقہ پوسٹس

حریص اس قدر ہے انساں

جنوری 25, 2026

کبوتر

دسمبر 16, 2019

بیگو

جنوری 24, 2020

بات کیا جانے آ گئی دل میں

مارچ 22, 2026

سکوتِ بادبان

دسمبر 22, 2024

سکیسر کی بتیاں

فروری 4, 2020

کوئی نہیں ہے

مئی 18, 2024

یہ پریشانی مبارک ہو!

اکتوبر 29, 2025

دنیا کی آخری رات

فروری 7, 2020

ڈاکٹر مجاہد بخاری

اپریل 19, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سویرے جو کل آنکھ میری کھلی

دسمبر 12, 2019

خانہ جنگی کی دھمکیاں

مئی 1, 2022

سندھو کی صدا : پانی پر...

مارچ 26, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں