خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسکوتِ بادبان
آپکا اردو بابااختصاریئےاردو تحاریر

سکوتِ بادبان

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 22, 2024
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 22, 2024 0 تبصرے 62 مناظر
63

shakira nandni

رات کا دامن کائنات کے نرگسی آنکھوں کی پلکوں پر اُترا ہوا تھا۔ کہیں دور پہاڑوں کی گود میں چمکتے ہوئے ستارے یوں دکھائی دیتے تھے جیسے کسی خاموش سمندر پر روشنی کے شرارے تیر رہے ہوں۔ جنگل کی گہرائی میں ایک تنہا درخت تھا، سرخ مائل چھال اور خمیدہ شاخوں والا، جس کے نیچے ایک کتا بیٹھا ہوا تھا۔ اُس کی آنکھیں نصف وا تھیں، جیسے کسی انجانی سوچ میں گم ہوں۔ شاید وہ کائنات کا سب سے صابر رازدار تھا، جو وقت کی گردش کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

یہ کتا عام نہ تھا۔ اُس کی شخصیت میں کچھ ایسا فلسفیانہ وقار تھا کہ دیکھنے والا بھی سوچ میں پڑ جاتا۔ اُس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اِسی تنہا درخت کے نیچے بسر کیا تھا۔ خزاں کے پتوں کی سرسراہٹ، بہار کے پانیوں کا ترنم، برسات کی گونجتی بوچھاڑ اور سردیوں کی نرمی—اُس نے سب کچھ محسوس کیا تھا۔

لیکن اُس کی خاموشی گہری تھی۔ وہ بولتا نہیں تھا، مگر اُس کی آنکھیں بولتی تھیں۔ گویا اُس کے اندر ایک پوری کائنات بند تھی۔ اُس کائنات کا فلسفہ کیا تھا؟ سکوت۔ سکوت جو کہہ رہا تھا کہ کائنات کا ہر جواب خاموشی میں چھپا ہے۔

ایک دن جنگل میں ایک نوجوان مسافر آ نکلا۔ اُس کی آنکھوں میں الجھن اور چہرے پر سفر کی تھکن تھی۔ وہ تھوڑا آگے بڑھا اور درخت کے قریب کتے کو دیکھا۔ اُس نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا اور بولا:
"کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کون ہوں؟”

کتے نے اپنی سرخ آنکھوں کو اُس کی جانب اُٹھایا۔ ایک لمحے کے لئے دونوں کے بیچ خاموشی کا تبادلہ ہوا۔ پھر مسافر خود ہی ہنس کر بولا:
"شاید نہیں، لیکن میں خود کو بھی نہیں جانتا۔ میں نے دنیا کے بڑے بڑے شہر دیکھے ہیں، وہاں کی روشنیاں، شور و غوغا، اور انسانوں کی بے تحاشا دوڑ، مگر میری روح اُس شور میں کہیں کھو گئی ہے۔ مجھے بتاؤ، میں کس چیز کی تلاش میں ہوں؟”

کتا خاموش رہا۔ وہ مسافر کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے اُس کی بات کا جواب خود اُس کے سوال میں چھپا ہوا ہو۔ درخت کی شاخوں سے ایک زرد پتہ ٹوٹا اور ہوا میں لرزتا ہوا زمین پر گرا۔

نوجوان نے اُس منظر کو دیکھا اور دھیما سا مسکرایا:
"کتنی عجیب بات ہے، ایک پتہ ٹوٹتا ہے، خاموشی سے زمین پر گرتا ہے اور ہمیں کائنات کے سب سے بڑے سبق دے جاتا ہے۔ سب کچھ عارضی ہے، لمحہ بہ لمحہ فنا ہو رہا ہے۔ مگر پھر بھی ہم اپنی خواہشوں کے جال میں اُلجھے ہوئے ہیں۔”

کتے کی آنکھوں میں ایک چمک سی لہرائی، جیسے وہ مسافر کی بات سے اتفاق کر رہا ہو۔ کائنات کا یہ کتا ایک راز رکھتا تھا—وہ راز جو اُس نے سکوت کے زریعے جانا تھا۔ اُس کے لئے زندگی ایک "بادبان” تھی۔ ایک ایسا بادبان جو وقت کے سمندر پر سفر کر رہا ہو۔ کائنات کا ہر ذی روح اسی بادبان کا حصہ ہے، اور کسی نہ کسی لمحے اُس بادبان کو سکوت کی منزل تک پہنچنا ہوتا ہے۔

مسافر نے تھکن سے زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا:
"کتنی بے وقوفی ہے یہ زندگی! ہم اُس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جو ہمارا کبھی تھا ہی نہیں۔ تم کتنے خوش قسمت ہو کہ سکون میں بیٹھے ہو۔”

کتے نے ایک بار پھر آسمان کی جانب دیکھا۔ اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور ہوا کے نرم جھونکوں کو محسوس کیا۔ مسافر خاموش ہو گیا۔ اُس نے کتے کی موجودگی میں ایک عجیب سا سکون پایا تھا۔ یہ سکون اُس کے شہر کے جھمیلوں میں کہیں نہیں تھا۔

رات مزید گہری ہو چکی تھی۔ تاریکی نے جیسے ساری کائنات کو اپنے گھونسلے میں سمیٹ لیا ہو۔ مسافر نے اپنی نگاہیں درخت کے نیچے بیٹھے فلسفی کتے پر ڈالیں اور بولا:
"شاید جواب خاموشی میں ہے۔ سکون میں۔ تم نے مجھے آج سب کچھ بتا دیا بغیر کچھ کہے۔”

وہ اٹھا، اپنے کپڑے جھاڑے، اور جنگل کے اُس راستے پر چل پڑا جہاں سے آیا تھا۔ درخت کے نیچے بیٹھا کتا اُس کے جاتے قدموں کو دیکھتا رہا۔ وہ اپنی جگہ ساکت تھا، اپنی فطرت میں قائم۔ اُس کے چہرے پر ایک چھپا ہوا تبسم تھا، جیسے کائنات کے راز اُس نے ہمیشہ کے لئے پا لئے ہوں۔

شاکرہ نندنی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غبارِ دشتِ یکسانی سے نکلا
  • الجھن کا حل نہیں مل رہا
  • آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے
  • ایک خسارہ دیکھ چکے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صبر کرنے والوں کے ساتھ
پچھلی پوسٹ
قدموں کا سفر

متعلقہ پوسٹس

پھر یہ کیوں مستعار لی جائے

مئی 20, 2020

کس طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر

مئی 13, 2020

کیا مصنوعی ذہانت انسان کی آخری ایجاد ہو سکتی ہے؟

مارچ 10, 2026

جلاوطن

جون 3, 2023

سفید چولے میں لپٹے سیاہ کاروں نے

جنوری 23, 2020

سوشل میڈیا، وقت، شعور اور حقیقت کی حفاظت

مارچ 9, 2026

پراسرار تصویر

دسمبر 15, 2024

کوئی تو ہو جو ہمیں خوف سے رہائی دے

نومبر 27, 2021

اُلّو ہمارے بھائی ہیں

دسمبر 16, 2019

غیب کے دشت میں ہوتے ہیں ٹھکانے میرے

فروری 8, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کِیا

اگست 15, 2020

جو گزر گیا وہ ملال ہے

جون 27, 2025

بے نام

جنوری 24, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں