1
حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے
وہ شعر ہی تو حقیقت میں شعر ہوتا ہے
زہے نفاستِ مضموں، سلاستِ الفاظ
خیالِ نو کی قیادت میں شعر ہوتا ہے
نکال لیتا ہے یہ دل ہزار تشریحیں
حسین چشمِ عنایت میں شعر ہوتا ہے
بچا ہوا ہوں میں الزامِ زودگوئی سے
کبھی کبھی کوئی فرصت میں شعر ہوتا ہے
سخن کے باب میں یہ ہجر مہرباں ہے بہت
مگر جو قرب کی جنت میں شعر ہوتا ہے
یہ نظم اسے نظر انداز کر نہیں سکتی
عجیب منظرِ فطرت میں شعر ہوتا ہے
دکھائی دیتی ہیں منظوم جدتیں جس میں
وہی فصیح روایت میں شعر ہوتا ہے
شاہین فصیح ربانی
