خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدسہیل احمد صمیممقالات و مضامین

پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

از سہیل احمد صمیم اگست 7, 2026
از سہیل احمد صمیم اگست 7, 2026 0 تبصرے 2 مناظر
3

پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری میں گلی و درِ مصطفیٰؐ، فلسفہ ِطلب، تصورِ نسبت اور روحانی واردات کا فکری و جمالیاتی مطالعہ
اردو نعتیہ شعری روایت محض اظہارِ عقیدت کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک ایسی وارداتِ روحانی کا اظہاریہ بھی ہے جس میں محبت، سپردگی، حضوری اور جمالِ مصطفویؐ کی جستجو ایک دوسرے میں تحلیل ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ اگر غزل جذبہِ انسان کی ترجمان ہے تو نعت قلبِ مومن کے لئے مرکزِ یقین کی باطنی کیفیت کی آئینہ دار ہے۔ جس میں الفاظ دعا بھی بن جاتے ہیں اور اشک بھی۔یہی اشک درود بھی بنتے ہیںpeer naseer ud dinاور کبھی مدعا بھی ۔ بلاشبہ ادبِ نعت میں بعض آوازیں فقط شاعر کی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک روحانی رہنما اور عاشقِ رسولؐ کے طور پر ابھرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک منفرد اور معتبر آواز پیر نصیر الدین نصیر ؔ آف گولڑہ شریف کی ہے۔ انکی نعتیہ شاعری عشقِ مصطفیؐ کے لطیف احساسات، درِ رسالت سے وابستگی، روحانی سپردگی اور مدینے کی مہکتی فضاؤں کی ایک معنوی و فکری دنیا تخلیق کرتی ہے۔ ایسی دنیا جہاں قاری اشعارپڑھتے ہوئے ایک داخلی کیفیت سے گزرتا ہے۔
اردو نعتیہ روایت میں شعرا نے محبتِ رسولؐ کو اپنے اپنے انداز میں برتا اور خوب برتا مگر پیر نصیر الدین نصیر کے ہاں محبت کا یہ اظہار محض جذباتی وابستگی نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل، منفرد اور خاص روحانی شعور کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت، فکر، تصوف اور جمالیاتی احساس ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ جس سے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ شاعری قلبی تجربے کی تفہیم کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعوت میں درِ مصطفیؐ، مدینہ کی گلی/گدائی، نسبت، طلب جیسے الفاظ/تراکیب/ تصور صرف لغوی معنی نہیں رکھتے بلکہ ایک گہری روحانی و فکری کائنات کی مضبوط علامت بن جاتے ہیں۔ذیل میں چند موضوعات پیش خدمت ہیں۔

1.”تر ی گلی میں ” کا استعارہ، اور معنوی جہاں:
پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعوت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ ان کے ہاں رسول ِاکرم ؐسے محبت ایک دینی فریضہ اوروجودی وابستگی (Existential Attachment) کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ان کا دل ،اپنے وجود کی ترتیبِ نو اور تکمیل کے لئے نسبتِ مصطفیؐ میں تلاش رہتا ہے۔ یہی نسبت ان کی شناخت بھی ہے اور نجات کا وسیلہ بھی۔ اردو نعتیہ روایت میں مدینہ کی گلیاں جغرافیائی تناظر میں بھی دکھائی دیتی ہے جیسے "ہم مدینے کی گلیاں میں تنہا نکل جائیں گے۔ اور وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے”۔ایسے اور بھی موضوعات ملتے ہیں جن میں مدینے کی گلی/ سرکار کی گلی میں مرنے کی امید، جہاں جائے دفن پانے کا تمنا ، وہاں شام و سحر گزارنے کی تمنا وغیرہ ملتے ہیں۔ لیکن پیر نصیر الدین "تری گلی میں” کو کیسے نیا معنوی و فکری جہاں بنایا، اس کا اندازہ ان اشعار سے لگائیں۔

جس دن سے پائے نسبت رکھا تری گلی میں
دیکھا پھر اہلِ دل نے کیا کیا تری گلی میں
جب بھی کیا ہے میں نے سجدہ تری گلی میں
خود کھنچ کے آ گیا ہے کعبہ تری گلی میں

یہاں محض عقیدت کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی داخلی تبدیلی کی خبر ہے جس میں ردیف "تری گلی میں” ،انسان کی شخصیت کو نئے معنی عطا کرتی ہے۔ ایک ایسی داخلی تبدیلی ہے جو "حاصلِ حصول ہے”۔ مرے نزدیک سب سے اہم پہلو جو اس شعر میں بیاں ہوا ہے وہ "تری گلی میں” کی ترکیب میں ہے۔ مفہوم کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تومحسوس یہ ہوتا ہے کہ "تری گلی میں” (نبی پاکؐ کی گلی) کوئی ( Geographical location)جغرافیائی مقام نہیں بلکہ وہ علم و حکمت ، دانش و عرفان پانے کے لئے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔یہی وہ بنیادی نکتہ اور پیغام ہے جو ان کی نعت کو آفاقیت بخشتی ہے۔ یعنی یہ دولتِ ایمان کا پہلا دروازہ بھی ہے اور مرکزہ بھی۔ جہاں پہنچ کر شخصیت کا تزکیہ اور باطن کی تعمیرِ نو ممکن ہوتی ہے۔ جہاں انسان کو رازِ حیات ، اور خیر کے علوم و فنون کے چراغ روشنی پاتے ہیں۔ اہلِ دل و نظر کے لئے "تری گلی میں” ایک ایسا در ہے کہ جہانِ اسرار کے چراغ ملتے ہیں۔ رفعتیں ایسی ہیں کہ انسانی تخیل کے احاطہ میں سما نہیں سکتا۔
دوسرا شعر بظاہر کعبہ اور نبی کی گلی کا تضاد دِکھتا ہےمگر "سجدہ” ایک عشق کا نکتہ بنتا ہے جہاں وجود و زندگی کی تمام اطاعتیں یکجا ہو جاتی ہیں۔ سجدہ اصل میں اطاعت کا، سپردگی اور فرمانبرداری کے استعارہ دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ اطاعتِ نبیؐ اصل میں اطاعتِ خدا ہے۔ جو کوئی مسلمان اپنے تمام تر معاملات و معمولات میں اطاعتِ نبیؐ کو اول رکھے تو پھر ا س کے لئے مرکزِ عبادت خود مرکزِ محبت کی طرف جھک جاتا ہے۔ یوں پیر نصیرالدین نصیرؔ کے شعروں میں "تری گلی میں” ایک آفاقی نظامِ شعور وآگہی اور نظامِ روحانی کی تشکیل کرتی ہے۔یہاں اگر اقبال کا شعر دیکھیں تو مفہوم اور حسین تر ہو جاتا ہے ۔
"کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں”

2.”ترے در کی "(درِ مصطفیٰؐ) کا تصور:
پیر نصیر الدین نصیر ؔکی نعتیہ شاعری میں درِ مصطفیؐ کائنات کے ایک مرکزی رہنما کے استعارے کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔ اُن کے ہاں”ترے درکی” علامت/ترکیب یا تصور صرف دعا مانگنے کی جگہ نہیں بلکہ نسبتِ روحانی، تسکینِ باطن ، سکونِ قلب اور شعورِ کائنات و زندگی کا استعارہ ہے۔ ان کے ہاں بار بار “در”، “گلی”، “آستانہ” اور “گدائی” کا ذکر دراصل اس روحانی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں انسان اپنی عاجزی کو عظمت میں بدلتا محسوس کرتا ہے۔

تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
قدرت نے اسے راہ دکھائی ترے در کی
اک نعمتِ عظمیٰ سے وہ محروم رہا ہے
جس شخص نے خیرات نہ پائی ترے در کی

پیر نصیر الدین نصیر کے ہاں نبی پاک ؐکا "گدائی تر ےدر کی” دولتِ ایمان کے ساتھ ساتھ ایک ایسےفکری انقلاب کی علامت بھی ہے۔ یہ تصورِ مذہب تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، روحانی اور تہذیبی مرکز کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔مزید یہ بھی محسوس ہوتا کہ یہ آگہی کسی مسلم دنیا تک محددود نہیں۔ درِ مصطفیٰ ایک ایسی کائناتی حقیقت جہاں سے نہ صرف ایمان کی روشنی پھوٹتی ہے بلکہ شعورِانسان ، اخلاقی اقدار اور فکری رہنمائی کے نئے زاویے بھی جنم لیتے ہیں۔یعنی ” در "دراصل ایک ایسی گزرگاہ ہے جو تاریخِ انساں میں شعورو آگہی، عدل و انصاف اور فہم و ادراک کے اعلیٰ ترین تصورات کو یکجا کرتی ہے۔ خدا نے جب بھی کسی قوم یا فرد کو ہدایت دینا چاہی تو اُسے نبی پاک کے در کا رستہ دکھایا۔ یہاں اگر ایمان ویقین کے ساتھ ساتھ دیگر رازِ زندگی وکائنات پانے کے عوامل کو بھی شامل کیا جائے تو بجا طور پر درست ہے۔ دنیا نے جب جب کوئی آفاقی، سماجی ،معاشرتی و معاشی، جنگی و سیاسی اصول سیکھنے چاہے تو انہیں ان کا سراغ درِ نبیؐ سے ہی ملا۔ یہاں سے اٹھنے والی روشنی کسی ایک خطے، قوم یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ پوری تہذیبِ انسانی کے فکری ارتقا کے لیے ایک عالمگیر اخلاقی، سماجی، معاشرتی اور فکری رہنمائی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ یوں درِ مصطفیٰؐ محض ایک مقدس مقام نہیں بلکہ انسانی شعور کا عالمی مرکز دکھائی دیتا ہے۔

3. بارگاہِ نبیِؐ میں طلب کا فلسفہ :
نعتیہ ادب میں بارگاہِ نبویؐ میں طلب کے تصورکی ایک بھرپور روایت ملتی ہے تاہم پیر نصیر الدین نصیرؔ کے یہاں اس طلب میں ایک منفرد وارفتگی اور علمی اعتماد دکھائی دیتا ہے۔ جو انسان کو محدود خواہشات سے نکال کر شعور کی وسیع تر گہرائیوں میں لے جاتا ہے۔جہاں سوال چھوٹا نہیں رہتابشرطیکہ سوال کرنے والا وسعت سے آشنا ہو ۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ان کی نعت کو محض عقیدت ِ لفظی میں ہی نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک واردات ِ فکر میں بدل دیتا ہے۔
اسی یقین کی جھلک ان اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اب تنگئ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ
سرکار کا در ہے درِ شاہاں تو نہیں ہے
جو مانگ لیا مانگ لیا اور بھی کچھ مانگ
جن لوگوں کو یہ شک ہے کرم ان کا ہے محدود
ان لوگوں کی باتوں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ

مذکورہ اشعار جہاں بارگاہِ نبوی ؐ میں طلب کے تصورکو نئے معنی عطا کر رہے ہیں وہیں بادشاہوں کے در اور درِ نبی کا ایک تقابلی جائزہ بھی ہے۔ جو تصورِ رحمت اللعالیمین و فراوانیِ رحمت کے حق کا اعلان بھی ہے اور یہ پیغام بھی کہ جب درِ مصطفیٰ میسر ہو تو انسان کو اپنی طلب، تمنائیں اور آزروؤں کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی محرومی کا سبب عطا کی کمی نہیں بلکہ طلب کی تنگی کی وجہ سے ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تیسرے شعر میں عقیدے کا اظہار بھی ہے۔ سوالی کے لئے لامحدود موتی ہیں مگر یہ موتی اسے نصیب ہوں گے ۔ جسے مانگنے کا طریقہ آتا ہو۔ جسے درِ نبیؐ کی عظمت کا اندازہ ہو۔ یوں پیر نصیر الدین نصیر کی نعت انسان کے دل و دماغ میں امید، اعتماد اور وسعتِ آروز پیدا کرتی ہے۔

5. عشق اور نسبتِ مصطفیٰؐ کا شعور اور مدینہ بطور روحانی تجربہ:
پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعتیہ شاعری میں نسبتِ رسولؐ ایک مکمل جمالیاتی نظام کی صورت اختیار کرتا محسوس ہوتا ہے۔ ان کے ہاں عشقِ رسولؐ اور نسبتِ رسولؐ ایک ایسی روشنی ہے جو الفاظ کو معانی عطا کرتی ہے اور معانی بھی ایسے گویا وہ ایک خاص روحانی تجربے کی بدولت وجود پذیر ہوئے ہیں۔ بلاشبہ مدینہ ایک ایسا انوکھا اور منفرد سہر ہے جہاں ہر کسی کی قلبی واردات مختلف ( حصہ بقدرِ جسہ ) ہوتیں ہیں۔

بحر ِعشقِ مصطفیٰ کا ماجرا ہو کیا بیاں
لطف آیا ڈوبنے کا جتنی گہرائی ملی

گویا لذتِ عشق دور کھڑے کنارے سے ملتی بلکہ عشق کی گہرائی میں ڈوب جانے سے ملا کرتی ہے۔ پیر نصیر الدین نصیر ؔ کی عشق کی بنیاد سطحی سپردگی نہیں بلکہ بحرِ بیکراں میں غرق ہونے کا نام ہے ۔ذاتِ نبی و مقامِ نبی کا ادراک انسان کو سپردگی کی طرف مائل کرتا ہے۔ پیر نصیرالدین نصیر کے کلام میں عشقِ مصطفیٰؐ کا بنیادی تصور ہی سپردگی پر قائم ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عاشق اپنی ذات کو درِ محبوب پر مکمل طور پر سپرد کر دیتا ہے۔ یہی سپردگی ان کی نعت کا مرکزی جمالیاتی رنگ ہے۔ جو انسان کے زاویہِ فکر کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔یعنی انسان دنیا کو بھی نئی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے اور خودآگہی بھی حاصل کرسکتا ہے۔
دل میں کسی کو اور بسایا نہ جائے گا
ذکرِ رسولِ پاک بھلایا نہ جائے گا

اسی نسبت سے ایک اور شعر جو ادراکِ حقیقی پر مبنی ہے ۔ جن سے انسان اگر آشنا ہو جائے تو عشق کے وسیع تر معانی پا لیتا ہے ۔ پھر وہ عشقِ مصطفیٰؐ اور نسبتِ مصطفیٰ کو وہ اپنے لئے ایک ایسا مرکز سمجھتا ہے جہاں سےاُس کی فکری سمت، اخلاقی ترجیحات اور روحانی وابستگیاں سب اُسی ایک مرکز کے گرد گھومتی ہیں ۔ گویا نسبت یہاں محض نسبت نہیں رہتی بلکہ ایک مکمل داخلی نظامِ شعور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک ایسا نظام جو ختمِ نبوت کا پیغام بھی ہے، جو فقط نبی پاکؐ کو بطور راہبر و راہنما ماننا بھی ہے اور احکامِ خداوندی بھی ہے۔

جنت کی فضائیں انہیں بہلا نہ سکیں گی
جو آپ کی گلیوں کی ہوا کھائے ہوئے ہیں
تقویٰ ادب قناعت خوف خدا اطاعت
بکتا ہے آخرت کا سودا تری گلی میں

ان کے نزدیک راہِ نجات صرف آخرت کے حصول میں نہیں بلکہ اس روحانی مدرسے سے وابستگی میں ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتا اور اس کے اخلاق و کردار کو نئی جہت عطا کرتا ہے۔ گویا "گلیِ مصطفیٰ ﷺ” ایک مقام نہیں بلکہ انسان سازی کا ایک مکمل نظامِ تربیت ہے۔

6. روحانی واردات کی جمالیات:
پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعتیہ شاعری کا سب سے نمایاں اور دل کو منفرد دینے والا پہلو "روحانی واردات”ہے۔ جہاں شعر محض الفاظ کی ترتیب کے ساتھ ساتھ ایک زندہ تجربہ بن جاتا ہے۔دریچہِ باطن منور ہوتا ہے۔ ان کی نعوت پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر صرف بیان نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے جو جہانِ ہستی اور احساسِ قلبِ و روح کی حدوں کو توڑ دیتی ہے۔جسے ہم فنا فی الرسولؐ بھی کہہ سکتے ہیں۔ان کے اشعار میں درِ مصطفیٰ ایک داخلی کیفیت ہے، جو دل میں اتر کر ایک مسلسل کیفِ حضوری بن جاتی ہے۔

ہر وقت ہے اب جلوہ نمائی ترے در کی
تصویر ہی دل میں اتر آئی ترے در کی

مذکورہ شعر صرف لفظی عقیدت کا بیان ہی نہیں بلکہ ایک استغراقِ باطن کی علامت ہے۔ "تصویر کا دل میں اتر آنا” دراصل اُس وارداتِ روحانی کی طرف اشارہ ہے جہاں محبوب کا تصور حافظےکے ساتھ ساتھ شعور و ادراک کی تہوں میں مستقل سکونت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں محبت مشاہدے میں بدلنے لگتی ہے ۔نسبت حضوری کا احساس پیدا کرتی ہے۔

انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا
چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی تری گلی کی

مجموعی طور پر تو پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعتیہ شاعری اردو نعت کی روایت میں ایک ایسی آواز ہے جو روایتی انداز ہونے کے باوجود بھی انفرادیت بھی رکھتی ہے۔ ان کے ہاں نہ صرف عشقِ رسولؐ کی شدت ملتی ہے بلکہ اس عشق کی جمالیاتی، فکری اور آفاقی تشکیل بھی نظر آتی ہے۔ وہ عشق کو صرف جذبہ نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے ایک فکری اور روحانی نظام میں ڈھال دیتے ہیں۔ان کی شاعری میں ” گلی و درِ مصطفیٰ، طلب، نسبت ، عشق اور روحانی واردات ” اگرچہ ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ اک ہی جمالیاتی حصار کے مختلف نام ہیں۔ یہی وحدت ان کی نعت کو محض شعری اظہار نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک مکمل نصاب بنا دیتی ہے۔
میں ذاتی طور پر پیر نصیر الدین نصیر ؔکی نعتیہ شاعری کے مطالعہ کے بعد اس نتیجےپر پہنچا ہوں کہ نعت صرف مدح نہیں بلکہ ایک سفر ِ روحانی بھی ہے۔ایسا سفر جو انسان کو ذاتِ محدود سے نکال کرعشق کی لامحدود وسعتوں میں داخل کر دیتا ہے۔ ان کی شاعری میں درِ مصطفیٰؐ ایک ایسا مرکزِ نور ہے جہاں سے ہر معنی پھوٹتا ہے ۔ ہر طلب اپنی تکمیل پاتی ہے۔
یہی ان کی نعت کا حسن ہےاور یہی کمال بھی۔ ان کے ہاں عشق کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر شعر کے ساتھ نئے مفاہیم اور اسرار میں ڈھل جاتا ہے۔ جس یہ دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے عشق ِ رسولؐ بمعہ اطاعت کوئی منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہےاور یہ سفر ہی اصل زندگی ہے۔

سہیل احمد صمیم

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بےجسم
  • نیا عزم
  • تنہائیِ شب
  • پانی کی گڑیا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سہیل احمد صمیم

اگلی پوسٹ
درد کی سرحد سے دل بھی
پچھلی پوسٹ
امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

متعلقہ پوسٹس

مختار مسعود کی تحریریں

ستمبر 22, 2025

ادھیڑ عمر کی عورت

جنوری 4, 2022

ہرے رنگ کی گڑیا

جون 14, 2020

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)

نومبر 6, 2025

کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

جون 4, 2026

دیہی سندھ کے مسائل

مارچ 30, 2022

چاچا ناشکرا

نومبر 29, 2020

امی

نومبر 14, 2021

25دسمبر: یومِ قائد ِاعظم

دسمبر 25, 2022

فطرت کے بھکاری

اپریل 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

باسط

جنوری 21, 2020

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

اپنے دُکھ مجھے دے دو

جنوری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں