پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری میں گلی و درِ مصطفیٰؐ، فلسفہ ِطلب، تصورِ نسبت اور روحانی واردات کا فکری و جمالیاتی مطالعہ
اردو نعتیہ شعری روایت محض اظہارِ عقیدت کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک ایسی وارداتِ روحانی کا اظہاریہ بھی ہے جس میں محبت، سپردگی، حضوری اور جمالِ مصطفویؐ کی جستجو ایک دوسرے میں تحلیل ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ اگر غزل جذبہِ انسان کی ترجمان ہے تو نعت قلبِ مومن کے لئے مرکزِ یقین کی باطنی کیفیت کی آئینہ دار ہے۔ جس میں الفاظ دعا بھی بن جاتے ہیں اور اشک بھی۔یہی اشک درود بھی بنتے ہیں
اور کبھی مدعا بھی ۔ بلاشبہ ادبِ نعت میں بعض آوازیں فقط شاعر کی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک روحانی رہنما اور عاشقِ رسولؐ کے طور پر ابھرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک منفرد اور معتبر آواز پیر نصیر الدین نصیر ؔ آف گولڑہ شریف کی ہے۔ انکی نعتیہ شاعری عشقِ مصطفیؐ کے لطیف احساسات، درِ رسالت سے وابستگی، روحانی سپردگی اور مدینے کی مہکتی فضاؤں کی ایک معنوی و فکری دنیا تخلیق کرتی ہے۔ ایسی دنیا جہاں قاری اشعارپڑھتے ہوئے ایک داخلی کیفیت سے گزرتا ہے۔
اردو نعتیہ روایت میں شعرا نے محبتِ رسولؐ کو اپنے اپنے انداز میں برتا اور خوب برتا مگر پیر نصیر الدین نصیر کے ہاں محبت کا یہ اظہار محض جذباتی وابستگی نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل، منفرد اور خاص روحانی شعور کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری میں عقیدت، فکر، تصوف اور جمالیاتی احساس ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ جس سے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ شاعری قلبی تجربے کی تفہیم کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعوت میں درِ مصطفیؐ، مدینہ کی گلی/گدائی، نسبت، طلب جیسے الفاظ/تراکیب/ تصور صرف لغوی معنی نہیں رکھتے بلکہ ایک گہری روحانی و فکری کائنات کی مضبوط علامت بن جاتے ہیں۔ذیل میں چند موضوعات پیش خدمت ہیں۔
1.”تر ی گلی میں ” کا استعارہ، اور معنوی جہاں:
پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعوت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ ان کے ہاں رسول ِاکرم ؐسے محبت ایک دینی فریضہ اوروجودی وابستگی (Existential Attachment) کی صورت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ان کا دل ،اپنے وجود کی ترتیبِ نو اور تکمیل کے لئے نسبتِ مصطفیؐ میں تلاش رہتا ہے۔ یہی نسبت ان کی شناخت بھی ہے اور نجات کا وسیلہ بھی۔ اردو نعتیہ روایت میں مدینہ کی گلیاں جغرافیائی تناظر میں بھی دکھائی دیتی ہے جیسے "ہم مدینے کی گلیاں میں تنہا نکل جائیں گے۔ اور وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے”۔ایسے اور بھی موضوعات ملتے ہیں جن میں مدینے کی گلی/ سرکار کی گلی میں مرنے کی امید، جہاں جائے دفن پانے کا تمنا ، وہاں شام و سحر گزارنے کی تمنا وغیرہ ملتے ہیں۔ لیکن پیر نصیر الدین "تری گلی میں” کو کیسے نیا معنوی و فکری جہاں بنایا، اس کا اندازہ ان اشعار سے لگائیں۔
جس دن سے پائے نسبت رکھا تری گلی میں
دیکھا پھر اہلِ دل نے کیا کیا تری گلی میں
جب بھی کیا ہے میں نے سجدہ تری گلی میں
خود کھنچ کے آ گیا ہے کعبہ تری گلی میں
یہاں محض عقیدت کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی داخلی تبدیلی کی خبر ہے جس میں ردیف "تری گلی میں” ،انسان کی شخصیت کو نئے معنی عطا کرتی ہے۔ ایک ایسی داخلی تبدیلی ہے جو "حاصلِ حصول ہے”۔ مرے نزدیک سب سے اہم پہلو جو اس شعر میں بیاں ہوا ہے وہ "تری گلی میں” کی ترکیب میں ہے۔ مفہوم کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تومحسوس یہ ہوتا ہے کہ "تری گلی میں” (نبی پاکؐ کی گلی) کوئی ( Geographical location)جغرافیائی مقام نہیں بلکہ وہ علم و حکمت ، دانش و عرفان پانے کے لئے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔یہی وہ بنیادی نکتہ اور پیغام ہے جو ان کی نعت کو آفاقیت بخشتی ہے۔ یعنی یہ دولتِ ایمان کا پہلا دروازہ بھی ہے اور مرکزہ بھی۔ جہاں پہنچ کر شخصیت کا تزکیہ اور باطن کی تعمیرِ نو ممکن ہوتی ہے۔ جہاں انسان کو رازِ حیات ، اور خیر کے علوم و فنون کے چراغ روشنی پاتے ہیں۔ اہلِ دل و نظر کے لئے "تری گلی میں” ایک ایسا در ہے کہ جہانِ اسرار کے چراغ ملتے ہیں۔ رفعتیں ایسی ہیں کہ انسانی تخیل کے احاطہ میں سما نہیں سکتا۔
دوسرا شعر بظاہر کعبہ اور نبی کی گلی کا تضاد دِکھتا ہےمگر "سجدہ” ایک عشق کا نکتہ بنتا ہے جہاں وجود و زندگی کی تمام اطاعتیں یکجا ہو جاتی ہیں۔ سجدہ اصل میں اطاعت کا، سپردگی اور فرمانبرداری کے استعارہ دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ اطاعتِ نبیؐ اصل میں اطاعتِ خدا ہے۔ جو کوئی مسلمان اپنے تمام تر معاملات و معمولات میں اطاعتِ نبیؐ کو اول رکھے تو پھر ا س کے لئے مرکزِ عبادت خود مرکزِ محبت کی طرف جھک جاتا ہے۔ یوں پیر نصیرالدین نصیرؔ کے شعروں میں "تری گلی میں” ایک آفاقی نظامِ شعور وآگہی اور نظامِ روحانی کی تشکیل کرتی ہے۔یہاں اگر اقبال کا شعر دیکھیں تو مفہوم اور حسین تر ہو جاتا ہے ۔
"کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں”
2.”ترے در کی "(درِ مصطفیٰؐ) کا تصور:
پیر نصیر الدین نصیر ؔکی نعتیہ شاعری میں درِ مصطفیؐ کائنات کے ایک مرکزی رہنما کے استعارے کی صورت میں محسوس ہوتا ہے۔ اُن کے ہاں”ترے درکی” علامت/ترکیب یا تصور صرف دعا مانگنے کی جگہ نہیں بلکہ نسبتِ روحانی، تسکینِ باطن ، سکونِ قلب اور شعورِ کائنات و زندگی کا استعارہ ہے۔ ان کے ہاں بار بار “در”، “گلی”، “آستانہ” اور “گدائی” کا ذکر دراصل اس روحانی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں انسان اپنی عاجزی کو عظمت میں بدلتا محسوس کرتا ہے۔
تھی جس کے مقدر میں گدائی ترے در کی
قدرت نے اسے راہ دکھائی ترے در کی
اک نعمتِ عظمیٰ سے وہ محروم رہا ہے
جس شخص نے خیرات نہ پائی ترے در کی
پیر نصیر الدین نصیر کے ہاں نبی پاک ؐکا "گدائی تر ےدر کی” دولتِ ایمان کے ساتھ ساتھ ایک ایسےفکری انقلاب کی علامت بھی ہے۔ یہ تصورِ مذہب تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، روحانی اور تہذیبی مرکز کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔مزید یہ بھی محسوس ہوتا کہ یہ آگہی کسی مسلم دنیا تک محددود نہیں۔ درِ مصطفیٰ ایک ایسی کائناتی حقیقت جہاں سے نہ صرف ایمان کی روشنی پھوٹتی ہے بلکہ شعورِانسان ، اخلاقی اقدار اور فکری رہنمائی کے نئے زاویے بھی جنم لیتے ہیں۔یعنی ” در "دراصل ایک ایسی گزرگاہ ہے جو تاریخِ انساں میں شعورو آگہی، عدل و انصاف اور فہم و ادراک کے اعلیٰ ترین تصورات کو یکجا کرتی ہے۔ خدا نے جب بھی کسی قوم یا فرد کو ہدایت دینا چاہی تو اُسے نبی پاک کے در کا رستہ دکھایا۔ یہاں اگر ایمان ویقین کے ساتھ ساتھ دیگر رازِ زندگی وکائنات پانے کے عوامل کو بھی شامل کیا جائے تو بجا طور پر درست ہے۔ دنیا نے جب جب کوئی آفاقی، سماجی ،معاشرتی و معاشی، جنگی و سیاسی اصول سیکھنے چاہے تو انہیں ان کا سراغ درِ نبیؐ سے ہی ملا۔ یہاں سے اٹھنے والی روشنی کسی ایک خطے، قوم یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ پوری تہذیبِ انسانی کے فکری ارتقا کے لیے ایک عالمگیر اخلاقی، سماجی، معاشرتی اور فکری رہنمائی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ یوں درِ مصطفیٰؐ محض ایک مقدس مقام نہیں بلکہ انسانی شعور کا عالمی مرکز دکھائی دیتا ہے۔
3. بارگاہِ نبیِؐ میں طلب کا فلسفہ :
نعتیہ ادب میں بارگاہِ نبویؐ میں طلب کے تصورکی ایک بھرپور روایت ملتی ہے تاہم پیر نصیر الدین نصیرؔ کے یہاں اس طلب میں ایک منفرد وارفتگی اور علمی اعتماد دکھائی دیتا ہے۔ جو انسان کو محدود خواہشات سے نکال کر شعور کی وسیع تر گہرائیوں میں لے جاتا ہے۔جہاں سوال چھوٹا نہیں رہتابشرطیکہ سوال کرنے والا وسعت سے آشنا ہو ۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ان کی نعت کو محض عقیدت ِ لفظی میں ہی نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک واردات ِ فکر میں بدل دیتا ہے۔
اسی یقین کی جھلک ان اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے۔
اب تنگئ داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ
سرکار کا در ہے درِ شاہاں تو نہیں ہے
جو مانگ لیا مانگ لیا اور بھی کچھ مانگ
جن لوگوں کو یہ شک ہے کرم ان کا ہے محدود
ان لوگوں کی باتوں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
مذکورہ اشعار جہاں بارگاہِ نبوی ؐ میں طلب کے تصورکو نئے معنی عطا کر رہے ہیں وہیں بادشاہوں کے در اور درِ نبی کا ایک تقابلی جائزہ بھی ہے۔ جو تصورِ رحمت اللعالیمین و فراوانیِ رحمت کے حق کا اعلان بھی ہے اور یہ پیغام بھی کہ جب درِ مصطفیٰ میسر ہو تو انسان کو اپنی طلب، تمنائیں اور آزروؤں کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ یعنی محرومی کا سبب عطا کی کمی نہیں بلکہ طلب کی تنگی کی وجہ سے ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تیسرے شعر میں عقیدے کا اظہار بھی ہے۔ سوالی کے لئے لامحدود موتی ہیں مگر یہ موتی اسے نصیب ہوں گے ۔ جسے مانگنے کا طریقہ آتا ہو۔ جسے درِ نبیؐ کی عظمت کا اندازہ ہو۔ یوں پیر نصیر الدین نصیر کی نعت انسان کے دل و دماغ میں امید، اعتماد اور وسعتِ آروز پیدا کرتی ہے۔
5. عشق اور نسبتِ مصطفیٰؐ کا شعور اور مدینہ بطور روحانی تجربہ:
پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعتیہ شاعری میں نسبتِ رسولؐ ایک مکمل جمالیاتی نظام کی صورت اختیار کرتا محسوس ہوتا ہے۔ ان کے ہاں عشقِ رسولؐ اور نسبتِ رسولؐ ایک ایسی روشنی ہے جو الفاظ کو معانی عطا کرتی ہے اور معانی بھی ایسے گویا وہ ایک خاص روحانی تجربے کی بدولت وجود پذیر ہوئے ہیں۔ بلاشبہ مدینہ ایک ایسا انوکھا اور منفرد سہر ہے جہاں ہر کسی کی قلبی واردات مختلف ( حصہ بقدرِ جسہ ) ہوتیں ہیں۔
بحر ِعشقِ مصطفیٰ کا ماجرا ہو کیا بیاں
لطف آیا ڈوبنے کا جتنی گہرائی ملی
گویا لذتِ عشق دور کھڑے کنارے سے ملتی بلکہ عشق کی گہرائی میں ڈوب جانے سے ملا کرتی ہے۔ پیر نصیر الدین نصیر ؔ کی عشق کی بنیاد سطحی سپردگی نہیں بلکہ بحرِ بیکراں میں غرق ہونے کا نام ہے ۔ذاتِ نبی و مقامِ نبی کا ادراک انسان کو سپردگی کی طرف مائل کرتا ہے۔ پیر نصیرالدین نصیر کے کلام میں عشقِ مصطفیٰؐ کا بنیادی تصور ہی سپردگی پر قائم ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عاشق اپنی ذات کو درِ محبوب پر مکمل طور پر سپرد کر دیتا ہے۔ یہی سپردگی ان کی نعت کا مرکزی جمالیاتی رنگ ہے۔ جو انسان کے زاویہِ فکر کو تبدیل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔یعنی انسان دنیا کو بھی نئی آنکھ سے دیکھ سکتا ہے اور خودآگہی بھی حاصل کرسکتا ہے۔
دل میں کسی کو اور بسایا نہ جائے گا
ذکرِ رسولِ پاک بھلایا نہ جائے گا
اسی نسبت سے ایک اور شعر جو ادراکِ حقیقی پر مبنی ہے ۔ جن سے انسان اگر آشنا ہو جائے تو عشق کے وسیع تر معانی پا لیتا ہے ۔ پھر وہ عشقِ مصطفیٰؐ اور نسبتِ مصطفیٰ کو وہ اپنے لئے ایک ایسا مرکز سمجھتا ہے جہاں سےاُس کی فکری سمت، اخلاقی ترجیحات اور روحانی وابستگیاں سب اُسی ایک مرکز کے گرد گھومتی ہیں ۔ گویا نسبت یہاں محض نسبت نہیں رہتی بلکہ ایک مکمل داخلی نظامِ شعور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک ایسا نظام جو ختمِ نبوت کا پیغام بھی ہے، جو فقط نبی پاکؐ کو بطور راہبر و راہنما ماننا بھی ہے اور احکامِ خداوندی بھی ہے۔
جنت کی فضائیں انہیں بہلا نہ سکیں گی
جو آپ کی گلیوں کی ہوا کھائے ہوئے ہیں
تقویٰ ادب قناعت خوف خدا اطاعت
بکتا ہے آخرت کا سودا تری گلی میں
ان کے نزدیک راہِ نجات صرف آخرت کے حصول میں نہیں بلکہ اس روحانی مدرسے سے وابستگی میں ہے جو انسان کے باطن کو سنوارتا اور اس کے اخلاق و کردار کو نئی جہت عطا کرتا ہے۔ گویا "گلیِ مصطفیٰ ﷺ” ایک مقام نہیں بلکہ انسان سازی کا ایک مکمل نظامِ تربیت ہے۔
6. روحانی واردات کی جمالیات:
پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعتیہ شاعری کا سب سے نمایاں اور دل کو منفرد دینے والا پہلو "روحانی واردات”ہے۔ جہاں شعر محض الفاظ کی ترتیب کے ساتھ ساتھ ایک زندہ تجربہ بن جاتا ہے۔دریچہِ باطن منور ہوتا ہے۔ ان کی نعوت پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر صرف بیان نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسی کیفیت سے گزر رہا ہے جو جہانِ ہستی اور احساسِ قلبِ و روح کی حدوں کو توڑ دیتی ہے۔جسے ہم فنا فی الرسولؐ بھی کہہ سکتے ہیں۔ان کے اشعار میں درِ مصطفیٰ ایک داخلی کیفیت ہے، جو دل میں اتر کر ایک مسلسل کیفِ حضوری بن جاتی ہے۔
ہر وقت ہے اب جلوہ نمائی ترے در کی
تصویر ہی دل میں اتر آئی ترے در کی
مذکورہ شعر صرف لفظی عقیدت کا بیان ہی نہیں بلکہ ایک استغراقِ باطن کی علامت ہے۔ "تصویر کا دل میں اتر آنا” دراصل اُس وارداتِ روحانی کی طرف اشارہ ہے جہاں محبوب کا تصور حافظےکے ساتھ ساتھ شعور و ادراک کی تہوں میں مستقل سکونت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں محبت مشاہدے میں بدلنے لگتی ہے ۔نسبت حضوری کا احساس پیدا کرتی ہے۔
انوار ہی انوار کا عالم نظر آیا
چلمن جو ذرا میں نے اٹھائی تری گلی کی
مجموعی طور پر تو پیر نصیر الدین نصیرؔ کی نعتیہ شاعری اردو نعت کی روایت میں ایک ایسی آواز ہے جو روایتی انداز ہونے کے باوجود بھی انفرادیت بھی رکھتی ہے۔ ان کے ہاں نہ صرف عشقِ رسولؐ کی شدت ملتی ہے بلکہ اس عشق کی جمالیاتی، فکری اور آفاقی تشکیل بھی نظر آتی ہے۔ وہ عشق کو صرف جذبہ نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے ایک فکری اور روحانی نظام میں ڈھال دیتے ہیں۔ان کی شاعری میں ” گلی و درِ مصطفیٰ، طلب، نسبت ، عشق اور روحانی واردات ” اگرچہ ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ اک ہی جمالیاتی حصار کے مختلف نام ہیں۔ یہی وحدت ان کی نعت کو محض شعری اظہار نہیں رہنے دیتی بلکہ ایک مکمل نصاب بنا دیتی ہے۔
میں ذاتی طور پر پیر نصیر الدین نصیر ؔکی نعتیہ شاعری کے مطالعہ کے بعد اس نتیجےپر پہنچا ہوں کہ نعت صرف مدح نہیں بلکہ ایک سفر ِ روحانی بھی ہے۔ایسا سفر جو انسان کو ذاتِ محدود سے نکال کرعشق کی لامحدود وسعتوں میں داخل کر دیتا ہے۔ ان کی شاعری میں درِ مصطفیٰؐ ایک ایسا مرکزِ نور ہے جہاں سے ہر معنی پھوٹتا ہے ۔ ہر طلب اپنی تکمیل پاتی ہے۔
یہی ان کی نعت کا حسن ہےاور یہی کمال بھی۔ ان کے ہاں عشق کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر شعر کے ساتھ نئے مفاہیم اور اسرار میں ڈھل جاتا ہے۔ جس یہ دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے عشق ِ رسولؐ بمعہ اطاعت کوئی منزل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہےاور یہ سفر ہی اصل زندگی ہے۔
سہیل احمد صمیم
