خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامجھکے گا ظلم کا پرچم
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزپیر انتظار حسین مصور

جھکے گا ظلم کا پرچم

از سائیٹ ایڈمن ستمبر 6, 2026
از سائیٹ ایڈمن ستمبر 6, 2026 0 تبصرے 59 مناظر
60

جھکے گا ظلم کا پرچم : سیاسی منافقت اور اقتدار کی بدمستی

جہاں سچ کی بات کرنا مشکل ہو جائے اور ہر بات فائدے اور نقصان کو دیکھ کر کی جائے، وہاں حبیب جالب کا شعر صرف ایک شاعری نہیں رہتا بلکہ ہمارے دور کی سچی کہانی بن جاتا ہے۔ جالب نے جب یہ اشعار کہے تھے:

جُھکے گا ظُلم کا پرچم، یقِین آج بھی ہے مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے

بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو مگر نِگاہ میں وُہ سر زَمِین آج بھی ہے

صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ یزید چین سے، مسند نشِین آج بھی ہے

تو شاید ان کے سامنے اپنے دور کے حکمران اور ان کی سختی تھی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بھی حالات کچھ الگ نہیں ہیں۔ وقت بدل گیا، حکمرانوں کے نام اور چہرے بدل گئے، بڑے بڑے نعرے بدل گئے، لیکن ہماری سیاسی جماعتوں کا رویہ اور ان کی منافقت وہی پرانی ہے۔ جب تک ہماری سیاسی جماعتیں اقتدار سے دور ہوتی ہیں، ان کے لیڈر مظلوم بن کر باتیں کرتے ہیں۔ وہ غریبوں کے حقوق، آئین کی بالادستی، اور بولنے کی آزادی کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی ان کو حکومت اور اقتدار کی کرسی ملتی ہے، وہی لوگ اپنے سارے پرانے وعدے بھول جاتے ہیں اور وہی کام کرنے لگتے ہیں جن کی وہ کل تک مخالفت کر رہے تھے۔

ہمارے سیاسی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہی دوہرا معیار ہے۔ اپوزیشن میں بیٹھ کر جو سیاسی لیڈر سڑکوں پر آ کر مظلومیت کے نعرے لگاتے ہیں اور حکومت کو کوستے ہیں، اقتدار میں آتے ہی وہ اپنے مخالفین کی زبان بند کرنے کے نئے نئے راستے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جو جماعتیں کل تک غریبوں، روزگار اور انصاف کی باتیں کرتے نہیں تھکتی تھیں، وہ حکومت میں آتے ہی عوام پر نئے ٹیکس اور سختیوں کے تجربے شروع کر دیتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہماری سیاسی جماعتوں کا اصول صرف یہ ہے کہ جو بات ان کے فائدے میں ہو وہ سچ ہے، اور ظلم صرف وہ ہے جو ان کی اپنی ذات یا ان کی پارٹی پر ہو۔

اس سیاسی منافقت نے ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ عوام جن لیڈروں کو اپنا ہیرو سمجھ کر ووٹ دیتے ہیں اور ان کے لیے جلوسوں میں دھکے کھاتے ہیں، وہی لیڈر حکومت میں جا کر اپنے ہی لوگوں کے مسائل سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ جو جماعتیں بدعنوانی، مہنگائی اور ناانصافی ختم کرنے کے لمبے چوڑے وعدے کر کے اقتدار میں آتی ہیں، وہ حکومت ملتے ہی اپنے فائدے سوچنے لگتی ہیں۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسئلہ صرف حکومت یا نظام کا نہیں ہے، بلکہ ان لیڈروں کی نیت اور سوچ کا ہے جو اقتدار کو صرف اپنے اور اپنی پارٹی کے فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اگر ہم غور سے دیکھیں تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رویوں میں بڑا تضاد نظر آتا ہے۔ جو قدم ایک سیاسی جماعت کے لیے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے "ظلم” اور "سیاسی انتقام” کہلاتا ہے، وہی قدم حکومت میں آ کر ان کے نزدیک "قانون کی حکمرانی” بن جاتا ہے۔ جن باتوں اور پابندیوں کو وہ کل تک جمہوریت کے خلاف کہتے تھے، آج اقتدار میں بیٹھ کر انہی باتوں کو "ملکی مفاد” کا نام دے کر درست قرار دیتے ہیں۔ اس منافقت نے عام آدمی کو سخت مایوس کیا ہے اور لوگوں کا سیاست اور جمہوریت سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے۔

اقتدار کے نشے اور عارضی فائدوں کی کھیل میں ہمارے حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ وقت اور تاریخ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ جب حکومتیں عوام کا اعتماد کھو دیتی ہیں اور صرف نعروں اور اشتہاروں کے ذریعے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں، تو آخر میں ان کو رسوائی کا سامنا ہی کرنا پڑتا ہے۔ حبیب جالب کا یہ کلام کسی ایک دور کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس دور کی کہانی ہے جہاں ظلم اور ناانصافی ہو۔ یہ شعر ہمیں یہ امید دیتے ہیں کہ جھوٹ اور منافقت چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائے، سچ اور انصاف کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ سچ بولنے والوں کو ہر دور میں مشکلوں اور سخت راستوں سے گزرنا پڑا ہے۔ اپنوں اور غیروں کی منافقت کے باوجود، تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ انہی لوگوں کا نام عزت سے لکھا جاتا ہے جو بغیر کسی ڈر یا لالچ کے سچ کے ساتھ کھڑے رہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم ان تمام سیاسی لیڈروں کے پرفریب نعروں، جھوٹے وعدوں اور اشتہاری دعوؤں سے باہر نکلیں۔ ہمیں ان کے زبانی کلامی نعروں کی بجائے ان کے عملی کاموں اور ماضی کے فیصلوں کو دیکھنا ہوگا۔ جب تک ہمارے ملک کے لوگ شخصیت پرستی اور پارٹی بازی سے اوپر اٹھ کر سچ اور انصاف کا ساتھ نہیں دیں گے، تب تک حکومتیں اور چہرے تو بدلتے رہیں گے لیکن عام آدمی کی حالت اور اس ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی۔

پیر انتظار حسین مصور

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مستقبل کا موسم
  • چھوٹے گھر بڑے لوگ
  • آخری سیلیوٹ
  • جمہوریت یاانتقامی سیاست!!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چاند روتا سورج
پچھلی پوسٹ
اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

متعلقہ پوسٹس

اس نے مجھ کو ہاتھ لگایا اور لگا کے چھوڑ...

مئی 30, 2026

تنہائی

دسمبر 19, 2024

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

جولائی 13, 2022

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

کمار سانو

فروری 2, 2020

انگور – چھوٹی چیز بڑے فائدے

اکتوبر 21, 2021

رازکی بات ہے کسی کو بتایئے گا نہیں

ستمبر 1, 2024

پنڈ کی دعوت اور ککڑ کی شامت

مئی 21, 2020

دریائے نیلوفر کی خلوت

جنوری 11, 2025

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آئیے کوئٹہ چلیں

فروری 9, 2019

”انا“اورقربانی

جولائی 2, 2021

تحفظ ناموس رسالتؐ اور رعب مسلم

نومبر 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں