خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامامیر کون غریب کون
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

امیر کون غریب کون

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 13, 2026
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 13, 2026 0 تبصرے 5 مناظر
6

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

دنیاوی اعتبار سے ہمارے درمیان رہنے والے وہ لوگ جو عالیشان بنگلے میں عالیشان گاڑیوں اور نوکر چاکر کے ساتھ رہائش پذیر ہوں جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہو اور ضروریات زندگی کی ہر سہولت میسر ہو اسے امیر کہا جاتا ہے جبکہ ایک چھوٹے سے کرایہ کے گھر میں ایک پرانی موٹر سائکل کے ساتھ اپنے بچوں کے ساتھ مشکل حالات میں گزارا کرنے والے لوگوں کو غریب کہا جاتا ہے جبکہ ان دونوں کے درمیان میں یہاں بسنے والے لوگوں کی ایک تعداد اور بھی ہے جسے ہم متوسط طبقہ کہتے ہیں جو ” ہینڈ ٹو مائوتھ ” ہوتے ہیں یعنی اپنے آپ کو اچھا اور مناسب ظاہر کرنے کے لیئے ایک اچھی رہائش ہوگی لیکن کرایہ پر جبکہ ماہنہ انکم کم ہوگی لیکن لوگوں کے سامنے اچھے نظر آنے کی کوشش ہوگی مجبوری میں اور گزارا روتے پیٹتے ہورہا ہوگا لیکن ہم یہاں آج کی تحریر میں یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ شرعی اعتبار سے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں آخر” امیر کون غریب کون ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی سورہ یاسین میں ارشاد فرمایا ہے کہ
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُۙ-قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ﳓ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(47)

ترجمہ کنزالایمان::
اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دئیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا تم تو نہیں مگر کھلی گمراہی میں ۔
ہمارے علماء اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ آیت کفارِ قریش کے بارے میں نازل ہوئی جن سے مسلمانوں نے انسانی ہمدردی کی بنا پر کہا تھا کہ تم اپنے مالوں کا وہ حصہ مسکینوں پر خرچ کرو جو تم نے اپنے گمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لئے نکالا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اللہ تعالیٰ کھلانا چاہتا تھا تو کھلا دیتا۔یہ بات انہوں نے بخل اور کنجوسی کی وجہ سے مذاق اڑا نے کے طور پر کہی تھی اور یہ بات انتہائی باطل تھی کیونکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے ، فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں ، فقیر کی آزمائش صبر سے اور مالدار کی آزمائش اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہوتی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق میں حکمت اورمَشِیَّت ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یاد رہے کہ مالی اعتبار سے اللہ رب العزت نے اپنے سب بندوں کو ایک جیسا نہیں بنایا بلکہ بعض کو امیر اور بعض کو غریب بنایا امیری اور غریبی کے اس فرق میں اللہ کی حکمت اپنے بندوں پر آزمائش ہے امیری پر آزمائش یہ ہوتی ہے کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے یا نہیں جبکہ غریب کی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ محتاجی میں یعنی غربت میں صبر اور شکر کا مظاہرہ کرتا ہے یا نہیں اس لیئے اللہ تعالیٰ جس کو امیر بناتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنے مال و دولت کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی خرچ کریں اور غریبوں کو چاہئے کہ وہ غربت میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہکر اس کا شکر ادا کریں تاکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوسکیں ہمارے معاشرے میں عام طور پر امیری اور غریبی کی یہ ہی تعریف بیان کی جاتی ہے لیکن میرے خالق کائنات اور اس کے نبی حضور ﷺ کے نزدیک امیر وہ نہیں جس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہو روپیہ پیسہ کی کوئی کمی نہ ہو کام کرنے والے نوکر چاکر ہوں اور عیش و عشرت کا پورا سامان ہو بلکہ امیر وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہو اور وہ اس میں غریبوں اور مسکینوں کی مدد بھی کرے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کرے مال و دولت ہونے کے باوجود عاجزی و انکساری کے جذبے سے سرشار ہو اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ہو اسی طرح شرعی طور پر وہ غریب نہیں جس کے پاس مال و دولت نہ ہو جو اپنے بچوں کے ساتھ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو بلکہ غریب وہ ہے جس نے دنیاوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کیا ہو حضور ﷺ کی سنتوں کا پاس نہ رکھا ہو لوگوں کے ساتھ رویہ درست نہ ہو اپنی زندگی گناہوں میں گزار کر شرمندہ بھی نہ ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ کے حضور خالی ہاتھ کھڑا ہو اصل غریب وہ ہے ۔ لیکن امیر اور غریب ہونے کی نشانیاں کچھ اور بھی ہیں یہاں میں ایک خوبصورت واقعہ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کروں گا ایک دفعہ ایک شخص جس کے پاس مال و دولت ،روپیہ پیسہ عزت و شہرت سب کچھ تھا اور اسے امیر ہونے پر بڑا فخر تھا ایک دن وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو اس کے بیٹے نے پوچھا کہ ابا جان یہ امیر کون ہوتا ہے ؟ اور غریب کون ہوتا ہے ؟ اور ان دونوں میں فرق کیا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا کہ بیٹا امیر وہ ہوتا ہے جس کے پاس ضروریات زندگی کی ہر شہہ موجود ہو ، نوکر چاکر ہوں بڑا سا گھر ہو گاڑی ہو جیسے ہم لوگ اور غریب وہ ہوتا ہے جو اپنی زندگی تنگدستی میں گزارتا ہو اس کے پاس ضروریات زندگی تو دور کی بات ہے بنیادی ضرورت کی بھی کوئی شہہ مکمل نہیں ہوتی جیسے گائوں کے لوگ یا چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنے والے لوگ تو بیٹے نے پوچھا ابا جان یہ گائوں کیسا ہوتا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا کہ آئو آج میں ایک جانے والے سے ملواتا ہوں جو گائوں میں رہتا ہے ہم گائوں کی سیر بھی کریں گے اور تمہیں یہ بھی بتائوں گا کہ بچارے غریب لوگ گائوں میں کس طرح اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یوں ایک دن وہ امیر اور دولتمند شخص اپنے بیٹے کو لیکر گاؤں کی طرف چل دیا گاؤں پہنچ کر دونوں نے ایک جاننے والے غریب کسان کے گھر میں وقت گزارا اس غریب نے انہیں گائوں کی سیر بھی کروائی بیٹا خوش تھا وہ امیر شخص اپنے بیٹے کو دکھانا چاہتا تھا کہ غریب اور گائوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے جب شام ہونے لگی تو اس شخص نے بیٹے سے کہا کہ بیٹا واپس چلیں تو بیٹا کہنے لگا کہ ہاں چلیں راستے میں اس امیر شخص نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا بتائو تمہیں گاؤں کیسا لگا ؟ اور غریب لوگوں کی مشکل زندگی کو تم نے کیسے دیکھا ؟ تو بیٹے نے کہا کہ ہاں اباجان لگتا ہے مجھے آج امیر اور غریب کا فرق بہت اچھی طرح سے معلوم ہوگیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ فرق آج تک آپ کو کیوں معلوم نہ ہوسکا ؟ تو وہ امیر شخص اپنے بیٹے کی بات سن کر حیران ہوگیا اور پوچھنے لگا کہ تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟ تو بیٹے نے کہا کہ اباجان ہمارے پاس ایک چھوٹا سا سوئمنگ پول ہے جس کو ہمارے علاوہ کوئی استعمال نہیں کرسکتا جبکہ گاؤں میں ایک صاف ستھرا چشمہ تھا جہاں پورے گاؤں کے لوگ نہاتے بھی ہیں اور وہ صاف پانی پیتے بھی ہیں اباجان ہم رات کو اندھیرا ہو جائے تو ٹیوب لائٹس جلاتے ہیں جبکہ یہ لوگ کھلے صحن میں چاند اور ستاروں کی روشنی میں رہتے ہیں ہمارے پاس گارڈز ہوتے ہیں جن کو ہم اپنی حفاظت کے لیئے رکھتے ہیں جبکہ گاؤں کے سارے لوگ ایک دوسرے کی حفاظت خود کرتے ہیں اباجان ہمارے پاس ایک لیب ٹاپ ہے جو صرف آپ استعمال کرتے ہیں کوئی دوسرا ہاتھ بھی لگائے تو غصہ کرجاتے ہیں جبکہ گاؤں والوں کے پاس ایک ٹیلی ویژن ہے جسے شام ہوتے ہی پورے گاؤں کے لوگ جمع ہوکر دیکھتے ہیں سارے رشتہ دار دوست احباب اور سب کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے اور جس کا وہ ٹی وی ہوتا ہے اس کے ماتھے پر ایک بھی بل نظر نہیں آتا اباجان ہم زیادہ تر کھانا آرڈر کرکے منگوا کر کھاتے ہیں جبکہ گاؤں کے لوگ یہ ہی کھانا خود اگاتے ہیں اباجان ہمیں ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ پڑوس میں سے کوئی کچھ مانگنے کے لیئے دروازا نہ بجادے جبکہ گاؤں میں سب کی سب چیزیں سانجھی ہیں تیری میری والی وہاں کوئی بات نہیں ۔ بیٹے کی بات سن کر وہ امیر شخص خاموش ہوگیا پھر بیٹے نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ اباجان آج آپ نے مجھے دکھایا کہ ہم کتنے غریب ہیں میں نے آج سیکھ لیا کہ انسان مال و دولت سے امیر نہیں بنتا بلکہ سادگی ، محبت ، خلوص , دوستی، ہم آہنگی، اور خاندان ہمیں امیر بناتے ہیں کیونکہ حقیقی دولت روپیہ پیسہ میں نہیں ہے بلکہ سادگی اور بھرپور رشتوں میں ہے جس کی بھرپور کمی کی وجہ سے سب کچھ ہونے کے باوجود ہم انتہائی غریب رہ گئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس مختصر واقعہ سے ہمیں امیر اور غریب کا ایک اور واضح فرق نظر آیا اور یہ اندازہ ہوا کہ واقعی مال و دولت کی فراوانی ہونا ہی اصل امیری نہیں ہے بلکہ کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود شکرانے کے طور پر چہرے پر مسکراہٹ اور ہر کسی کو اپنا سمجھ کر زندگی گزارنے کا نام ہی امیری ہے اور اصل غریب وہ نہیں جنہیں ہم لوگ غریب سمجھتے ہیں بلکہ غریب تو وہ ہیں جن کے پاس مال و دولت روپیہ پیسہ گاڑی بنگلہ اور سب کچھ ہونے کے باوجود انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے جو کسی کو اپنے جیسا یا اپنے سے آگے دیکھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں جو اپنی دولت میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اس لیئے مناسب نہیں سمجھتے کہ بقول ان کے یہ سب کچھ اپنی محنت سے انہوں نے جمع کیا ہےتو پھر اللہ رب العزت کی طرف سے ان پر عذاب بھی مسلط ہوتا ہے اور ہوگا اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے نزدیک اصل غریب ایسے ہی لوگ ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج کی اس تحریر ” امیر کون غریب کون ” میں امیر اور غریب کے دنیاوی اعتبار سے اور مذہبی اعتبار سے فرق کو واضح کرنے کی میں نے ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے صرف اس لیئے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم یہاں جن لوگوں کو امیر یا غریب سمجھتے ہیں اصل میں وہ امیر یا غریب ہوتے ہی نہیں بلکہ امیر اور غریب کی اصل پہچان وہ ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن اور حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ سے ملتی ہے اور ہمیں ایسے لوگوں کے لیئے ہدایت کی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ رب العزت انہیں ہدایت دے اور جب تک مقدر میں لکھی ہوئی زندگی باقی ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرکے اپنی آخرت سنوار لیں ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا سخت ہے ۔
آج کی اس تحریر کا اختتام میں ایک بہت ہی خوبصورت بات سے کرنا چاہوں گا جو میں نے کہیں پڑھی تھی کہ ” سکھ اور دکھ ہر انسان کو اپنے مقدر سے ملتے ہیں امیری اور غریبی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا کیونکہ رونے والے عالیشان محلوں میں بھی روتے ہیں جبکہ جن کی قسمت میں خوشیاں ہوتی ہیں وہ جھونپڑی میں ہنستے رہتے ہیں ” ۔ آخر میں ہمیشہ کی طرح دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ویلنٹائن ڈے منانے کا بتایا کس نے؟
  • نہ مایوس ہو میرے دُکھ درد والے
  • ایک ماں کی ڈائری سے
  • آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دمِ زندگی! چل ایک نیا الزام لیا جائے
پچھلی پوسٹ
آدم ذات کو آدم ذات کی خبر نہیں

متعلقہ پوسٹس

کُل جہاں دلنشین ہے مولا

اکتوبر 16, 2025

مدافعت کا آخری راستہ

جنوری 4, 2022

اتنی بڑھی گھٹن کہ ہواؤں پہ آگئی

اپریل 3, 2026

فرشتہ 

اگست 20, 2020

تری ڈگر کو میں اپنی نظر میں رکھتی ہوں

جنوری 12, 2026

بہارِ ارضِ فلپائن

جنوری 4, 2025

نظم کیا ہے؟

مئی 21, 2024

پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیا موڑ

ستمبر 19, 2025

گورکن

فروری 6, 2026

غالب افسانہ

مئی 21, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان : مذہب اور سیاست کا...

فروری 6, 2026

پُھولوں کی سازش

جنوری 30, 2020

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا...

جولائی 23, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں