خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستان : مذہب اور سیاست کا سفر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستان : مذہب اور سیاست کا سفر

از سائیٹ ایڈمن فروری 6, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 6, 2026 0 تبصرے 33 مناظر
34

پاکستان کا قیام 14 اگست 1947ء صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی شناختوں کے تصادم اور اتحاد کا نتیجہ تھا۔ اس تاریخی جدوجہد میں دو قومی نظریہ، مسلم لیگ کی سیاست، مذہبی جذبات، برصغیر میں برطانوی راج کی پالیسیاں اور عوامی احساسِ تحفظ سب مل کر اس نئی ریاست کی بنیاد بنے جنہیں بعد میں پاکستان کہا گیا۔

پاکستان کی نظریاتی بنیاد دو قومی نظریہ ہے، جس کے مطابق برصغیر کے مسلمان اور ہندو دو مختلف قومیں ہیں جن کی مذہبی، ثقافتی اور سماجی شناختیں بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ اس نظریے نے مسلمانوں میں ایک علیحدہ وطن کے مطالبے کو تقویت دی اور انہیں یہ شعور دیا کہ ہندو اکثریت کے تحت سیاسی اور معاشی طور پر پسماندہ ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

مسلم لیگ نے ابتدائی طور پر ایک سیاسی جماعت کے طور پر مسلمانوںpakistan کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، مگر 1937ء کے انتخابات میں شکست کے بعد اسے مذہبی جذبات کو سیاسی استعمال میں لانا پڑا تاکہ مختلف علاقوں میں پھیلے مسلم ووٹرز کو متحد کیا جا سکے۔ محمد علی جناح، جو قائداعظم کہلاتے ہیں، نے خود سیکولر رہنما ہونے کے ناطے مذہب کو ریاستی امور میں کم از کم موقع پر استعمال کرنا چاہا، لیکن سیاسی حقیقتوں نے انہیں مذہبی بیانیہ کو اپنانے پر مجبور کیا تاکہ ایک قومی اتحاد قائم رہ سکے۔

1945–46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی نے انہیں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر مستحکم کیا، لیکن یہ کامیابی بنیادی طور پر مذہبی اور فرقہ وارانہ جذبات کے استعمال کا نتیجہ تھی۔ علما اور مذہبی پیشواؤں نے عوام کو باور کرایا کہ جو مسلم لیگ کو ووٹ دے گا وہ اچھا مسلمان ہے، اور مخالفت کرنے والے کافر ہیں۔ اس نے عوام میں پاکستان کے مطالبے کو جذباتی اہمیت دے دی اور اسے زندگی اور موت کے مسئلے کے طور پر پیش کیا۔

محمد علی جناح کی حکمتِ عملی واضح تھی: وہ ذاتی طور پر ایک سیکولر اور جمہوری پاکستان چاہتے تھے، مگر انہیں عوام اور اتحادیوں کے دباؤ کی وجہ سے مذہب کو سیاسی مباحثے میں جگہ دینی پڑی۔ انہوں نے مذہبی رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے ایسی زبان استعمال کی جو عوامی اتحاد کا باعث بنی، جبکہ حقیقت میں مقصد ایک طاقتور مذاکراتی مینڈیٹ حاصل کرنا تھا۔ جناح کے اس مؤقف کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوا جب انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں مذہبی آزادی، مساوات اور جمہوری اصولوں پر زور دیا، جو ان کے سیکولر نظریے کی عکاسی کرتی ہے۔

برطانوی سامراج نے ہندوستان میں فرقہ وارانہ ذہنیت کو مضبوط کیا، جس نے تقسیم کو عملی شکل دی۔ دو قومی نظریہ نے اس تقسیم کو جواز فراہم کیا اور برطانوی انتظامیہ نے مسلم اکثریتی اور ہندو اکثریتی علاقوں کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی ہجرتیں، فرقہ وارانہ فسادات اور انسانی المیے واقع ہوئے، جنہوں نے مذہب کو پاکستان میں ایک تاریخی اور سیاسی عنصر کی حیثیت دی، جو بعد میں پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔

پاکستان کے قیام کے بعد مختلف سیاسی اور نظریاتی طبقات نے ملک کے اسلامی تشخص پر بحث شروع کی۔ کچھ حلقوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے، جبکہ دیگر سیکولر اور جمہوری پاکستان کے حق میں تھے۔ اس بحث نے آئین پاکستان میں اسلامی اور جمہوری فلسفوں کے درمیان مستقل کشمکش کو جنم دیا، جس نے پاکستان کے آئینی ڈھانچے، مقاصدِ پاکستان اور ریاستی پالیسیوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔

پاکستان کی تحریک محض ایک سیاسی اتحاد نہیں تھی بلکہ اس میں مذہبی تشخص اور عوامی احساس بھی شامل تھا۔ مسلمانوں نے اپنی تاریخ، مذہبی عناصر اور مشترکہ خوف کے تحت ایک علیحدہ وطن کے لیے جدوجہد کی، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بغیر ایک علیحدہ وطن کے ان کی شناخت اور مستقبل خطرے میں ہے۔ یہ عوامی احساسات ریاستی پالیسیوں، تعلیمی نصاب، عوامی بیانیوں اور سیاسی مباحثوں میں ایک مرکزی کردار ادا کرتے رہے، جس نے پاکستان کو نہ صرف ایک جغرافیائی وجود بلکہ ایک نظریاتی حقیقت کے طور پر مستحکم کیا۔

پاکستان کا قیام کسی ایک وجہ یا محض مذہبی مسئلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ تاریخی، ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور معاشی عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ سیاسی اور قومی وجود کی طرف سفر پر آمادہ کیا۔ یہ جدوجہد دو قومی نظریہ، سیاسی رہنماؤں کی حکمتِ عملی، عوامی جذبات، مذہبی اور ثقافتی شناختوں اور برطانوی نوآوری پالیسیوں کے مشترکہ ملاپ کا نتیجہ تھی۔ پاکستان ایک ایسی ریاست کے طور پر وجود میں آیا جس نے مذہب اور قومیت کو ایک ساتھ جوڑا اور اسے ایک مستقل قومی پہچان دی، جو آج بھی اس کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں گہرائی سے موجود ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !
  • جشن آزادی اور شریعت
  • بلاؤز
  • خواتین کی محفل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
امامِ زمانہؑ کی مقام و منزلت !
پچھلی پوسٹ
کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد

متعلقہ پوسٹس

23 مارچ : قراردادِ پاکستان سے آج تک کا سفر

مارچ 23, 2026

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی چیخیں نکلیں

مارچ 15, 2026

تری آنکھ کا جب اشارہ ملا

اپریل 4, 2026

کچے مکانات، کچے وعدے

ستمبر 7, 2025

نیا عزم اورپرانی یادیں- نیا سال مبارک ہو

جنوری 8, 2026

بچوں میں اسکرین ٹائم کے اثرات

مارچ 4, 2026

بخشش کے بہانے

دسمبر 19, 2024

افسانہ حسن ِ نظر

اکتوبر 14, 2025

یوگا اور ورزش زندگی کی نئی توانائی

ستمبر 6, 2025

روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں

مارچ 1, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

انسانی تقدس ۔ سوشل میڈیا کے...

اپریل 29, 2020

شیر خوار

مارچ 25, 2025

جنت الحمقاء

جنوری 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں