خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستان : مذہب اور سیاست کا سفر
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستان : مذہب اور سیاست کا سفر

از سائیٹ ایڈمن فروری 6, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 6, 2026 0 تبصرے 83 مناظر
84

پاکستان کا قیام 14 اگست 1947ء صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی شناختوں کے تصادم اور اتحاد کا نتیجہ تھا۔ اس تاریخی جدوجہد میں دو قومی نظریہ، مسلم لیگ کی سیاست، مذہبی جذبات، برصغیر میں برطانوی راج کی پالیسیاں اور عوامی احساسِ تحفظ سب مل کر اس نئی ریاست کی بنیاد بنے جنہیں بعد میں پاکستان کہا گیا۔

پاکستان کی نظریاتی بنیاد دو قومی نظریہ ہے، جس کے مطابق برصغیر کے مسلمان اور ہندو دو مختلف قومیں ہیں جن کی مذہبی، ثقافتی اور سماجی شناختیں بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ اس نظریے نے مسلمانوں میں ایک علیحدہ وطن کے مطالبے کو تقویت دی اور انہیں یہ شعور دیا کہ ہندو اکثریت کے تحت سیاسی اور معاشی طور پر پسماندہ ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

مسلم لیگ نے ابتدائی طور پر ایک سیاسی جماعت کے طور پر مسلمانوںpakistan کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، مگر 1937ء کے انتخابات میں شکست کے بعد اسے مذہبی جذبات کو سیاسی استعمال میں لانا پڑا تاکہ مختلف علاقوں میں پھیلے مسلم ووٹرز کو متحد کیا جا سکے۔ محمد علی جناح، جو قائداعظم کہلاتے ہیں، نے خود سیکولر رہنما ہونے کے ناطے مذہب کو ریاستی امور میں کم از کم موقع پر استعمال کرنا چاہا، لیکن سیاسی حقیقتوں نے انہیں مذہبی بیانیہ کو اپنانے پر مجبور کیا تاکہ ایک قومی اتحاد قائم رہ سکے۔

1945–46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی نے انہیں مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر مستحکم کیا، لیکن یہ کامیابی بنیادی طور پر مذہبی اور فرقہ وارانہ جذبات کے استعمال کا نتیجہ تھی۔ علما اور مذہبی پیشواؤں نے عوام کو باور کرایا کہ جو مسلم لیگ کو ووٹ دے گا وہ اچھا مسلمان ہے، اور مخالفت کرنے والے کافر ہیں۔ اس نے عوام میں پاکستان کے مطالبے کو جذباتی اہمیت دے دی اور اسے زندگی اور موت کے مسئلے کے طور پر پیش کیا۔

محمد علی جناح کی حکمتِ عملی واضح تھی: وہ ذاتی طور پر ایک سیکولر اور جمہوری پاکستان چاہتے تھے، مگر انہیں عوام اور اتحادیوں کے دباؤ کی وجہ سے مذہب کو سیاسی مباحثے میں جگہ دینی پڑی۔ انہوں نے مذہبی رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے ایسی زبان استعمال کی جو عوامی اتحاد کا باعث بنی، جبکہ حقیقت میں مقصد ایک طاقتور مذاکراتی مینڈیٹ حاصل کرنا تھا۔ جناح کے اس مؤقف کا عملی مظاہرہ اس وقت ہوا جب انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں مذہبی آزادی، مساوات اور جمہوری اصولوں پر زور دیا، جو ان کے سیکولر نظریے کی عکاسی کرتی ہے۔

برطانوی سامراج نے ہندوستان میں فرقہ وارانہ ذہنیت کو مضبوط کیا، جس نے تقسیم کو عملی شکل دی۔ دو قومی نظریہ نے اس تقسیم کو جواز فراہم کیا اور برطانوی انتظامیہ نے مسلم اکثریتی اور ہندو اکثریتی علاقوں کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی ہجرتیں، فرقہ وارانہ فسادات اور انسانی المیے واقع ہوئے، جنہوں نے مذہب کو پاکستان میں ایک تاریخی اور سیاسی عنصر کی حیثیت دی، جو بعد میں پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔

پاکستان کے قیام کے بعد مختلف سیاسی اور نظریاتی طبقات نے ملک کے اسلامی تشخص پر بحث شروع کی۔ کچھ حلقوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے، جبکہ دیگر سیکولر اور جمہوری پاکستان کے حق میں تھے۔ اس بحث نے آئین پاکستان میں اسلامی اور جمہوری فلسفوں کے درمیان مستقل کشمکش کو جنم دیا، جس نے پاکستان کے آئینی ڈھانچے، مقاصدِ پاکستان اور ریاستی پالیسیوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔

پاکستان کی تحریک محض ایک سیاسی اتحاد نہیں تھی بلکہ اس میں مذہبی تشخص اور عوامی احساس بھی شامل تھا۔ مسلمانوں نے اپنی تاریخ، مذہبی عناصر اور مشترکہ خوف کے تحت ایک علیحدہ وطن کے لیے جدوجہد کی، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ بغیر ایک علیحدہ وطن کے ان کی شناخت اور مستقبل خطرے میں ہے۔ یہ عوامی احساسات ریاستی پالیسیوں، تعلیمی نصاب، عوامی بیانیوں اور سیاسی مباحثوں میں ایک مرکزی کردار ادا کرتے رہے، جس نے پاکستان کو نہ صرف ایک جغرافیائی وجود بلکہ ایک نظریاتی حقیقت کے طور پر مستحکم کیا۔

پاکستان کا قیام کسی ایک وجہ یا محض مذہبی مسئلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ تاریخی، ثقافتی، مذہبی، سیاسی اور معاشی عوامل کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ سیاسی اور قومی وجود کی طرف سفر پر آمادہ کیا۔ یہ جدوجہد دو قومی نظریہ، سیاسی رہنماؤں کی حکمتِ عملی، عوامی جذبات، مذہبی اور ثقافتی شناختوں اور برطانوی نوآوری پالیسیوں کے مشترکہ ملاپ کا نتیجہ تھی۔ پاکستان ایک ایسی ریاست کے طور پر وجود میں آیا جس نے مذہب اور قومیت کو ایک ساتھ جوڑا اور اسے ایک مستقل قومی پہچان دی، جو آج بھی اس کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں گہرائی سے موجود ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت
  • گناہ بے لذت اور معصوم کا خون
  • مٹی کی مونا لیزا
  • رہائی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
امامِ زمانہؑ کی مقام و منزلت !
پچھلی پوسٹ
کشمیر ایک ادھورا وعدہ اور زندہ جدوجہد

متعلقہ پوسٹس

نثری نظم یا نثر میں شاعری

مئی 27, 2024

چچا چھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے

اگست 22, 2022

غم کا فسانہ

جنوری 2, 2022

ہم مشکلوں کے میزبان بنے ہوئے ہیں !

فروری 21, 2023

پٹھانے خان

مارچ 14, 2025

اخروٹ قوتوں کا خزانہ

اکتوبر 10, 2021

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019

کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟

جون 17, 2022

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 1)

اکتوبر 30, 2025

میں اپنی وفاؤں کا بھرم لے کے چلی ہوں

جنوری 12, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سپیرا

مئی 20, 2020

وفاقی وزراء سر ٹیفکیٹ پرسیاسی ردعمل

فروری 12, 2022

کاش ہم استاد بن جائیں

اکتوبر 9, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں