خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامملازمت بہتر یا کاروبار
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

ملازمت بہتر یا کاروبار

از سائیٹ ایڈمن جون 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 3, 2026 0 تبصرے 50 مناظر
51

ملازمت بہتر ہے یا کاروبار یہ سوال آج کے پاکستان میں ہر اس نوجوان کے ذہن میں گردش کرتا ہے جس کے پاس تعلیم ہے، خواب ہیں،اور وسائل نہیں ہیں۔ ملک کے موجودہ حالات میں معاشی دباؤ بڑھ چکا ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں اور جو ملازمتیں موجود ہیں وہاں تنخواہ اتنی نہیں کہ ایک گھر کا نظام چل سکے۔ دوسری طرف کاروبار کا نام آتے ہی سرمایہ کی شرط سامنے آتی ہے، جس کے پاس پیسہ نہیں وہ صرف سوچتا رہ جاتا ہے اور عملی قدم نہیں اُٹھا پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان اُلجھن کا شکار ہو جاتا ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے۔
پاکستان میں آج حالات یہ ہیں کہ تعلیم یافتہ افراد کی بڑی تعداد ڈگریاں لے کر بھی بے روزگار ہے۔ یونیورسٹی سے نکلنے والا نوجوان جب نوکری کی تلاش میں نکلتا ہے تو اس سے تجربہ مانگا جاتا ہے اور جب تجربہ نہیں ہوتا تو اسے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ اس چکر میں وقت گزر جاتا ہے اور مایوسی بڑھتی جاتی ہے۔ مڈل کلاس والدین کے پاس اتنی استطاعت نہیں کہ وہ بچوں کو کاروبار کے لیے سرمایہ فراہم کرسکیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان یا تو چھوٹی موٹی ملازمت پر مجبور ہو جاتا ہے یا پھر بے روزگاری کا شکار رہتا ہے۔
حکومتی سطح پر صورتحال کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔ ادارے کمزور ہیں، میرٹ کا نظام متاثر ہے اور سفارش کا کلچر عام ہے۔ ملازمت کے مواقع محدود ہیں اور جو موجود ہیں وہ بھی اکثر سیاسی یا ذاتی تعلقات کی بنیاد پر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اس ماحول میں ایک عام نوجوان کے لیے آگے بڑھنا آسان نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔
کاروبار کو عام طور پر ایک حل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کاروبار صرف پیسہ نہیں بلکہ تجربہ، منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی بھی مانگتا ہے۔ اگرچہ چھوٹا کاروبار کم سرمایہ سے شروع کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے بھی ایک ذہنی تیاری ضروری ہوتی ہے۔ مارکیٹ کو سمجھنا، گاہک کو جاننا اور مقابلے کی صلاحیت پیدا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے ہر شخص کاروبار کے لیے تیار نہیں ہوتا۔خاص طور پر وہ نوجوان جو ابھی عملی زندگی میں نیا ہو۔
دوسری طرف ملازمت ایک محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ہر مہینے ایک مقررہ آمدنی آتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ آمدنی اکثر اتنی کم ہوتی ہے کہ گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے۔ بجلی، گیس، کرایہ، تعلیم اور علاج کے اخراجات بڑھ چکے ہیں جبکہ تنخواہیں اس رفتار سے نہیں بڑھ رہیں۔ اس لیے ایک ملازم شخص بھی مسلسل مالی دباؤ کا شکار رہتا ہے۔
اس صورتحال میں نوجوان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک راستے پر انحصار نہ کرے۔ اگر وہ ملازمت کرتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی چھوٹا ہنر یا جُز وقتی کام بھی ضرور کرے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو کمپیوٹر آتا ہے تو وہ فری لانسنگ شروع کرے۔ اگر لکھنا آتا ہے تو آن لائن لکھائی کے کام کرے۔ اگر ٹیوشن پڑھا سکتا ہے تو شام کے وقت بچوں کو پڑھائے۔ اس طرح ایک ہی ذریعہ آمدن پر انحصار کم ہو جاتا ہے اور مالی دباؤ کچھ حد تک کم ہو سکتا ہے۔
اسی طرح چھوٹے پیمانے پر کاروبار بھی شروع کیا جا سکتا ہے جس میں بڑے سرمایہ کی ضرورت نہ ہو۔ مثال کے طور پر آن لائن خرید و فروخت، مقامی سطح پر سروس دینا یا ہنر کی بنیاد پر کام شروع کرنا۔ بہت سے نوجوان آج کے دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ راستہ آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں۔ اس کے لیے مستقل مزاجی اور سیکھنے کی خواہش ضروری ہے۔
پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ معاشرہ نوجوان کو صرف نوکری کی طرف دھکیلتا ہے اور کاروبار کو غیر محفوظ راستہ بتلاتا ہے۔ والدین بھی اکثر یہی چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ کسی سرکاری یا پرائیویٹ ادارے میں لگ جائے تاکہ ایک مستقل آمدنی ہو۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب نوکری بھی پہلے جیسی محفوظ نہیں رہی۔ ادارے کمزور ہو رہے ہیں اور چھانٹیوں کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اسی لیے نوجوان کو اپنی سوچ کو وسیع کرنا ہوگا۔ اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ آج کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ مہارت ضروری ہے۔ اگر مہارت ہو گی تو نوکری بھی ملے گی اور کاروبار بھی کیا جا سکے گا۔ مہارت ہی اصل سرمایہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔
چھوٹے ملازم کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی موجودہ ملازمت کو صرف تنخواہ کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ اسے سیکھنے کا موقع سمجھے۔ دفتر میں جو بھی کام ملے، اسے بہتر طریقے سے کرے۔ وقت کی پابندی کرے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ ساتھ ساتھ اپنی آمدنی کا ایک حصہ بچا کر چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری کی طرف جائے۔ یہ سرمایہ چاہے بہت کم ہو مگر وقت کے ساتھ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مہنگائی نے عام انسان کو ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور بعض اوقات حالات اتنے خراب ہو جاتے ہیں کہ لوگ مایوسی کی طرف چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں معاشرے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کا سہارا بنے۔ افسوس کہ اجتماعی رویہ کمزور ہو چکا ہے اور ہر شخص اپنی فکر میں لگا ہوا ہے۔
سیاست دان اپنے مفادات میں مصروف ہیں اور عام آدمی کے مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ امیر طبقہ اپنی دُنیا میں خوش ہے اور غریب کی مشکلات سے دور ہے۔ اس غیر مساوی معاشرے میں نوجوان کے لیے راستہ بنانا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔
اگر نوجوان چاہے تو وہ اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔ اسے صرف ایک فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مایوسی کو قبول نہیں کرے گا۔ وہ سیکھے گا، محنت کرے گا اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے آگے بڑھے گا۔ ملازمت ہو یا کاروبار اصل چیز محنت اور تسلسل ہے۔ جو شخص مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے وہ آخر کار اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ملازمت اور کاروبار دونوں میں سے کوئی ایک ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا۔ بہتر وہی ہے جو آپ کے حالات، آپ کی صلاحیت اور آپ کی محنت کے مطابق ہو۔ آج کے پاکستان میں کامیاب وہی ہے جو ایک ذریعہ آمدن پر نہیں رہتا بلکہ اپنی آمدنی کے کئی راستے بناتا ہے۔ یہی سوچ نوجوان کو مایوسی سے نکال کر اُمید کی طرف لے جا سکتی ہے اور یہی اس دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ
  • ماڈل ٹاؤن
  • معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی نعمت!
  • ملا ہے مجھ کو پڑاؤ سفر بناتا ہوا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زندگی بھر فکر کرتے رہے
پچھلی پوسٹ
کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

متعلقہ پوسٹس

ونی کاری اور بھٹو

نومبر 16, 2019

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

نہیں تو کرونا کو کرنے دو

مارچ 27, 2020

مشین گردی

نومبر 28, 2020

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

افلاطون کی ریاست اور خان صاحب

فروری 14, 2021

سوشل میڈیا اور گُم ہوتی سنجیدہ آوازیں

نومبر 14, 2025

محبت بدلتی رہتی ہے

اپریل 15, 2019

اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر

جنوری 5, 2022

لمحوں میں بھلا دی ہے شناسائی

اپریل 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

الوداع ڈاکٹر بشیر بدر

مئی 30, 2026

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

پاکستان کے تعلیمی مسائل

جولائی 23, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں