روداد بابت اجلاس انجمن ( حصہ اول)
انجمنِ مداحین مسٹر چیری بلاسم کا ایک بہت ہی اہم اور سنجیدہ اجلاس بروز جمعرات کرگس جہاں زاد صاحب کے فارم ہاؤس ” دار الفکر” میں منعقد ہوا ، جس میں کہنہ مشق شاہی ادیبوں کے علاوہ نئی نسل کے مفکرین او رمحققین نے مسٹر چیری بلاسم صاحب کی جانب سے حالیہ دریافت شدہ مرزا غالب کی کتاب ” غالب کے دیسی ٹوٹکے” پر سیر حاصل بحث کی۔ اس انتہائی اہم اجلاس کی صدارت کرگس جہاں زاد صاحب نے خود فرمائی جبکہ میرِ مجلس کے فرائض حضرت چیری صاحب نے نبھائے۔ اجلاس کی غرض و غایت کو بیان کرتے ہوئے سٹیج سیکریٹری جناب ” چونا بھائی امروہہ والے” نے فرمایا کہ مرزا غالب کی یہ کتاب جو زمانے کی ناقدری اور مادہ پرستانہ ذہنیت کے ہاتھوں تقریبا گوشہ گمنامی میں جا چکی تھی، اُسے زمانے کی دست برد سے بچا کر بالاہتمام سامنے لانے پر ، مرزا غالب کی پوری فیملی اور اردو ادب اُن کی ممنون ہے۔ اُنہوں نے مزید فرمایا کہ اس سلسلے میں مرزا غالب کے بڑے صاحبزادے کے خاندان سے اُن کے نام کئی تہنیت نامے آئے ہیں، جن میں جا بجا ہمارے ممدوح کی مدح سرائی کی گئی ہے۔اُنہون نے شرکائے مجلس کے علم میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ تاریخی کتابوں میں یہ بات مشہور ہے کہ مرزا غالب کی ساری اولاد بچپن میں ہی وفات پا گئی تھی، مگر ایسی تمام روایات ساقط الاعتبار ہونے کے علاوہ حد درجہ ضعف کی حامل ہیں، کیونکہ اس میں راویوں کا سہو اور تسامح واضح ہونے کے ساتھ ساتھ دو راوی ایسے ہیں جن کا مرزا غالب سے عناد تواتر کے ساتھ ثابت ہے جو ایسی روایات کی استنادی حیثیت کو مجروح کر دیتا ہے۔لہذا ایسی مجہول الاسناد روایات کی اعتقادی حیثیت جناب مرزا چیری بلاسم صاحب کے علمی تبحر کے سامنے کچھ وقعت نہیں رکھتی۔ اُنہوں نے شرکائے مجلس کو یہ خوشخبری سنا کر اُن کی مسرت میں کئی گنا اضافہ فرمادیا کہ مرزا غالب اپنے کسی پڑپوتے کے برادرِ نسبتی کی علاتی بہن کے کم سن پوتے کو خواب میں یہ کہتے دکھائی دیے کہ حضور عزت مآب چیری بلاسم غفرلہ کو میرا سلام دینا اور کہنا ” نصف لی و نصف لہ”، یعنی کتاب کی فروخت سے جو آمدنی ہوگی وہ اُن کے خاندان اور موصوف کے مابین نصف نصف تقسیم ہوگی تاکہ یہ رشتہ یونہی مضبوط رہے اور کسی قسم کی شکر رنجی در نہ آنے پائے۔اس عظیم الشان اور عدیم النظیر خوش خبری پر انجمن کے تمام اراکین ” صد مبارک، صد مبارک” پکار اٹھے جبکہ قبلہ نےفرطِ جذبات سے بے قابو ہوکر وہیں فرش پر ٹپوسیاں لگا نی شروع کر دیں۔
انجمن کے اجلاس کی افتتاحی تقریر کے بعد دعوتِ کلام جناب ” عاجزگم گشتہ” کو دی گئی، جو شاہی ادیبوں میں ایک خاص مقام کے حامل ہیں۔آپ نے اپنے تحقیقی مقالے بعنوان” چیری صاحب کی ادب نوازی” کے چنیدہ شذرات سے اپنے دلی تاثرات حاضرین کے سامنے رکھتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت شاہی ادب اور ادباء کو مسٹر چیری کی سرپرستی کی جس قدر ضرورت ہے اس کی حاجت چنداں محتاجِ بیان نہیں۔ اُن کے بقول ” غالب کے گھریلو ٹوٹکے” کو منظرِ عام پر لا کر جناب ممدوح نے مرزا غالب پر جو احسان فرمایا ہے اس سے وہ تمام عمر دست کش نہیں ہوسکتے۔ اس ادب گزیدگی دور میں جب کہ شاہی ادیب بے حال و بے روزگا ر پھر رہے تھے اُن کو تحقیق کیلئے نیا مواد اور زاویہ فکر مہیا کرنے پر ہم جناب کو کل اشرافستان کے ادیبوں کی طرف سے ہدیہ تشکر پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ موصوف اپنی اولی العزمی اور عالی ہمت کی بدولت آئندہ بھی ایسے نوادارات اور مخطوطات کو دریافت فرما کر ہماری ادبی و علمی پیاس کی تسکین فرمانے کے علاوہ ہماری بے روزگاری کو بھی کم کرنے میں مدد کریں گے۔ وما علینا الالبلاغ۔
اب باری تھی جناب ” علم کُش برف پوش” صاحب کی ، جنہوں نے نہایت عاجزی او اختصار کے ساتھ موصوف چیری صاحب کو ہدیہ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک نہایت احسن تجویزگوش گزار کی کہ اس کتاب پر مزید تحقیق کرکے وقت ضائع کرنے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے شاہی یونیورسٹی سمیت اشرافستان کی دیگر ہم خیال یونیورسٹیز میں فی الفور ایک گوشہ بنام ” چیری بلاسم ریسرچ چئیر” کا قیام عمل میں لایا جائے جس کی چئرمین شپ اُن کے حوالے کی جائے تاکہ وہ ایسے تمام انڈر میٹرک ادیبوں کو چیری صاحب پر پی ایچ ڈی کے مقالے لکھنے پر کھپا سکیں جو آسان موضوعات کی عدم دستیابی کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہیں اور کام نہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں ایک دوسرے کے خلاف ہی قلمی محاذ پر نبرد آزما ہوکر شاہی ادیبوں کی شیرازہ بندی کو منتشر کر ہے ہیں۔ اُن کے بقول یہ کام دورِ حاضر کی آواز ہے اور اگر اس سے غفلت برتی گئی تو اشرافستان کی شاہی تاریخ کا شاہی مورخ اُنہیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ چیری صاحب کی شخصیت اور شاہی ادیبوں پر اُن کے احسانات کا تذکرہ کرتے ہی وہ اتنے گلو گیر ہوگئے کہ اُن کی اشک شوئی کیلئے قبلہ چیری صاحب نے اُنہیں گلے لگا کر اُن کی جیب میں اپنے دستِ مبارک سے ایک لفافہ جس پر ” شادی مباک” جلی حروف کے ساتھ رقم تھا وہ ڈالا۔ اُن جلی حروف کی چمک سے علم کُش صاحب کی نہ صرف آنکھیں چندھیا گئیں بلکہ ڈھارس بھی بندھ گئی اور کورنش بجا لاتے ہوئے اپنی نشست پربراجمان ہوکر خشوع و خضوع کے ساتھ اُس لفافے کو کھول کر دیکھا جو اُنہیں اپنی تقریر کے صلے میں ملا تھا ۔ مگر نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ لفافہ کھول کردیکھنے کے بعد یکدم چہرے پر مایوسی چھا گئی اور منہ سے بھی کچھ الفاظ فی البدیہہ نکلنا شروع ہوگئے جو غالبا چیری صاحب کی فیاضی اور سخاوت کیلئے ہدیہ تبریک کے طور پر ادا ہو رہے تھے۔
انجمن کے صدارتی خطبے کیلئے موصوف کرگس جہاں زاد صاحب کو درخواست کی گئی اور اُنہوں نے اپنا مختصر مضمون ” غالب کے دیسی ٹوٹکے کی علمی پکڑ” پر نہایت ہی علمی انداز میں گفتگو فرماتے ہوئے یہ کہہ کر انجمن پر بجلی گرادی کہ "مرزا غالب کا شمار بھلے ہی اہلِ زبان اور اساتذہ کے زمرے میں آتا ہے مگر اس کتاب کے اندر جا بجا بکھری زبان اور تلفظ کی اغلاط نے اس کا حسن گہنا دیا تھا۔ لیکن ہم ممنون ہیں جناب قبلہ چیری بلاسم صاحب کے ، جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے کچھ لمحات نکال کر اس کتاب میں موجود اغلاط کی نشاندہی فرما کر اُن کی درستگی فرمائی جس سے اب کتاب کی صحت نہ صرف اچھی ہوگئی ہے بلکہ اس کی وقعت اور اہمیت میں بھی کئی ہزار گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ اُنہوں نے مزید اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ کتاب میں موجود اغلاط اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ غالب کو غالبا پکا اندازہ تھا کہ آئندہ زمانے میں کوئی جوہر شناس ، ادب شناس ، حرف شناس، موقع شناس اور زبان شناس آئے گا جو اس کتاب کی حرفا حرفا ورق گردانی کے بعد اس کا حسن نکھارے گا اور اس کو تحت الثریٰ سے اٹھا کر اوجِ ثریا تک لے جائیگا۔ اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ غالب کا یہ غالب اندازہ سو فیصد درست نکلا۔
اجلاس کے اختتام پر جناب مسٹر چیری بلاسم صاحب نے خطاب کرنے کیلئے جیسے ہی اپنی جیب سے لکھی ہوئی تقریر نکال کر اپنے قلبی جذبات و احساسات کیلئے لب کشائی کی کوشش کی تو ایک جانب سے یہ نوید افزاء پیغام کانوں میں گونجا” روٹی کھل گئی اے”۔ یہ آواز اتنی پرکشش تھی کہ اسے سن کر جبلی بھوک کے مارے شاہی ادیب کشاں کشاں اُس آواز کی اُور اِس متانت سے جانے لگے کہ ایک دوسرے کی گردنیں پھلانگتے ہوئے کئی ادیب اپنی ٹانگیں تک تڑ وا بیٹھے۔ الغرض آن کی آن میں یہ ادبی محفل سبزی منڈی میں بدل گئی جہاں دشنام طرازی ، مکے بازی اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اُدھر کرگس جہاں زاد صاحب اور چیری بلاسم بہتیرا چلاتے رہے کہ ” ادیب حضرات حوصلہ رکھیے۔ میری بات سنیے۔بہت کھانا پڑا ہے۔ سب کو پیٹ بھر کے کھانے کو ملے گا”، مگر نقار خانے میں توتی کی آواز بھلا کون سنتا ہے اور وہ بھی اس وقت جب مرغن کھانوں کی خوشبو اُڑ اُڑ کر ناک کے نتھنوں میں گُھس کر بغاوت کو اکسا رہی ہو۔
واجد علی گوہر
