میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک تحریر پڑھی جو مجھے بہت اچھی لگی اور جسے پڑھ کر میں ہے متاثر ہوا لیکن اس کے لکھنے والے کا نام مجھے نہیں ملا پھر میں نے سوچا کہ اس تحریر کو اپنے انداز میں آپ تک پہنچانے کی سعادت اگر حاصل ہوتی ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور اس تحریر کو ثواب جاریہ سمجھ کر میں آگے یعنی آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کروں لہذہ میں نے یہ قدم اٹھایا اب اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت میری اس چھوٹی سے کاوش کو اپنی رضا کے ساتھ اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔ ویسے عنقریب میری ایک کتاب پی ڈی ایف میں آپ کو ویب سائٹ پر پڑھنے کو ملے گی جس کا نام ہے ” انسان بحیثیت پانی کا بلبلہ ” اور اس کتاب میں ہم یعنی انسان کی اصل حقیقت کو میں نے بڑے واضح انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس عارضی دنیا میں ہمیں جو زندگی عطا کی گئی ہے اس میں ہماری اصل اوقات کیا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ہم دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں اور اپنا مقرہ وقت پورا کرکے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر رہتی قیامت تک آنے والے اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کے لیئے رب العزت کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے لوگ آتے ہیں اور اپنی زندگی کا وقت پورا کرکے دنیا سے واپس چلے جاتے ہیں زندگی میں ہم کئی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ دنیا کئی رنگوں سے بھری ہوئی ہے غربت ، مالداری ، مفلسی ، اور نہ جانے کیسے کیسے اور کتنی قسم کے لوگ یہاں بستے اور اپنی زندگی کو گزارنے میں مصروف عمل ہیں جو انہیں رب تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے لیکن اگر کبھی موقع ملے یا وقت نکال کر یا خود سے موقع بنا کر تین جگہوں پر وقتاً فوقتاً جانے کی عادت بنا لیجئے آپ کو اپنی اصل اوقات کا بخوبی پتہ چل جائے گا اور یہ اندازہ ہوگا کہ آپ کہاں کھڑے ہیں یہ تین جگہیں جہاں آپ کو زندگی کا اصل مقصد معلوم ہوگا ہماری اوقات کیا ہے دنیاوی حیثیت کیا ہے ہم کسی سے نفرت کرتے ہیں یا کوئی ہم سے نفرت کرتا ہے اس کی وجہ کیا ہے یہ تمام باتیں ہمیں ان جگہوں سے ملتی ہیں سب سے پہلی جگہ ہے اس کا نام ہے ” قبرستان”
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
اگر آپ کبھی اپنا سب سے قیمتی سوٹ پہنیں، شیو کریں، جسم پر خوشبو لگائیں، جوتے پالش سے چمکائیں، اپنی سب سے مہنگی گاڑی نکالیں اور شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں چلے جائیں، آپ ایک کونے سے دوسرے کونے تک قبروں کے کتبے پڑھنا شروع کریں، آپ تمام قبروں کا اسٹیٹس دیکھیں، آپ کو محسوس ہوگا ان قبروں میں سوئے ہوئے زیادہ تر لوگ اسٹیٹس کے لحاظ سے آپ سے کہیں آگے تھے۔ یہ لوگ آپ سے زیادہ مہنگے سوٹ پہنتے تھے، دن میں دو، دو بار شیو کرتے تھے، ان کے پاس زیادہ مہنگی پروفیومز تھیں، یہ اطالوی جوتے خریدتے تھے اور ان کے پاس آپ سے زیادہ مہنگی اور لگژری گاڑیاں تھیں لیکن آج یہ مٹی میں مل کر مٹی ہوچکے ہیں اور قبر کا کتبہ ان کی واحد شناخت رہ گیا ہے۔یہ ہی نہیں بلکہ آپ کو محسوس ہوگا کہ یہاں موجود لوگ آپ سے رتبے اختیار اور تکبر میں بھی بہت آگے تھے یہ وہ لوگ تھے جو اپنی ناک پر مکھیاں بھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے بلکہ مکھیاں بھی ان کی ناک پر بیٹھنے سے پہلے سو سو بار سوچتی تھیں آپ کو یہ بھی احساس ہوگا کہ یہاں پر موجود لوگ اپنے اختیارات اور تکبر میں بھی آپ سے بہت آگے تھے اور اس زمین پر موجودگی ضروری سمجھ کر اس سسٹم کے لیئے ناگزیر سمجھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمیشہ کے لیئے یہاں آئے ہیں لیکن پھر کیا ہوا ایک دفعہ سانس باہر آئی اور واپس جانا بھول گئی اس کے بعد یہی لوگ دوسروں کے کاندھوں پر سوار ہوکر بےبسی کے عالم میں یہاں پہنچ گئے وہ زندگی جسے وہ ضروری سمجھتے تھے کچھ ہی عرصہ میں انہیں فراموش کرکے دوسروں کے ساتھ مصروف ہوگئی ان کے اختیارات ان کے رتبے ان کے بڑے مقامات اور تکبرانہ انداز گفتگو سب سمٹ کر دو فٹ کے قبر پر لگے ہوئے کتبے تک محدود ہوگئے آپ اس قبرستان میں موجود جتنی قبروں کے پاس سے گزریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ دنیا میں شان و شوکت سے رہنے والے انسان ہوں یا راستوں میں کھڑے بھیک مانگنے والے لوگ مال و دولت کے ساتھ عیاشی کرنے والے لوگ ہوں یا غربت میں زندگی گزارنے والے لوگ سب کے سب یہاں ایک ہی حالت میں ہیں بس فرق اتنا ہے کہ ہر کوئی اپنے دنیاوی اعمال کے مطابق اس قبر میں اپنا وقت گزار رہا ہے اور عالم برزخ کے اس سخت اور طویل سفر پر رواں دواں ہے اسی لیئے کہاگیا ہے کہ وقت نکال کر اپنی اوقات کا پتہ لگانے کے لیئے قبرستان اجایا کرو اور کچھ وقت یہاں پر موجود خاموش لوگوں کے ساتھ رہا کرو ہمیں اپنی اوقات کو یاد رکھنے اور سمجھنے کے لیئے ایک مناسب جگہ ہے اور یہ بھی احساس ہوگا کہ اگر ہماری سانس ابھی چل رہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر اپنی زندگی کو صرف اس کے احکامات اور اس کے آخری نبی حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرکے گزاریں آنا تو ہمیں بھی یہیں ہے سانس بند ہو جانے کے بعد ہمارا دوسرا اور طویل سفر میں رہنے والا ٹھکانہ یہ قبر ہی ہے لیکن وہ لوگ جو اپنی اس قبر میں جنت کی کھڑی سے جنت کا نظارہ کررہے ہوں ہمیں بھی ہمارا رب ان لوگوں میں شامل کردے اور جہنم کی آگ سے ہمیں محفوظ رکھے آمین ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
دوسری جگہ جس کا ہم یہاں ذکر کریں گے وہ ہے ” ہسپتال” اگر کبھی موقع ملے یا وقت نکال کر کسی بڑے ہسپتال میں پہنچ کر دیکھیں آپ کو اپنی اصلیت اور اپنی اوقات کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا آپ کو بالکل آپ جیسے سیکڑوں لوگ بستروں پر پڑے ہوئے ملیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی دوڑتے بھاگتے تھے اور ہر ایک سے آگے نکل جانے کی تق و دو میں نظر آتے تھے یہ سمجھتے تھے کہ یہ مٹی میں ہاتھ ڈالیں گے تو وہ سونا اگلے گی زمین پر پائوں کی ایڑی رگڑیں گے تو وہاں سے تیل نکل آئے گا انہیں اپنی زندگی کی مصروفیت اور مال و دولت کی حوس میں یہ گھمنڈ تھا کہ انہیں کبھی نہ کوئی وائرس نقصان پہنچا سکتا ہے نہ کبھی ایکسیڈنٹ بلکہ وہ ہر چیز باآسانی پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گے لیکن پھر یہ ہی زندگی ان کے لیئے عذاب بن گئی کسی کے ہاتھ کسی کے پائوں کسی کا دل کسی کے دماغ کسی کی آنکھیں کسی کے جگر اور کسی گردے ان سے بیوفائی کرگئے اور عیش و عشرت والی زندگی سے نکل کر ہسپتال کے بدبودار بستروں اور گندے کمروں میں بیبسی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں یہ ہی نہیں بلکہ اس ہسپتال میں موجود ان وہ آئی پی اور پرائیویٹ کمروں میں جاکر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ یہاں وہ لوگ موجود ہیں جو اپنی بیماری کے علاج کے لیئے ہر آسائش کی موجودگی والے یہ کمرے لیں گے مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر اور مہنگی سے مہنگی دوائی اور مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر اپنے لیئے منتخب کریں گے مگر وہ پھر بھی یہاں بے بسی کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں کیونکہ انسان ڈاکٹر اور دوا تو خرید سکتا ہے مگر شفا نہیں بس آپ وہاں پر موجود ان بے بس مریضوں کو دیکھیں اور اپنے آپ کو دیکھیں یقیناً آپ کو اپنے رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا دل کرے گا اور اچھی صحت و تندرستی کے ساتھ آپ اپنے آپ کو ان تمام لوگوں سے بہتر محسوس کریں گے اس لیئے کبھی کبھار وقت نکال کر اپنی اصلیت اور اپنی اصل اوقات کا نظارہ کرنے کے لیئے ہسپتال کا چکر ضرور لگالیا کریں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ہماری اس عارضی دنیا میں موجود تیسری اور بڑی اہم جگہ” جیل ” ہے جہاں کبھی کبھار جاکر دیکھیں کہ آپ کی اوقات کیا ہے اور اصلیت کیا ہے جیل کے اندر آپ کو کئی ایسے لوگ ملیں گے جو کبھی آپ کی طرح آزاد فضا میں سانس لیتے تھے رات کے کسی پہر دل چاہا تو کافی یا چائے پینے نکل جاتے تھے سردیوں کی سرد اور طویل راتیں اپنے گھر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نرم بستروں پر گزارتے تھے لیکن پھر شیطان کے بہکاوے میں آکر جوش اور جذبے میں آکر طیش اور غصہ میں ایسی غلطی کر بیٹھے جس کی وجہ سے جیل کی سلاخیں ان کا مقدر بن گئیں اور اب وہ یہاں کے معمول کے مطابق اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہاں پر موجود آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں جنہیں ان کے جرم کے سبب سزائے موت کی سزا سنا دی گئی ہے اور وہ کس مشکل اور کرب میں اپنے باقی دن گزار رہے ہیں بس ضد اور جھوٹی انا کی خاطر اپنے گھمنڈ اور شیطانی بہکاوے میں آکر ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ موت بھی ان پر ترس نہیں کھاتی اور وہ بالآخر اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
جب ہم مشترکہ طور پر ان جگہوں کا موازنہ اپنی زندگی سے کرتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے اوپر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں بھی ایسے سیکڑوں لمحات آتے ہیں جب ہم بھی لالچ میں آجاتے ہیں ہم بھی تکبر میں بہت آگے نکل جاتے ہیں اپنی انا کی تسکین کی خاطر کئی زندگیوں کو دائو پر لگا دیتے ہیں اور ان کا تماشہ بنادیتے ہیں دوسروں کے مال پر نظر جمانے کی عادت بنالیتے ہیں اگر کوئی نیک عمل یا کسی کی اچھی بات یا نصیحت دل پر اثر کر جائے تو ٹھیک ورنہ باز نہیں آتے کبھی کبھار جب اللہ تعالٰی کی ذات ہم پر خاص مہربان ہوتی ہے اور اپنی نعمتوں کی بارش چھما چھم برسانے لگتی ہے تو ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ صرف ہماری محنت کا نتیجہ ہے ہم اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کو یکثر نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنی چالاکی بےایمانی سے وہ کچھ کرجاتے ہیں کہ جیسے سخت سے سخت قانون بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن قدرت کے قانون کی طرف ہماری نظر نہیں ہوتی جس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
جن تین جگہوں کا ہم نے یہاں ذکر کیا ہے وہاں پر آپ کو ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑے گا جو بیگناہ اور انتہائی شریف لوگ ہوتے ہیں یہ لوگ کبھی کسی ضابطہ یا قانون کو توڑتے نہیں ہیں اس قدر محتاط ہوتے ہیں کہ منرل واٹر کو بھی کئی بار ابال ابال کر استعمال کرتے ہیں ہر چیز کے استعمال سے پہلے پوری طرح سے جانچ پڑتال کرنا ان کا معمول ہوتا ہے رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھ جانا ان کی عادت ہوتی ہے ان سے دانستہ یا نادانستہ کبھی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی یہ لوگ اپنے گھروں میں سوتے ہیں لیکن پھر یہ دوسرے لوگوں کے کیئے ہوئے جرم کا شکار ہوکر پھس جاتے ہیں بیگناہ ہونے کے باوجود اندھے قانون کے شکنجے میں جکڑ لیئے جاتے ہیں آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کسی فروٹ کو کاٹنے سے پہلے احتیاط کے لیئے اسے ڈیٹول سے صاف کرتے ہیں ہر وقت ماسک پہنے رکھتے ہیں لیکن ایسے لوگ بھی ہسپتال کے مہمان بن جاتے ہیں اور ایسے لوگ بھی جو فٹ پاتھ پر دوسروں کی موت کا نوالہ بن گئے، جو کسی آوارہ گولی کا نشانہ بن گئے یا پھر ان کے سر پر کوئی طیارہ آکر گر گیا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب ہم ایسے لوگوں دیکھ کر اپنے اوپر نگاہ ڈالتے ہیں اور سوچیں کہ کوئی طیارہ ہم پر بھی گر سکتا ہے کوئی گاڑی ہمیں اڑا کر قبرستان پہنچا سکتی ہے یا کوئی تکلیف ہو اور ڈاکٹر آپ کو کینسر جیسے موضی مرض کا مریض ڈکلیئر کردے یا پھر ہمارے دل میں ایسا درد ہو کہ ہمیں کلمہ تک پڑھنا نصیب نہ ہو مطلب یہ کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ہم نے جن جن لوگوں کا جہاں جہاں کے لوگوں کا جہاں ذکر کررہے ہیں ہم بھی وہاں ہوسکتے ہیں لیکن نہیں ہیں اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر اس کا شکریہ ادا کریں اور کبھی کبھی جیلوں، اسپتالوں اور قبرستانوں میں بھی ایک گھنٹہ گزار لیا کریں کیونکہ یہ تین ایسی جگہیں ہیں جہاں گئے بغیر ہمیں زندگی کی اصل حقیقت، اپنی اوقات اور اللہ تعالٰی کی مہربانیوں کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
زندگی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن یہ بہت مختصر ہے قبر اور محشر کا سارا دارومدار ہماری اسی مختصر اور عارضی زندگی پر منحصر ہے ہم یہاں جو بوئیں گے وہی آگے کاٹنا ہوگا لہذہ اس مختصر اور عارضی زندگی کو صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ یعنی سنتوں پر عمل کرکے گزاریں تاکہ آگے کی تمام منازل ہمارے لیئے آسان ہو جائیں آخر میں دعا ہے کہ رب العالمین ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔
محمد یوسف میاں برکاتی
