خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامہماری اصل اوقات
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

ہماری اصل اوقات

از سائیٹ ایڈمن فروری 17, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 17, 2026 0 تبصرے 18 مناظر
19

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب
کچھ عرصہ قبل میں نے ایک تحریر پڑھی جو مجھے بہت اچھی لگی اور جسے پڑھ کر میں ہے متاثر ہوا لیکن اس کے لکھنے والے کا نام مجھے نہیں ملا پھر میں نے سوچا کہ اس تحریر کو اپنے انداز میں آپ تک پہنچانے کی سعادت اگر حاصل ہوتی ہے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور اس تحریر کو ثواب جاریہ سمجھ کر میں آگے یعنی آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کروں لہذہ میں نے یہ قدم اٹھایا اب اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت میری اس چھوٹی سے کاوش کو اپنی رضا کے ساتھ اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ ۔ ویسے عنقریب میری ایک کتاب پی ڈی ایف میں آپ کو ویب سائٹ پر پڑھنے کو ملے گی جس کا نام ہے ” انسان بحیثیت پانی کا بلبلہ ” اور اس کتاب میں ہم یعنی انسان کی اصل حقیقت کو میں نے بڑے واضح انداز میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس عارضی دنیا میں ہمیں جو زندگی عطا کی گئی ہے اس میں ہماری اصل اوقات کیا ہے ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ہم دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں اور اپنا مقرہ وقت پورا کرکے دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر رہتی قیامت تک آنے والے اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق کے لیئے رب العزت کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے لوگ آتے ہیں اور اپنی زندگی کا وقت پورا کرکے دنیا سے واپس چلے جاتے ہیں زندگی میں ہم کئی اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتے ہیں اور یہ دنیا کئی رنگوں سے بھری ہوئی ہے غربت ، مالداری ، مفلسی ، اور نہ جانے کیسے کیسے اور کتنی قسم کے لوگ یہاں بستے اور اپنی زندگی کو گزارنے میں مصروف عمل ہیں جو انہیں رب تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے لیکن اگر کبھی موقع ملے یا وقت نکال کر یا خود سے موقع بنا کر تین جگہوں پر وقتاً فوقتاً جانے کی عادت بنا لیجئے آپ کو اپنی اصل اوقات کا بخوبی پتہ چل جائے گا اور یہ اندازہ ہوگا کہ آپ کہاں کھڑے ہیں یہ تین جگہیں جہاں آپ کو زندگی کا اصل مقصد معلوم ہوگا ہماری اوقات کیا ہے دنیاوی حیثیت کیا ہے ہم کسی سے نفرت کرتے ہیں یا کوئی ہم سے نفرت کرتا ہے اس کی وجہ کیا ہے یہ تمام باتیں ہمیں ان جگہوں سے ملتی ہیں سب سے پہلی جگہ ہے اس کا نام ہے ” قبرستان”

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
اگر آپ کبھی اپنا سب سے قیمتی سوٹ پہنیں، شیو کریں، جسم پر خوشبو لگائیں، جوتے پالش سے چمکائیں، اپنی سب سے مہنگی گاڑی نکالیں اور شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں چلے جائیں، آپ ایک کونے سے دوسرے کونے تک قبروں کے کتبے پڑھنا شروع کریں، آپ تمام قبروں کا اسٹیٹس دیکھیں، آپ کو محسوس ہوگا ان قبروں میں سوئے ہوئے زیادہ تر لوگ اسٹیٹس کے لحاظ سے آپ سے کہیں آگے تھے۔ یہ لوگ آپ سے زیادہ مہنگے سوٹ پہنتے تھے، دن میں دو، دو بار شیو کرتے تھے، ان کے پاس زیادہ مہنگی پروفیومز تھیں، یہ اطالوی جوتے خریدتے تھے اور ان کے پاس آپ سے زیادہ مہنگی اور لگژری گاڑیاں تھیں لیکن آج یہ مٹی میں مل کر مٹی ہوچکے ہیں اور قبر کا کتبہ ان کی واحد شناخت رہ گیا ہے۔یہ ہی نہیں بلکہ آپ کو محسوس ہوگا کہ یہاں موجود لوگ آپ سے رتبے اختیار اور تکبر میں بھی بہت آگے تھے یہ وہ لوگ تھے جو اپنی ناک پر مکھیاں بھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے بلکہ مکھیاں بھی ان کی ناک پر بیٹھنے سے پہلے سو سو بار سوچتی تھیں آپ کو یہ بھی احساس ہوگا کہ یہاں پر موجود لوگ اپنے اختیارات اور تکبر میں بھی آپ سے بہت آگے تھے اور اس زمین پر موجودگی ضروری سمجھ کر اس سسٹم کے لیئے ناگزیر سمجھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمیشہ کے لیئے یہاں آئے ہیں لیکن پھر کیا ہوا ایک دفعہ سانس باہر آئی اور واپس جانا بھول گئی اس کے بعد یہی لوگ دوسروں کے کاندھوں پر سوار ہوکر بےبسی کے عالم میں یہاں پہنچ گئے وہ زندگی جسے وہ ضروری سمجھتے تھے کچھ ہی عرصہ میں انہیں فراموش کرکے دوسروں کے ساتھ مصروف ہوگئی ان کے اختیارات ان کے رتبے ان کے بڑے مقامات اور تکبرانہ انداز گفتگو سب سمٹ کر دو فٹ کے قبر پر لگے ہوئے کتبے تک محدود ہوگئے آپ اس قبرستان میں موجود جتنی قبروں کے پاس سے گزریں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ دنیا میں شان و شوکت سے رہنے والے انسان ہوں یا راستوں میں کھڑے بھیک مانگنے والے لوگ مال و دولت کے ساتھ عیاشی کرنے والے لوگ ہوں یا غربت میں زندگی گزارنے والے لوگ سب کے سب یہاں ایک ہی حالت میں ہیں بس فرق اتنا ہے کہ ہر کوئی اپنے دنیاوی اعمال کے مطابق اس قبر میں اپنا وقت گزار رہا ہے اور عالم برزخ کے اس سخت اور طویل سفر پر رواں دواں ہے اسی لیئے کہاگیا ہے کہ وقت نکال کر اپنی اوقات کا پتہ لگانے کے لیئے قبرستان اجایا کرو اور کچھ وقت یہاں پر موجود خاموش لوگوں کے ساتھ رہا کرو ہمیں اپنی اوقات کو یاد رکھنے اور سمجھنے کے لیئے ایک مناسب جگہ ہے اور یہ بھی احساس ہوگا کہ اگر ہماری سانس ابھی چل رہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر اپنی زندگی کو صرف اس کے احکامات اور اس کے آخری نبی حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرکے گزاریں آنا تو ہمیں بھی یہیں ہے سانس بند ہو جانے کے بعد ہمارا دوسرا اور طویل سفر میں رہنے والا ٹھکانہ یہ قبر ہی ہے لیکن وہ لوگ جو اپنی اس قبر میں جنت کی کھڑی سے جنت کا نظارہ کررہے ہوں ہمیں بھی ہمارا رب ان لوگوں میں شامل کردے اور جہنم کی آگ سے ہمیں محفوظ رکھے آمین ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
دوسری جگہ جس کا ہم یہاں ذکر کریں گے وہ ہے ” ہسپتال” اگر کبھی موقع ملے یا وقت نکال کر کسی بڑے ہسپتال میں پہنچ کر دیکھیں آپ کو اپنی اصلیت اور اپنی اوقات کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا آپ کو بالکل آپ جیسے سیکڑوں لوگ بستروں پر پڑے ہوئے ملیں گے یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی دوڑتے بھاگتے تھے اور ہر ایک سے آگے نکل جانے کی تق و دو میں نظر آتے تھے یہ سمجھتے تھے کہ یہ مٹی میں ہاتھ ڈالیں گے تو وہ سونا اگلے گی زمین پر پائوں کی ایڑی رگڑیں گے تو وہاں سے تیل نکل آئے گا انہیں اپنی زندگی کی مصروفیت اور مال و دولت کی حوس میں یہ گھمنڈ تھا کہ انہیں کبھی نہ کوئی وائرس نقصان پہنچا سکتا ہے نہ کبھی ایکسیڈنٹ بلکہ وہ ہر چیز باآسانی پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گے لیکن پھر یہ ہی زندگی ان کے لیئے عذاب بن گئی کسی کے ہاتھ کسی کے پائوں کسی کا دل کسی کے دماغ کسی کی آنکھیں کسی کے جگر اور کسی گردے ان سے بیوفائی کرگئے اور عیش و عشرت والی زندگی سے نکل کر ہسپتال کے بدبودار بستروں اور گندے کمروں میں بیبسی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں یہ ہی نہیں بلکہ اس ہسپتال میں موجود ان وہ آئی پی اور پرائیویٹ کمروں میں جاکر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ یہاں وہ لوگ موجود ہیں جو اپنی بیماری کے علاج کے لیئے ہر آسائش کی موجودگی والے یہ کمرے لیں گے مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر اور مہنگی سے مہنگی دوائی اور مہنگے سے مہنگا ڈاکٹر اپنے لیئے منتخب کریں گے مگر وہ پھر بھی یہاں بے بسی کے عالم میں پڑے ہوئے ہیں کیونکہ انسان ڈاکٹر اور دوا تو خرید سکتا ہے مگر شفا نہیں بس آپ وہاں پر موجود ان بے بس مریضوں کو دیکھیں اور اپنے آپ کو دیکھیں یقیناً آپ کو اپنے رب تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا دل کرے گا اور اچھی صحت و تندرستی کے ساتھ آپ اپنے آپ کو ان تمام لوگوں سے بہتر محسوس کریں گے اس لیئے کبھی کبھار وقت نکال کر اپنی اصلیت اور اپنی اصل اوقات کا نظارہ کرنے کے لیئے ہسپتال کا چکر ضرور لگالیا کریں ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
ہماری اس عارضی دنیا میں موجود تیسری اور بڑی اہم جگہ” جیل ” ہے جہاں کبھی کبھار جاکر دیکھیں کہ آپ کی اوقات کیا ہے اور اصلیت کیا ہے جیل کے اندر آپ کو کئی ایسے لوگ ملیں گے جو کبھی آپ کی طرح آزاد فضا میں سانس لیتے تھے رات کے کسی پہر دل چاہا تو کافی یا چائے پینے نکل جاتے تھے سردیوں کی سرد اور طویل راتیں اپنے گھر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نرم بستروں پر گزارتے تھے لیکن پھر شیطان کے بہکاوے میں آکر جوش اور جذبے میں آکر طیش اور غصہ میں ایسی غلطی کر بیٹھے جس کی وجہ سے جیل کی سلاخیں ان کا مقدر بن گئیں اور اب وہ یہاں کے معمول کے مطابق اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہاں پر موجود آپ ایسے لوگوں کو دیکھیں جنہیں ان کے جرم کے سبب سزائے موت کی سزا سنا دی گئی ہے اور وہ کس مشکل اور کرب میں اپنے باقی دن گزار رہے ہیں بس ضد اور جھوٹی انا کی خاطر اپنے گھمنڈ اور شیطانی بہکاوے میں آکر ایسی غلطی کر بیٹھتے ہیں کہ موت بھی ان پر ترس نہیں کھاتی اور وہ بالآخر اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
جب ہم مشترکہ طور پر ان جگہوں کا موازنہ اپنی زندگی سے کرتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے اوپر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں بھی ایسے سیکڑوں لمحات آتے ہیں جب ہم بھی لالچ میں آجاتے ہیں ہم بھی تکبر میں بہت آگے نکل جاتے ہیں اپنی انا کی تسکین کی خاطر کئی زندگیوں کو دائو پر لگا دیتے ہیں اور ان کا تماشہ بنادیتے ہیں دوسروں کے مال پر نظر جمانے کی عادت بنالیتے ہیں اگر کوئی نیک عمل یا کسی کی اچھی بات یا نصیحت دل پر اثر کر جائے تو ٹھیک ورنہ باز نہیں آتے کبھی کبھار جب اللہ تعالٰی کی ذات ہم پر خاص مہربان ہوتی ہے اور اپنی نعمتوں کی بارش چھما چھم برسانے لگتی ہے تو ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ صرف ہماری محنت کا نتیجہ ہے ہم اللہ تعالیٰ کی منشاء اور مرضی کو یکثر نظر انداز کر دیتے ہیں اور اپنی چالاکی بےایمانی سے وہ کچھ کرجاتے ہیں کہ جیسے سخت سے سخت قانون بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن قدرت کے قانون کی طرف ہماری نظر نہیں ہوتی جس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے ۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
جن تین جگہوں کا ہم نے یہاں ذکر کیا ہے وہاں پر آپ کو ایسے لوگوں سے بھی واسطہ پڑے گا جو بیگناہ اور انتہائی شریف لوگ ہوتے ہیں یہ لوگ کبھی کسی ضابطہ یا قانون کو توڑتے نہیں ہیں اس قدر محتاط ہوتے ہیں کہ منرل واٹر کو بھی کئی بار ابال ابال کر استعمال کرتے ہیں ہر چیز کے استعمال سے پہلے پوری طرح سے جانچ پڑتال کرنا ان کا معمول ہوتا ہے رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھ جانا ان کی عادت ہوتی ہے ان سے دانستہ یا نادانستہ کبھی کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی یہ لوگ اپنے گھروں میں سوتے ہیں لیکن پھر یہ دوسرے لوگوں کے کیئے ہوئے جرم کا شکار ہوکر پھس جاتے ہیں بیگناہ ہونے کے باوجود اندھے قانون کے شکنجے میں جکڑ لیئے جاتے ہیں آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کسی فروٹ کو کاٹنے سے پہلے احتیاط کے لیئے اسے ڈیٹول سے صاف کرتے ہیں ہر وقت ماسک پہنے رکھتے ہیں لیکن ایسے لوگ بھی ہسپتال کے مہمان بن جاتے ہیں اور ایسے لوگ بھی جو فٹ پاتھ پر دوسروں کی موت کا نوالہ بن گئے، جو کسی آوارہ گولی کا نشانہ بن گئے یا پھر ان کے سر پر کوئی طیارہ آکر گر گیا۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں جب ہم ایسے لوگوں دیکھ کر اپنے اوپر نگاہ ڈالتے ہیں اور سوچیں کہ کوئی طیارہ ہم پر بھی گر سکتا ہے کوئی گاڑی ہمیں اڑا کر قبرستان پہنچا سکتی ہے یا کوئی تکلیف ہو اور ڈاکٹر آپ کو کینسر جیسے موضی مرض کا مریض ڈکلیئر کردے یا پھر ہمارے دل میں ایسا درد ہو کہ ہمیں کلمہ تک پڑھنا نصیب نہ ہو مطلب یہ کہ یہ سب کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے ہم نے جن جن لوگوں کا جہاں جہاں کے لوگوں کا جہاں ذکر کررہے ہیں ہم بھی وہاں ہوسکتے ہیں لیکن نہیں ہیں اللہ تعالیٰ کی اس مہربانی پر اس کا شکریہ ادا کریں اور کبھی کبھی جیلوں، اسپتالوں اور قبرستانوں میں بھی ایک گھنٹہ گزار لیا کریں کیونکہ یہ تین ایسی جگہیں ہیں جہاں گئے بغیر ہمیں زندگی کی اصل حقیقت، اپنی اوقات اور اللہ تعالٰی کی مہربانیوں کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو
زندگی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن یہ بہت مختصر ہے قبر اور محشر کا سارا دارومدار ہماری اسی مختصر اور عارضی زندگی پر منحصر ہے ہم یہاں جو بوئیں گے وہی آگے کاٹنا ہوگا لہذہ اس مختصر اور عارضی زندگی کو صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ یعنی سنتوں پر عمل کرکے گزاریں تاکہ آگے کی تمام منازل ہمارے لیئے آسان ہو جائیں آخر میں دعا ہے کہ رب العالمین ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • والدین کی محنت
  • عاشورے میں اتنی کشش کیوں ہے؟
  • جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
  • منقبت حضرت علیؓ بن ابی طالب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
مادی و معنوی ترقی و کمال
پچھلی پوسٹ
قومی ذمہ داریوں کے تقاضے اور ہم آہنگی

متعلقہ پوسٹس

شہرت سے نہ دولت سے نہ کار سے ملنی ہے

جنوری 28, 2020

ذکر شہادت

اکتوبر 28, 2020

سرکنڈوں کے پیچھے

جنوری 24, 2020

جنگل میں سرگوشی

دسمبر 7, 2024

ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی

مارچ 1, 2026

دل مِرا دنیا پہ شیدا ہو گیا

اکتوبر 28, 2020

مذہب میں دلچسپی

جنوری 5, 2022

علوم کی بدنصیبی

جنوری 16, 2026

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام

مارچ 29, 2026

مسٹر معین الدین

جنوری 17, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غزہ میں رمضان

مارچ 17, 2024

خیر القرون کی اصطلاح کا مطلب...

ستمبر 6, 2024

اے صبا مصطفیٰﷺ سے کہہ دینا

نومبر 26, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں