بھارت کی موجودہ سیاسی صورتحال کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ایک سنگین تضاد ابھر کر سامنے آتا ہے جہاں ایک جانب مودی حکومت ہندو مت کی نام نہاد نشاۃِ ثانیہ اور ہندو راشٹرا کا غوغا کر رہی ہے تو دوسری جانب اسی مذہب کی آڑ میں کروڑوں عام ہندوؤں کا معاشی، سماجی اور ذہنی استحصال کیا جا رہا ہے۔ یہ پوری صورتحال دراصل ایک ایسی سوچی سمجھی حکمت عملی کا شاخسانہ ہے جس میں مذہب اب نجات کا روحانی راستہ نہیں رہا بلکہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی ایک شاہراہ بن چکا ہے۔ نریندر مودی نے ہندو مت کے قدیم اور روحانی جوہر کو یکسر پسِ پشت ڈال کر اسے ایک جارحانہ سیاسی شناخت میں تبدیل کر دیا ہے۔ گنگا کے کناروں پر کی جانے والی مخصوص تصویر کشی ہو یا ایودھیا میں رام مندر کی سیاسی نمائش، ان تمام اقدامات کا مقصد عام ہندو کے دل میں عقیدت پیدا کرنا نہیں بلکہ اس کے ووٹ کو ایک مخصوص سیاسی برانڈ کے لیے محفوظ کرنا ہے۔ جب مذہب کو اخلاقیات سے کاٹ کر محض علامات اور سیاسی برانڈنگ تک محدود کر دیا جائے تو اس کی اصل روح فنا ہو جاتی ہے۔
اس نظامِ استحصال کی سب سے مضبوط بنیاد اس مصنوعی خوف پر رکھی گئی ہے کہ ہندو خطرے میں ہے۔ اسی فیصد اکثریت رکھنے والی قوم کو یہ باور کرانا کہ وہ اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ ہیں، دراصل ایک ایسی سیاسی افیون ہے جو عوام کو اس لیے پلائی جاتی ہے تاکہ نوجوان طبقہ روزگار کی تلاش کے بجائے دھرم کی حفاظت کے نام پر سڑکوں پر مٹر گشت کرے اور عام آدمی مہنگائی یا گرتی ہوئی معیشت پر سوال کرنے کے بجائے مندر اور مسجد کے تنازعات میں الجھا رہے۔ یوں حکومت کی ہر بڑی انتظامی ناکامی کو قومی بقا کے نام پر بڑی سہولت سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہندوتوا کا نعرہ بظاہر تمام ہندوؤں کو ایک لڑی میں پرونے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن پردے کے پیچھے یہ محض اعلیٰ ذات کی بالادستی کو برقرار رکھنے کا ایک جدید طریقہ ہے۔ انتخابات کے وقت جن دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ہندو بھائی کہہ کر پکارا جاتا ہے، اقتدار ملتے ہی انہیں دوبارہ اسی سماجی اور معاشی تنہائی کا شکار کر دیا جاتا ہے، جبکہ وسائل پر مخصوص اشرافیہ کا قبضہ برقرار رہتا ہے۔
معاشی محاذ پر بھی مودی سرکار کی پالیسیاں چند بڑے کارپوریٹ گھرانوں کو نوازنے کے لیے ترتیب دی گئی ہیں، جس کی قیمت عام کسان اور مزدور اپنی خودکشیوں اور بدترین غربت سے چکا رہے ہیں۔ جب ریاست اپنی بنیادی معاشی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ مذہب کا سہارا لیتی ہے اور ایک عام انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ پیٹ خالی رہنا تو گوارا ہے مگر دھرم کا پرچم بلند رہنا چاہیے۔ یہ استحصال کی وہ اذیت ناک شکل ہے جہاں انسان اپنی محرومیوں پر احتجاج کرنے کے بجائے اپنے ہی ظالم کے حق میں نعرے لگانے کو اپنی معراج سمجھ لیتا ہے۔
اس تمام تر منظرنامے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مودی صاحب نے عام ہندو کو زمین کے حق اور روٹی کے بدلے آسمانی عظمت کا وہ پرفریب خواب بیچا ہے جس کی تعبیر صرف سرمایہ داروں کے تجوریوں میں نظر آتی ہے۔ چیئرمین کے بقول ہندو خطرے میں ہے کا راگ دراصل حکمران طبقے کی وہ خوفزدہ چیخ ہے جو اس وقت نکالی جاتی ہے جب عوام کا ہاتھ ان کے گریبان تک پہنچنے والا ہو۔ جب کسی انسان کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ اس کی شخصی بقا صرف ایک سیاسی قائد کی بقا سے جڑی ہے، تو وہ اپنی انفرادی شناخت کھو کر محض ایک آلہ بن جاتا ہے۔ یہ مذہب کی خدمت نہیں بلکہ اقتدار کی شطرنج پر انسانی جذبوں کی بھینٹ ہے۔ مودی کا ہندوتوا دراصل ایک ایسی حکمت عملی ہے جس میں مذہب کو ڈھال بنا کر سیاسی اور معاشی عزائم پورے کیے جا رہے ہیں اور اس عمل میں سب سے بڑا نقصان اس عام ہندو کا ہے جو نادانستہ طور پر ایک ایسے سیاسی ایجنڈے کا ایندھن بن رہا ہے جس کا مذہب کی اصل روح سے کوئی تعلق نہیں۔ جب تک بھارتی عوام اس مصنوعی خوف کے سحر کو توڑ کر باہر نہیں نکلیں گے، ان کا استحصال دھرم کی حفاظت کے نام پر یونہی جاری رہے گا۔
پروفیسر اکرم ثاقب
