خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامگل مصلوب
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسبین علی

گل مصلوب

از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

وہ ہمالیہ کی برفیلی وادیوں میں پھوٹنے والی خود رو نیلی پوپی جیسی لڑکی تھی جسے وقت کی ہوائیں خشک بارانی زمینوں میں لے گئیں۔ بارشیں برسیں تو برسیں اور نہ اگر برسیں تو میگھ پر کس کا زور ہے؟
ٹرین رُک گئی تھی شاید انجن خراب ہوگیا تھا یا کسی دوسری ٹرین کو لائین دی جانی تھی۔ بوگی کی کھڑکی سے باہر جھانکتے دریائے جہلم کے قرب میں واقع اس چھوٹے سے جنکشن پر پیشین فروٹ کا پودا دیکھ کر مجھے وہی خوشگوار حیرت ہوئی جو ایک بار نیلی پوپی کو گملوں میں لگے دیکھ کر ہوئی تھی۔ سفر جہاں مسافر کو بدل کر رکھ دیتا ہے وہیں کئی بار مسافر بھی راستوں کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ جیسے وہ پیشن فروٹ کا پھل جو جانے کئی برسوں قبل کسی اجنبی مسافر کے ساتھ سفر کرتا اس جنکشن کے قریب کھا کر پھینکا گیا ہوگا اور اُس حسین ویرانے میں اپنی جڑیں گاڑ گیا۔ اس پہاڑی علاقے کی سرخ زرخیز مٹی نے بھی تو اسے پزیرائی بخشی ہوگی، اپنی عنایتوں سے سینچا ہوگا ورنہ برصغیر میں تو یہ درخت کمیاب ہی ہے جیسے گرم صحراؤں میں نیلا گل لالہ۔

میں پیشین فروٹ کے پودے پر نظریں جمائے اس کے خوب صورت کاسنی پھولوں کی تصویر لینے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اتنے میں اسی بلیو پوپی جیسی دلکش نقوش کی حامل نیلی آنکھوں اور سنہری رنگت والی سات آٹھ سالہ لڑکی نے برتھ سے نیچے اترتے ہوئے میری شال کے ساتھ رگڑ کھائی اور اپنے دودھیا موتیوں سے آراستہ سینڈل میرے کپڑوں پر رگڑتی دھپ سے نیچے اتری۔ اس کی ماں نے شرمساری سے پھر معذرت کی اور اپنی بیٹی کو پچکارتے ہوئے اپنے قریب بلا لیا۔
سارا سفر وہ لڑکی مجھے اور میرے شیر خوار بیٹے کو تنگ کرتی رہی تھی ایک بار تو منے کو چھیننے کی کوشش میں تقریباً گرا بھی چکی تھی میں دل ہی دل میں اس لڑکی پر پیچ و تاب بھی کھا رہی تھی مگر وہ اتنی پیاری تھی کہ بے ساختہ ہی اس پر پیار بھی آ جاتاـ

نیلی۔۔۔ ادھر آؤ اب آنٹی کو تنگ مت کرنا۔
مگر نیلی بضد تھی کہ اسے میرے بیٹے کے ساتھ ہی کھیلنا ہے۔

اس کی کھنچا تانی سے منا کسمسا کر اٹھا اور رونے لگا میں نے نیلی کو خفگی سے گھورا اور منے کا کمبل اسے اچھی طرح لپیٹتے ہوئے اپنی گود میں لٹا کر تھپکنے لگی۔
سوری آپ کو برا تو نہیں لگا۔ سارا رستہ یہ آپ کے بیٹے کو لاڈ ہی لاڈ میں تنگ کرتی رہی ہے۔ کیا بتاؤں آپ کو سکول میں اس کی ٹیچرز بھی بہت تنگ ہیں اس بات پر۔ اسے چھوٹے بچے بہت پسند ہیں اب یہ گریڈ تھری میں چلی گئی ہے مگر ابھی بھی نرسری کلاس میں جا کر بیٹھ جاتی ہے۔ آپ کے بیٹے کو بھی اسی لیے اتنا پیار کر رہی ہے۔

اٹس اوکے۔۔۔ معذرت کی کوئی بات نہیں۔ سب بچے ایسے ہی شرارتیں کرتے ہیں۔ ویسے بھی اس عمر کی لڑکیوں کو بہت شوق ہوتا ہے اپنے کسی چھوٹے بھائی یا بہن کو کھلانے کا۔ میں نے اس کا شرمسار چہرہ دیکھتے ہوئے مروتاً کہا کہا۔
اس لڑکی کی آنکھوں میں نیلے سبز اور سرخی مائل بھورے رنگوں کے خطوط مل کر بہت خوبصورت امتزاج میں ڈھلے ہوئے نظر آتے تھے۔ کبھی وہ آنکھیں سبز رنگ کے کنچے جیسی لگتیں جن میں سے سرخی جھلک رہی ہو تو کبھی نیلگوں رنگت نمایاں ہو جاتی مجھے وہ آنکھیں دیکھ کر ہمالیہ کی وادیوں میں کھلنے والے نیلے گل لالہ کا خیال آیا تھا وہ بھی ویسی ہی تھی ضدی،خود سر اور خوب صورت۔

سکول میں استانیاں اس سے تنگ۔۔۔ گھر میں اس کی پھپھو اور دادی تک عاجز ہیں اس سے۔ ہر وقت چھوٹے بچوں کے پیچھے لپکتی رہتی ہے کئی بار ان بچوں کو گرا کے ڈانٹ بھی سنتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کیا کروں۔ کسی کی بات پر کان نہیں دھرتی۔ عجیب ضدی سی ہو گئی ہے۔ اس کے چچا اسے پاگل خانہ کہتے ہیں۔
میں نے اس کی شرمساری دور کرنے کے لیے کہا کوئی بات نہیں جب اسکی اپنی بہن یا بھائی آ جائے گا،اس کا شوق پورا ہو جائے گا تو پھر ایسے نہیں کرے گی۔

وہ کھڑکی کے باہر کسی نامعلوم نکتے کو تکنے لگی پھر دھیرے سے گویا ہوئی!
ہاں شاید

مگر۔۔۔
نیلی کے پاپا اسے بہت پیار کرتے ہیں۔

اس بات کا اندازہ تو مجھے بھی ہو چکا تھا پانچ گھنٹوں کے اس سفر میں کوئی چار بار اس کے شوہر کا فون آ چکا تھا۔ نیلی ٹھیک ہے۔۔۔ نیلی کھیل رہی ہے۔۔۔ نیلی برتھ پر سو گئی۔۔۔ جیسے جوابات گویا وہ مسلسل اپنے شوہر کو نیلی کے بارے میں تازہ ترین معلومات کسی رپورٹر کی مانند بہم پہنچا رہی ہو۔
اس نے کاٹن کا ڈیزائنر سوٹ پہن رکھا تھا مگر ساتھ میچنگ دوپٹے کی بجائے ہاتھ سے کڑھی ہوئی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ باریک کروشیہ سے لیڑھی گئی چادر پر پانچ کناروں والے خوبصورت کاسنی پھول ساٹن ٹانکے میں کاڑھے گئے تھے ان پھولوں کے درمیان میں گول شیشہ بڑی نفاست اور مہارت سے ٹانک کر لگایا گیا تھاـ

آجکل ہاتھ کی کڑھائی تو نایاب ہو چکی۔ خاتون تو بڑی مہذب لگ رہی ہیں مگر ہیں کسی روایتی علاقے سے۔۔۔ دل ہی دل میں اس کے لباس کو سراہتے ہوئے سوچا۔
منا سو گیا تھا اسے میں نے ہینڈ کاٹ میں لٹا دیا۔ نیلی بھی دوبارہ برتھ پر چڑھ کر لیٹ گئی تھی۔ بیشتر مرد ٹرین سے اتر کر باہر پلیٹ فارم اور پٹریوں کے بیچ گھوم رہے تھے۔ بوگی میں خاموشی پھیلنے لگی۔ دوسرے انجن کا انتظار طویل ہو چکا تھا۔ باہر گھنے درختوں میں شام کے سایے اتر رہے تھے۔ فضا میں جنگلی پھولوں، یوکلپٹس اور کُنیر کی ملی جلی مہک گھلی ہوئی تھی۔ فلک کے کناروں پر سرخ کیسری اور عنابی بادل چھوٹی بڑی ٹکڑیوں میں پھیلتے کئی دلفریب نمونوں میں ڈھلنے لگے۔

میں نے پرس سے اپنا فون نکالا اور کھڑکی سے باہر کے مناظر کی تصویریں لینے لگی۔ اسی دوران اس خاتون کا پھر فون آ گیا۔
نیلم کے والد بار بار فون کر کے پوچھ رہے ہی‍ں کیا وہ آپ دونوں کو ریلوے اسٹیشن پر لینے آئیں گے؟ میں نے دریافت کیا۔

یہ سن کر نیلی کی ماں کے چہرے پر شام کے سایوں جیسی پھیلتی اداسی اتر آئی۔ پھر کہنے لگی نہیں وہ تو انگلینڈ ہوتے ہیں آٹھ سال سے نہیں آئے۔ پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگی اسی لیے تو نیلی کا بھائی نہیں آسکا ابھی تک۔
میں نے جواباً فقط مسکرانے پر اکتفا کیا۔

اس کے پاپا دور رہ کر بھی ہر وقت اسی کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ دیکھیں نیا فون بھیجا ہے۔ اس کے فوٹو روز منگواتے ہیں۔ اس نے شوہر کی صفائی دینے کی لاشعوری کوشش کی مگر نیلی بہت ضدی ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے چچاؤں کے ساتھ بالکل اٹیچ نہیں ہوتی نہ ہی کسی کے ساتھ کہیں باہر جاتی ہے۔ کہتی ہے اُن کی مانکی جیسی اسکن ہے اتنے بال کیوں ہیں؟ پاپا کیسے ہیں؟ میرے پاپا یہاں کیوں نہیں؟ مجھے اپنا بھائی چاہیے جیسے سب کزنز کے بھائی ہیں۔
آپ کے میاں اتنے عرصے سے واپس کیوں نہ آئے نہ ہی آپ دونوں کو بلوایا؟ میں نے استفسار کیا۔

امیگریشن کے مسائل ہیں نیشنیلٹی نہیں ملی ابھی تک۔ اگر ایک بار واپس آ گئے تو دوبارہ نہیں جا سکیں گے۔ اور کوئی اندازہ نہیں کب تک کاغذات بنیں۔ بہت تڑپتے ہیں بیٹی کو گلے لگانے کے لیے۔
شام کے سایے گہرے ہونے لگے تھے ہوا کے ساتھ خنکی پھیل رہی تھی۔ میں نے اپنی شال اچھی طرح اوڑھ لی اور منے کو اپنی ملازمہ کے پاس چھوڑ کر ٹرین سے باہر نکل آئی۔ کئی گھنٹوں سے بیٹھے بیٹھے پاؤں سوجنے لگے تھے باہر پلیٹ فارم پر ذرا سی چہل قدمی من کو بہت بھائی۔ نئی زمینیں قدموں کو چھوئیں تو احساسات میں نیا اضافہ کرتی ہیں۔

اطراف سے جنگلی گھاس میں ڈھکی طویل بل کھاتی پٹریوں، پس منظر میں ابھرتے پہاڑوں اور پیشن فروٹ کے پودے کی کئی تصویریں کھینچ چکی تھی۔ مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ پودا اس ہرے بھرے علاقے میں بھی اداس ہے اگرچہ یہ کسی کنٹرولڈ انوائرمنٹ کی لیبارٹری نہیں نہ ہی کسی نرسری کے گملے میں اگایا گیا ہے مگر پھر بھی اس کے پھول گہری اداسی میں لپٹے محسوس ہو رہے تھے دنیا میں اتنے بڑے بڑے سانحے ہوتے ہیں مگر میں جانے کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں کو محسوس کرتی ہوں آسٹریلیا میں ہر سال جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے ہزاروں درخت جل جاتے ہیں ہمارے ہاں چیڑ دیودار کے قدرتی جنگلات تیزی سے سکڑتے جا رہے ہیں ان کی قیمتی لکڑی کے لاگ دریاؤں میں بہتے ٹمبر مارکیٹ میں پہنچا دیے جاتے ہیں اور میں برازیل کے ایک پودے کی اداسی اور تنہائی محسوس کر رہی ہوں پھر خیالات جھٹک کر واپس پلٹی شنید تھی کہ جلد دوسرا انجن ٹرین سے آن ملے گا۔ میں بوگی کے اندر واپس اندر آ گئی اور اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہی اسکرول کرتے ہوئے ساری تصویریں دیکھنے لگی۔
آپ ان کاسنی پھولوں کی اتنی تصویریں کیوں بنا رہی تھیں؟ وہ پوچھنے لگی،

میں ایک ماہر نباتات ہوں ہر طرح کے پودوں سے دلچسپی ہے مگر کوئی نایاب پودا نظر آ جائے تو اس کی تصاویر ضرور محفوظ کرتی ہوں۔
اچھا تو کیا یہ نایاب پھول ہے؟

نایاب تو نہیں مگر ہاں ہمارے ہاں کم ہی پایا جاتا ہے۔ گویا یہ اس پودے کا پردیس ہے۔
اچھا واقعی!

ہاں پیشن فروٹ برازیل کا پودا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پیشن پھول پانچ زخموں کا پھول ہے۔ مصلوب کیے جانے کے زخم۔
جیسے چھوڑ کر جانے والے زخم دے جاتے ہیں۔۔۔ انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھتے ہیں۔ اس نے اداسی سے کہا۔

اس کی چادر پر ٹانکے شیشوں سے ڈوبتے سورج کی ترچھی کرنیں سرخ رنگ منعکس کر رہی تھیں اور اس کے چہرے پر کرب کے زرد سائے نمایاں ہو رہے تھے اسی دوران دور پٹریوں پر بھاری انجن کی گڑگڑاہٹ سنائی دینے لگی۔
آپ نیلی کا بہت خیال رکھا کریں ماں باپ دونوں کے حصے کی توجہ دیا کریں۔

اس کے چہرے کے خطوط بدلنے لگے شیشوں پہ پڑتی رہی شعائیں چپکے سے کھسکنے لگیں۔
جب کبھی انہیں کہنا چاہتی ہوں کہ پاکستان واپس آجائیں تو سسرال میں شامت آ جاتی ہے ساس کہتی ہے اس کے پاؤں تو جم لینے دو اتنی ذمہ داریاں ہیں اس پر تمہیں احساس ہی نہیں کن مشکلوں سے انگلینڈ گیا تھا۔ جب میں کہتی ہوں کہ نیلی بہت ضد کرنے لگی ہے اس کے پاپا مل جائیں گے تو ٹھیک ہو جائے گی۔ اس پر نند کہتی ہے خود تجھے چڑھی ہے نام نیلی کا لگاتی ہے۔

اس کے چہرے کے تاثرات میں غصہ مایوسی اور تلخی ایک ساتھ ابھر آئی کچھ توقف کے بعد پھر کہنے لگی اچھا آپ مجھے بتائیں شادی کے بعد میرے شوہر صرف ایک مہینہ پاس رہے تھے۔ کیا ایک مہینے میں ہمارے جیسی کسی عورت کو ازدواجی زندگی کی سمجھ آ جاتی ہے یا میاں بیوی کے تعلق کی؟
میں نے تاسف سے سر نفی میِں ہلاتے ہوئے کہا ایک مہینے میں تو کچھ بھی سمجھ نہیں آتا۔

ہم دونوں کے لیے وہ فقط ایک آواز ہیں۔ نیٹ اور فون کا محتاج ایک رابطہ۔ شوہر کا ساتھ کیسا ہوتا ہے؟ مجھے تو یہ بھی یاد نہیں ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دینے کا احساس کیسا تھا یہ بھی یاد نہیں کہ ان کے ہاتھ نرم تھے یا سخت اور نیلی۔۔۔ اس نے تو کبھی باپ کو آنکھوں کے سامنے دیکھا ہی نہیںـ
ٹرین کو ایک جھٹکا لگا دوسرا انجن ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پرانے پلیٹ فارم اور پٹریوں کے ساتھ گھومتے مسافروں نے بوگیوں میں بیٹھنا شروع کر دیا۔ شام کا ملجگا اندھیرے میں ڈھل رہا تھا۔ وسل کی گہری سیٹی جنگل میں گونجی۔

نیلی کی ضد اور مردوں سے چڑ کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ میں اسی وجہ سے اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑتی اور سب کے طعنے سنتی رہتی ہوں۔
دیکھیں آپ سسرال میں کسی سے مت کہیں کوئی فائدہ نہیں۔ یہ سب باتیں آپ اپنے شوہر کو بتائیں اور انہیں قائل کریں کہ یا تو وہ پاکستان آ جائیں یا آپ کو اور نیلی کو اپنے پاس بلا لیں۔

اچھا اب میں نے سب کہہ دینا ہے۔ ساری باتیں ایک طرف مگر نیلی کو جو باتیں کی جاتی ہیں اسے سائیکو کہا جاتا ہے وہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ میری اتنی لاڈلی بیٹی ہے۔ پیشن پھول کے زخم رِسنے لگے تھے۔
ہاں آپ کی بیٹی واقعی بہت پیاری ہے آپ کی طرح

وہ مسکرائی
ٹرین گھیروگھیر کرتی اس چھوٹے سے اسٹیشن سے آگے بڑھی اور تیز رفتار پکڑ لی اندھیرا پھیل چکا تھا بوگی کے اندر مدھم سی بتیاں روشن ہو گئی تھیں۔ تھوڑے سے مزید سفر کے بعد وہ اپنا سامان سمیٹنے لگی اور نیلی کو برتھ سے اٹھا کر نیچے سیٹ پر اپنے پاس بٹھا لیا۔ نیلی کا موڈ خراب تھا شاید سفر کی تکان تھی یا وہ پھر کسی بات پر اپنی ماں سے روٹھ بیٹھی تھی۔

ٹرین سست ہوتے ہوتے ایک جھٹکے سے رک گئی اس نے الوادعی ہاتھ ہلایا اور نیلی کو لیے گھنے درختوں گھرے ایک چھوٹے سے تاریک اسٹیشن پر اتر گئی۔ اور پیچھے میں سوچتی رہ گئی کہ گملے میں لگے گلِ لالہ ہوں یا اجنبی زمینوں پر لگے پیشن فروٹ کے پودے دیکھنے میں بہت خوب صورت لگتے ہیں مگر اندر سے اسی طرح اداس اور اکیلے ہو جاتے ہیں جیسے مصلوب ہجر لوگ جن کی روح کے زخم لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہی رہ جاتے ہیںـ
کوئی چھ سال بعد میں ہسپتال کے ویٹینگ لاؤنج میں بیٹھی آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ چند سیٹیں دور بیٹھی ایک خاتون کا چہرہ مجھے بہت مانوس لگ رہا تھا جیسے پہلے کہیں دیکھا ہو۔ اس کے ساتھ غالبا اس کا ادھیڑ عمر شوہر بھی تھا جس کے سر کے بیچ بڑا گنج نمایاں تھا۔ اپنے چہرے مہرے اور لباس سے وہ کسی دوسرے ملک سے آیا معلوم ہوتا تھا خاتون کے چہرے اور سبز نیلگوں آنکھوں کی چمک ماند تھی مجھے وہ برسوں کی مریضہ لگ رہی تھی۔ کافی دیر تک میں یاد کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ اسے کہاں دیکھا ہے پھر اچانک کچھ یاد آنے پر فون میں فوٹوز کے فولڈر میں پرانی تصویریں تلاش کرنے لگی۔ پیشن فروٹ کے کاسنی پھولوں کی تصویریں کے بیچ ہاتھ سے کڑھائی کی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے سبز آنکھوں والی ایک خوب صورت عورت کی تصویر سامنے آ گئی۔ ہاں یہ وہی ہے۔۔۔ میں اس سے ملنا چاہتی تھی مگر اسی دوران نفسیاتی معالج کے کمرے سے اسکا نام لے کر پکارا گیا اور وہ کسی معمول کی مانند چلتی ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھ گئی اور میری آنکھوں کے سامنے کاسنی پھولوں کے پانچوں کناروں سے سرخ لہو رسنے لگا۔

سبین علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عشقیہ کہانی
  • دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے
  • ملکی سلامتی اور دہشت گردی کا بڑھتا ہوا خطرہ
  • علامہ اقبال پر ایک اردو مضمون
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
طلوع ماہتاب
پچھلی پوسٹ
پاکستان کی قوت اور عالمی وقار کا سفر

متعلقہ پوسٹس

مسلمان بننا نہیں، مسلمان دکھنا چاہتے ہیں؟

مارچ 23, 2026

بھارتی آبی جارحیت

ستمبر 2, 2025

خدا کے سامنے ہمیشہ منکسر رہیں!

نومبر 26, 2025

ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم!

اکتوبر 31, 2021

مقدس ناتا

دسمبر 29, 2019

در باب نظم اور کلام موزوں

جنوری 16, 2026

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

کرونا ویکسین اور غلط فہمیاں

ستمبر 5, 2021

کلراٹھی زمینوں کی تشخیص اور اصلاح

مئی 19, 2024

آمنہ

نومبر 5, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سوچتی ہوئی بے باک شاعری

جولائی 5, 2024

یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے

جنوری 13, 2020

ہزاروں سال پہلے

مئی 20, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں