خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےخود کی پہچان
اردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر نور ظہیر

خود کی پہچان

ڈاکٹر نور ظہیر کا ایک اردو افسانہ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 24, 2020 0 تبصرے 368 مناظر
369

وہے کی جالی کے بیچ میں بنے موکھے سے ہاتھ نکال کر اس نے روپے گنے۔ پورے دوہزار تین سو پینتالیس۔ شکریہ میں وہ کیشئر کی طرف مسکراکر لائن میں پیچھے والوں کو جگہ دے کر ایک طرف ہوگئی۔ اس کی روم میٹ روزمیری ذرا پیچھے تھی۔ وہ رُک کر اس کا انتظار کرنے لگی۔ سنبھل کر روپے ہینڈ بیگ میں رکھتے ہوئے اس نے سوچا کہ اس کہانی نے اتنا تو کرہی دیا کہ آج وہ اپنے پیروں پر کھڑی تھی۔ کم سے کم اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی تو ضرورت نہیں تھی۔ وہ کہانی جس پر پانچ سال پہلے، ایک پرانے میگزین میں اس کی نظر پڑی تھی اور جس کو پڑھنا اس نے صرف اس لیے شروع کیا تھا کیونکہ اس کے سکول ماسٹر والد اس ادیب کی بہت باتیں کیا کرتے تھے۔

وہ مہینے بھر کی ردّی بیچنے بیٹھی تھی۔ ٹین، ڈبّے، بوتلیں اور بہت تھوڑے سے اخبار اور میگزین۔ ایک کمرے کے گھر میں بہت کباڑ کیسے جمع رکھا جاسکتا ہے۔ کباڑی منہ بناکر، ردّی تول ہی رہا تھا کہ اس نے ڈھیر میں سے یوں ہی وہ میگزین اٹھاکر اس کے پنّے الٹنے شروع کردیے تھے۔ ہندی کہانی پر خاص نمبر تھا اور اس میں ایک کہانی تھی اس افسانہ نگار کی جس کے بارے میں اس کے والد کہا کرتے تھے کہ انھیں زندگی کی بڑی اچھی پکڑ ہے، وہ صرف سچ ہی لکھتے رہے اور سچ چاہے جتنا بھی کڑوا کیوں نہ ہو اسے اتنی ہی بیباکی اور نڈرتا سے سامنے رکھتے تھے کہ پڑھنے والا چونک پڑے۔ ایسا سچ جو پڑھنے والے کو جھنجھوڑ دے کیونکہ وہ اس کا اپنا سچ ہو۔

کہانی پڑھتے پڑھتے اسے لگنے لگا جیسے کہ وہ اس کی اپنی کہانی تھی۔ لیکن ایسا کیسے ہوسکتا تھا؟ پچاس سال پہلے لکھی گئی کہانی بھلا اس کے بارے میں کیسے ہوسکتی تھی۔ اس وقت تو اس کا جنم بھی نہیں ہوا تھا۔ مگر تھی جیسے اُسی کی داستان۔ وہی دو تنگ کمروں والا سرکاری گھر، جس کے ایک کمرے میں وہ اور اس کا شوہر کرائے دار، پرائیویٹ کمپنی میں کلرک کی نوکری کرنے والا شوہر، گاؤں میں مائیکہ۔ وہ خود بھی تو علی گڑھ ضلع کے دیہات کی تھی۔ لاجونتی آٹھویں پاس تھی اور وہ میٹرک۔ لیکن بس یہیں پر آکر فرق ختم۔ عجیب سی بات تھی کہ کہانی کی ہیروئن اور اس کا نام بھی ایک تھا۔ یعنی لفظ ایک نہیں تھا مطلب تو ایک ہی تھا۔ لاجونتی کا ایک مطلب شرمیلا بھی تو ہوسکتا تھا۔

اس کا شوہر بھاسکر بھی صبح سویرے ہی چلا جاتا اور لوٹتا شام ڈھلے۔ ویسے اس پر اسے کوئی اعتراض نہیں تھا، ایسا تو سبھی کام کاجی مرد کرتے ہیں۔ دن بھر کا کام کرکے وہ شام سے ہی اس کے لیے آنکھیں بچھائے انتظار کرتی۔ وہ لوٹتا اور اس کے ہر کام میں مین میکھ نکالتا …… نمک پارے پھیکے، چائے ہلکی، سبزی جلی، دال پتلی، دہی کھٹّا، میز پر دھول، بستر پر سلوٹیں وغیرہ۔ وہ چپ رہتی تو ڈانٹتا پھٹکارتا رہتا۔ اگر کہیں اپنے بچاؤ میں پلٹ کر کچھ کہہ دیتی تو مارنے پیٹنے پر اتر آتا۔ بچپن ہی سے اسے سکھایا گیا تھا کہ شوہر اگر بداخلاقی کرے تو بھی یہ اس کا حق ہے۔ عورت کا فرض ہے کہ وہ چپ چاپ سہے اور ہر دُکھ پانے کے باوجود شوہر کو خوش رکھے، ہنستی رہے۔ لیکن بھاسکر اگر کوئی غلطی نہیں پکڑ پاتا تو اس کے چہرے کے بھاؤ پر ہی اس سے جھگڑ پڑتا — ’ہنس کیوں نہیں رہی ہے؟‘ ’بیوقوف کی طرح منہ کیوں کھولے ہے؟‘، ’گھر اس لیے نہیں آتا کہ تیرا سوجا تھوبڑا دیکھوں‘۔ شرمیلا نے کئی بار سنا تھا کہ اگر جواب نہ دے تو سامنے والے کا غصہ، کوئی سہارا نہ پاکر خود بخود ہی لڑکھڑاکر گر جائے گا۔ لیکن بھاسکر ایک ایسا آدمی تھا جو گھنٹوں اکیلے چیختا چلاتا رہ سکتا تھا، یہاں تک کہ شرمیلا کا ماتھا بھنّانے لگتا جسے روکنے کے لیے اس کا جی چاہتا کہ خود اپنا سر دیوار سے مار دے۔
لیکن شادی کے بعد، کچھ مہینوں تک بھاسکر ایسا نہیں تھا، ٹھیک لاجونتی کے شوہر جیسا۔ اسے گھمانے لے جاتا، سنیما دکھاتا، دلّی کے بڑے بڑے بازاروں میں ٹہلاتا، اس کی حیرانی پر اسے چھیڑتا، چڑھاتا اور وہ بچوں کی طرح روٹھتی تو اسے مناتا۔ پھر ایک اتوار کی شام بھاسکر کے دفتر میں کام کرنے والے بخشی جی آئے۔ وہ بھاسکر کے سینئر تھے۔ شرمیلا نے کتنے جتن سے سوکھی اروی اور دہی بڑے بنائے۔ وہ پینی نظر سے ان دونوں کو دیکھتے رہے تھے اور ان کی بیوی ایک کونے میں سکڑی، دُبکی بیٹھی تھی۔ جب بھاسکر نے کھیرے ٹماٹر کی پلیٹ اپنی طرف کھسکائی اور سلاد کاٹنا شروع کیا تو وہ طنز سے مسکرائے اور بولے — ”جب مرد گھر کا کام شروع کردیتے ہیں تبھی عورتیں سر پہ اٹھ جاتی ہیں۔ عورت کو اس کی جگہ پر رکھنے میں ہی مرد کا رتبہ ہے۔“

اس وقت تو شرمیلا نے چاقو بھاسکر کے ہاتھ سے لے لیا تھا۔ مگر اگلے دن جب اس نے گئی شام کی چرچا شروع کی اور بخشی جی کے پرانے وچاروں پر ہنسی تو بھاسکر نے اسے یہ کہہ کر چپ کرادیا — ”کیا غلط کہہ رہے تھے بخشی جی۔ آج تک میں بیوقوف تھا اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ساری زندگی بیوقوف بنا رہوں۔“ شرمیلا سمجھ گئی تھی کہ اس کے گھر میں بخشی جی کا سبق کام کررہا ہے۔
وہ جیوں جیوں کہانی پڑھتی گئی، لاجونتی پر پڑتی آفت اور اس کے شوہر کے ظلم اور لاپرواہی میں اپنی زندگی کا عکس دیکھ کر حیران ہوتی گئی۔ بیچ میں دو بار تو اسے میگزین بند کردینی پڑی۔ رُلائی جو اتنی آرہی تھی۔ پھر یہ سوچ کر کہ لاجونتی کا جو انت ہوا ہوگا، وہ کہیں نہ کہیں اس کا مستقبل ہوگا، وہ کہانی پھر آگے پڑھنے لگی۔ آخر میں پہنچی تو اسے ایک ایسی خوشی کا احساس ہوا جیسے کوئی بہت قیمتی چیز کھوجانے پر اسے ڈھونڈنے میں سارا دن برباد ہوجائے اور جب تھک ہارکر بیٹھ جاؤ تو وہی چیز بالکل سامنے پڑی دِکھے۔ کتنا آسان تھا اُپائے، کتنا سہج تھا راستہ۔ وہ بھی وہی کرے گی جو لاجونتی نے کیا تھا۔ کرواچوتھ ایسا کوئی دور بھی نہیں تھا۔ مہینہ بھر ہی تو بچا ہے۔ یہ مہینہ وہ کسی طرح مار پیٹ، ڈانٹ پھٹکار سہہ کر کاٹ لے گی کیونکہ اس کے بعد تو سب ٹھیک ہوہی جائے گا۔ جیسے لاجونتی کا ہوگیا تھا۔

اپنی سب خواہشات کا گلا گھونٹ کر، یہاں تک کہ اپنی رونے کی خواہش کو بھی دباکر اس نے وہ ایک مہینہ گزارا۔ بھاسکر کبھی کبھی اسے ذرا حیرانی سے دیکھتا بھی، اسے رُلانے کی خواہش میں بے بات جھڑکتا، گالیاں دیتا، اور زیادہ مارتا۔ جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو اس نے دوسرے طریقے اپنانے شروع کردیے۔ بستر میں اسے ستاتا، اسے زور زور سے نوچتا کھسوٹتا، کاٹتا، اس کی دبی دبی کراہیں سن کر یا اگلے دن اسے اپنی چھاتیوں کو دھوتے مرحم لگاتے پکڑ لیتا تو اتراتا، اکڑتا ہوا چائے گرم کرنے یا جلدی ناشتہ دینے کا حکم دیتا جیسے اسے پرواہ ہی نہ ہو کہ اس پر کیا بیت رہی ہے۔ وہ سب کچھ سہہ کر اپنے من کے کیلنڈر میں ایک اور دن پر کراس لگا دیتی۔

آخرکار کرواچوتھ سے پہلے والا دن آیا۔ مائیکے سے بابوجی کا منی آرڈر آچکا تھا، لیکن اس کا بازار جاکر کچھ خریدنے کا دل نہیں چاہا۔ ویسے بھی، اکیلے جاکر خریدنے میں کیا مزا تھا۔ بات تو تب ہوتی جب بھاسکر کے ساتھ جاتی، مہندی لگواتی، نئی چوڑیاں پہنتی۔ اس نے خود کو تسلی دی۔ اگلے سال تو ایسا ہی ہوگا۔ بھاسکر آیا، ناشتہ کیا اور پڑوس میں تاش کھیلنے چلا گیا۔ نہ یہ خبر لی کہ مائیکے سے کوئی آیا یا نہیں، نہ پوچھا کہ کرواچوتھ کے لیے کچھ چاہیے یا نہیں۔ شرمیلا کی آنکھیں بھر آئیں، مگر اس نے خود کو سمجھایا کہ گھبرانا کیا؟ اب تو مشکلوں کا اَنت ہے، بس ایک ہی دن باقی رہ گیا ہے۔ اب تو بیڑا پار سمجھو۔

اگلے دن سویرا ہونے سے پہلے اٹھی۔ نہائی، گھر میں سگری کا تو سامان تھا نہیں۔ پانی پی کر ہی ورت رکھا، ٹھیک لاجونتی کی طرح۔ بھاسکر کھا پی کر اس کے گمبھیر منہ پر اسے ہڑکاکر دفتر چلا گیا۔ گھر کے کام سے نمٹنے میں گیارہ بج گئے۔ بھوک زوروں کی لگ رہی تھی لیکن اس نے بھی طے کرلیا تھا کہ وہ سب کچھ لاجونتی کی ہی طرح کرے گی۔ خالی زمین پر لیٹ گئی۔ کچھ دیر میں اسے نیند آگئی۔ آنکھ کھلی تو دیکھا دوپہر کے تین بج رہے تھے۔ اگر اب بھی بھاسکر کو یاد آجاتا کہ وہ اس کی لمبی عمر کی کامنا کرے، اگلے جنم میں بھی اسے شوہر کے روپ میں پانے کی منوتی مانے بھوکی پیاسی پڑی ہے۔ لیکن ایسا تھوڑے ہی ہوسکتا تھا۔ کیونکہ ایسا لاجونتی کے ساتھ نہیں ہوا تھا، اور اس کی اور لاجونتی کی قسمت تو ایک تھی۔ اسی کے سہارے تو اس نے ایک مہینہ پار کیا تھا اور اب تو منزل بس سامنے تھی۔ چار بجتے بجتے اسے بھوک کے مارے چکّر آنے لگے۔ رونا الگ آرہا تھا۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ بھوکے مرو اس کے لیے جسے تمہاری پرواہ ہی نہ ہو۔ بھاڑ میں جائے ایسا ورت! وہ اٹھی۔ ایک لوٹا پانی بھر کر سیدھا منہ میں انڈیلا کیونکہ لاجونتی نے ایسا ہی کیا تھا۔ پھر چائے بناکر، رات کی بچی ہوئی دو روٹیاں اس میں ڈبو ڈبوکر گلے سے نیچے اتاریں۔ اتنے میں پڑوس کی عورتیں بلانے آگئیں۔ سب کا پارک میں بیٹھ کر پہلے گپ بازی، پھر کتھا سننا اور پھر بن سنور کر مندر جانے کا پلان تھا۔ شرمیلا کو بھی بلانے آئی تھی۔ شرمیلا نے نہائے نہ ہونے کا بہانہ کرکے، کچھ دیر بعد پہنچنے کا وعدہ کرکے انھیں ٹالا۔ آج شام تو وہ بھاسکر کے ساتھ اکیلی رہنا چاہتی تھی۔ آج سے تو اس کی نئی زندگی شروع ہونے والی تھی۔

چائے کا کپ اور صبح کے برتن دھوکر ہاتھ پونچھ رہی تھی کہ بھاسکر نے دروازے پر زور سے ہانک لگائی۔ وہ ’لاجونتی اسٹائل‘ میں دروازہ کھول کر ایک طرف ہوگئی۔ بھاسکر نے اسے گھور کر دیکھا، پھر بولا — ”دماغ ٹھیک نہیں ہوا تیرا۔“ شرمیلا نے دل ہی دل میں کہا — ”دماغ تو تھوڑی دیر میں تمہارا ٹھیک ہونے والا ہے۔ اس کے بعد ہم دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خوش رہیں گے۔“ جب شرمیلا نے کوئی جواب نہیں دیا تو رعب سے بولا — ”دیکھو یہ تیور کہیں اور جاکر دکھانا۔ مجھ پر ان کا کوئی اثر نہیں ہونے والا۔ ناشتہ لا جلدی!“
شرمیلا چائے اور ناشتہ رکھ کر جانے لگی تو اس نے پھر للکارا — ”میرا دیا کھا رہی ہے اور مجھے ایسے دے رہی ہے جیسے کوئی گلی کے کتے کو دیتا ہے۔ ٹھیک سے نہیں رکھ سکتی یا میں ٹھیک سے رکھوں۔ میں کیا نوکر ہوں اس گھر کا؟“

شرمیلا کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ رندھے گلے سے بولی — ”کیسی باتیں کرتے ہو جی، میں نے تو کبھی ایسا نہیں سوچا۔“
”زبان چلاتی ہے؟ ایک تو صبح شام اپنا سڑا منہ دکھاتی ہے، اوپر سے زبان چلاتی ہے۔“ بھاسکر نے اسے دو تھپڑ مارکر زمین پر دھکیل دیا، پھر پیر اٹھاکر ایک لات مارنے ہی والا تھا کہ شرمیلا بھی زور سے چلاّئی — ”ہاں، مار لو جتنا چاہو۔ میں نے کون سا اگلے جنم میں تجھے پانے کا ورت رکھا ہے۔ جو بھی بھوگنا ہے بس اسی جنم میں بھوگنا ہے۔“
بھاسکر کا پیر رُک گیا۔ وہ سکتے میں اسے دیکھ رہا تھا۔ شرمیلا کو اندر اندر ہنسی آرہی تھی۔ اب ان کو سمجھ میں آیا ناں ۔ اب یہ لاجونتی کے شوہر کی طرح مجھ سے معافی مانگیں گے، مجھے منائیں گے، مارنا پیٹنا بھی چھوڑ دیں گے۔ میرے پہلے والے دن لوٹیں گے۔ اگلے سال ہم دونوں مل کر کرواچوتھ کا ورت رکھیں گے۔ کیونکہ ہم دونوں ہی تو چاہیں گے کہ اگلے سات جنموں تک ہمارا ساتھ ہو، پیار ہو۔ ٹھیک جیسے لاجونتی اور اس کے شوہر نے چاہا تھا۔

جب بھاسکر نے چیخنا شروع کیا تو کچھ دیر تک تو اسے لاجونتی کے شوہر کے ہی شبد سنائی دیتے رہے۔ کچھ پل بعد اس کی گالیاں سمجھ میں آئیں — ”بدمعاش، کولکچھن۔ کمینی، رنڈی۔ چاہتی ہے کہ میں جلدی مروں تاکہ تو موج کرسکے، گل چھرے اڑا سکے اپنے یار کے ساتھ۔ تبھی تونے کرواچوتھ کا ورتھ نہیں رکھا نا؟ اگلے جنم میں شروع سے ہی اس کا ساتھ چاہتی ہے۔ ڈائن کہیں کی، شوہر کا کھاکر دوسرا کھسم کرے گی ویشیا کہیں کی!“

تابڑتوڑ گھونسوں، مکّوں، لاتوں کی بارش ہونے لگی۔ کمرے کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ایک بڑی عمر کی عورت نے بیچ بچاؤ کرانے کے لیے بھاسکر کو سمجھایا کہ کم سے کم آج کے دن تو بیوی کو نہیں مارنا چاہیے۔ لیکن جب سب نے پوری بات سنی تو سب ہی چپکے چپکے کھسکنے لگے۔ بھلا ایسی عورت کا کون ساتھ دے گا جو کرواچوتھ کا ورت ہی نہ رکھتے، شوہر کے جلدی مرنے کی کامنا کرتی ہے۔ سب نے کانوں کو ہاتھ لگاکر تھوکا اور چاند دیکھ کر شوہر کی لمبی عمر کے ساتھ ساتھ یہ منوتی بھی مانگی کہ بھگوان ایسی عورت تو کسی دشمن کے گھر میں بھی نہ جنمے۔

بابوجی پہنچے۔ چپ رہ کر سب سنا۔ کہتے کیا؟ ان کے دو اور لڑکیاں ابھی کنواری بیٹھی تھی۔ ایک تو بیاہی بیٹی مائیکے لوٹ آئے اوپر سے ایسا کلنک لگائے؟ اکیلے ہی لوٹ گئے۔ بھاسکر نے معاف کرنے سے انکار کردیا۔ مجسٹریٹ نے ’کروا‘ کہانی کو بھی من گڑھت مانا۔ پورا محلہ ہنسا۔ واہ رے عورت کی الٹی کھوپڑی، گواہ بنایا بھی تو ایک کہانی کو! طلاق ہوگیا۔ ٹرین کی کھڑکی سے شرمیلا نے وہ میگزین زور سے اچھال دی۔
”جب یہ مرد خود کو پہچانتے نہیں تو کہانی کیوں لکھتے ہیں؟“
”کون خود کو نہیں پہچانتا شرمیلا۔“ روزمیری نے اس کے پاس آتے ہوئے کہا۔
”کوئی نہیں۔ چلو جلدی ابھی کمرے کی صفائی کرنی ہے، پھر سنیچر کے بازار بھی تو جانا ہے۔“ اس نے روزمیری کا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھا اور اس کی راستہ ٹٹولنے والی چھڑی سیدھی کرکے دوسرے ہاتھ میں دی، پھر دھیرے دھیرے ہاسٹل کی طرف بڑھنے لگی۔ اسے اپنی راہ چاہے نہ ملی ہو، وہ دوسروں کو راہ ڈھونڈنے میں مدد تو کرہی سکتی تھی۔

 

ڈاکٹر نور ظہیر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خنک شہرِ ایران
  • ڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ
  • محبت کا ایک قطرہ
  • دورِ حاضر میں ادب کی افادیت اور معاشرتی تشکیل
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سوبھاوِک تھا
پچھلی پوسٹ
پریم چند مرتے کیوں نہیں؟

متعلقہ پوسٹس

پیاری ڈکار

دسمبر 30, 2019

کیوں کہ

مئی 3, 2026

بات کرکے دیکھتے ہیں

جنوری 31, 2020

دوست کے نام

جنوری 25, 2020

زیادتیوں سے نکلیں جنسی زیادتیاں!

اکتوبر 2, 2020

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

پشتو ڈیجیٹل شعر و ادب اور شیرانداز خان کا شعری...

جولائی 5, 2026

خوش طبعی یعنی مزاح کرنے کی شرعی حیثیت

ستمبر 15, 2023

بھٹو آخر کیوں؟

نومبر 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

یہ سال بھی آخر بیت گیا

دسمبر 29, 2019

نظام مملکت، موکلین اور جھاڑ پھونک

جنوری 20, 2021

بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما...

مئی 21, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں