دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ انسان جب بھی ظلمتوں میں بھٹکا، جب بھی نفرت و عداوت کے اندھیروں نے اس کے دل و دماغ کو اپنی لپیٹ میں لیا، تب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو ہدایت کا چراغ لے کر بھیجا۔ لیکن یہ چراغ اپنی کامل ترین روشنی اُس وقت بکھیرتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب، رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس سراپا نور تھی، اور آپ کی سنت وہ مشعل ہے جو صدیوں سے انسانیت کو راستہ دکھا رہی ہے اور قیامت تک دکھاتی رہے گی۔
قرآن کریم ہمیں واضح طور پر یہ دعوت دیتا ہے:
"لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” (الاحزاب:21)
ترجمہ: "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔”
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ امن، سکون اور کامیابی کا واحد راستہ رسول اکرم ﷺ کی سنت اور سیرت کی پیروی ہے۔
سنتِ رسول ﷺ: امن کا سرچشمہ
نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ کیجیے، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو انسانیت کے لیے رحمت اور امن کا پیغام ہے۔ مکہ کی وادیوں میں جب آپ ﷺ نے اسلام کی دعوت دی تو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، طعن و تشنیع کی بارش ہوئی، لیکن آپ ﷺ کے ہونٹوں پر کبھی نفرت کا شعلہ نہیں آیا۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ محبت، درگزر اور حکمت سے جواب دیا۔
مدینہ منورہ کی گلیوں میں جب آپ ﷺ نے ریاست قائم کی تو اس کی بنیاد عدل، مساوات اور بھائی چارے پر رکھی۔ یہ وہ معاشرہ تھا جہاں کوئی امیر و غریب کی تفریق نہ تھی، جہاں عرب و عجم کی دیواریں گر چکی تھیں، جہاں غلام کو سردار کے برابر مقام ملا۔ یہی وہ نور تھا جس نے صحرا کے بکھرے ہوئے قبیلوں کو ایک امت میں بدل دیا۔
قرآن اور سنت کی رہنمائی
قرآن کریم امن و سکون کی اصل بنیاد بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ” (الرعد:28)
ترجمہ: "جان لو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔”
اور یہ ذکر اللہ کے محبوب ﷺ کی سنت اور تعلیمات کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اخلاق کو بہتر کرے۔” یہی اخلاق ہی تو ہیں جو انسان کو انسانیت کے درجے پر لے جاتے ہیں۔
اگر ہم غور کریں تو حضور ﷺ کی سنت دراصل ایک ایسی رہنمائی ہے جو فرد کی ذات سے شروع ہو کر پورے معاشرے تک پہنچتی ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی دل کو سکون دیتی ہے، انصاف معاشرے کو امن بخشتا ہے، اور محبت انسانیت کو قریب لے آتی ہے۔
محبت اور نرمی کا اسوہ
حضور اکرم ﷺ کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو آپ کی نرمی اور محبت ہے۔ دشمن بھی جب آپ ﷺ کے قریب آتے تو آپ کے اخلاق سے پگھل جاتے۔ طائف کے میدان میں پتھر کھا کر لہو لہان ہونے کے باوجود آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کی۔ یہ محبت، یہ درگزر اور یہ نرمی ہی اصل سنت ہے۔
کاش ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اس سنت کو اختیار کریں۔ کاش ہمارے لبوں پر سختی کے بجائے نرمی ہو، ہمارے دل میں نفرت کے بجائے محبت ہو، اور ہمارے رویے میں درگزر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو امن اور سکون کی ضمانت دیتا ہے۔
آج کے حالات اور سنت کی ضرورت
آج کی دنیا کو دیکھیے، ہر طرف بے چینی، نفرت، اور عدم برداشت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ طاقتور کمزور کو کچل رہا ہے، معاشرتی بگاڑ بڑھ رہا ہے، اور انسان انسان کا دشمن بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت سنتِ رسول ﷺ کی ہے۔
آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
"المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده”
ترجمہ: "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
یہ حدیث دراصل امن اور سکون کی بنیاد ہے۔ اگر ہم اپنی زبان اور ہاتھ کو دوسروں کے لیے نقصان کا ذریعہ نہ بنائیں تو یقیناً معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
امن و سکون کا راستہ صرف سنتِ رسول ﷺ
یقین کیجیے! امن و سکون کا راستہ کسی فلسفے، کسی سیاسی نظام یا کسی مادی طاقت میں نہیں، بلکہ صرف اور صرف نبی رحمت ﷺ کی سنت میں ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے ایک روشنی ہے، ایک مثال ہے، ایک امان ہے۔ اگر ہم اس روشنی کو تھام لیں تو دلوں سے نفرت کے اندھیرے مٹ جائیں گے اور معاشرے میں سکون اور بھائی چارہ قائم ہو جائے گا۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو حضور اکرم ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھالیں گے۔ ہم اپنی زبان کو نرم بنائیں گے، اپنے دل کو محبت سے بھریں گے، اپنے رویے کو درگزر سے سجائیں گے۔ کیونکہ امن و سکون کا راستہ صرف ایک ہے:
سنتِ رسول ﷺ۔
یوسف صدیقی
