خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےگوندنی
اردو افسانےاردو تحاریرغلام عباس

گوندنی

ایک افسانہ از غلام عباس

از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 5, 2019 0 تبصرے 757 مناظر
758

مرزا برجیس قدر کو میں ایک عرصے سے جانتا ہوں۔ ہر چند ہماری طبیعتوں اور ہماری سماجی حیثیتوں میں بڑا فرق تھا۔ پھر بھی ہم دونوں دوست تھے۔ مرزا کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جو کسی زمانے میں بہت معزز اور متمول سمجھا جاتا تھا مگر اب اس کی حالت اس پرانے تناور درخت کی سی ہو گئی تھی جو اندر ہی اندر کھوکھلا ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر ایک دن اچانک زمین پر آ رہتا تھا۔ مرزا اس میں ذرا سی کوتاہی بھی نہ ہونے دیتا تھا۔ اس کے دل میں نہ جانے کیوں یہ خیال بیٹھ گیا تھا کہ خاندان ان کا وقار قائم رکھنے کیلئے درشت مزاجی اور تحکم لازمی ہیں۔ اس خیال نے اسے سخت دل بنا دیا تھا مگر یہ درشتی اوپر تھی اندر سے مرزا بڑا نرم تھا اور یہی ہماری دوستی کی بنیاد تھی۔ ایک دن سہہ پہر کو میں اور برجیس قدر انارکلی میں ان کی شان دار موٹر میں بیٹھے ایک مشہور جوتے والے کی دوکان سے سلیم شاہی جوتا خرید رہے تھے۔

مرزا نے اپنا ٹھاٹھ دکھانے کیلئے یہ ضروری سمجھا تھا کہ موٹر میں بیٹھے بیٹھے دکان کے مالک کو پکارے اور جوتے اپنی موڑ ہی میں ملاحظہ کرے۔ شہر میں ابھی مرزا کی ساکھ قائم تھی اور دکان دار عام طور پر اس کی یہ ادائیں سہنے کے عادی تھے چنانچہ جوتے والے نے اپنے دو کارندے مرزا کی خدمت پر مامور کر دیے مگر مرزا کو کوئی جوتا پسند نہیں آ رہا تھا اور وہ بار بار ناک بھوں چڑھا کر ان کارندوں کو سخت وست کہہ رہا تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مرزا کو دراصل جوتے کی ضرورت ہی نہیں اور یہ جھوٹ موٹ کی خریداری محض بھرم رکھنے کیلئے ہے۔ عین اس وقت ایک بڈھا بھکاری ایک پانچ سالہ لڑکی کے کندھے پر ہاتھ رکھے مرزا کی موٹر کے پاس آ کھڑا ہوا۔ یہ بڈھا اندھا تھا۔ لڑکی کے بالوں میں تنکے الجھے ہوئے تھے۔ معلوم ہوتا تھا مدت سے کنگھی نہیں کی گئی۔ دونوں کے تن پر چیتھڑے لگے تھے۔ ” اندھے پر ترس کھاؤ بابا۔ بڈھے نے ہانک لگائی۔ ” بابو جی میں بھوکی ہوں۔ پیسہ دو۔” لڑکی نے لجاجت سے کہا۔ مرزا نے ان لوگوں کی طرف توجہ نہ کی۔ وہ بدستور جوتوں پر تنقید کرتا رہا۔ اندھے فقیر اور لڑکی نے اپنا سوال دہرایا۔ اس پر مرزا نے ایک نگاہ غلط انداز ان پر ڈالی اور کہا۔ معاف کرو۔ معاف کرو۔ بھکاری اب بھی نہ ٹلے۔ بابو جی رات سے کچھ نہیں کھایا۔ اندھے نے کہا۔ بابو جی بڑی بھوک لگ رہی ہے، پیٹ میں کچھ نہیں لو دیکھو۔ بچی نے کہا اور جھٹ میلا کچیلا کرتا اٹھا کر اپنا پیٹ دکھانے لگی۔ لاغری سے بچی کی پسلیاں باہر نکلی ہوئی تھیں اور گنی جا سکتی تھیں۔ ” بس ایک پیسے کے چنے بابو جی” مرزا کو اس لڑکی کا میلا میلا پیٹ دیکھ کر گھن سی آئی۔ توبہ توبہ اس نے بے زاری کے لہجے میں کہا۔ بھیک مانگنے کیلئے کیا کیا ڈھنگ رچائے جاتے ہیں۔ جاؤ جاؤ بابا خدا کیلئے معاف کرو۔ ۔ مگر فقیر اب بھی نہ گئے۔ قریب تھا کہ مرزا غصے سے بھنا جاتا مگر یہ تماشہ اسطرح ختم ہو گیا کہ مرزا کو اس دکان دار کا کوئی جوتا پسند نہ آیا اور وہ اپنی موٹر وہاں سے بڑھا لے گیا۔

اس واقعے کے چند روز بعد میں اور مرزا برجیس قدر شہر کے ایک بڑے سینما میں ایک دیسی فلم دیکھ رہے تھے۔ فلم بہت گھٹیا تھی، اس میں بڑے نقص تھے مگر ہیروئن میں بڑی چنک منک تھی اور گاتی بھی خوب تھی۔ اس نے فلم کے بہت سے عیوب پر پردہ ڈال دیا تھا۔ کہانی بڑی دقیانوسی تھی۔ اس میں ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ بنک کے چپڑاسی کو اس الزام میں کہ اس نے بنک لوٹنے میں چوروں کی مدد کی، پانچ سال قید کی سزا ہو جاتی ہے۔ اس چپڑاسی کی بیوی مر چکی ہے مگر اس کا ایک چار سالہ بیٹا ہے جو اپنی بوڑھی دادی کے پاس رہتا ہے۔ چپڑاسی کے قید ہو جانے پر یہ دادی پوتا بھوکوں مرنے لگتے ہیں۔ ادھر کوٹھڑی کا کرایہ نہ ملنے پر مالک مکان انہیں گھر سے نکال دیتا ہے۔ بڑھیا پوتے کا ہاتھ پکڑ کا بازار میں بھیک مانگنے لگتی ہے۔ وہ ہر راہگیر سے کہتی ہے۔ ” بابو جی ہم بھوکے ہیں۔ ” ایک پیسے کے چنے لے دو بابو جی۔ لڑکا کہتا ہے۔ جب فلم اس مقام پر پہنچی تو مرزا برجیس قدر نے اندھیرے میں مجھ سے کہا۔ بیا ذرا اپنا رومال تو دیتا، نہ جانے میرا کہاں گر گیا۔ میں نے اپنا رومال دیدیا۔ جب تک تماشہ ہوتا رہا میں نے مرزا کو سخت بے چین دیکھا۔ وہ بار بار کرسی پر پہلو بدلتا اور ہاتھ چہرے تک لے جاتا۔ خدا خدا کر کے فلم ختم ہوئی تو میں نے دیکھا وہ جلدی جلدی آنکھیں پونچھ پونچھ رہا ہے۔ ” ایں، مرزا صاحب! میرے منہ سے بے اختیار نکلا آپ رو رہے تھے۔ ” نہیں تو۔ مرزا نے بھرائی ہوئی آواز میں جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔ ” آنکھوں کو ذرا سگریٹ کا دھواں لگ گیا تھا اور بھئی میں یہ سوچ رہا ہوں کہ سرکار ایسے دردناک فلم دکھانے کی اجازت کیوں دیتی ہے۔
٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پہاڑی کھیت میں!
  • کہیں دیر نہ ہو جاۓ
  • اخلاق, اقدار اور معاش!
  • عید اور رسم مصافحہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
روبینہ فیصل
پچھلی پوسٹ
مرا پیمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عظیم تر ہے​

متعلقہ پوسٹس

لال کی تلاش

اپریل 1, 2023

ہینڈ میڈ نظمیں

ستمبر 20, 2024

اردو زبان اور قائداعظمؒ کی بصیرت

ستمبر 14, 2025

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)

نومبر 6, 2025

حد کے اس پار

نومبر 7, 2019

عورت کی کہانی

مارچ 3, 2018

پندرہ سوسالہ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ

ستمبر 26, 2025

فضائل صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ

جنوری 24, 2022

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

مسئلہ کشمیر

دسمبر 9, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

شہباز خواجہ شاعری

جون 22, 2026

ماتم

جون 22, 2026

ہجر

جون 22, 2026

جستجو

جون 22, 2026

واپسی

جون 22, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

21 شہادتیں اور ایک قوم کی آنکھوں میں...

جون 13, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • خوش مزاجی اور حضور ﷺ

    جون 22, 2026
  • شہباز خواجہ شاعری

    جون 22, 2026
  • ماتم

    جون 22, 2026
  • ہجر

    جون 22, 2026
  • جستجو

    جون 22, 2026
  • واپسی

    جون 22, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

جانشینی سرٹیفیکیٹ

نومبر 26, 2025

جدید شعری جمالیات

مئی 27, 2024

مخبر

مئی 10, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں