خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباموت، مشرف اور انصاف
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

موت، مشرف اور انصاف

ایک اردو کالم از علی عبد اللہ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 20, 2019 0 تبصرے 363 مناظر
364

موت، مشرف اور انصاف

بعد از مرگ پھانسی یا کوئی بھی سزا اس اصول کے تحت دی جاتی ہے کہ

‘مجرم کی موت بھی اسے انصاف سے نہیں بچا سکتی۔’

ایسے مجرم جو اپنے جرائم کی سزا پائے بغیر مر جائیں انہیں قبر سے نکال کر سزائیں نا صرف قدیم زمانوں میں دی جاتی رہیں بلکہ جدید زمانہ عیسوی اور یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی تک جدید دنیا میں اسکے شواہد ملتے ہیں۔ عیسائیوں کا خیال تھا کہ قیامت کے دن مردوں کے جی اٹھنے کا تقاضا ہے کہ مکمل جسم کو مشرق کی جانب منہ کر کے دفن کیا جائے تاکہ جسم خدا کی طرف اٹھ سکے اور تقسیم کر کے کسی بھی جسم کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان کو روکنے کیلئے کیا جاتا تھا۔

عیسوی سن 897 میں پوپ اسٹیفن ششم نے کڈور Synod کے دوران پوپ فارموسس کی لاش کو قبر سے نکلوایا اور اس پر نہ صرف مقدمہ چلایا بلکہ گلٹی قرار دیکر اس سے قصاس لیا اور بعد میں اسے ٹائبر دریا میں پھینک دیا گیا۔ فارموس پر الزام یہ تھا کہ اسنے اسٹیفن
ششم کی تین انگلیاں ناحق کاٹی تھیں۔

برطانیہ میں بغیر سزا مر چکے مجرموں کی لاشیں نکال کر انکے اعضاء کاٹنا ایک باقاعدہ سزا مانی جاتی تھی جو پھانسی سے بھی اوپر تھی اور عوامی اجتماعات میں پھانسی لگا کر انکے اعضاء کاٹے جاتے تھے۔ سزا کا ایک باقاعدہ حصہ یہ تھا کہ لاش کو سرجن کے پاس لیجایا جائے جسکے بعد اسکے اعضاء کی عوامی نمائش کی جاتی۔ سن 1752 میں باقاعدہ ایک پارلیمانی ایکٹ جاری کیا گیا جسکی رُو سے انقطاعِ عُضو کو پھانسی کا نعم البدل قرار دیا گیا۔ انقطاع کا اصل مقصد قبر سے محروم رکھنا تھا تا کہ ایسے مجرم کو بعد از مرگ دوبارہ اٹھائے جانے سے روکا جا سکے۔ ایکٹ کیمطابق انقطاع میں رکاوٹ پیدا کرنے یا اعضاء کو لیجانے کی کوشش کی سزا 7 برس رکھی گئی۔

تقریباً 100 برس قبل 1649 میں کرنل آلیور کرامویل نے بدعنوانی اور بے حیائی کی روک تھام کے نام پر سول وار کے بعد چارلس اول کا تختہ الٹا اور ٹرائل کر کے اسے موت دیدی۔ کرامویل نے کرسچن مذھب میں بدعات کے خلاف جدوجہد کی اور اسے پروٹیسٹنٹ فرقے کا بانی بھی مانا جاتا ہے۔ وہ 3 ستمبر 1658 کو مرا اور مکمل شاھی اعزاز کیساتھ ویسٹ منسٹر قبرستان میں دفن ہوا۔ اسکے بعد اسکا بیٹا رچرڈ تخت افروز ہوا جو فوج نے اسکا تختہ الٹ کر چارلس دوم جو اس وقت جلا وطنی کی زندگی گزار رہا تھا کو لندن لا کر تخت پر بٹھا دیا۔ چارلس دوم کی پارلیمنٹ کے حکم پر آلیور کرامویل اور اسکے تین بڑے سہولتکاروں کو تختہ الٹنے اور مارشل لاء لگانے کے جرم میں انکی قبریں شق کر کے باھر نکالا گیا اور الصبح سے شام چار بجے تک علامتی پھانسی دی گئی۔ حکم کے مطابق انکے ڈھانچوں سے کھوپڑیاں الگ کی گئیں اور کرامویل کی کھوپڑی کو ایک 20 فٹ کے نیزے میں پرو کر عین اس جگہ نصب کر دیا گیا جہاں اس نے چارلس اول کا ٹرائل کیا تھا۔ مہذب برطانوی پارلیمنٹ نے تختہ الٹنے والے کے سر کو ٹانگ تو دیا لیکن اسکے واپس قبر میں پہنچانے کا انتظام کرنا بھول گئی اور مختلف روایات کے مطابق ایک ذوردار آندھی نے کرامویل کے سر والے Spike کو 1672/1685 یا پھر 1703 میں زمین پر دے مارا جسکے بعد وہ امیر لوگوں کے ڈرائنگ روموں کی زینت رہا۔ الحال 25 مارچ 1960 کو کیمبرج یونیورسٹی کے سڈنی سسیکس کالج میں اسکی باقاعدہ تدفین ہوئی۔

اینگلو سیکسن بادشاہ ہیرلڈ ہیئرفٹ کنٹ کا ناجائز بیٹا تھا۔ اسکے مرنے کے بعد اسکے سوتیلے بھائی نے غداری کے الزام پر اسکی لاش کو قبر سے نکلوایا اور سوروں کے باڑے میں پھینکوا دیا۔

سائمن ڈی منٹفورٹ لیسٹر کا چھٹا ارل تھا جو ایوشام کی لڑائی 1265 میں زخمی ہو کر مرا۔ ہنری سوئم کے نائٹس نے بغاوت کے جرم پر اسے قبر سے نکالا، سر کاٹا اور پھر تقسیم کر دیا۔

راجر ڈیموری برٹن برج کی لڑائی میں مارا گیا مگر ایڈورڈ دوم نے غداری کے جرم میں اسے قبر سے نکال کر سزا دی۔

جان وائیکلف 1384 میں مرا۔ ٹھیک 45 سال بعد اسکی لاش کو برآمد کر کے آگ لگا دی گئی۔

والڈ ڈی ایمپالر 1476 کے مرنے کے بعد اسکا سر کاٹا گیا۔

جیکوپو بونفاڈیو کا Sodomy کے الزام پر سر کاٹا گیا۔ بعد ازاں اسکے جسم کو آگ

لگائی گئی۔

سولھویں صدی میں جنوبی سویڈن کے غلاموں نے بغاوت کر دی۔ نِلس ڈیک جو انکا لیڈر تھا اسے قبر سے نکال کر اسکا ٹرائل کیا گیا۔

برطانوی ملکہ میری اول کے حکم پر مارٹن بوسر کو قبر سے نکال کر مارکیٹ سکوائر کیمبرج میں آگ لگا دی گئی۔

گووائر کانسپریسی کے اختتام 1600 پر اسکے سرخیل جان، ارل آف گووائر اور اسکے بھائی الیگزینڈر کو بغاوت کے جرم میں پھانسی دی گئی۔ اسکے بعد انکے جسموں کے ٹکڑے کر کے ملک کے مختلف حصوں میں نمائش کیلئے رکھ دیئے گئے۔

گیلیز وین لیڈنبرگ کو بعد از مرگ غداری ثابت ہونے پر قبر سے نکال کر پھانسی دی گئی۔

روس میں عام عوام نے مشہورِ زمانہ راسپوٹین کی لاش کو 1917 میں قبر سے نکال کر آگ لگا دی۔

سن 1918 میں روسی جنرل لاور کورنیلوف کو غداری کے الزام میں بالشویک عوام نے قبر کھود کر باہر نکالا۔ اس پر تشدد کیا، روندا اور پھر آگ لگا دی۔

گبرڈ وان بلچر 1819 میں مارا گیا۔ سوا سو سال بعد 1945 میں روسی افواج نے اسے قبر سے نکالا اور اسکے سر کیساتھ باقاعدہ فٹبال کھیلا گیا

عظیم جنرل گارسیہ ہیٹی کے آمر پاپا ڈاک کا حمائیتی اور سہولتکار تھا جو 1971 میں اپنی موت مرا۔ اسکے جنگی جرائم اور غداری پر عوام نے 1986 میں اسے قبر سے نکالا اور علامتی طور پر تشدد کر کے قتل کیا۔

مہذب دنیا کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ رہ گئی اسلامی تاریخ تو سن 61 ہجری کربلا میں خاندانِ نبویؐ کو مسلمانوں نے بغاوت کا الزام لگا کر تہہِ تیغ کیا۔ امام حسنؑ کے تیرہ برس کے بیٹے قاسم کی لاش کو گھوڑوں کے سُموں سے ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا یہاں تک کہ چھ ماہ کے علی اصغر کا قتل بھی ثواب سمجھ کر کیا گیا۔ ظلمِ عظیم کرنے کے بعد تمام شہدا کے سر کاٹ کر انہیں نیزوں میں پرویا گیا اور شہر شہر خانوادہ رسالتؐ کی تذلیل کا انتظام کر کے انہیں سروں سمیت نو سو میل دور دمشق لیجایا گیا جہاں از خود خلیفہ بنا بیٹھا یزید امامؑ عالی مقام کے کٹے سر پر چھڑیاں مارتا رہا۔

مطالعہ پاکستان محمد بن قاسم، ابدالی، سبتگین، غوری اور جن مغلوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے وہ کوئی حاجی ثناء اللہ نہیں تھے۔ تمام فاتحین میں سے کسی ایک نے بھی اسلام کی خدمت نہیں کی۔ تلوار کے ذور پر مسلمان کرنا کچھ بھی کہلائے سُنتِ محمؐدی نہیں ہو سکتی کیونکہ محؐمدِ عربی خالصتاً حُسنِ سلوک تھے۔

بار بار دِلّی تاراج کرنے والوں نے راستے میں کتنے انسانوں کو قتل کیا، کتنوں کے گھر جلائے، کھوپڑیوں کے مینار بنائے یہ سرکاری پاکستانیوں کو کوئی نہیں بتاتا اور نہ اس جہالت زدہ معاشرے میں اسکے بتانے کی اجازت ہے۔ ذلیل ایوب خان سے لیکر غدار پرویز مشرف تک آمروں نے ہزاروں ماورائے عدالت قتل اور ظلم و جور کی ایسی ایسی کہانیاں رقم کی ہیں کہ قائدِ اعظم ہوتے تو شرم سے ڈوب مرتے۔ ان جانبازوں نے سقوطِ ڈھاکہ کے دوران محض نو ماہ کے آپریشن میں 18 لاکھ بنگالیوں کو قتل کیا۔ صرف ایک رات میں 30 ہزار بنگالی عورتوں کی عزتوں کو تارتار کیا مگر پھر بھی یہ مقدس گائے ہیں۔ انہوں نے کبھی اس ملک کے عوام کی رائے کو نافذ نہیں ہونے دیا تا کہ انکے ڈی ایچ اے اور کاروبار بند نہ ہو جائیں۔ کوئی ان سے پوچھتا نہیں کہ جب چار طرف تم کھڑے ہو تو ملک میں سمگلنگ والی اشیاء اور منشیات کس کی اجازت سے داخل ہوتی ہیں؟ یہ واپڈا ڈیوٹی کریں یا سیلاب ڈیوٹی اسکا الگ بل حکومت کو بھیجتے ہیں مگر لوگ یہی جانتے ہیں کہ یہ مفت کام کرتے ہیں۔

جو بولے اسے اٹھا لو اس پر اپنے ٹرینڈ لوگ چھوڑ کر اسکی تذلیل کرو اسے نو نمبرز سے کال کر کے دھمکیاں دو لیکن اسکے خلاف کہیں کوئی رپورٹ نہیں کٹے گی لیکن اگر کسی نے فوجی آمر کیخلاف آرٹیکل 6 کی کاروائی کرنے کی کوشش کی تو عمران خان اور طاہرالقادری جیسے دھرنے دیکر آمر کے باھر جانے کا انتظام کریں گے۔ آج عدالت نے آمر کو سزائے موت دی تو پورا ملک خوشی منا رہا ہے سوائے چوکیدار اور اسکے ہمنواوں کے مگر وہ وقت دور نہیں جب غداری اور جنگی جرائم پر یہ قوم ان غاصبوں کا اپنے ہاتھوں سے احتساب کر گی کیونکہ یہی تاریخ کا سبق ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہ دل باغِ سخن کے نام کر دیں لوگ
  • مری محبت بھی نیلگوں ہے
  • چنگ و رباب لے لیے تلوار کے عوض
  • میں جس کو بھی سہارا کر رہا تھا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
غلطی بانجھ نہیں ہوتی
پچھلی پوسٹ
جوتا مارو سالوں کو

متعلقہ پوسٹس

سمینٹ میں دفن آدمی

مئی 27, 2023

وقت کی قید میں

جنوری 17, 2025

ساعتِ صبر کرم لگتی ہے

جنوری 25, 2020

میرے محرماں

جون 16, 2025

جب بھی اِس راہ سے وہ رشکِ بُتاں گزرے گا

دسمبر 20, 2020

اس بات کا خود اسکو

ستمبر 6, 2025

کام

جنوری 10, 2021

شکست

نومبر 14, 2021

ایک ادنٰی سی استدعا

مارچ 30, 2020

باعث آزار ہو جاتے ہیں لوگ

جولائی 3, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شب زفاف جب داغدار ہو جائے...

نومبر 29, 2019

چمک، شہرت اور تلخ حقیقت

فروری 22, 2026

شب ڈوب گئی

دسمبر 13, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں