100
یہ شب اداسی کو
بھانپ لے گی
چراغ رخمی ہوا
کے آگے
جو اب بھی
ہتھیار ڈال دیں گے
تو قید ہو جائے گی
اداسی
کُمک جو اشکوں
کی آرہی ہے
شکست کھانے
پہ اب وہ
اپنی ہی پسپا آنکھوں
کی سمت
کیسے روانہ ہوگی
اے شب کے لشکر
ان آنسووں کو
کوئی غنیمت سمجھ
کے رکھ لو
عمران سیفی
