105
حیرت بھر کر آنکھوں میں رہ جاتے ہیں
سپنے خالی جیبوں میں رہ جاتے ہیں
تعبیروں کے روز جنازے اُٹھتے ہیں
آنکھوں والے خوابوں میں رہ جاتے ہیں
ڈھل جاتے ہیں پھر اک بار کٹھالی میں
جذبے کھوٹے سکّوں میں رہ جاتے ہیں
بازاروں میں اور ہی قصّے چلتے ہیں
شاعر غزلوں نظموں میں رہ جاتے ہیں
موڑ، کہانی اور کوئی مُڑ جاتی ہے
ہم اپنے اندازوں میں رہ جاتے ہیں
منزل سے کوئی اور وصال مناتا ہے
ہم راہوں کی بانہوں میں رہ جاتے ہیں
عمران ہاشمی
