104
کیا کیا چہرے چیخ رہے ہیں یادوں کے انبار تلے
دل پر ایسا بوجھ دھرا ہے جو ہٹنے کا نام نہ لے
اپنی ٹوٹی چھت پر شاید اک دن سورج چمکا تھا
مٹھی میں کچھ دھوپ چرائے بیٹھا ہوں دیوار تلے
پت جھڑ کے آوارہ جھونکے ان پر ڈیرا ڈالے ہیں
جن شاخوں پر بچھڑے پنچھی آ ملتے تھے شام ڈھلے
قسمت ہم کو پھینک گئی ہے تیز ہوا کی راہوں میں
دل بھی کیا ہے ایک دیا ہے دیکھیں کتنی دیر جلے
منہ دیکھی باتوں میں یارو کیا رکھا ہے رہنے دو
حال ہمارا تم مت پوچھو جاؤ ہم بیمار بھلے
دنیا کا دستور یہی ہے ناقدری کی بات نہیں
جو بھی لمحوں کو ٹھکرائے صدیوں اپنے ہاتھ ملے
اپنی اپنی سب کی راہیں اپنا اپنا سب کا سفر
تم بھی کسی کے ساتھ چلے ہو ہم بھی کسی کے ساتھ چلے
جانے رستہ بند ہے قیصرؔ یا کوئی پچھتاوا ہے
اس نگری سے جو بھی جائے پھر آنے کا نام نہ لے
قیصر الجعفری
