خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپنجرے سے پرواز
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرمحسن خالد محسن

پنجرے سے پرواز

از سائیٹ ایڈمن جولائی 14, 2026
از سائیٹ ایڈمن جولائی 14, 2026 0 تبصرے 10 مناظر
11

صبح ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی۔ مشرق کی پیشانی پر سنہری روشنی کا پہلا لمس نمودار ہو رہا تھا۔ شبنم کے قطرے گھاس کی نوکوں پر اس طرح جھلملا رہے تھے جیسے کسی درویش کی دُعا آنکھوں میں موتی بن کر ٹھہر گئی ہو۔ پرندے اپنے گھونسلوں سے نکل کر آسمان پر اُمید کے دائرے بنا رہے تھے اور ٹھنڈی ہوا درختوں کی شاخوں سے رازدارانہ سرگوشیاں کر رہی تھی۔
بارہ سالہ احسن اپنی نیلی وردی پہنے، بستہ کندھے پر لٹکائے، سکول کی طرف رواں تھا۔ اس کی ماں نے دروازے تک آ کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
"بیٹا! سیدھا سکول جانا، راستے میں کسی اجنبی سے بات مت کرنا۔”
احسن ہنس کر بولا:”امی! آپ فکر نہ کریں، میں جلد واپس آ جاؤں گا۔”
ماں نے آسمان کی طرف دیکھ کر دُعا کی مگر تقدیر کے پردے میں ایک ایسا منظر لکھا جا چکا تھا جس سے ہر کوئی بے خبر تھا۔
راستہ باغ کے کنارے سے گزرتا تھا۔ درخت ایسے کھڑے تھے جیسے وقت کے بزرگ گواہ ہوں۔ اچانک ایک سفید وین آ کر رُکی۔ دو آدمی اُترے۔ ایک نے مسکرا کر کہا:
"بیٹا! ذرا یہ پتہ بتا دو۔”
احسن ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ دوسرے آدمی نے پیچھے سے اس کا منہ دبا لیا۔ پلک جھپکتے ہی اسے گاڑی میں دھکیل دیا گیا۔ گاڑی ہوا سے باتیں کرتی ہوئی دور نکل گئی۔
احسن کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے سورج اچانک بجھ گیا ہو اور روشنی کو کسی نے زنجیروں میں جکڑ دیا ہو۔
اِدھر گھر میں قیامت برپا تھی۔ دوپہر تک جب احسن واپس نہ آیا تو ماں کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں۔ والد نے دوستوں، رشتہ داروں اور سکول میں تلاش شروع کر دی۔
کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔
"اگر بچے کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو پچاس لاکھ روپے تیار رکھو۔ پولیس کو اطلاع دی تو ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے۔”
ماں کے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔ باپ کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ خوشیوں کا گھر یکایک ویرانے میں بدل گیا۔
احسن کو ایک پرانے مکان میں رکھا گیا تھا۔ کمرے کی دیواریں نمی سے بھیگی ہوئی تھیں۔ چھت سے مکڑیوں کے جالے لٹک رہے تھے۔ ایک چھوٹی سی کھڑکی سے آسمان کا صرف ایک ٹکڑا دکھائی دیتا تھا۔
پہلے دن وہ بہت ڈرا، مگر پھر اسے اپنے اُستاد کی بات یاد آئی:
"مشکل وقت میں گھبرانے والا انسان خود اپنی شکست لکھ دیتا ہے۔”
احسن نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ وہ خوف کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دے گا۔
اس نے اِردگرد کی ہر چیز کا مشاہدہ شروع کیا۔
وہ روز قدموں کی آوازیں گنتا۔
دروازہ کتنی بار کھلتا؟
کھانا کون لاتا؟
کتے کے بھونکنے کا وقت کیا ہے؟
اذان کس سَمت سے آتی؟
رات کو ٹرین کی آواز سنائی دیتی ہے یا نہیں؟
اسے معلوم تھا کہ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی معلومات ایک دن آزادی کا راستہ بن سکتی ہیں۔
اغوا کاروں میں ایک نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں سختی سے زیادہ تھکن دکھائی دیتی تھی۔ احسن اس سے ہمیشہ احترام سے بات کرتا۔
"انکل! آپ کے بچے ہیں؟”
نوجوان چونک گیا۔
"ہاں… ایک بیٹا ہے۔”
"وہ بھی میری عمر کا ہوگا؟”
"تقریباً۔”
احسن خاموش ہو گیا۔
یہ خاموشی تلوار سے زیادہ گہری تھی۔
اس رات نوجوان دیر تک سو نہ سکا۔
دوسرے دن احسن نے کھڑکی سے دیکھا کہ باہر ایک نیم کا درخت ہے۔ شام کو اس پر سینکڑوں چڑیاں آ بیٹھتی تھیں۔
اس نے سوچا:
"پرندے بھی تو قید پسند نہیں کرتے۔ پھر میں کیوں ہار مانوں؟”
اس کے دل میں اُمید کی ننھی کونپل پھوٹنے لگی۔
چند دنوں بعد اس نے محسوس کیا کہ اغوا کار ہر رات ایک خاص وقت پر باہر جاتے ہیں۔ صرف ایک آدمی پہرہ دیتا ہے، اور وہ بھی اکثر اونگھنے لگتا ہے۔
احسن نے جلد بازی نہ کی۔
اسے معلوم تھا کہ جلد بازی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔
وہ مناسب موقع کا انتظار کرتا رہا۔
ایک رات تیز بارش شروع ہو گئی۔ بجلی چمکی تو پورا مکان لمحہ بھر کے لیے روشن ہو گیا۔
اسی روشنی میں احسن نے دیکھا کہ دروازے کی کنڈی پوری طرح بند نہیں ہوئی۔
اس نے فوراً دروازہ نہیں کھولا۔
پہلے کئی منٹ خاموش بیٹھا رہا۔
جب ہر طرف مکمل سکوت چھا گیا تو اس نے آہستہ سے کنڈی ہٹائی۔
دروازہ چِرچراتا ہوا کھل گی مگر سامنے لوہے کا ایک اور دروازہ تھا۔
ایک لمحے کے لیے اس کی اُمید بجھنے لگی۔ پھر اسے دادا کی نصیحت یاد آئی:
"جہاں چاہ، وہاں راہ۔”
زمین پر ایک زنگ آلود تار پڑا تھا۔
اس نے تار کو سیدھا کیا اور کنڈی میں ڈال کر آہستہ آہستہ حرکت دینے لگا۔
پہلی کوشش ناکام۔
دوسری کوشش ناکام۔
تیسری بار تار ٹوٹ گیا۔
اس کی اُنگلیوں سے خون رِسنے لگا۔
مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔
آخرکار کنڈی کھل گئی۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے پنجرے کا دروازہ خود آسمان نے کھول دیا ہو۔
رات کی تاریکی میں کھیت سیاہ سمندر کی مانند پھیلے ہوئے تھے۔
ہوا سرد تھی۔
کانٹے اس کے پاؤں میں چُبھ رہے تھے۔
دور کہیں کُتوں کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی۔
مگر وہ چلتا رہا۔
اس نے دادا کے بتائے ہوئے طریقے سے ستاروں کی سَمت سے راستہ پہچانا۔
اسے یاد آیا کہ گاڑی جب یہاں آئی تھی تو ایک شوگر مل کی بو محسوس ہوئی تھی۔
وہ اسی سَمت چل پڑا۔
کافی دیر بعد اسے بجلی کے کھمبے دکھائی دیے۔
اس نے سوچا:
"جہاں بجلی ہے، وہاں آبادی بھی ہوگی۔”
وہ کھمبوں کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔
کئی گھنٹوں بعد اسے ایک پولیس چوکی نظر آئی۔
اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔
وہ بھاگ کر وہاں پہنچا اور ساری داستان سنا دی۔
پولیس نے فوراً کارروائی شروع کی۔
احسن نے ہر وہ بات بتائی جو اس نے قید کے دوران نوٹ کی تھی۔
نیم کا درخت۔
کتے کی آواز۔
شوگر مل کی خوشبو۔
ریل گاڑی کا شور۔
نمی والی دیواریں۔
یہ سب نشانیاں ایک نقشے کی طرح پولیس کے سامنے آ گئیں۔
پولیس کی بروقت کارروائی سےچند صبح ہونے سے پہلے اغوا کار گرفتار کر لیے گئے۔
جب احسن گھر پہنچا تو اس کی ماں نے اسے اس طرح سینے سے لگا لیا جیسے برسوں کا بچھڑا مسافر لوٹ آیا ہو۔
والد کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
پورا محلہ استقبال کے لیے جمع تھا۔
کسی نے کہا:
"یہ بچہ تو شیر کا دل رکھتا ہے۔”
اس واقعہ کے چند دن بعد سکول میں ایک تقریب ہوئی۔
پرنسپل نے احسن سے کہا:
"بیٹا! خود پر بِیتے واقعے کے پیشِ نظر بچوں کو کچھ نصیحت کرو۔”
احسن نے مائیک سنبھالا اور کہا:
"میں نے جانا کہ خوف سب سے بڑی زنجیر ہے۔ اگر انسان ہمت ہار دے تو آزاد ہو کر بھی قیدی رہتا ہے۔اگر اُمید کا چراغ روشن رکھے تو مضبوط سے مضبوط قید بھی ایک دن ٹوٹ جاتی ہے۔ میں نے ہر لمحہ مشاہدہ کیا، جلد بازی نہیں کی اور موقع ملنے پر محفوظ طریقے سے مدد حاصل کی۔”
ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔
اس دن کمرہ جماعت میں اُستاد نے تختۂ سیاہ پر جلی حروف میں یہ جملہ لکھا:
"حاضر دماغی، صبر اور علم وہ پَر ہیں جن کے سہارے انسان ہر پنجرے سے پرواز کر سکتا ہے۔”
اس واقعے کے بعد احسن کی زندگی بدل گئی۔ وہ جان گیا کہ زندگی میں بعض اوقات اغوا صرف جسم کا نہیں ہوتا، انسان کا حوصلہ بھی خوف، لالچ، نااُمیدی اور جہالت کے ہاتھوں اغوا ہو جاتا ہے۔ مگر جو انسان اپنے اندر اُمید، عقل اور سچائی کی شمع روشن رکھتا ہے، وہ ہر اندھیرے کو شکست دے سکتا ہے۔

محسن خالد محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نہال حسن بہت کم سمے کا ساتھی تھا
  • بے نام
  • سنگترہ ، بہترین پھل بہترین فوائد
  • آئیں آزادی سے ملیں !
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قلم کا سفر
پچھلی پوسٹ
لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

متعلقہ پوسٹس

ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اپریل 15, 2020

بے باکیوں پہ شیخ ہماری نہ جائیو

جون 3, 2020

ضمیر واحد متبسم

دسمبر 16, 2019

ضرورتاں دے پیالیاں وچ

اپریل 3, 2026

یکم مئی (یومِ مزدور)

مئی 1, 2026

اللہ تو نور ھے

دسمبر 22, 2024

حاملہ خواتین اور غذائی مشکلات

جولائی 13, 2025

اِنسانی نسلیں اور معاشرتی ترقی

نومبر 16, 2025

خدا کا حُسن ِ انتخاب

نومبر 26, 2021

کیا نظریاتی تنقید ممکن ہے؟

مئی 27, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ادب کی روشنی میں اُردو

اکتوبر 14, 2025

اس کا پتی

فروری 14, 2019

سرسراتی ہوا

دسمبر 11, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں