103
مری طلب تھی مگر ساعت یقین تلک
وہ کم نگاہ بھی دو آتشے کا ساتھی تھا
کہ رنگ رفتگی ہر وقت تھا نگاہوں میں
مگر جو شام کے دورانیے کا ساتھی تھا
پھر ایک روز وہ گرد شفق میں ڈوب گیا
جو انتظار کسی طاقچے کا ساتھی تھا
مگر وہ نیند وہ جنت کا پیش خیمہ نیند
جہاں پہ ہر کوئی اک دوسرے کا ساتھی تھا
اسی نے ٹوٹ کے آنکھوں میں روشنی بھر دی
جو اک ستارہ مرے رت جگے کا ساتھی تھا
اسے تو چاہیے وہ ساتھ دے سہارا دے
اسے خبر ہے وہ اچھے برے کا ساتھی تھا
مرے لیے مری بانہیں قفس بنی ہوئی تھیں
مرے لیے تو اندھیرا دیے کا ساتھی تھا
یہ رزم گاہ ابابیل کھا گئی میرے
تمام شہر یہاں ابرہے کا ساتھی تھا
عثمان علوی
