102
میکدہ بھی ہے غم کا گھر بابا
اس لیے لگ رہا ہے ڈر بابا
میرے خوابوں کاجو محل تھا کبھی
ہو گیا وہ تو اب کھنڈر بابا
ایک صیاد کی طرح غم نے
نوچ ڈالے ہیں بال و پر بابا
لوگ کہتے ہے زندگی جس کو
کتنی مشکل ہے وہ ڈگر بابا
پوچھتے پھر رے ہیں دیوانے
ہے درِ میکدہ کدھر بابا
کوئ رہبر نہ ہمسفر کوئی
کیسے گزرے گا یہ سفر بابا
طلعت سروہا
