107
مرے صحرا تشنہ دہانیوں سے بھرے ہوئے
ترے دریا دریا روانیوں سے بھرے ہوئے
جہاں بستی والوں نے روشنی کی دعائیں کیں
وہاں سب چراغ تھے پانیوں سے بھرے ہوئے
تری آنکھ بدلی تو میں بھی چھوڑ کے آگیا
کئی باغ رات کی رانیوں سے بھرے ہوئے۔
مری ہجرتوں پہ سوال کرتے ہیں روز و شب
مرے پاںوں نقل مکانیوں سے بھرے ہوئے
تری دید کرنے کو دیکھتا ہوں میں گاہ گاہ
یہ صحیفے تیری نشانیوں سے بھرے ہوئے
مرے بچپنے کی شرارتوں کو بھی کھا گئے
یہ نصاب جھوٹی کہانیوں سے بھرے ہوئے
صابر رضوی
