خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامزاح نگاری کا پہلا سبق
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریر

مزاح نگاری کا پہلا سبق

از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024
از سائیٹ ایڈمن مئی 25, 2024 0 تبصرے 78 مناظر
79

حضرات ! گزشتہ دنوں جب ہمارا ایک مزاحیہ مضمون اخبارات کے قیمتی کالموں کو ضائع کیا تو ہمیں کچھ ٹیلی فون کال موصول ہوئے اور بعض غیر سنجیدہ افراد ہماری خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھنے لگے کہ وہ مضمون آپ نے کس سے لکھایا تھا۔ ؟ ہمیں اس سوال پر خوشی ہوئی۔ انکا یہ سوال اس لئے غلط نہیں تھا کہ انہوں نے ہمارے قلم سے چند سیاسی تبصرے پڑھے تھے۔ ہم نے کہا میاں ہم نے مزاح نگاری کا ایک قلیل المیعاد کورس طویل عرصے سے پڑھ کر مکمل کیا ہے۔ اور اب اس قابل ہوئے ہیں کہ لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ لانی کی عظیم خدمت انجام دے سکیں۔ ایک صاحب نے پوچھا یہ تو بڑے ” فخر و فاقے ” کی بات ہے۔ (غالباً انہوں نے فخر کی تفضیل کل Superlative degreeکو فاقہ سمجھا) کہ ہمارے شہر میں ایک کوالی فائڈ مزاح نگار جنم لیا ہے۔ دوسرے صاحب نے پوچھا : اچھا آپ نے یہ کورس کہاں سے کیا۔ ہم نے فوری جواب دیا ” ابن انشاء میموریل خوش دلان انسٹی ٹیوٹ ” سے۔ حاضر مجموعے میں سے ایک اردو سے واقف زمانے کا مارا بلکہ ریسیشن کامارا ایک کمپیوٹر انجنیر بھی تھا۔ اس نے تعجب سے سوال کیا کہ یہ ” مجانگاری ” کس علم کی برانچ ہے سر۔ میڈیکل، انجنئیرنگ، سوشل سائنس یا کوئی اور ۔ ہم نے ہونہار نوجوان کو جنہیں انکی کمپنی نالائقی کی وجہ سے ” پنک سلپ ” دے چکی تھی کہا ’’دیکھو یہ جھگڑا برسوں سے چلا آ رہا ہے کہ مزاح نگاری کو کس شعبہ میں شامل کیا جائے۔ اور جوں جوں زمانہ گزر رہا ہے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتے جا رہا ہے۔ حالانکہ نا تو اس میں امریکہ ملوث ہے اور نا ہی اسرائیل اور نا ہی بی جے پی۔ علم نفسیات والے کہتے ہیں کہ یہ ہمارے علم کی شاخ ہے۔‘‘
مزاح لکھنے والے کو ماہر نفسیات ہونا ضروری ہے۔ مزاح ناپ تول کر بر وقت، بر موقع، بر جستہ، اور سارے معاملات سے بری الذمہ ہو کر لکھنا اور کہنا پڑتا ہے۔ لسانیات والے کہتے ہیں کہ یہ تو ہماری نالائقی اولاد ہے۔ جب دیکھو ٹھی ٹھی، ٹھاٹھا کرتی رہتی ہے۔ ہم تو اسے اپنا ہی مانیں گے چاہے جیسی بھی ہو۔ فائن آرٹ اور تھیٹر والے کہتے ہیں کہ یہ ہماری ملکیت ہے۔ وہ اسے معاش کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اب تو ہر ٹی۔ وی چینل والا اسے اپنا یا ہوا ہے۔ پتہ نہیں شیکھر سومن اور صدو پاجی کب اپنی کوئی کمپنی کھول لیں۔ یقین مانئے۔ شیر مارکیٹ میں اس کے اتنے شیئر فروخت ہونگے کہ مند مارکیٹ میں تیزی آ جائیگی۔ خیر اسطرح اسے شیئر مارکیٹ میں کھینچ کر معاشیات اور اقتصادیات کا بھی حصہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

ادارہ ادب اسلامی والے کہتے ہیں ” مسکراہٹ صدقہ ہے ” اور کسی کو صحت مند تفریح فراہم کرنا اسلامیات میں شامل ہے۔ سوامی رام دیو گروجی کہتے ہیں کہ ہنسنا یوگا کا ایک اہم آسن ہے۔ ویسے انکو اسٹیج پر بیٹھا دیکھ کر سامنے والا صرف ہنسنے والا آسن ہی کرتا ہے۔

اس پر ایک صاحب اپنا ہاتھ اٹھا کر ایک سوال کی اجازت چاہی۔ ہم نے دریافت کیا کہ آپ کا نام کیا ہے۔ جواب دیا کہ سبز خاں۔ ذرا سی حیرت ہوئی۔ پھر ہم نے کہا کہ کہئے جناب۔ انہوں نے کہا کہ مزاح نگاری ماحولیات سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ ہم نے پوچھا وہ کیسے انہوں نے کہا مزاح نگار کی ماحول پر گہری نظر ہوتی ہے۔ ہم نے پوچھا سبز خاں صاحب آپ کا نام تو بڑا ماحولیات سے متعلق ہے، آپ کیا کرتے ہیں۔ خان صاحب نے کہا ماحولیات سے متعلق غیر سرکاری ادارے میں کام کرتا ہوں۔ کیا کام کرتے ہیں جناب۔ خان صاحب بغیر شرمائے کہنے لگے۔ غیر سماجی اداروں اور سرکاری عہدیداروں کے درمیان رابطہ کا کام کرتا ہوں۔ ہم نے کہا ” گاندھی جی ” کے ہوتے ہوئے بھی آپ کی ضرورت ہے۔

تو اس طرح میرے نوجوان یہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہو سکا۔ پتہ نہیں یہ مسئلہ کب، کیسے اور کون حل کر سکتا ہے۔ چونکہ محفل با ضابطہ نہیں تھی اس لئے ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ مزاح نگاروں کو خوش دلان کیوں کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارے کورس کا در اصل یہ پہلا سبق ہے۔ اور خوش دلان در اصل دنیا کا ایک بہت بڑا فلسفہ ہے جسے ارسطو اور سقراط نے بھی حل نہیں کر سکا۔ لیکن آپ لوگوں کو خوش ہونا چاہئے کہ آپ کے شہر کا ایک لائق مزاح نگار نے اس فلسفہ کی گتھی سلجھائی اور میں نے اس پر مقالہ پیش کر کے سند حاصل کی ہے اور اب اس قابل ہوں کہ آپ کے سامنے نہرو کرتا پہن کر اس کی کالر سیدھی کر سکتا ہوں۔ لیجئے اس فلسفہ کو مختصراً آپ بھی سن لیجئے۔

خوش دلان۔ خوش یعنی خوشی، دلان یعنی دل کی جمع، جیسا کہ آپ نے سنا ہو گا کہ دو دل ملنے کو۔۔۔۔۔ کہتے ہیں۔ تو دلان کا مطلب پیار۔ خوش دلان یعنی خوشیوں والا پیار۔ یہ تو اسکے لفظی معنی ہو گئے۔ لیکن دیکھئے کئی مرکبات اپنے لفظی معنی ایک رکھتے ہیں اور ان کے حقیقی معنی کچھ اور ۔ ایسا اکثر محاوروں میں ہوتا ہے۔ جیسے بال کی کھال نکالنا۔ تو اسی طرح خوش دلان کا حقیقی مفہوم کچھ اور ہے۔ اور اسے یوں ہی سمجھایا نہیں جا سکتا۔ اس کو سمجھنے کے لئے واجپائی صاحب کی سیاسی زندگی پر گہری نظر ضروری ہے۔ اس پر مجموعہ میں سے کسی نے ہنس دیا اور کہا کہ خوش دلان کو واجپائی صاحب کی زندگی سے کیا مطلب ؟ ہم نے کہا کہ یہ ہی تو گہرائی ہے خوش دلان کی۔ پھر ہم نے کہا کہ وقت نہیں ہے بس مختصر اور آسان الفاظ میں سمجھاتا ہوں۔ واجپائی صاحب کے دو چہرے تھے۔ ایک اندر کا نظریاتی چہرا اور دوسرا دیکھا وے کا۔ دیکھاوے کا چہرا بابری مسجد کی شہادت اور گجرات فسادات کے وقت سامنے آیا۔ اور اندر کا چہرا انہیں بی جے پی کے اعلی عہدہ پر برقرار رکھا۔

زندگی بھر شادی نہیں کی۔ اندر کچھ اور تھا لیکن چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔ تو سمجھ لیجئے، کہ اگر زندگی کی کیفیت بدتر بھی ہے تو کوئی بات نہیں، چہرے پر مسکراہٹ ہونا چاہئے۔ اور اسی دو رخے پن کا نام ” خوش دل ” ہے اور جب اس طرح کے ہمت والے لوگ ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو اُسے ” خوش دلان ” کہا جاتا ہے۔ یعنی دل میں آہ ! لیکن لبوں پر خوشی۔ اسی طرح یہ دوسروں کے چہروں پر بھی خوشی دیکھنا چاہتے ہیں

چاہے دل کی کیفیت کچھ بھی ہو، آپ نے ان کی تحریروں کا جائزہ لیا ہو گا تو اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ کسی سے خوش نہیں رہتے سب کا تمسخر اڑائیں گے۔ بیوی ہو کے دوست، استاد ہو کہ دفتر کا آفسر۔ پڑوسن ہو کہ وڑوسن۔ ہم نے کہا کہ آج کے لئے اتنا کافی ہے۔ وقت بہت ہو چکا ہے۔ پھر اگلے ہفتے ملتے ہیں۔ اس پر ایک صاحب جو روایتی مسلم وضع خطا (یعنی غلطی سے جو وضع اختیار کی جاتی ہے ) میں تھے۔ اور ظاہری طور پر اسلامی معلومات کا مخزن نہیں تو کم سے کم ” بولتا قاعدہ ” تو نظر آرہے تھے۔ کہا کہ جناب ایک اسلحہ والی بات (ہم چونک گئے یہ کیا دہشت گردی والی بات ہے ) ہم نے کہا کہ بھائی مزاح نگاری کا تعلق اسلحہ سے نہیں ہوتا۔ بلکہ ناکارہ کارتوس سے ہوتا ہے۔ پھر وہ کہنے لگے ” نہیں حضرت اصلاح ” پھر ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ اچھا بھائی سناؤ اچھا ہوا کہ یہاں کوئی انٹلی جینس کا انفارمر موجود نہیں ہے۔ بتاؤ کیا اصلاح کروگے ہماری۔ پھر اس نے کہا کہ آپ نے اپنے انسٹی ٹیوٹ کے نام میں ایک غلطی کی ہے۔ ابن انشاء نہیں ہو سکتا۔ آپ کی اسلامی معلومات کم ہیں وہ ” انشاء اللہ ” ہے۔ اور وہ انسٹی ٹیوٹ والے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انکے ہاں سے فارغ ہونے والے انشاء اللہ مزاح نگار بنیں گے۔

 

سید تنویر احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ناز کرتا رہے میرے ساتھ
  • بلاؤز
  • ایک طوائف کا خط
  • اُس کے نام ۔ جسے تاریکی نگل چکی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اک ترے آنے کے بعد
پچھلی پوسٹ
رسومِ جوتا

متعلقہ پوسٹس

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

نومبر 4, 2020

حُسن کا یہ کمال ہے سائیں

اپریل 19, 2020

کس طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر

مئی 13, 2020

نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت

اگست 23, 2025

کھول دو

اکتوبر 16, 2019

وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں

اپریل 25, 2020

شب

نومبر 7, 2020

کیا کھویا کیا پایا کچھ بھی یاد نہیں

اگست 15, 2020

یکم مئی (یومِ مزدور)

مئی 1, 2026

سماجی فاصلہ

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چاہے جتنا بھی پٹک لے سر...

جنوری 1, 2023

ترے بعد جو خلا ہے

جنوری 28, 2020

تاریخ کے وارث – پہلی قسط

جنوری 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں