خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط

از سائیٹ ایڈمن مئی 7, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 7, 2026 0 تبصرے 22 مناظر
23

مشرق وسطیٰ کی سرزمین دہائیوں سے بارود کی بو اور معصوموں کے لہو سے نم ہے، لیکن حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس خطے کو ایک ایسے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مفقود نظر آتا ہے۔ عالمی سیاست کے طالب علم جب اس پیچیدہ صورتحال کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس سارے فساد کی اصل جڑ اور محرک اسرائیل ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ آنکھ مچھولی دراصل ایک ایسی جنگ ہے جو اسرائیل کے ایجنڈے کو تحفظ دینے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی تہران اس آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب ہو پا رہے ہیں، کیونکہ اس جنگ کے خاتمے کی کنجی اس ریاست کے پاس ہے جس کی بقا ہی جنگ و جدل اور افراتفری میں پوشیدہ ہے۔ اسرائیل کا تاریخی پس منظر گواہ ہے کہ اس ریاست نے کبھی امن کو ایک آپشن کے طور پر قبول نہیں کیا، بلکہ اس کی پوری تاریخ جنگوں، قبضوں اور انسانیت سوز مظالم کا ایک تسلسل ہے۔
اسرائیل نے 1948 میں اپنے ناجائز قیام کے روز اول سے ہی مشرق وسطیٰ اور بالعموم عالم اسلام کے خلاف ایک ایسا من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد اپنے توسیعی عزائم کو مذہبی لبادہ پہنانا ہے۔ صیہونی نظریہ یہ ہے کہ انہیں مذہبی طور پر ایک خاص علاقے کا حاکم بنایا گیا ہے، حالانکہ وہ علاقے صدیوں سے دوسروں کے قبضے اور ملکیت میں ہیں۔ ان علاقوں کو "واپس لینے” کے نام پر اسرائیل نے جس خون خرابے کا بازار گرم کیا، اس نے انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا ہے۔ 1948 کی پہلی عرب اسرائیل جنگ، جسے فلسطینی ‘النکبہ’ یعنی عظیم تباہی کہتے ہیں، سے لے کر آج تک اسرائیل نے اپنے تمام ہمسایہ ممالک کی خود مختاری کو پامال کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔ 1956 میں مصر پر حملہ ہو یا 1967 کی چھ روزہ جنگ، جس میں اسرائیل نے دھوکے سے ہمسایہ ممالک کی زمینیں ہتھیا لیں، ہر موقع پر اس نے عالمی قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھا۔ 1982 میں لبنان پر چڑھائی اور وہاں صابرہ و شطیلا کے کیمپوں میں فلسطینیوں کی بدترین نسل کشی وہ بھیانک جرائم ہیں جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔
اسرائیل کا جنگی جنون صرف زمینی قبضے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا نظریہ ہے جو مسلمانوں اور پوری دنیا کی بربادی پر استوار ہے۔ صیہونی دانشوروں کا یہ ماننا ہے کہ اسرائیل کی بالادستی اسی صورت قائم رہ سکتی ہے جب اس کے گرد و نواح کی تمام مسلم ریاستیں سیاسی، معاشی اور دفاعی طور پر مکمل طور پر مفلوج رہیں۔ اسی نظریے کے تحت اسرائیل نے "عظیم تر اسرائیل” کے خواب کی تکمیل کے لیے دنیا بھر کی سپر پاورز کو اپنا آلہ کار بنایا ہوا ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کو اگر دیکھا جائے تو وہ مکمل طور پر اسرائیلی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا علمبردار بننے والا امریکہ، اسرائیل کے کہنے پر عراق جیسی مضبوط عرب ریاست کو ملیامیٹ کر دیتا ہے، لیبیا اور شام کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیتا ہے اور ایران کے خلاف اقتصادی و عسکری محاذ آرائی کو ہوا دیتا ہے۔ ان تمام کارروائیوں کا واحد مقصد اسرائیل کے دشمنوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ خطے میں اس کی چودھراہٹ کو کوئی چیلنج نہ کر سکے۔ عراق پر حملے کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد بے گناہ انسان موت کے گھاٹ اتار دیے گئے، اور اس قتلِ عام کا سہرہ براہ راست اس صیہونی لابی کے سر ہے جس نے وائٹ ہاؤس کو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے جھوٹے پروپیگنڈے پر آمادہ کیا۔
اسرائیلی جارحیت کی لسٹ طویل اور لرزہ خیز ہے۔ 1976 میں یوگنڈا کے ایئرپورٹ پر حملہ ہو، 1981 میں عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کی تباہی ہو، یا 1985 میں تیونس میں پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر پر بمباری، اسرائیل نے کبھی کسی ملک کی سرحدوں کا احترام نہیں کیا۔ 2006 میں لبنان کے انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی اور حالیہ برسوں میں غزہ کی پے در پے ناکہ بندی اور وہاں کی جانے والی نسل کشی اس صیہونی نظریے کی عملی شکل ہے جو کہتا ہے کہ ان کے علاوہ باقی تمام انسان دوسرے درجے کی مخلوق ہیں۔ 2023 سے جاری غزہ کی حالیہ جنگ میں جس طرح بچوں، عورتوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس نے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اب تک چالیس ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، لیکن عالمی ضمیر اور انسانی حقوق کے ادارے اسرائیل کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ اسے امریکہ کی بھرپور مالی، عسکری اور سفارتی پشت پناہی حاصل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ لبنان پر حالیہ اسرائیلی حملے اس صیہونی نظریے کا تسلسل ہیں جس کا مقصد پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنی بالادستی قائم کرنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں لبنان کی خود مختاری پر جو شب خون مارا گیا، اس نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل کسی بھی بین الاقوامی سرحد یا اخلاقی ضابطے کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان بہیمانہ حملوں کا آغاز مواصلاتی آلات (پیجرز اور واکی ٹاکی) کے ذریعے کیے گئے دہشت گردانہ دھماکوں سے ہوا، جس میں ہزاروں معصوم شہری اور طبی عملہ نشانہ بنے۔ اس کے بعد بیروت کے گنجان آباد علاقوں اور جنوبی لبنان پر ایسی وحشیانہ بمباری کی گئی جس نے 2006 کی جنگ کی یاد تازہ کر دی۔
ان حملوں میں فاسفورس بموں کا استعمال اور سویلین آبادی کو نشانہ بنانا اسرائیل کا پرانا حربہ ہے تاکہ لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیلا کر انہیں مزاحمت سے دور کیا جا سکے۔ اسرائیل نے نہ صرف حزب اللہ کے قائدین کو ٹارگٹ کیا بلکہ ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گزین کیمپوں کو بھی نہیں بخشا، جس کے نتیجے میں لاکھوں لبنانی اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ امریکہ کی طرف سے ان حملوں کو "دفاعی کارروائی” قرار دینا اس عالمی منافقت کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جہاں قاتل کو ہتھیار بھی فراہم کیے جا رہے ہیں اور اسے ہر جرم کی کھلی چھٹی بھی دے دی گئی ہے۔ لبنان پر یہ حالیہ جارحیت دراصل اس بڑے صیہونی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت وہ لبنان کے جنوبی حصے پر قابض ہو کر اپنے "عظیم تر اسرائیل” کے نقشے میں رنگ بھرنا چاہتا ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسرائیل کا اصل مقصد صرف فلسطینیوں کی نسل کشی نہیں بلکہ وہ پوری دنیا کو ایک ایسی بڑی جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے جس میں عالمی طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں اور اسرائیل اس افراتفری کا فائدہ اٹھا کر اپنے "نیل سے فرات” تک کے توسیعی خواب کو حقیقت کا رنگ دے سکے۔ وہ چاہتا ہے کہ دنیا مستقل جنگ کی لپیٹ میں رہے کیونکہ امن کی صورت میں اس کے پاس اپنی جارحیت کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ مسلمانوں کے خلاف اس نے جو زہریلا پروپیگنڈہ پھیلا رکھا ہے، اس کا مقصد عالم اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر ان کے وسائل پر قبضہ کرنا اور ان کی اخلاقی و مذہبی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔
آج مشرق وسطیٰ میں جو آگ لگی ہے، اس کا ایندھن وہ معصوم لوگ بن رہے ہیں جن کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ اپنی زمینوں پر آزادی سے رہنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے ہر جرم پر ویٹو کا حق استعمال کرنا اور اسے اربوں ڈالر کے مہلک ہتھیار فراہم کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ صرف اسرائیل کی نہیں بلکہ ایک عالمی گٹھ جوڑ کی جنگ ہے جس کا مقصد انسانیت کی تذلیل اور ایک خاص نظریے کا تسلط قائم کرنا ہے۔ جب تک عالمی برادری اسرائیل کے اس جنگی جنون اور صیہونی نظریے کو پہچان کر اسے لگام نہیں ڈالتی، تب تک نہ تو امریکہ اور ایران کے درمیان امن ہو سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کسی بڑی تباہی سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ اسرائیل کی تاریخ جنگوں کا دوسرا نام ہے، اور جب تک اس کا وجود اس ظالمانہ شکل میں قائم ہے، انسانیت کے لیے امن ایک سراب ہی رہے گا۔ یہ کالم ایک پکار ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو سچائی کو دیکھنے کی ہمت رکھتے ہیں کہ وہ پہچانیں کہ اصل فساد کہاں سے پھوٹ رہا ہے اور کن کے ہاتھوں میں اس آگ کی ڈور ہے جو پوری دنیا کو جلا کر راکھ کر دینا چاہتی ہے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ٹرین ایپ کی داستان
  • میاں، بیوی اور واہگہ
  • اردو اور انگریزی انشاپردازی پر کچھ خیالات
  • تربوز سے تپتی دھوپ میں ٹھنڈک کا احساس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بیگم اور AI کا ٹیکنالوجی ٹکراؤ
پچھلی پوسٹ
پاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال

متعلقہ پوسٹس

الگنی کی تلاش میں بھٹکتا پیار

دسمبر 23, 2021

روغنی پتلے

جنوری 12, 2020

صحرائے گوبی کا طلسم

مئی 3, 2020

لوہے کا کمر بند

جنوری 15, 2020

شمالی علاقہ جات کی سیاحت

جون 2, 2023

غریب اور عید

اپریل 26, 2023

برف کا پانی

جنوری 12, 2020

پانی کی گڑیا

مارچ 9, 2020

خودکشی

فروری 2, 2020

جنگ کے جنون سے بیزار ہیں ہم

فروری 22, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وہ صبح ہم ہی سے آئے...

جنوری 11, 2020

یار کیا داستاں کو موڑ دیا

مارچ 22, 2026

سکندر کی خود کشی کی کوشش

جنوری 4, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں