خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباچور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں
آپکا اردو بابااردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں

احمد رضوان کا ایک اردو مضمون

از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 21, 2020 0 تبصرے 1.2K مناظر
1.2K

چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں

سچ ہی کہا ہے بزرگوں نے کہ عوامی دانش سے بھرپور محاورے یوں ہی وجود میں نہیں آتے۔ان کے پیچھے صدیوں کا تجربہ اور عوامی مشاہدات کا نچوڑ شامل ہوتا ہے ۔محاورہ یوں ہے کہ "چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہیں "۔گرچہ اس کالم کا عنوان بھی ایک مشہور مطلع کے مصرع اولی میں تضمین ہے۔ مگر الحمد للہ مجھے حوالہ جات دئے بنا لکھنا گوارا نہیں۔امیر مینائی کی روح سے معذرت کے ساتھ کہ ان کی شہر ہ آفاق غزل کا مصرعہ اولی مستعار لینا پڑا ہاں سرقے کی تہمت سے یہ خاکسار مکلف نہیں ہے۔کیا ہی خوب غزل ہے ایک بار ضرور پڑھئے گا فرصت ملے اگر۔ویسے تو ادبی سرقوں پر محبی ” اشعر نجمی ” نے اپنے مجلہ” اثبات "میں ایک ضخیم سرقہ نمبر چھاپ رکھا ہے جو کافی چشم کشا ہے ۔ اس کا مطالعہ بھی کافی سے ذیادہ ضروری ہے ۔

بات شروع ہوتی ہے ایک "عالم فاضل کالم نگار” سےجو ایک نامور علمی و ادبی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں.اپنے کالمز سے چہار عالم علم و عرفان کی روشنی پھیلانے کے دعویدار ہیں۔خواہ لوگوں تک اس علمی پھیلاؤ کے لئے ان کو ساری دنیا کے کالمز کی خاک ہی کیوں نہ چھاننی پڑے۔تحقیق و تدقیق کے بحر ذخار کے شناور ہیں اور پایاب پانیوں میں قدم بھی نہیں رکھتے۔مگر ہائے کم بخت یہ بونگ پائے۔ بونگ پائے کھانے کے بعد حالت خمار میں ” فاضل کالم نگار” اپنے پندرہ اپریل کے کالم کی بابت اگر یہ بھول جائے کہ کہاں سے سرقہ کیا تھا تو اس میں اس کا کیا قصور؟ قصور تو نورجہاں کا ہے یا بابابلہے شاہ کا۔ بونگ پائے چیز ہی ایسی ہے نہ چھوڑی جائے بس ہڈی چچوڑی جائے ۔ہاں "فاضل کالم نگار” کی یہ بہت بڑی خوبی ہےکہ بہت جلد اپنے لکھے کی طرف رجوع کرلیتے ہیں اور اسے حرف آخر نہیں سمجھتے۔اگر کوئی دوسرا سرقے کی نشاندہی کرے تو اصل حوالہ ڈال/ ڈلوا لیا کرتے ہیں تاکہ سند رہے اور عند الطلب پیش کیا جاوے۔ اگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو تو پوہ بارہ ورنہ ساڑھے بارہ۔

15اپریل 2020 کو "فاضل کالم نگار” نے حسب معمول ایک معاصر ویب سائٹ” ہم سب” پر اپنا تازہ کالم چھپوایا یا قرین قیاس ہے ویب سائیٹ نے جس تفاخر سے فٹ نوٹ میں یہ (Disclaimer) لکھا کہ یہ کالم خصوصی طور پر ہماری ویب سائیٹ کے لئے لکھا گیا۔ اس سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ فاضل کالم نگار نے ویب سائیٹ کا مان بڑھانے کےلئے یہ علم کشا کالم ان کی خصوصی فرمائش پرلکھا۔ برا ہو مگر "جنگ اخبار "کا بھی۔بھولے بادشاہ ہیں وہ .شائد میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے بعد معاملات درست طریقے سے ہینڈل نہیں کئے جارہے ۔ کسی اور کے لئے خصوصی طور پر لکھا گیا کالم بغیر کسی شکریہ کے "جوں کا توں” اٹھا کر اخبار میں لگا دیا۔اصل کہانی شروع ہونے سے پہلے اس لفظ "جوں کا توں” کو ذہن میں رکھیے گا ۔اسی میں اصل کہانی کا جوہر خاص پوشیدہ ہے۔کالم چھپا سب نے پڑھا۔تعریف کے ڈونگرے برسائے گئے۔ کالم بھی خوب وائرل ہوا۔کرونا کی طرح ہی سمجھ لیں۔ فیس بک پر بھی اس کے مواد کی کافی شیئرنگ ہوئی۔شومئی قسمت ٹورانٹو ،کینیڈا میں رہائش پذیر مصنفہ ،کالم نگار روبینہ فیصل نے بھی یہ علم کشا کالم پڑھا۔روبینہ بھی "فاضل کالم نگار” کے تبحر علمی کی مداح ہیں اور اس کا برملا اعتراف انہوں نے اپنے کالم کے ٹیپ کے بند اختتامی جملہ میں بھی کیا ہے ۔
روبینہ فیصل کے کالم کا لنک یہ ہے :

سائیں بابا سرقی والے۔۔روبینہ فیصل

"فاضل کالم نکار” کا کالم پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک اور نامور علمی شخصیت ڈاکٹر طاہر قاضی نے حسب معمول ہفتہ واری چنندہ کالمز روبینہ فیصل کو بھیجے ۔(ان چنندہ کالمز پر ویک اینڈ پر بحث کی جاتی ہے۔) ان میں نیویارکر میں چھپا ہوا "میتھیو ہٹسن” کا وہ اصل کالم بھی شامل تھا جسے "فاضل کالم نگار” نے ڈاکٹر ہو کی کہانی بتا کر اپنے کالم میں بیان کیا۔روبینہ فیصل کا ماتھا ٹھنکا کہ یہ دونوں کالم تو ایک جیسے لگ رہے ہیں۔ بس نیویارکر کے کالم میں بونگ پائے کا تذکرہ نہیں ہے۔(میتھیو ہٹسن کیا جانے بونگ پائے کا سواد۔) ان کو لگا شائد نیویارکر کے کالم نگار "میتھیو ہٹسن” بھی فاضل کالم نگار کے تبحر علمی سے شدید متاثر ہیں مگر "میتھیو ہٹسن” کا کالم مطبوعہ 6 اپریل 2020 ہے ۔گومگو کی حالت میں انہوں نے پہلے ڈاکٹر قاضی سے پوچھا کہ ایں چہ قصہ است؟ پتہ چلا یہ تو معمول کی واردات ہے ۔ روبینہ نے اس سرقہ بازی پر کالم لکھ کر بھجوادیا جو سترہ اپریل کو مکالمہ پر شائع ہوا۔روبینہ کا کالم جب پڑھا گیا تو لازمی بات ہے مختارے تک کسی چن نے یہ اطلاع پہنچا دی کہ” اوٗے مختاریا بونگ پائے ای ناں کھائی جا ,گل ہن ودھ گئی اے تے آپنڑے کالم اچ تبدیلی کرلے یا کروا لے۔”اس کے بعد فاضل کالم نگار افتاں و خیزاں پہلے اپنے فیس بک پیج پر پہنچے اور وہاں چھیتی چھیتی اس جملے کا اضافہ کیا ” ڈاکٹر ہو کی کہانی میں نے نیویارکر میں پڑھی” اس کے بعد معاصر ویب سائٹ پر بھی یہی جملہ ہوبہو شامل کروا لیا ۔یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔تصحیح کروانا ہر لکھنے والے کا بنیادی حق ہے۔ حرف اعتذار بھی میڈیا کا بنیادی حصہ ہے ۔ڈیجیٹل میڈیا کی مگر یہی خوبی ہے کہ آپ جب چاہیں اپنے لکھے میں ردوبدل یا ترمیم کر سکتے ہیں یا چوری پکڑے جانے پر اصل حوالہ ڈلوا سکتے ہیں ۔یہ کونسا لوح جہاں پر حرف مکرر ہے جو دوبارہ لکھا نہیں جا سکتا۔برا ہو اس اسکرین شاٹ ٹیکنالوجی کا کہ اصل اشاعت اور ترمیم شدہ پرنٹ دونوں کی کاپیاں میرے پاس موجود ہیں جو بطور ثبوت لف ہیں۔ ہاں پرنٹ میڈیا کی پسوڑی کا کیا کریں ؟اس کا حل فوری طور پر "فاضل مصنف” کے پاس موجود نہیں تھا۔پرنٹ میڈیا کی ایک خوبی یا قباحت یہ کہہ لیں کہ ایک بار اخبار چھپ کر قاری تک پہنچ گیا اس کے بعد واپسی کا کوئی دروازہ نہیں رہتا ۔تصحیح شدہ نوٹ ہی بچتا ہے کالم نگار کی طرف سے جو اگلے شمارے میں دے دیا جاتا ہے جو سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے کے برابر ہوتا ہے ۔خیر باقی ہر جگہ تو اپنی غلطی کا سدھار جہاں جہاں ممکن تھا فاضل کالم نگار کھلے دل سے کر لیا مگر روبینہ فیصل کے کالم کے چھپنے کے بعد اس سے پہلے نہیں ۔اصل کالم میں یہ جملہ موجود نہیں تھا۔اب تک "جنگ اخبار” نے بھی اس کالم کی بابت مصنف کا وضاحتی نوٹ شائع نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہاں اس خوب صورت جملے کا اضافہ کیا ہے کہ فاضل کالم نگار نے ڈاکٹر ہو کی کہانی نیویارکر میں پڑھی۔

اس سارے قضیے پر بحیثیت ایڈیٹر میں یہ نوٹ لکھنے پر مجبور نہ ہوتا اگر ایک مفت کی وکیل جو روبینہ فیصل کا کالم چھپنے کے بعد مجھے یہ بتانے آئیں کہ ایسا کالم چھاپنے سے پہلے آپ کو پوری تحقیق کرنی چاہیے تھی ۔”فاضل کالم نگار” نے اپنے فیس بک پیج پر اور معاصر ویب سائیٹ پر اصل کالم کا حوالہ دیا ہوا ہے۔مجھے محترمہ کی بات سے کلی اتفاق ہے کہ اب یہ حوالہ موجود ہے ۔واقعی بقول ڈاکٹر طاہر قاضی یہ معجزہ رونما ہوچکا ہے ۔مگر کب ہوا جب ان کی چوری یا سرقہ پکڑا گیا۔ یہ حوالہ اگر پہلے اپنےاصل کالم میں لکھ دیتے تو میں ان کے لکھے پر معترض نہ ہوتا ۔ہائے اس ذود پشیمان کا پشیمان ہونا ۔بس اتنا ہی کہوں گا” بڑے میاں تو بڑے میاں، چھوٹے میں سبحان اللہ۔”

احمد رضوان

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں
  • کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
  • پیا سا
  • مل کر بھی اگر پُرسشِ حالات نہ کرنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ڈپٹی نذیر احمد – وبا کے دنوں کا ادب
پچھلی پوسٹ
ہزاروں راز پنہاں ہیں شعورِ خاک کے اندر

متعلقہ پوسٹس

سورہ اخلاص(منظوم ترجمہ)

جنوری 18, 2025

جگرنرخ کے ٹکڑے

دسمبر 30, 2013

آ مرا ہاتھ تھام

جولائی 7, 2020

سفید گھوڑا

مئی 7, 2023

آگ (نا مکمل مگر مکمل)

جون 25, 2025

مَیں شعر کہوں گا تو پذِیرائی کرے گا

نومبر 13, 2025

بنت ِحوا تشدد کی زد میں کیوں؟

جولائی 13, 2022

مشک وعنبر کی میں جینے کی دعائیں مانگوں

نومبر 7, 2021

اے مرے حسیں لوگو!

نومبر 6, 2020

ایک خسارہ دیکھ چکے

جنوری 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دو دِیے

دسمبر 29, 2021

خامہ بگوش کے قلم سے

دسمبر 15, 2019

کنگ پوش

جون 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں