خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامبیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم
آپ کا سلاماردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریراکرم ثاقب

بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

از سائیٹ ایڈمن مئی 15, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 15, 2026 0 تبصرے 4 مناظر
5

اردو ادب اور طبِ مشرق میں شادی شدہ خواتین کی بعض "مخصوص علالتیں” وہ لاینحل معمہ ہیں جن کی گتھی سلجھانا ارسطو اور بقراط جیسے حکماء کے بس میں بھی نہ تھا۔ ان پراسرار بیماریوں کا تعلق انسانی اناٹومی (Anatomy) سے زیادہ شوہر کے "بٹوے” کی موٹائی اور اس کی توجہ کی فریکوئنسی سے ہوتا ہے۔ یہ بیماریاں کسی وائرس سے نہیں، بلکہ شوہر کی "بے نیازی” سے جنم لیتی ہیں۔
عام مشاہدہ ہے کہ ایک گھریلو خاتون، جو علی الصبح سے دوپہر ڈھلے تک پورے گھر کو کسی "وار زون” کی طرح کمانڈ کرتی ہے، بچوں کو فوجی ڈسپلن کے ساتھ اسکول روانہ کرتی ہے، ساس کے ساتھ "اعصابی جنگ” میں مصروف رہتی ہے اور محلے بھر کی سی آئی اے (CIA) بن کر خبریں اکٹھی کرتی ہے؛ وہی خاتون شام ہوتے ہی جوں ہی شوہر کے جوتوں کی چاپ سنتی ہے، اس کے وجود پر نقاہت، بے چارگی اور "مظلومیت” کے ایسے بادل چھا جاتے ہیں کہ شوہر کو لگتا ہے شاید اسے گھر کے بجائے کسی آئی سی یو (ICU) میں داخل ہونا چاہیے تھا۔
اس ماورائی بیماری کی سب سے کلاسک علامت وہ "اچانک سر درد” ہے جو صرف اس وقت نمودار ہوتا ہے جب شوہر کی جانب سے کسی فرمائش کا شائبہ ہو یا باورچی خانے سے برتنوں کے دھلنے کی صدا آنے والی ہو۔ یہ سر درد اس قدر خوددار اور ضدی ہے کہ دنیا کی مہنگی ترین گولی بھی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ لیکن، اگر شوہر کمالِ مسیحائی دکھاتے ہوئے یہ کہہ دے کہ "بیگم! میرا خیال ہے آج تمہیں کچن کی گرمی سے دور کسی ائیر کنڈیشنڈ ریسٹورنٹ میں ڈنر کرنا چاہیے،” تو وہی درد سیکنڈوں میں ایسے غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ میڈیکل سائنس میں اسے "ریسٹورنٹ سنڈروم” یا "پکنک تھراپی” کا نام دیا جا سکتا ہے۔
پھر ایک اور کیفیت ہے جسے "کمر کا دائمی لچکدار درد” کہا جاتا ہے۔ بیگم سارا دن کچن کے حبس میں کھڑے ہو کر منوں کے حساب سے پکوڑے تل لے گی، پورے گھر کی صفائی میں پیرا شوٹ بن کر اڑے گی، لیکن جوں ہی شوہر یہ معصومانہ درخواست کرے گا کہ "ذرا میرے سر میں تیل تو لگا دو،” تو بیگم کی کمر میں ایسا "کڑکا” اٹھے گا کہ شوہر خود کو کسی بین الاقوامی مجرم کی طرح محسوس کرنے لگے گا۔ وہ بیچارہ جو خود دفتر کی سیاست، باس کی ڈانٹ اور ٹریفک کے اژدھام سے ادھ موا ہو کر آیا ہوتا ہے، اب اسے بیگم کے ماتھے پر پٹیاں باندھنی پڑتی ہیں اور بستر پر لیٹی "مریضہ” کو خود چائے بنا کر پیش کرنی پڑتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب بیگم لیٹے لیٹے اپنی بیماری کی ایسی المناک داستان سناتی ہیں کہ شوہر کو لگتا ہے اس نے کسی "نازک کانچ کی گڑیا” سے عقد کر لیا ہے، جس کا واحد علاج اس کی جی حضوری ہے۔
ایک اور عجیب و غریب کیفیت "موسمی نزلہ و زکام” کی ہے، جو عام طور پر تبھی شدت اختیار کرتی ہے جب سسرال والوں (یعنی نند یا ساس) کی طرف سے کسی دعوت کا بلاوا آئے۔ اس وقت بیگم کی آواز میں ایسی لرزش اور چھینکوں میں ایسا سوز و گداز ہوتا ہے کہ شوہر مجبوراً فون کر کے کہہ دیتا ہے کہ "بھئی! ہم معذور ہیں، آپ کی بہو کی حالت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی۔” لیکن حیرت کی انتہا تب ہوتی ہے جب اسی شام میکے سے کسی خالہ کی بیٹی کی منگنی کا فون آ جائے؛ وہی نزلہ فوراً "خوشگوار موڈ” میں تبدیل ہو جاتا ہے اور بیگم ہشاش بشاش ہو کر کسی الیکٹرک مشین کی رفتار سے تیار ہونے لگتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی ان بیماریوں میں "نمائش” کم اور ایک "سٹریٹجک حربہ” زیادہ پنہاں ہوتا ہے۔ شادی کے چند برسوں بعد جب میاں بیوی ایک دوسرے کی گفتگو سے "بور” ہونے لگتے ہیں، تو خاموشی توڑنے اور شوہر کی "غیر منقسم توجہ” حاصل کرنے کا سب سے آزمودہ نسخہ یہی "بیمار” بننا ہے۔ جب تک بیگم کے ہاتھ پاؤں نہیں ٹوٹیں گے، شوہر کو اس کی مشینی زندگی کی اہمیت کا احساس کیسے ہوگا؟ لہٰذا، یہ بیماری دراصل ایک خاموش احتجاج ہے، ایک نفسیاتی مطالبہ ہے کہ "مجھے دیکھو، میری نازک مزاجی کا خیال کرو اور کم از کم آج کے دن مجھے اس تھکا دینے والی گھریلو روٹین سے ریٹائرمنٹ دلاؤ۔”
کچھ بیگمات تو ایسی فنکارہ ہوتی ہیں کہ وہ اپنی بیماری میں شوہر کی تیرہ سال پرانی غلطیاں بھی گھسیٹ لاتی ہیں۔ مثلاً: "آج جو میرا بلڈ پریشر ہائی ہے، یہ اسی دن کا اثر ہے جب تم نے میری سالگرہ پر مجھے کیک کے بجائے استری لا کر دی تھی!” یہاں بیماری ایک "جوہری ہتھیار” بن جاتی ہے جس کے سامنے دنیا کا بڑے سے بڑا منطقی شوہر بھی ہتھیار ڈال کر صلح کی بھیک مانگنے لگتا ہے۔
آخر میں، تجربہ کار شوہروں کا نچوڑ یہ ہے کہ بیگم کی ہر "ہائے” پر "اوہو” کہا جائے، تھوڑی سی ہمدردی کا مسالہ لگایا جائے اور چپ چاپ اپنا پرس نکال کر ان کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی برانڈڈ دکان یا شاپنگ مال کی ٹھنڈی ہوا لگتے ہی تمام بیماریاں خود بخود ایڑیاں رگڑ کر دم توڑ دیتی ہیں اور بیگم چشمِ زدن میں "خیرت سے” ہو جاتی ہیں۔

پروفیسر اکرم ثاقب

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غربت اور بیماری
  • نازو
  • کہیں ہم نافرمانوں میں تو نہیں !
  • قدموں کا سفر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے
پچھلی پوسٹ
پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

متعلقہ پوسٹس

یوم حساب

ستمبر 6, 2024

توبۃ النصوح – فصل دوم

اکتوبر 28, 2020

ہو گیا کیسا حادثہ مرے ساتھ

فروری 21, 2026

پیتل کا گھنٹہ

فروری 5, 2022

بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے

جنوری 26, 2025

ہمارے بیچ رہا احترام کا رشتہ

دسمبر 8, 2025

پاکستان میں خودکش دھماکے

مارچ 16, 2022

روشن پہاڑیوں سے ادھر کوہ تار میں

مارچ 1, 2026

نسیمِ خیال

دسمبر 6, 2024

کشتی رہی بھنور میں کنارا نہیں ملا

اپریل 6, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اماں اسکو دیکھتی رہ گئی

جنوری 25, 2025

چلتے ہو تو سوات کو چلئے

مارچ 2, 2021

سمجھ سکے جو مری بات وہ...

جنوری 11, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں