100
کشتی رہی بھنور میں کنارا نہیں ملا
الفت کے راستے میں سہارا نہیں ملا
راہِ وفا میں ہم کو ملے ہیں عدو بہت
لیکن کوئی بھی یار ہمارا نہیں ملا
دل کو غمِ فراق بھلانے کے واسطے
اظہار کے سوا کوئی چارا نہیں ملا
تم سے ہوا ہے قطع تعلق تو اس کے بعد
سارے جہاں میں ثانی تمہارا نہیں ملا
ہر شعر مجھ کو خونِ جگر کے عوض ملا
یہ فن کسی کے در سے اُدھارا نہیں ملا
پیغامِ عشق شہر عداوت میں رائگاں
ہو جس کو آج عشق گوارا ” نہیں ملا ”
مایوس ہو نہ زینؔ کہ ایسا نہیں کوئی
جس کو محبتوں میں خسارا نہیں ملا
زین علی آصف
