389
نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں
غرب مرے جنوب میں شرق مرے شمال میں
کوئی کہیں سے آئے اور مجھ سے کہے کہ زندگی
تیری تلاش میں ہے دوست بیٹھا ہے کس خیال میں
ڈھونڈتے پھر رہے ہیں سب میری جگہ مرا سبب
کوئی ہزار میل میں کوئی ہزار سال میں
لفظوں کے اختصار سے کم تو ہوئی سزا مری
پہلے کہانیوں میں تھا اب ہوں میں اک مثال میں
میز پہ روز صبح دم تازہ گلاب دیکھ کر
لگتا نہیں کہ ہو کوئی مجھ سا مرے عیال میں
پھول کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے
وقت نہ تھا کہ دیکھتا پودوں کی دیکھ بھال میں
کمروں میں بستروں کے بیچ کوئی جگہ نہیں بچی
خواب ہی خواب ہیں یہاں آنکھوں کے ہسپتال میں
گرگ و سمند و موش و سگ چھانٹ کے ایک ایک رگ
پھرتے ہیں سب الگ الگ رہتے ہیں ایک کھال میں
ذوالفقار عادل
