خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآسودگی
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرڈاکٹر الیاس عاجز

آسودگی

از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026 0 تبصرے 61 مناظر
62

شرافت علی کی انگلیاں جب موبائل کی سکرین پر تھرکتیں تو لفظوں سے آفاقیت کے جھرنے پھوٹنے لگتے۔ وہ مابعدالطبیعیات کے اس باریک نقطے پر کھڑا تھا جہاں کائنات، وجود اور عدم ایک لکیر پر آ کر مل جاتے ہیں۔ اس کے سوشل میڈیا پیج پر روزانہ مداحوں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوتا۔ کوئی اس کے مصرعوں کو وجودی فلسفے کا نچوڑ کہتا تو کوئی اسے "آفاقی سچائیوں کا امین” قرار دیتا۔سکرین پر چمکتے ہوئے لائیکس اور تعریفی کمنٹس کے درمیان اکثر ایک ہی فرمائش دہرائی جاتی: "شرافت صاحب! خدا کے لیے اب اپنا مجموعہِ کلام چھپوائیے۔ آپ کو صاحبِ کتاب ادیبوں کی صف میں ہونا چاہیے!”شرافت علی ان کمنٹس کو دیکھتا۔ ایک گہری سانس لیتا اور موبائل ایک طرف رکھ دیتا حالانکہ مرنے کے بعد دوام حاصل کرنے کی خواہش اس کے دل میں بھی کبھی کبھی انگڑائیاں لیتی تھی۔اس کا راسخ عقیدہ تھا کہ جب قبروں کے نام و نشان تک نیست و نابود ہو جائیں تو صرف انسان کے افکار و خیالات ہی ہوتے ہیں جو اسے بقائے دوام بخشتے ہیں مگر اس کے باوجود سکرین کی اس ورچوئل دنیا سے باہر کی تلخ حقیقت سے بخوبی واقف تھا اور جانتا تھا کہ ڈیجیٹل اسکرولنگ کے اس طوفان میں کتاب بینی کا رواج دم توڑ چکا ہے۔
وقار ہمیشہ اس کے قلم کے تقدس کا کسی متبرک شے کی طرح احترام کیا کرتا تھا۔جون کے پہلے ہفتے کی ایک جھلسا دینے والی شام تھی۔سات بج رہے تھے اور وقار حسب دستور شرافت کے تاریک کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ سگریٹ کے دھوئیں کے مرغولوں میں گم کھڑکی سے باہر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ میز پر چائے کے دو پیالے رکھے تھے جن سے اٹھتی ہوئی بھاپ اب سرد ہو چکی تھی۔
"شرافت! آخر کب تک؟” وقار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھا۔ "یہ سوشل میڈیا کی دنیا عارضی ہے۔ ایک سراب ہے جس کی کوئی مادی حقیقت نہیں۔ یہاں لفظ سکرین کی ایک سکرولنگ کے ساتھ ہی معدوم ہو جاتے ہیں۔ تمہیں اپنے افکار و خیالات کو اب کتابی شکل دینا ہی ہوگی۔ انسان مر جاتا ہے شرافت مگر کتاب اسے زمان و مکاں کی قید سے آزاد کر کے تاریخ کے ماتھے پر زندہ رکھتی ہے۔ تمہیں صاحبِ کتاب ادیبوں کی صف میں ہونا چاہیے!”
شرافت علی نے آہستہ سے سر گھمایا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی یاسیت اور گہرا ٹھہراؤ تھا جیسے وہ صدیوں کی مسافت طے کر کے آیا ہو۔ اس نے سگریٹ کی راکھ جھاڑی اور دھیمے مگر بھاری لہجے میں بولا:
"تاریخ کے ماتھے پر زندہ رہنا؟ وقار تم جسے تاریخ کہہ رہے ہو وہ دراصل لفظوں کا ایک قبرستان ہے اور تم چاہتے ہو کہ میں اپنے جیتے جاگتے احساسات کو کاغذ کے سفید کفن میں لپیٹ کر اس قبرستان کے حوالے کر دوں؟”
"یہ تم کیا کہہ رہے ہو شرافت؟” وقار نے تڑپ کر کہا۔ "کتاب تو علم کا نور ہے۔روح کا اثاثہ ہے!”
"کتاب علم کا نور تب بنتی ہے وقار! جب وہ کسی کی انگلیوں کے لمس سے گزر کر اس کے باطن میں اترے۔” شرافت علی کھڑا ہوا اور کمرے میں چکر کاٹتے ہوئے کہنے لگا: "سوشل میڈیا کا قاری جیسا بھی ہے وہ میرے شعر کو پڑھتا ہے۔ تڑپتا ہے۔ ردِعمل دیتا ہے۔ وہ سکرین پر ہی سہی مگر میرے ساتھ سانس لیتا ہے۔ لیکن مادی دنیا کا المیہ دیکھو! میں نے بڑے بڑے نامور شعرا کو دیکھا ہے جو اپنے خونِ جگر سے لکھی کتابیں بغل میں دبائے شہر کے چوراہوں اور محفلوں میں مفت بانٹتے پھرتے ہیں۔ لوگ اخلاقیات کے جھوٹے لبادے اوڑھ کر کتاب وصول تو کر لیتے ہیں مگر وہ سیدھی ڈرائنگ روم کی لکڑی کی کسی بے جان شیلف کی زینت بن جاتی ہے۔”
وہ وقار کے قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا:
"تم جانتے ہو اس کا مطلب کیا ہے؟ ایک تخلیق کار کے لیے اس سے بڑی مابعدالطبیعیاتی موت اور کیا ہوگی کہ اس کا اپنے خدا اور اس کی کائنات سے مکالمہ لکڑی کے دو تختوں کے درمیان بند ہو کر دھول چاٹتا رہے؟ کتاب کا سفر مصنف کے ہاتھ سے شروع ہو کر قاری کی روح تک ہونا چاہیے نہ کہ کسی بیوروکریٹ کے شیشے دار شوکیس تک۔ مجھے اس مادی نمائش سے خوف آتا ہے اور پھر… تم تو پبلشرز کے مزاج سے واقف ہو یار۔۔۔ کتاب چھپوانا اب ایک تخلیقی عمل نہیں بلکہ ایک مہنگا کاروبار ہے جو میرے بس سے باہر ہے۔”
وقار نے کچھ دیر شرافت علی کے چہرے کو دیکھا جہاں ایک سچے فنکار کی انا اور اس کا خوف صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ اس نے آگے بڑھ کر شرافت کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس کے لہجے میں سچی ہمدردی اور عزم تھا:
"شرافت! تمہارا خوف اپنی جگہ سچا ہو سکتا ہے مگر تمہارا یہ فلسفہ تمہارے فن کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر سقراط، افلاطون اور رومی بھی اسی خوف کا شکار ہو جاتے تو آج کائنات اپنے وجود کے رازوں سے بے خبر ہوتی۔ تم مالی امور کی فکر چھوڑو۔ یہ میرا تم پر احسان نہیں بلکہ ادب پر میرا قرض ہے جو میں چکانا چاہتا ہوں۔ میں اپنی جیب سے یہ کتاب چھپواؤں گا اور دنیا کو دکھاؤں گا کہ مابعدالطبیعیات کا اصل مفہوم کیا ہوتا ہے۔”
شرافت علی نے وقار کی آنکھوں میں چمکتا ہوا خلوص دیکھا۔ اس خلوص کے آگے اس کے تمام فلسفیانہ دلائل مٹی کے گھروندے کی طرح بکھر گئے۔ اس نے ایک لمبی سانس لی اور خاموشی سے سر ہلا دیا۔ ایک ایسی خاموشی جس کا مفہوم سوائے شرافت علی کے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔
کتاب کی اشاعت کا اعلان جیسے ہی سوشل میڈیا پر ہوا ایک تہلکہ مچ گیا۔ ان باکس پیغامات سے بھر گیا۔ لوگ کتاب کی تاریخِ اشاعت پوچھ رہے تھے۔ دور دراز کے شہروں سے لوگ ڈاک کے ذریعے کتاب منگوانے کی خواہش ظاہر کر رہے تھے۔ شرافت علی کے دل کے کسی نہاں خانے میں ایک موہوم سی امید نے سر اٹھایا۔ اس نے سوچا کہ شاید میں غلط تھا۔شاید لوگ اب بھی روح کے سکون کے لیے لفظوں کو چھونا چاہتے ہیں۔
شرافت علی نے رضامندی دے دی۔ کتاب اشاعت کے مراحل سے گزری۔ نام نہایت منفرد اور فلسفیانہ چنا گیا "آسودگی”۔ ایک ایسا نام جسے پڑھنے کے بعد قاری ذہنی آسودگی محسوس کرے اور خود شاعر کو بھی یہ اطمینان حاصل ہو کہ اس کے مابعدالطبیعیاتی فلسفیانہ سوالات کو کائنات نے سن لیا ہے۔ کتاب کا ٹائٹل سحر انگیز تھا اور ملک کے نامور نقادوں نے کتاب کے محاسن پر گراں قدر مضامین لکھے۔
پچیس جون، ہفتے کا دن تھا۔شہر کے سب سے بڑے ادبی مرکز کے وسیع و عریض ہال میں تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔ ہال کے بیرونی دروازے پر بھاری مخملیں پردے لٹک رہے تھے جنہیں ہٹا کر جیسے ہی کوئی اندر داخل ہوتا وہ خود کو ایک الگ ہی جہاں میں پاتا۔ تقریبِ رونمائی شروع ہونے میں اب بھی آدھا گھنٹہ باقی تھا مگر ہال میں چہل پہل اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔​ہوا میں چمپا کے عطر اور ائیرکنڈیشنر کی خنک خوشبو باہم آمیز ہو کر ایک سحر انگیز فضا بنا رہی تھی۔ ہال کی چھت سے لٹکتے ہوئے مہیب فانوسوں کی زرد اور سفید روشنیاں نیچے بچھی ہوئی سرخ قالین پر منعکس ہو رہی تھیں جس سے پورے ماحول پر ایک کلاسیکی اور پروقار رنگ چڑھ گیا تھا۔​اسٹیج کو نہایت نفاست سے سجایا گیا تھا۔ پس منظر میں ایک بڑا فلیکس آویزاں تھا جس پر گہرے سرمئی اور سنہرے حروف میں کتاب کا نام چمک رہا تھا "آسودگی”۔ اسٹیج کے وسط میں رکھی گداز کرسیوں کے سامنے لکڑی کے چمکدار میز پر سفید پھولوں کے گلدستے سجے تھے اور ان کے عین درمیان شرافت علی کی کتاب "آسودگی” کے چند نسخے ایک دوسرے پر اس طرح دھرے تھے جیسے کوئی قیمتی اہرام ہو۔​ہال کے مختلف گوشوں میں دانشوروں، شاعروں اور قارئین کے چھوٹے چھوٹے گروہ بنے ہوئے تھے۔ چائے کی ٹرالیاں ادھر سے ادھر گھوم رہی تھیں جن پر رکھی چائے کی پیالیوں اور چمچوں کی کھنکھناہٹ گفتگو کے پس منظر میں ایک موسیقی کا کام کر رہی تھی۔
​ایک کونے میں شہر کے دو مایہ ناز نقاد سفید بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مابعدالطبیعیات اور وجودیت پر جرح کر رہے تھے۔ ان کے چہروں کی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ وہ آج رات شرافت علی کے لفظوں کا کڑا ٹرائل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری طرف کچھ نوجوان لکھاری اور یونیورسٹی کے طلبہ ہاتھوں میں موبائل تھامے جوش و خروش سے باتیں کر رہے تھے۔ وہ بار بار اسٹیج کی تصویریں کھینچتے اور انہیں سوشل میڈیا پر لائیو اپلوڈ کر رہے تھے۔ ڈیجیٹل دنیا کا یہ ہجوم مادی دنیا کے اس ہال میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا تھا۔​خواتینِ ادب ریشمی ساڑھیوں اور نفیس شالوں میں ملبوس اپنے مخصوص مہذب لہجے میں ایک دوسرے سے محوِ گفتگو تھیں۔ ہال کا شور دھیما مگر گہرا تھا۔ یہ وہ شور نہیں تھا جو بازاروں میں ہوتا ہے بلکہ یہ لفظوں، خیالوں اور نظریات کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی ایک فکری گونج تھی۔
​اس سارے ہنگامے سے دور ہال کی پچھلی نشستوں کے پاس وقار کھڑا تھا جس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک اور اطمینان تھا اور یہ سارے انتظامات شرافت علی سے اس کی پرخلوص دوستی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔ وہ بار بار اپنے کوٹ کے بٹن درست کرتا۔آنے والے مہمانوں کا استقبال کرتا اور پھر فخر سے اسٹیج پر رکھی "آسودگی” کو دیکھنے لگتا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آج وہ اپنے دوست کی روح کو ہمیشہ کے لیے امر کرنے جا رہا ہے۔
​اور شرافت علی؟ وہ ہال کے ایک نیم تاریک گوشے میں صوفے پر خاموش بیٹھا اس ساری چہل پہل کو دیکھ رہا تھا۔ لوگ اس کے پاس آتے۔ جھک کر مصافحہ کرتے۔ مبارکباد دیتے اور وہ ایک دھیمی اور میکانکی مسکراہٹ کے ساتھ ان کا شکریہ ادا کر دیتا لیکن اس کی متلاشی آنکھیں ہال کی اس رونق میں بھی اس "خلا” کو دیکھ رہی تھیں جو مادی دنیا کا خاصہ ہے۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ لوگ وہاں تھے۔ روشنی وہاں تھی۔ گفتگو وہاں تھی مگر کیا وہاں ‘آسودگی’ تھی؟ یہ سوال ہال کے اس پرشکوہ منظر کے پیچھے ایک سائے کی طرح کھڑا تھا جس کے جواب کا تصور کر کے ہی شرافت علی کو دانتوں پسینہ آ جاتا تھا۔
شہر کے چوٹی کے ادیب اور شعرا اسٹیج پر رونق افروز تھے۔ انہوں نے شرافت علی کی شاعری میں موجود آفاقیت اور مابعدالطبیعیات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
شرافت علی نے جب مائیک پر آ کر اپنے منتخب اشعار پڑھے تو ہال تالیوں کی گونج سے لرز اٹھا۔
پروگرام کا اختتام ہوا۔ مہمانوں کی ضیافت کی گئی۔ شرافت علی نے روایتی مروت کے تحت چند نامور شعرا کو کتاب کے اندرونی صفحے پر ان کا نام اور اپنے دستخط لکھ کر تحفتاً پیش کی۔ مبارکبادوں کا ایک شور تھا جو چومکھی چل رہا تھا۔
جب ہال خالی ہوا اور اکیلا شرافت علی اپنی مسکراہٹ کا تھکا ہوا لبادہ اتار رہا تھا تو اس کی نظر اگلی نشستوں پر پڑی۔ وہاں تین چار کتابیں لاوارث پڑی تھیں۔ یہ وہی کتابیں تھیں جو اس نے بڑے چاؤ سے نامور شعرا کو دستخط کر کے دی تھیں۔ وہ مصنف کا نام اور دستخط سمیت انہیں وہیں چھوڑ کر جا چکے تھے۔ شرافت کے دل میں ایک کسک سی اٹھی جیسے کسی نے اس کی روح کے ایک حصے کو وہیں فرش پر چھوڑ دیا ہو۔
شرافت علی کو ایک عجیب سی مہم در پیش تھی۔ وہ شہر کے مختلف بیوروکریٹس، تعلیمی اداروں کے پرنسپلز اور بڑے بزنس مینوں جو ادبی تقریبات کے روحِ رواں ہوتے تھے کے پاس گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا فلسفہ ان لوگوں تک پہنچے جو معاشرے کو چلاتے ہیں۔
وہ جہاں بھی جاتا اس کا شاندار استقبال ہوتا۔ اسے چائے پانی پلایا جاتا۔ عزت افزائی کی جاتی۔ لوگ خواہ ادبی ذوق رکھتے تھے یا نہیں، کتاب بڑے احترام سے لیتے اور شرافت علی کے سامنے ہی اسے اپنے پیچھے موجود چمکتی ہوئی الماری کی شیشے دار شیلف میں سجا دیتے۔
"بہت شکریہ شرافت صاحب! آپ کی کتاب ہماری لائبریری کی رونق بڑھائے گی،” ایک اسسٹنٹ کمشنر نے مسکرا کر کہا۔
ان الفاظ نے شرافت علی کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔
وہ واپس اپنے کمرے میں آ گیا۔ اس نے دیکھا کہ سوشل میڈیا پر اب بھی "آسودگی” کے چرچے تھے اور لوگ ڈیجیٹل سکرین پر اس کے سرورق کی تصویریں شیئر کر کے داد کے ڈونگرے برسا رہے تھے مگر مادی دنیا میں وہ کتاب صرف ایک ‘سجاوٹی شے’ بن کر رہ گئی تھی۔
شرافت علی نے الماری میں رکھی "آسودگی” کی ایک کاپی نکالی۔ اس نے کتاب کو کھولا تو کاغذ کی تازہ روشنائی کی خوشبو پھیل گئی۔ اس نے کتاب کے صفحات کو پلٹا۔ وہ صفحات بالکل کورے اور بے داغ تھے جن پر کسی قاری کی انگلیوں کے نشانات تھے اور نہ ہی کسی سوچ کا سایہ۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں رات کا اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور آسمان پر ستارے مابعدالطبیعیاتی خاموشی سے چمک رہے تھے۔
شرافت علی کے چہرے پر ایک تلخ اور فلسفیانہ مسکراہٹ ابھری۔ انسان کتنا عجیب ہے۔ وہ جس سچائی کی تلاش میں بھٹکتا ہے جب وہ کاغذ پر منتقل ہو کر اس کے سامنے آتی ہے تو وہ اسے پڑھنے کے بجائے صرف محفوظ کر لیتا ہے جیسے کسی ممی کو اہرام میں بند کر دیا جائے تاکہ وہ زندہ نہ ہو سکے۔
اس نے میز پر رکھے قلم کو اٹھایا اور کتاب کے بالکل آخری خالی صفحے پر جہاں کوئی شعر نہیں تھا ایک جملہ لکھا:
"آسودگی پڑھنے سے نہیں کتاب کو بند کر کے شیلف میں رکھ دینے سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ بند کتابیں کبھی سوال نہیں کرتیں اور انسان سوالوں سے خوفزدہ ہے۔”
اس نے کتاب بند کی۔ اسے میز پر رکھا اور لائٹ بند کر کے بستر پر لیٹ گیا۔ کمرے میں اندھیرا تھا اور میز پر رکھی کتاب کا ٹائٹل اس اندھیرے میں کسی قدیم کتبے کی طرح خاموش کھڑا تھا جسے دیکھنے والے بہت تھے مگر پڑھنے والا کوئی نہیں تھا۔

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بستر ہے ناتواں سا جوتا ہے بے سلائی
  • پسماندگان
  • باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو
  • ذائقے کی لطیف حقیقت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
الوداع ڈاکٹر بشیر بدر
پچھلی پوسٹ
تم کیسے جان سکتے ہو ہار کا دکھ

متعلقہ پوسٹس

کیا دنیا کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے؟

جولائی 4, 2024

ہم اس کے سامنے حسن و جمال کیا رکھتے

جنوری 12, 2026

جب سرپرست ، سرپرستی چھوڑ دیں

جون 27, 2022

عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط

مئی 7, 2026

عالمِ برزخ سے

جنوری 9, 2020

انٹرویو

فروری 5, 2020

ہالی ووڈ کا فریب – چوتھی قسط

جنوری 19, 2025

ہرگھڑی ہے قیامت کی جیسےگھڑی

اپریل 18, 2020

زندگی کے مسئلوں کا حل نکلنا چاہیے

اپریل 24, 2020

مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟

ستمبر 15, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بچوں کا عالمی دن اور پاکستان...

نومبر 20, 2025

توبۃ النصوح – فصل ہفتم

اکتوبر 30, 2020

چڑیل

جولائی 2, 2018
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں