خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامالوداع ڈاکٹر بشیر بدر
آپ کا سلاماردو کالمزبشیر بدرڈاکٹر الیاس عاجز

الوداع ڈاکٹر بشیر بدر

از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 30, 2026 0 تبصرے 62 مناظر
63

ڈاکٹر بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ وہ 15 فروری 1935ء کو ایودھیا (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید نذیر ایک اسسٹنٹ اکاؤنٹنٹ تھے۔ بشیر بدر کی فطرت میں بچپن ہی سے شعر و شاعری کا مادہ موجود تھا انہوں نے محض سات برس کی عمر میں اپنی پہلی غزل کہی تھی۔ان کی ابتدائی زندگی کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔ 16 برس کی عمر میں والد کی بیماری کے باعث انہیں عارضی طور پر تعلیم چھوڑنی پڑیBasir Badar لیکن علم کی پیاس نے انہیں دوبارہ پڑھائی کی طرف راغب کیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) سے بی اے، ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی (Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔ وہ اردو کے علاوہ فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی گہری گرفت رکھتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی بشیر بدر نے ایم اے کی تعلیم مکمل بھی نہیں کی تھی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نصاب میں ان کے اشعار شامل کر لیے گئے تھے۔
ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بشیر بدر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہی بطور لکچرار اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں وہ میرٹھ چلے گئے، جہاں انہوں نے میرٹھ کالج میں شعبہ اردو کے صدر کی حیثیت سے تقریباً 17 برس تک خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی زندگی میں ‘بہار اردو اکیڈمی’ کے چیئرمین بھی رہے۔
میرٹھ کے فسادات نے ان کی زندگی کو تباہی کرکے رکھ دیا۔1987ء میں میرٹھ میں ہونے والے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات بشیر بدر کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ثابت ہوئے۔ اس دوران شرپسندوں نے ان کا گھر جلا دیا جس میں ان کی زندگی بھر کی کمائی، کتابیں اور سب سے بڑھ کر ان کے بے شمار غیر مطبوعہ شعری مسودات جل کر راکھ ہو گئے۔ اس دلخراش واقعے نے انہیں اندر سے توڑ دیا اور وہ میرٹھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے بھوپال منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے اپنی باقی زندگی گزاری۔
بشیر بدر شاعری میں اپنا نمایاں پہلو اور اسلوب رکھتے تھے۔بشیر بدر نے غزل کو روایتی ثقالت اور مشکل پسندی سے نکال کر عام فہم، سادہ اور روزمرہ کی بول چال کا حصہ بنایا۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کالج کے طالب علموں سے لے کر پارلیمنٹ کے ایوانوں تک یکساں مقبول تھی۔ وہ عام لفظوں سے خاص اثر پیدا کرنے کے ماہر تھے۔ ان کے اشعار میں محبت، تنہائی، جدائی اور انسانی رشتوں کے پیچیدہ فلسفے کو اتنی سادگی سے بیان کیا گیا کہ سننے والا فوراً دنگ رہ جاتا۔انہوں نے صرف عشق و محبت کی باتیں نہیں کیں بلکہ اپنے دور کے سیاسی و سماجی حالات اور منافقت پر بھی گہرا طنز کیا۔ ان کے لہجے میں گنگا جمنی تہذیب کی جھلک نمایاں تھی۔ وہ اردو غزل میں ہندی کے نرم اور رسیلے الفاظ اس خوبصورتی سے پروتے تھے کہ غزل کا حسن دوبالا ہو جاتا تھا۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے اردو ادب کی جھولی میں کئی یادگار مجموعے ڈالے۔ ان کی مشہور کتابوں میں درج ذیل شامل ہیں۔اکائی، امیج، آہٹ، آس اور
کلیاتِ بشیر بدر ان کی مشہور تصانیف ہیں۔ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ان کی غزلوں کو دیوناگری (ہندی) رسم الخط میں بھی "اجالے اپنی یادوں کے” کے نام سے شائع کیا گیا جسے ہندی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی ملی۔ ان کے اشعار بالی ووڈ فلموں (جیسے ‘مسان’ اور ‘ڈیڑھ عشقیا’) اور مقبول کلچر میں بکثرت استعمال ہوئے۔
ادب کے میدان میں ان کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند اور دیگر اداروں نے انہیں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جن میں پدما شری (1999ء) جو بھارت کا چوتھا بڑا سویلین اعزاز، ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ (1999ء) جو ان کے شعری مجموعے "آس” کے لیے اردو زبان کا معتبر ترین ادبی انعام دیا گیا۔
ڈاکٹر بشیر بدر نے ہزاروں لافانی اشعار
اشعار کہے جن میں سے چند ایسے ہیں جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں۔(یہ شعر انہوں نے 1972ء میں پاک-بھارت شملہ معاہدے کے وقت کہا تھا جو سفارتی دنیا میں ایک مثال بن گیا)
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں ہی کوئی بے وفا نہیں ہوتا
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
زندگی کی آخری شام اور وداعی نوٹ
بشیر بدر کی زندگی کا ایک تضاد یہ رہا کہ انہوں نے محبت، رشتوں اور یادوں پر 18 ہزار سے زائد اشعار کہے لیکن زندگی کے آخری ایام میں ڈیمنشیا کی وجہ سے وہ خود اپنی ہی لکھی ہوئی شاعری اور اپنے قریبی لوگوں کو بھول چکے تھے۔ 28 مئی 2026ء کو دوپہر تقریباً 12:15 بجے ان کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی اور اسی شام انہیں بھوپال کے بڑا باغ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا:
"آج ہماری زبان اردو تھوڑی غریب ہو گئی ہے۔ بشیر بدر ایک انتہائی مدھر اور جادوئی شاعر ہمیشہ کے لیے ہماری محفل سے رخصت ہو گئے لیکن یہ شاعر اور ان کی شاعری ہماری یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔”
ڈاکٹر بشیر بدر جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن جب تک اردو غزل زندہ ہے ان کا نام، ان کا لہجہ اور ان کے رسیلے اشعار دلوں کو گرماتے رہیں گے۔

ڈاکٹر الیاس عاجز

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بغیر آلات مفت آپریشن
  • پَب جی گیم- خطرناک معاشرتی بگاڑ!
  • عورت کی کہانی
  • اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اس نے مجھ کو ہاتھ لگایا اور لگا کے چھوڑ دیا
پچھلی پوسٹ
آسودگی

متعلقہ پوسٹس

اللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک...

نومبر 9, 2020

آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا

مارچ 20, 2026

سوچ کی غلامی

اگست 24, 2025

سمندر کے نام دوسرا غنائیہ

مارچ 24, 2026

یومِ محبت

فروری 14, 2020

ایشیا کپ کا فائنل

ستمبر 29, 2025

میں مقتول قاتل ہوں

اگست 19, 2026

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 14, 2024

برابری کا مقدمہ

اپریل 18, 2020

گاڈ سیو دا کنگ

مارچ 24, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ضبط نے بھینچا تو اعصاب کی...

مارچ 15, 2026

غزہ کے بچوں کے نام

مارچ 20, 2025

شریفوں کی بستی میں طوائف

جون 26, 2018
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں