خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپَب جی گیم- خطرناک معاشرتی بگاڑ!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

پَب جی گیم- خطرناک معاشرتی بگاڑ!

از سائیٹ ایڈمن فروری 5, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 5, 2022 0 تبصرے 32 مناظر
33

پب جی ایک آن لائن ملٹی پلیئر بیٹل گیم ہے جو بچوں میں کافی مشہور ہے۔ یہ اس وقت دُنیا کے مقبول ترین موبائل فون گیمز میں سے ایک ہے‘ جسے ایک تخمینے کے مطابق ماہانہ دس کروڑ افراد اپنے موبائل پر کھیلتے ہیں۔ بچے اور جوان رات دن پب جی گیم میں مصروف ہیں۔گیم کا تھیم پُر تشدد ہے۔ کھلاڑی بچوں کو خوف ہوتا ہے کہ کوئی انہیں گیم میں گولی نہ مار دےاور وہ ہار نہ جائیں۔ اب نوبت قتل و غارت تک آن پہنچی ہے‘ایک طرف کورونا جیسی عالمی وباء نے ایک مرتبہ پھر تباہی مچا لی‘ تو دوسری جانب پب جی گیم نے خطرناک صورت اختیار کر لی ‘ اگر حالات پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو نسل ِ نو کو موت کی خوفناک وادی سے نکالنا مشکل ہی نہیں شائد ناممکن ہو جائے۔یہ گیم صحت انسانی کے لئے انتہائی مضر ہے۔ گیم بنانے والی کمپنی فن لینڈ کی فرم سپرسیل جانب سے بتایاگیا ہے کہ اس گیم میں موجود اینی میشن کی روشنی سے نکلنے والی شعاعیں ان لوگوں کو مرگی کے عارضہ کا شکار بناتی ہے‘جو یہ گیم کثرت سے کھیلتے ہیں۔ نیز ہر طرح کے ویڈیو گیم کھیلنے والوں کے ہاتھوں میں رعشہ پیدا ہوجاتا ہے۔ نیز گیم میں برق رفتاری کا مظاہرہ کرنے سے ہڈیوں اور عضلات کا مرض بھی لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔
پب جی گیم ہندوستان میں سب سے زیادہ کھیلی جاتی تھی۔ دسمبر ۲۰۱۷ میں آئیر لینڈ کے گیم ڈیزائنر یرینڈہ گرین نے یہ گیم متعارف کرائی۔ ۲۰۱۸ء میں کمائی کے معاملے میں یہ گیم پہلے نمبر پر رہی ۔ اس گیم میں دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے اور ایک کھلاڑی سے لے کر سو کھلاڑیوں تک کی ٹیم ہوتی ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑتی ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی جہاز سے زمین پر اتر کر پہلے اسلحہ تلاش کرتے ہیں اور پھر سامنے والے کھلاڑی پر فائرنگ کرکے مارتے ہیں۔اب یہ گیم پاکستان میں خطرناک صورت حال اختیار کر چکی ہے‘ بچے سکولز سے آتے ہی بستہ سمیت اس کھیل میں مشغول ہو رہے‘نہ صرف وقت کی بربادی ہے بلکہ اب تو اس گیم ہی وجہ سے قتل‘خون کی ہولی کھیلی جانے لگی‘والدین میں شدید اضطراب پایا جانے لگا‘ حال ہی میں لاہور کے علاقہ کاہنہ میں اپنی والدہ‘بھائی اور دو بہنوں کو فائرنگ کر کے قتل کرنے والے ملزم زین نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے آن لائن کھیلی جانے والی پب جی گیم سے متاثر ہو کر اپنے اہل خانہ کو قتل کیا ہے۔پب جی انتہائی خطرناک اور خونیں آن لائن وڈیو گیم ہے جو اب تک پاکستان سمیت متعدد ملکوں میں کئی گھرانوں کو برباد اور نوجوانوں کی زندگیاں نگل چکی ہے۔ سوسائٹی کی چشم پوشی کے باعث یہ گیم ایک نیا سماجی المیہ بنتی جا رہی ہے۔ دُنیا کے کئی ملکوں میں اس کے کھیلنے پر پابندی ہے جبکہ دو تین سال قبل پاکستان میں بھی اس کا نوٹس لیتے ہوئے بند کر دیا گیا تھا لیکن یہ آن لائن خونیں گیم آج بھی جاری ہے۔ اس گیم سے انسانی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں:
صحتِ انسانی کے لیے مضرت رساں:
پب جی گیم ہر کس و ناکس کے لئے انتہائی مقبول گیم بن گئی ہے۔ بچے اور جوان رات دن اس گیم میں مصروف ہیں۔ لیکن انہیں پتہ نہیں کہ یہ گیم صحت انسانی کے لئے انتہائی مضر ہے۔ گیم بنانے والی کمپنی فن لینڈ کی فرم سپرسیل جانب سے بتایاگیا ہے کہ اس گیم میں موجود اینی میشن کی روشنی سے نکلنے والی شعاعیں ان لوگوں کو مرگی کے عارضہ کا شکار بناتی ہے، جو یہ گیم کثرت سے کھیلتے ہیں ۔نیز گیم میں برق رفتاری کا مظاہرہ کرنے سے ہڈیوں اور عضلات کا مرض لاحق ہوجاتا ہے ویڈیو گیمز سے آنکھیں بھی متاثر ہوتی ہیں‘ کیونکہ اس میں آنکھوں کی حرکت تیز ہوجاتی ہے اور موبائیل اسکرین سے مقناطیسی لہروں کا نکلنا بھی آنکھوں کے لئے مضر ثابت ہوتا ہے۔
پب جی گیم کھیلنے والوں کو نفسیاتی مریض بنادیتا ہے‘چونکہ اس میں گروپ کی شکل میں دوسروں کو قتل اور ان کی املاک پر قبضہ کرکے نیز دوسروں کو بے انتہاء زد و کوب کرکے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ مکمل اختتام تک گیم کھیلنے والے بچوں کو جرائم کے نت نئے طریقے سوجتے ہیں۔ بچوں کا سادہ ذہن جرائم کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ یہ گیم خون خرابہ کا باعث بنتی ہے۔ گیم کھیلنے والے بچوں کو ہر طرح کے ہتھیار بندوق اور گن کے نام از بر ہوجاتے ہیں۔ نیز اس گیم میں منشیات کا استعمال‘ گروپوں کے درمیان لڑائی ،تشدد اور ناشائستہ الفاظ کا خوب استعمال ہوتا ہے۔

آن لائن پب جی گیم کی عادت خطرہ جان:
پب جی گیم بچوں کو تشدد اور مار دھاڑ کے ہنر سکھاتی ہے۔ ایک 19 سالہ لڑکے نے اپنے ہی گھر والوں پر آزمایا اور اپنے ماں باپ اور بہن کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ لڑکا ویڈیو گیم پب جی کا عادی ہوگیا تھا۔ یہ گیم منشیات کی لت سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اس سے نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ پب جی کے استعمال سے سڑک حادثات کا بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
بغیر کسی روک ٹوک کے چلنے والے انٹرنیٹ نے نسل ِنو کو تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ۔دور حاضر میں نوجوان نسل ایک ایسی کیفیت میں مبتلا ہے کہ جس کا ہم اگر ازالہ کرنا چاہیں تو کئی برس لگ سکتے ہیں ‘اگر ختم کرنا چاہیں تو ہمیں دن رات محنت کرنا ہوگی کیونکہ ہماری آنے والی نسلوں کو فحاشی اور تباہی سے بچانا مشکل نہیں ناممکن ہو چکا ہے۔آجکل کا ہرانسان ہو نوجوان چاہے وہ مدرسے میں ہو کالج میں یاسکول میں یا چاہے وہ کسی اور دوسرے شعبے میں جاب کررہا ہو تو ہر نوجوان اک عجیب سی مصروفیات میں مبتلا ہے اور وہ مصروفیت صرف انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔انٹرنیٹ ایک اچھی چیز ہے اگر اسے اچھی سوچ اچھی ترتیب اچھے طریقے سے چلایا جائے اس کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے تو ایک وصیت ایک بڑھتی ہوئی فحاشی بڑھتے ہوئے مسائل اور بڑھتے ہوئے واقعات کی جب تہہ تک پہنچا جاتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ یہ سب انٹرنیٹ‘موبائل،دوستی اور فیس بک کا کمال ہے۔
ہمارا معاشرہ اخلاقی اغطاط کی آخری حدود کو چھو رہا ہے تو بے جانہ ہوگا انٹرنیٹ محض ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے اس اطلاعاتی نظام سے آپ زندگی کے مثبت مقاصد میں استعمال کرکے انقلاب بھی لاسکتے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ جب بھی کوئی نئی چیز ہمارے ملک معاشرے میں آتی ہے تو سب سے پہلے ہم اس کا منفی استعمال شروع کرتے ہیں ۔اس کے مثبت استعمالات بعد میں آتے ہیں اگر اس کے مثبت استعمال کو دیکھا جائے تو اس کی مدد سے تبلیغ اسلام کے دروازے بھی کھلے ہیں۔اسلامی لٹریچر کی آن لائن اشاعت نے مغربی دُنیا کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کی بجائے براہ راست اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کرکے اسلام کو سمجھ سکتے ہیں ۔اس کے نتیجے میں مغربی ممالک میں قبول اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے‘یہ انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کا نتیجہ ہے۔اگر موبائل کو صرف ضروری اور اہم رابطوں تک محدود رکھا جائے اور کمپیوٹر کے استعمال کو صرف تعلیمی اور کاروباری مقاصد تک محدود رکھا جائے تو یہ دونوں آلات انسانی زندگی کو آرام دہ اور پر سکون بنانے کے ساتھ تعلیمی و کاروباری معاملات کو چار چاند لگانے کا باعث بن سکتے ہیں جبکہ آج ہماری نوجوان نسل دس میں سے تین فیصد مثبت استعمال کررہی ہے ۔
اس معاشرتی بگاڑ میں جہاں مغرب کی اندھی تقلید اور نقالی کا ہاتھ ہے وہاں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے گھرانوں میں تعلیم کے ساتھ تربیت دینے کا رواج تقریباً ختم ہوچکا ہے۔اکثر گھرانوں میں والدین کے سامنے انکی نوجوان بیٹی یا بیٹا گھنٹوں موبائل پر بات کرتے نیٹ پر چیٹنگ یا میلز کرنے میں مگن ہوتے ہیں لیکن والدین انہیں روکنے کی کوشش نہیں کرتے جسکا نتیجہ آگے چلر کر نوجوان بچوں اور بچیوں کو تباہی پر ہوتا ہے۔ والدین ،اساتذہ اور خود نوجوان نسل ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے موبائلpub g فون کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو استعمال کرینگے تو یہ چیزیں آپ کی زندگی میں واقعی آسانیاں اور سہولیات لانے کا باعث بنیں گی بصورت دیگر مستقبل میں سب سے زیادہ یہی آلات ہماری روحانی اور جسمانی تباہی کا باعث بنیں گے۔موبائل اورانٹرنیٹ کے غلط استعمال کو روکنے کے حوالے اربابِ اختیار اور انتظامیہ کی بھی ذمہ داری نبتی ہے کہ جسطرح موبائل کنکشنز کی بائیومیٹرک تصدیق سے اس ضمن میں اہم پیشرفت ہوئی اس طرح ایسی بھی قانون سازی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ پر جعلی اکاونٹس بنانے کی راہ بھی بن کی جاسکے۔اس وقت حالات یہ ہے کہ فیس بک اور ٹویٹر پر فحاشی سے بھرپور فحرب الاخلاق ویڈیو‘پوسٹس کے علاوہ اسلام پاکستان اور ملک کے اربابِ اقتدارکے خلاف تحریروں کی بھرمار ہے جس کا جو جی چاہتا ہے اپ لوڈ کرتا چلاجارہا ہے اپنی غلط حرکتوں کے سبب سوشل میڈیا کا بہترین مصرف بھی بری طرح گناکر رکھ دیا ہے ہمیں چاہیے کہ موبائل فون کی طرح سوشل میڈیا پر اکاونٹ کھولنے کے لےکر بھی بائیومیٹرک تصدیق کی پالیسی شروع کرے بلکہ اس ضمن میں یہ ضروری ہے کہ ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک فیس بک اکاونٹ یا ٹویٹر اکاونٹ کھولنے کی اجازت ہونی چاہیے۔اگر ان جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال کے بعد حوالے سے کسی نے بھی غلط روش‘سستی اورغفلت کا ارتکاب کیا تو ہمارے پورے معاشرے کو موبائل اور انٹرنیٹ اور اب پب جی گیم جیسے ایک خطرے کے ہاتھوں ان دیکھی موت کے منہ میں جانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔کیونکہ یہ موبائل اور کمپیوٹر کا غلط استعمال ہی ہے جسی وجہ سے کئی والدین بدنامی کی وجہ سے خودکشی کرچکے ہیں۔کتنے گھر اجڑ چکے ہیں۔کتنی لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر والدین کی زندہ درگور کرچکی ہیں۔پس ہے کوئی جو اس پر غور و فکر کرے!!!پب جی اور دیگر ایسی آن لائن گیموں کو فوری طور پر بند کیا جائے ‘ورنہ تباہی و بربادی ہمارا مقدر ہے۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بلونت سنگھ مجیٹھیا
  • شو پیس
  • بڑھتی ہوئی قیمتوں کا المیہ
  • حسن فانی ہے جوانی کے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سب سے چھپتے ہیں چھپیں
پچھلی پوسٹ
05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!

متعلقہ پوسٹس

پرندے کچھ تو کہتے ہیں

جنوری 3, 2022

لائے کبھی قریب وہ دیوار کھینچ کر

دسمبر 16, 2021

مالٹے کی خوشبو اور پانی کا قطرہ

دسمبر 10, 2024

معاشرتی اقدار، قربانیاں اور آزادی کی نعمت!

اگست 15, 2020

رحمتِ خداوندی کے پھول

فروری 3, 2020

دلچسپ وانمول قرآنی معلومات

نومبر 1, 2020

محبت زندہ رہتی ہے

نومبر 7, 2020

مسلمانوں کی حالت زار

اکتوبر 24, 2024

مودی ناکام بیانیہ؛ بھارت کرپٹ ترین ملک قرار!

دسمبر 16, 2020

یک طرفہ محبت

دسمبر 6, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

راہ مشکل سہی بے خوف گزر...

ستمبر 20, 2020

ہیں سردیاں پلٹنے کو اب تم...

دسمبر 23, 2021

کام

جنوری 10, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں