خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامعورت کی تعلیم کی اہمیت
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرصنم فاروق حسین

عورت کی تعلیم کی اہمیت

از سائیٹ ایڈمن اپریل 7, 2026
از سائیٹ ایڈمن اپریل 7, 2026 0 تبصرے 45 مناظر
46

وہ نیم پاگل سی لڑکی بار بار چینخ کر فریاد کر رہی تھی۔کہ یہاں سے مجھے باہر نکالو
وہ بار بار چینخ کر فریاد کر رہی تھی۔کہ یہاں سے مجھے باہر نکالو میں جاسوس نہی ھوں۔میری بات سنو۔اک بار میری بات سن لو ۔پھر اسکے بعد جو سزا دو گے منظور ھو گی۔
مگر وہ اپنے علاقے کا بڑا سردار تھا۔اور اسی کے فیصلے پر عمل ھوتا تھا۔جب سرادار کو یہ علم۔ھوا کہ اک لڑکی قید میں ھے۔وہ وہ اک بار فریاد کی التجا کر رہی ھے۔تو سرادر نے اسکی سنائ کا حکم دے دیا۔
اس لڑکی کو پردے میں لایا گیا۔
تمہارا نام کیا ھے؟
میرا نام گل خان۔ھے۔سردار میں ساتھ والے قبیلے سے ھوں۔اپنی بکریاں چڑانے نکلی تھی تو کچھ بکریاں پہاڑی عبور کرتی ادھر آگئ تو ان۔کو لینے آئ تھی بس اور کچھ نہی
سردار یہ لڑکی جھوٹ بولتی ھے۔یہ یقینا زوار خان کی سازش ھے۔اس نے اسے یہاں بیجھا ھو گا۔خبر لینے کے لیے۔
سردار یہ جھوٹ بول رہا ھے۔آخر زوار خان کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ اک لڑکی کو بھجیں۔وہ بھی جاسوسی کے لیے۔یہ تو اسکی غیرت کے خلاف بہت بڑی سازش ھوگی۔
میں جھوٹ نہی بول رہی خدا گواہ ھے میری بکریاں ادھر غلطی سے آگئ تھی۔
نہی سردار اس سے کاپی اور قلم بھی ملا ھے۔آخر یہ بکڑیاں چڑاتے وقت کاپی قلم کیوں رکھے گی؟
ہاں بچی۔یہ بات بھی سچ ھے۔آخر تم کیوں رکھوں گی پاس قلم وغیرہ
سردار میں لکھتی پڑھتی ھوں ۔اسی لیے میرے پاس وہ چیزیں تھی۔
نہی تم ہماری باتیں لکھنے آئ تھی۔بھلا مجھے کیا ضرورت بھائ تم احمقانہ بات کیوں کر رہے ھو۔بھلا میں کیوں جاسوسی کروں گی۔میں تو۔تم سب کو جانتی تک نہی ھوں۔
سردار اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا
کیونکہ دوسرے قبلیے کے ساتھ انکی برسوں کی دشمنی تھی
یہ دشمنی قتل وغارت کی نہی زمیں و جائیداد کی نہی آسماں و پہاڑوں کی نہی یہ دشمنی عورتوں کی پڑھائ انکے اصولوں کی تھی۔
سردار خان عبدل جبار خان عورتوں کی پڑھائ کے خلاف تھا اور دوسری طرف سردار محمد خان درانی عورتوں کی پڑھائ سے لے کر انکے خقوق کا پاسدار تھا۔
یہی وجہ تھی دونوں کے درمیاں اک طویل جنگ کی
پہاڑ کے دوسری طرف عورتوں کے لیے سکول تھے۔خقوق تھے انکو آزادی تھی اپنی شریعت کے مطابق ذندگی گزارنے کی جہاں عورتیں خوشی و سکون سے گزر بسر کر رہی تھی۔
اور دوسری طرف عورتیں اک قید بھری ذندگی میں گم تھی جنہیں الف ب سے لے کر اپنے خقوق کی بات کرنے تک کا۔علم نہ تھا ۔وہ باہر کی دنیا سے لا علم تھیں۔
اگر ان۔میں سے کوئ اپنے حق کی بات کر بھی لیتا تو اسکو نافرمان۔سمجھ کر ایسی سزا دی جاتی کہ دوبارہ وہ بات کرنے کے قابل نہ رہتی۔
گل خان اب دو پہاڑوں کے بیچ میں کھڑی تھی ۔جہاں وہ بات کرتی تو سب ایسے دیکھتےجیسے کوئ باہر کی مخلوق بول رہی ھو۔کیونکہ وہاں کہ مردوں کے لیے یہ بات عجیب تھی کہ اک لڑکی اپنے حق میں صاف گوئ سے اتنے مردوں کے بیچ بات کر رہی ھے۔نہ کوئ ڈر نہ خوف۔
مگر اب سردار کو اس لڑکی سے کوفت ھونے لگی۔اور اسے دوبارہ قید کرنے کا حکم دے دیا گیا۔جس بات پر لڑکی چلا کر بولی اب تم سب زوار خاں کے وار سے بچنا وہ مجھے یہاں سے لینے آجاۓ گے۔
اور دوسری طرف قبیلے میں شور میں مچ گیا گل خاں غائب ھے۔اسکے ماں باپ زاروقطار رو رہے تھے ۔صبح بکریاں چرانے گئ تھی اب تک واپس نہی آئ
دور سے اک بچہ دوڑتا ھوا آیا اور بولا۔گل آپی دوسرے قبیلے کی طرف بھاگ کر جا رہی تھی اپنی بکری کے پیچھے۔
اب کیا گاؤں میں سب پریشان ھو گۓ۔کیونکہ اصول کے مطابق وہاں گیا یا وہاں کا یہا ں آیا بندی بنا کر ساری عمر قید کر لیا جاتا عورت کا نکاح کروا دیا۔جاتا۔اور غلام بن۔کر انکی خدمت کرتی۔
مرد کو یا مار دیا۔جاتا یا پھر ایسی سزا و قید دی جاتی وہ خود مر جاتا۔
جب یہ بات سرادر تک پہنچی تو اسی وقت زوار خان کو حکم دیا گیا کہ وہ وہاں کے سردار سے بات کرے۔کیونکہ گل خاں زوار خاں کی ھونے والی بیوی بھی تھی اور نکاح میں تھی بس رخصتی ھونا باقی تھی جس بات کو لے کر سردار دارنی کو۔فکر لاحق ھوگئ۔
وہ تھی تو غریبب کی بیٹی پر اپنے حسن و خوبصورتی ذہن۔و شعور سے زوار کی اولین پسند۔تھی اور کافی جدوجہد۔کے بعد سردار کو مجبور ھو کر انکا نکاح کرنا پڑا۔
اب زوار نے اپنے کچھ بندے بھیجے۔مگر وہ سب خالی ہاتھ لوٹے
سردار جبار نے یہ کہہ کر واپس بھیج دیا وہ ہماری قیدی ہے اب
اصول کے حساب سے وہ قیدی بن کر ہماری حویلی میں کام کرے گی۔
مگر زوار کو یہ بات برداشت نہ ھوئ ۔اور وہ غصے میں آکر ہتھیار و پورا جرگہ لے کر جانے لگا۔
جب اسکے باپ نے یہ کہہ کر روک دیا۔کہ بات لڑائ سے نہی عقل سے حل کرو۔
مگر بابا وہ میری بیوی کو کیسے غلام بنا۔سکتا۔
وہ میرے نکاح میں ھے مطلب سردار درانی کی بہو۔ہاں یہی بات ھے تو کھاۓ جا رہی ھے
گل آج سے تم اس گھر کی نوکرانی ھو۔پر مجھے تو کچھ نہی آتا ۔کوئ بات نہی سب آجاۓ گا اب کونسا تم کہی جا رہی ھوں
گل رونا شروع ھو گئ۔میں زوار درانی کی بیوی ھوں۔
وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ۔ضرور کچھ کرے گا میرے لیے
دیکھتے ہیں کس کی چلتی ھے۔بیبی۔چل برتن مانجھوں اب وقت. اور ھے تم ہماری غلام ھو۔
وہ روتے روتے دعا کرنا شروع کر دیتی ھے۔
اب کئ دن گزر جاتے ہیں۔گل کو انتظار ھوتا زوار کے آنے کا اور ادھر زوار بےچینی کی کیفیت میں سوچ لیتا ھے۔اب مقابلہ کر کے ہی گل کو واپس لانا۔
اک روز جبار کی بیوی حساب کر رہی ھوتی ھے۔اورہپاس سونے سے بھرا ڈبہ. کھول کر بیٹھی ھوتی ھے۔
گل پاس صفائ میں مصروف ھوتی ھے۔اچانک اسکی بیوی کوحساب میں غلطی لگتی ھے۔وہ پریشان ھو جاتی ھے۔کہ سونا تو اتنے کا ھے پر یہ اتنے کا کیوں ھے۔
وہ بربرا رہی ھوری ھے
میں نے تو اتنے دیے تھے یہ اتنے کیسے ھو سکتے۔گل وہاں کھڑی سب دیکھ رہی ھوتی ھے۔گل سب سمجھ کر بول پڑتی ھے۔
میں مدد کر سکتی ھو ۔تم۔کیسے تمہیں کیا پتہ سونے کے داموں کا
دیکھیں آپ نے کتنے روپے دیے تھے۔؟
میں نے اسکو لاکھ دس ہزار دیا تھا۔ہمم
تقریبا ایک لاکھ دس ہزار
اچھا آپ نے جو بنوایا تھا وہ ھے پاس
ھاں ھے دکھائیں۔ وہ اسکو دکھاتی ھیں
اچھا پھر آپ کسی اور ایماندار سے ایک بار اس چیز کا وزن کرایا۔
۔وہ کیوں؟
جب وہ اس انگوٹھی کو دیکھتی ھے تو وہ وزن کے اعتبار سے تو وزنی لگتی ھے مگر اسکو گڑبر سمجھ آجاتی ھے کہ اصل مسلہ کدھر ھے۔ کیونکہ وہ ملاوٹ ذدہ ھوتی ھے
یہ تو سونے کا اصل رنگ تو نھی لگتا ۔کیونکہ سونا اتنا بھی پیلا نہی ھوتا۔
خیر وہ پہلے اسکی باتوں کو نظر انداز کرتی ھے پھر سوچتی ھے کیوں ناں کروا لوں۔
وہ اپنے سب سے ایماندار ملازم کو یہ کام سونپتی ھے کہ نہ صرف اسکا وزن کراؤ بلکہ یہ بھی پتہ لگاؤ یہ اصل ھے یا ملاوٹ زدہ
وہ آدمی بازار جاتا ھے کسی سنار کے پاس
وہ جا کر اسکو دیکھاتا ھے انگھوٹی اصل ہے یا۔ نہی وزن مالیت کیا ھے۔
سنار غور سے اپنے طریقے سے دیکھنے کے بعد بتاتا ھے اس میں سونا کم اور تابنا زیادہ ھے اور وزن کے لحاظ سے یہ سونے کے برابر ھے اور اسکی مالیت سب ڈال کر کمازکم پچاس ہزار ھو گی۔
وہ پرچی بنوا کر لے آتا ھے۔
اور جب سردارنی کو دیکھاتا ھے وہ خیران و پریشانی میں رہ جاتی ھے وہ یہ بات اپنے شوہر کو بتاتی ھے تو وہ بھی خیران ھو کر اس لڑکی کو بلاتا ھے۔
تمہیں کیسے پتہ چلا اس کی ملاوٹ او رنگ و مالیت کا
سردار ہمارے ہاں زیادہ تر پیشہ سنار راجپوت کا ھے۔تو یہ سونا پہننا اور مالیت رنگ یہ سب ہمیں معلوم ھوتا کیونکہ یہ تقریبا ہر گھر کا کام ھے۔
اسلیے جب سردانی اپنے حساب میں پریشان تھی تو میں انکی اجازت سے جب انکی انگوٹھی کو دیکھا تو سمجھ گئ مسلہ کیا ھے۔
بس پھر بتا دیا۔
سردار اسکی اس ھوشیاری سے بہت خوش ھوا۔ اور کہا تم ٹھیک کہتی ھو عورت کو اتنا۔غلام نہی ھونا چاھیے ۔
نہ جانے کتنی بار وہ میری بیویوں سے پیسے لے چکا ھو گا دھوکے سے
جرگے میں اسکو بلایا جاتا تھا اور اس سنار کو جس سے وہ چیزیں لیتے تھا۔
سردار نے جب پوچھا بتاؤ حساب کتاب
تب سنار بولا ۔سردار مجھے یہ جتنا کہتا تھا میں اس حساب سے کر دیتا تھا۔
سردار مجھے معاف کردیں ۔سردارنی صاحبہ نے کبھی حساب نہی پوچھا تو میں یہی سمجھتا تھا انکو کیسے پتہ لگے گا۔
سردار معاف کر دیں۔
تم نے نہ جانے کتنی بار دھوکا دیا یہ تو بھلا ہو اس بچی کا۔ جس کی تعلیم و عقلمندی نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں۔ بس اس دوران اس گل کی دانشمندی کے چرچے ھونے لگے ۔
اور سردار نے اس سنار اور لڑکے کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔
ادھر جب زوار تک یہ بات پہنچی تو۔اسکو اپنی پسند پر بہت فخر ھوا اس نے اپنے باپ سے اسکی آزادی کی بات کی۔
دوسری طرف رات کو جب سردار کی ساری بیویاں بیٹھی ھوئ تھی
تو انہوں نے اس بچی کی آزادی کی درخواست سردار کے آگے رکھ دی
سردار وہ سمجھدار بچی ھے۔ وہ غلامی کرتی اچھی نہی لگ رہی اسکو جانے دیں۔ جو سبق اس نے ھمیں دیا ھے کیا وہ کافی نہی ھے۔
سردار اب جو دور ھے اس میں عورت کو اتنی آزادی تو ہونی چاھیے وہ اپنے حق کو سمجھ سکے۔ اپنے لیے بہتر سوچ سکے۔
سردار پہلے خاموش رہا پھر اس نے فیصلہ کیا اسکو۔ آزاد کیا جاۓ گا اور نہ صرف وہ اپنے وہ سب فیصلے واپس لے گے جو عورتوں کو غلام بننے کی صورت پر دائر تھے۔
صبح دوسرے قبیلے پیغام بھیجا گیا کہ سردار محمد خن درانی کو اجازت ھے وہ اپنی لڑکی عزت سے لے
جاۓ۔
دوسری طرف قبیلے کے سب بڑے لوگ آۓ اور بیٹھ گۓ
آپ سب کو بلانے کا مقصد یہ تھا یہ سب پرانے گلے شکوے بھلا کر کیوں نہ اک نئ دوستی کا آغاز کیا جاۓ۔آپ کی لڑکی نے ہمیں بہترین سبق دیا۔ کہ بچیوں کے لیے تعلیم اتنی ہی ضروری ھے جتنی لڑکوں کے لیے۔ اسلیے ہم نے یہ فیصلہ کیأ ھے کہ ہم بھی اپنے قبیلے میں لڑکیوں کا سکول کھولیں گے اور أپ کے قبیلے کی پڑھی لکھی عورتوں کو آزادنہ دعوت ھے وہ آکر ہماری بچیوں کو تعلیم دیں ہم انکو موازنہ عطا کریں گے انکی محنت کا
گل اسوقت بہت خوش تھی کہ اسکی وجہ سے کئ لڑکیوں کو غلامی سے آزادی ملے گی اور وہ اپنے حق کو پہچانے گی
اس نے تمام سردانیوں کا شکریہ ادا کیا۔ کہ ان سب کی وجہ سے اج وہ آزاد ھوئ ھے۔
زوار اسوقت فخرانہ انداز سے سب کا شکریہ وصول کر رہا تھا
سردار خان درانی نے سردار جبار کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ گلے لگ کر اسکے فیصلے کا خیر مقدم کیا۔
یوں گل بہار کی وجہ کے برسوں کی پرانی دشمنی ختم۔ ھو گئ۔ اور دونوں قبیلوں میں خوشی کا سماں پید ھو گیا۔ اسی خوشی میں رواں ھفتے زاور اور گل کے نکاح کی تقریب منعقد کی گئ جس میں دونوں قبیلوں کے لوگوں نے شرکت کی۔
کہانی اکا اختتام اس بات پر ھوتا ھے۔
عورت کے لیے تعلیم اتنی ہی ضروری ھے جتنا بچوں کی پرورش سے لے کر گھر کی ذمے۔ داری کو سنبھالنا ھے۔
شعور و تعلیم عورت سے ہی اگلی نسل تک منتقل ھوتا ھے۔
چاھے وہ گھر کی چار دیواری سے ھی کیوں نہ شروع ھو۔

صنم فاروق حسین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • احادیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
  • گمراہی کا راستہ
  • شمعِ اَخْلَاقِيَّت کا اجالا
  • غربت میں جکڑا بچپن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا
پچھلی پوسٹ
سوچ کا انقلاب

متعلقہ پوسٹس

بڑھتی ہوئی قیمتوں کا المیہ

مارچ 8, 2026

مسلسل نیا الزام میرے سر ہوتا ہے

جنوری 22, 2026

تمنائے وصل

اپریل 4, 2026

پُھول اور تِتلی، رنگ اور خُوشبُو

دسمبر 10, 2025

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

زندگی کی فلاسفی

جنوری 5, 2022

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

مارچ 30, 2020

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر

نومبر 11, 2025

شبِ نیلوفر

دسمبر 13, 2024

رشتوں کامعیارکیساہوناچاہیے

دسمبر 9, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پرمیشر سنگھ

نومبر 15, 2019

اکثر اس طرح بھی رقصِ فغاں...

جنوری 13, 2020

پاک بحریہ کا کارنامہ

جنوری 22, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں